| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
بلکہ بعض علماء نے تو درصورت غلبہ حرام رخصت ہی نہ دی اور عدم جواز کی تصریح فرمائی یعنی جب دینے والے کا اکثر مال وجہ حرام سے ہے تو اس کے مال سے کچھ لیناجائزنہیں جب تک اس خاص چیز کا وجہ حلال سے آنا ظاہر نہ ہوجائے،
ففی الھندیۃ عن المختار شرح الاختیار لایجوز قبول ھدیۃ امراء الجور لان الغالب فی مالھم الحرمۃ۱؎ الخ وفیھا ایضا فی فتاوٰی اھل سمرقند رجل دخل علی السلطان فقدم علیہ شیئ ماکول فان اشتراہ بالمن اولم یشتر ذٰلک ولکن ھذا الرجل لایفھم انہ منصوب بعینہ حلہ اکلہ ھکذاذکر والصحیح انہ ینظر الی مال سلطان وبین الحکم علیہ ھٰکذا فی الذخیرۃ۱؎ اھ مافی الھندیۃ قلت لکن تصحیح الذخیرۃ لایعارض قول محرر المذھب محمد بہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ۳؎ کما مر نقلہ عن فتاوی الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیھم اجمعین الٰی یوم الدین۔
فتاوٰی عالمگیری میں المختار شرح اختیار کے حوالے سے یہ قول مذکور ہے کہ ظالم امراء کے ہدیہ کو قبول کرناجائزنہیں اس لئے کہ ان کا زیادہ تر مال حرام ہوتاہے الخ۔ اور اسی میں فتاوٰی اہل سمرقند کے حوالے سے مذکور ہے ایک آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کوئی کھانی کی چیز لائی گئی، اگر دینے والے نے اسے قیمت سے خریدا ہو یا نہ خریدا ہو لیکن یہ لینے والا شخص نہ سمجھ سکا کہ یہ بعینہٖ چھینی ہوئی چیز ہے تو اس کے لئے اس کا کھانا حلال ہے۔ اہل علم نے اسی طرح ذکر فرمایا، لیکن صحیح یہ ہے کہ شخص مذکور بادشاہ کے مال اور اس پر جو شرعی حکم لاگو ہوتاہے اس پر غوروفکر کرے، ذخیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔ فتاوٰی عالمگیری میں جو کچھ تھا وہ پورا ہوگیا۔ قلت(میں کہتاہوں کہ) ذخیرہ کی تصحیح، مذہب قلم بند کرنے والے امام محمد کے قول کے معارض نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کو نہ پہچانیں، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہے، جیسا کہ امام اجل ظہیرالدین مرغینانی کے فتاوٰی سے اس کی نقل گزرچکی، اﷲ تعالٰی قیامت تک ان پر نزول رحمت فرمائے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲) (۲؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲) (۳؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲)
ہاں ازالہ شبہہ کے لئے اتنا بھی کافی ہے کہ جب صاحبِ مال رنڈی یا ڈومن خود بیان کریں کہ یہ مال ہمارے پاس وجہ حلال سے ہے ہمیں انعام ملا یا ہم نے قرض لیا یا مثلاً بذریعہ زراعت وغیرہا وجوہِ حلال سے حاصل کیا اگر اس شخص کو ان کے بیان میں فرق ظاہر نہ ہو تو اب لے لینے میں کسی طرح حرج نہیں۔
فی العالمگیریۃ عن الینابیع اھدی الٰی رجل شیئا او اضافہ ان کان غالب مالہ من الحلال فلاباس الا ان یعلم بانہ حرام فان کان الغالب ھو الحرام ینبغی ان لایقبل الھدیۃ ولا یاکل الطعام الا ان یخبرہ انہ حلال وورثۃ او استقرضتہ من رجل ۱؎اھ وفیھا عن التمرتاشی لایجیب دعوۃ من کان غالب مالہ من حرام مالم یخبر انہ حلال وبالعکس مالم تتبین عندہ انہ حرام ۲؎ اھ وفیھا عن الملتقط اٰکل الربٰو او کاسب الحرام اھدی الیہ أو اضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل و لایاکل مالم یخبرہ ان ذٰلک المال اصلہ حلال ورثہ او استقرضہ وان کان غالب مالہ حلالا لاباس بقبول ھدیتہ والاکل من۱؎ اھ اقول : وبمثلہ فی الخانیۃ عن الامام الناطفی وعللہ لان اموال الناس لاتخلو عن قلیل حرام فیعتبر الغالب ۲؎اھ ھذا واما ماذکرت من التقیید بان لایظہر عندہ کذب ماقال فیعرف بالمراجعۃ الی مافی العالمگیریۃ وغیرھا من تفاصیل الاحکام فی قبول خبر الواحد فارجع واعرف وستوضحہ فی الرسالۃ ان شاء اﷲ تعالٰی۔
فتاوٰی عالمگیری میں ینابیع کے حوالے سے مذکور ہے کسی شخص نے کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ دی یا اس نے اس کی مہمان نوازی کی، اگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہے تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں، مگریہ کہ اسے معلوم ہوجائے کہ یہ حرام ہے، پھر اگر اس کا غالب مال حرام ہو تو مناسب یہ ہے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ طعام کھائے، مگر یہ کہ وہ اسے بتادے کہ یہ حلال ہے کیونکہ میں اس کا وارث ہوا ہوں یا میں نے کسی آدمی سے قرض لیا ہےاھ، اور اسی فتاوٰی عالمگیری میں امام تمرتاشی کے حوالے سے منقول ہے یہ اس شخص کی دعوت قبول نہ کرے جس کا غالب مال حرام ہو، جب تک وہ یہ نہ بتائے کہ وہ حلال ہے اوراس کے عکس میں جب تک اس کے نزدیک حرام ہوناواضح نہ ہوجائےاھ۔ اسی میں ملتقط کے حوالے سے ہے کہ سود کھانے والا اور حرام کمانے والا، اگر اس نے کسی کو ہدیہ دیا یا اس کی مہمان نوازی کی، اور حالت یہ تھی کہ اس کاغالب مال حرام ہے تو یہ ہدیہ قبول نہ کرے اور نہ کھائے مگر یہ کہ وہ بتادے کہ اس مال کی اصل حلال ہے، اور یہ اس کا وارث ہوا ہے یا اس نے قرض لیا ہے، اور اگر اس کا زیادہ ترمال حلال ہو تو ہدیہ قبول کرنے یا اس کے کھانے میں کچھ حرج نہیں اھ اقول (میں کہتاہوں) اسی کی مثل فتاوٰی قاضیخان میں امام ناطفی کے حوالے سے مذکور ہے اور انہوں نے یہ تعلیل بیان فرمائی کہ لوگوں کے مال تھوڑے حرام سے خالی نہیں ہوتے لہٰذا غالب کا اعتبار کیاجائے گااھ، لیکن وہ قید جو میں نے ذکر کی کہ اس شخص کے نزدیک قائل کا جھوٹ ظاہر نہ ہو، پھر عالمگیری وغیرہ میں ایک آدمی کی خبر قبول کرنے کے بارے میں جو تفصیلاتِ احکام ہیں ان کی طرف مراجعت کرنے سے یہ بات معلوم کی جاسکتی ہے، لہٰذا اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس کوپہچان لیجئے، اور ہم عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی اپنے رسالہ مذکورہ میں اس کی وضاحت کردیں گے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۲) (۲؎فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۳) (۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۳) (۲؎ فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظروالاباحۃ مطبع نولکشور دہلی ۴ /۷۷۸)
بالجملہ جسے اپنے دین وتقوٰی کا کامل پاس ہو وہ غلبہ حرام کی صورت میں احتراز ہی کرے جب تک خاص اس شیئ کی حلت کاپتہ نہ چلے ورنہ فتوٰی تو جواز ہی ہے تاوقتیکہ بالخصوص اس چیز کی حرمت پر دلیل کافی نہ ملے، اور یہ ساری تفصیل جو ابتداء سے اب تک ہم نے بیان کی کچھ رنڈیوں یا ڈومنیوں ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ ہوں یا ان کا غیر حامد ہو یا محمود،مسلمان ہوں یا ہنود، نصارٰی ہوں یا یہود، سب کو عام ہے، جو اس قدر سمجھ سکتاہے کہ نوکریوں اور پیشوں میں کون کون جائزہے اور کیاناجائز، اور کس کس طریقہ کا مال حلال ہوتاہے کس کس کا پھر ہمارے اس فتوٰی کو پیش نگاہ رکھے گا، وہ ہرجگہ حکم شرع نکال سکتاہے کہ کس کے مال کا کیاحکم ہے اور اس سے معاملہ کہاں تک رواہے۔ باقی رہا یہ امر کہ بہت لوگ جن کا مال وجہ حرام سے ہے مثلاً ایک ان میں رنڈیاں ہیں، مساجد ومدارس وغیرہا امورِخیر میں اپنا مال کیوں صرف کرتی ہیں۔ یہ اُن کا فعل ہے شرع پر کیا الزام، ہاں اُن میں جن کا مال حلال اور نیت صحیح ہے قابل قبول انہیں کا عمل ہے ورنہ اﷲ جل جلالہ، پاک بے نیازہے۔
ان اﷲ طیب لایقبل الا الطیب۲؎ اللھم کما ختمت فتوی ھذہ علی لفظٍ طیب من لفظ طیب صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاختم لی اعمالی واقوالی واحوالی جمیعا بطیت انک انت الطیب ولاطیب الا من طیب ھذا دعائی لی وللمؤمنین اطیب صلوۃ علی اطیب الا طیبین وعلی اٰلہ و اصحابلہ الطیبین الطاھرین وقد فصلنا القول بحمداﷲ بحیث لایوجد من غیرنا ان شاء اﷲ تعالٰی فاغتنم ھذا التحریر الفرید والتحقیق المفید، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم والحمدﷲ علی ماٰلھم وعلم۔
یقینا اﷲ تعالٰی پاک ہے وہ پاکیزہ چیز کے بغیر کسی چیز کو قبول نہیں کرتا۔ یااﷲ! جس طرح میں نے اپنے اس فتوٰی کو لفظ''طیب'' پر ختم کیا جو میں نے پاکیزہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے لیاہے۔ پس اسی طرح تو میرے لئے میرے اعمال، اقوال اور احوال پاکیزہ طور پر ختم کردے، بلاشبہہ تو پاک ہے اور کوئی پاک نہیں ہوسکتامگر وہ جسے تو پاک کردے، میری یہ دعا میرے لئے اور سب مومنوں کے لئے ہے، پاکیزہ تردرود ہو اس پر جو سب پاکیزہ لوگوں میں زیادہ پاکیزہ ہیں اور اُن کی آل اور ساتھیوں پر جوظاہری اور باطنی طور پر طیب اور طاہرہیں۔ الحمدﷲ کہ ہم نے اس قول کو مفصّل بیان کیا کہ ہمارے بغیر ان شاء اﷲ تعالٰی یہ تفصیل کہیں نہ پائے جائے گی، لہٰذا اس یکتا تحریر اور مفید تحقیق کو غنیمت سمجھئے، اور اﷲ تعالٰی ہی سب سے زیادہ جانتاہے، اور اسی جلیل القدر بزرگی والے کا علم زیادہ تام اور زیادہ محکم ہے، سب تعریف اس اﷲ تعالٰی کے لئے ہے کہ جس نے اس تحقیقی کا مجھے الہام فرمایا اور علم دیا۔(ت)
(۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۳۲۸)
مسئلہ۲۰۲ : ایک کافر اگردوسرے کے پاس کوئی چیزرکھے تو اس کا کاغذ تحریر کرنا مسلمان کو رواہے یانہیں ؟ بیّنواتوجروا۔
الجواب : نفس تحریر رہن نامہ میں تو کوئی حرج نہیں خواہ وہ عقد اہلِ اسلام میں ہو یاکفّار میں لعدم المدرک المدرک الشرعی بالنھی عنہ (اس لئے کہ شرعی طور پر ممانعت کی کوئی دلیل نہیں۔ت) مگر ہاں اگر اس کاغذ میں سُود لکھاجائے اور اسی کی صورتوں سے ہے دیہات کا دخلی رہن یا دکان یا مکان کا کرایہ مرتہن کو زرِاصل کے علاوہ ملنا تو بیشک ایسا کاغذہرگز نہ لکھےاگرچہ وہ عقد مسلمانوں میں ہو کہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جس طرح سود کھانے والے پر لعنت فرمائی یوہیں اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس پر گواہیاں کرنے والوں پر لعنت آئی، اور ارشاد فرمایا: وہ سب برابر ہیں۔
اخرج مسلم فی صحیح عن سیدنا جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما قال لعن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اٰکل الربٰو و مؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ و قال ھم سواء ۱؎ انتھی۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے تخریج فرمائی کہ انہوں نے فرمایا حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے سودکھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے، اس کی گواہی دینے والے، ان سب پر لعنت فرمائی، اور فرمایا یہ سب برابرہیں انتہی، واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب المساقاۃ باب الرباء قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷)