Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
119 - 190
فی الفتاوی العالمگیریۃ عن التاتارخانیۃ عن الامام محمد غصب عشرۃ دنانیر فالقی فیھا دینارا ثم اعطی منہ رجلاً دینارا جاز ثم دینارا آخرلااھ ۱؎۔
فتاوٰی عالمگیری میں تاتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ کسی شخص نے دس دینار چھین لئے پھر ان میں ایک حلال دینار ڈال دیا پھر ان سے ایک شخص نےدیا تو یہ جائزنہیں اھ۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الغصب  الباب الثامن    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۱۴۱)
اور اس سے زائد مثلاً صورت مفروضہ میں چھٹا روپیہ لینے سے احتراز کرے کہ مذہب صاحبین پر حرام محض ہے، اور عامہ محققین نے اسی پر فتوٰی دیا اور بربنا مذہب امام مکروہ ہوناچاہئے تو ایسے امر میں کیوں پڑے جس کا ادنٰی درجہ کراہت، اور اکثر اکابر کے طور پر حرام،
فی فتاوٰی قاضی خاں ناقلاً عن الامام ابی بکر البلخی قیل لہ لو ان فقیرا یاخذ جائزۃ السلطان مع علمہ ان السلطان یاخذھا غصباً یحل لہ ذلک قال ان کان السلطان خلط الدراھم بعضھا ببعض فانہ لاباس بہ وان دفع عین الغصب من غیر خلط لم یجز اخذہ، قال الفقیہ ابو اللیث ھذا الجواب یستقم علی قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی لان عندہ اذا غصب الدراھم من قوم وخلط بعضھا ببعض یملکھا الغاصب اما علی قول ابی یوسف ومحمد فانہ لایملکھا الغاصب ویکون علی ملک صاحبھا۱؎،
فتاوٰی قاضی خاں نے امام ابوبکر بلخی کے حوالے سے نقل کیا کہ ان سے کہاگیا کہ اگر کوئی محتاج بادشاہِ وقت سے کچھ لیتاہے باوجودیکہ اسے علم ہے کہ بادشاہ نے یہ غصب سے لیا ہے تو اس کے لئے یہ لیناحلال ہے فرمایا کہ اگرچہ بادشاہ نے درہموں کو ایک دوسرے سے ملادیا ہو تو اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں، اور اگر ملائے بغیر عین غصب شدہ چیز حوالے کرے تو اس کا لینا جائزنہیں، فقیہ ابواللیث نے فرمایا کہ یہ جواب امام ابوحنیفہ کے قول پر ٹھیک ہے، اس لئے کہ ان کے نزدیک جب کوئی شخص کچھ لوگوں سے دراھم چھین لے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے ملادے تو غاصب ان کا مالک ہوجائے گا۔ لیکن صاحبین کے قول کے مطابق غاصب مالک نہ ہوگا بلکہ وہ اصل مالک کی ملکیت میں رہیں گے،
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظروالاباحۃ   مطبع نولکشورلکھنؤ   ۴ /۷۷۹)
اقول : واما الکراھۃ علٰی مذھب الامام فلانہ وان ملکہ بسبب خبیث و التصدق واجب علیہ وفی ھذا اعراض عنہ، قال الامام شمس الائمۃ السرخسی فی شرح السیر الکبیر، المشتری فاسد اذا ارادبیع المشتری بعد القبض یکرہ شراؤہ منہ الخ قال الشامی لحصولہ للبائع بسبب حرام ولان فیہ اعراضا عن الفسخ الواجب ۲؎ اھ وایضاح المقام مفوض الٰی رسالتنا المذکورۃ۔
اقول :  (میں کہتاہوں کہ) امام کے مذہب پر اس لئے اس صورت میں کراہت ہوگی کہ اگر چہ غاصب سببِ خبیث کی وجہ سے مالک ہوگیا لیکن ان کا خیرات کرنے سے رُوگردانی ہے، امام شمس الائمہ سرخسی نے سیرکبیر کی شرح میں فرمایا کہ خرید شدہ چیز فاسد ہے جب یہ خریدی ہوئی چیز کو قبضہ کرنے کے بعد بیچنے کا ارادہ کرے تو اس کاخریدنا مکروہ ہے الخ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا اس لئے کہ یہ سب حرام کی وجہ سے بائع کو حاصل ہوئی اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں فسخ واجب سے اعراض ہے اھ اس مقام کی وضاحت کرنا ہمارے مذکورہ رسالے کے حوالے ہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    بحوالہ شرح السیر الکبیر لشمس الائمہ السرخسی  باب البیع الفاسد    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۴ /۱۳۰)
اور اگر رنڈی نے ایک مال حرام کو دوسرے حرام سے خلط کیا مثلاً ناچ کی اجرت میں اس نے دس روپیہ زید سے پائے تھے اور دس عمرو سے، یہ سب ملادئیے تو اس میں سے ایک روپیہ بھی لینانہ چاہئے کہ وہ سب وجہ حرام سے ہے جو کچھ لے گا صاحبین حرام بتائیں گے اور امام کے قول پر مکروہ ہوناچاہئے۔
والوجہ ماذکرنا انھا کعین المغصوب عندھما وکالمشتری فاسدا عندہ۔
اس کی وجہ وہی ہے جس کو ہم نے بیان کردیا کہ وہ چیز صاحبین کے نزدیک عین مغصوب کی طرح ہے اور امام صاحب کے نزدیک خرید کی ہوئی چیز کی طرح فاسد ہے۔(ت)

ہاں اگر اس قسم کے روپیہ سے کوئی چیز مثلاً  اناج یا کپڑا خرید کردے تو اس مزدور کو اس شَے کا لینا امام کے طور پر بالاتفاق حرام نہیں، اور بربنائے مذہب صاحبین اسی تفصیل پررہے گا جو خریدی ہوئی چیز کے بارے میں اوپر گزری۔
اقول: وذٰلک لان الملک ثابت عندہ بالخلط ولوخبیثا فلایعمل فیما لایتعین کالدراھم واما عندھما فالخبث لعدم الملک فیعمل فی الصفتین جمیعا علی الاطلاق کما اختار کثیر من المشائخ فلایحل المشترٰی مطلقا وخالف جماعۃ فقالوا یحل المشتری بالدراھم مطلقا وقال الکرخی الا اذا عقد علیھا ونقد ھٰھنا وبہ افتی جمہور المتاخرین کمامر، والتفصیل محمول علی الرسالۃ۔
اقول: (میں کہتاہوں کہ) یہ حکم اس لئے ہے کہ امام صاحب کے نزدیک اگرچہ وہ چیز خبیث ہے لیکن خلط ملط کرنے سے مِلک ثابت ہوگئی، پھر جس چیز میں تعین نہیں ہوسکتا جیسا کہ دراہم، تو اس میں اثرنہ ہوگا اور صاحبین کے نزدیک ملک نہ ہونے کی وجہ سے اس میں خبث پیداہوگیا، پھر علی الاطلاق دونوں صفتوں میں اثرہوگا جیسا کہ بہت سے مشائخ نے اس کو اختیارکیا، لہٰذا خریدی ہوئی چیز مطلقاً حلال نہ ہوگی، لیکن اس میں ایک جماعت نے اختلاف کیاہے چنانچہ انہوں نے فرمایا کہ مطلقاً دراہم سے خریدی ہوئی چیز حلال ہے لیکن امام کرخی نے فرمایا

مگرجبکہ یہاں اُن پر عقد اور نقد واقع ہو پس اسی پر جمہور متاخرین نے فتوٰی دیا جیسا کہ گزرچکاہے، اور تفصیل رسالہ مذکورہ پرمحمول ہے۔(ت)

یہ سب صورتیں اس وقت تھیں جب اسے اس مال کا حال معلوم ہو جو اس کی مزدوری میں دیاجاتاہے کہ خاص مال رنڈی کے پاس کہاں سے آیا ہے اور اس تک کیوں کر پہنچتا ہے، آیا عین حرام میں سے ہے یا خالص حلال سے؟ یا دونوں مخلوط ہیں؟ یا مال حرام سے خریدا ہوا ہے؟ یا کیا حال ہے؟ اور اگر یہ کچھ نہیں کہہ سکتا نہ اسے کچھ خبر کہ خالص مال جو اسے دیاجاتاہے یا کس قسم کا ہے، تو اس صورت میں فتوٰی جواز ہےکہ اصل حلت ہے، جب تک خاص اس مال کی حرمت نہ ظاہر ہو، لینے سے منع نہ کریں گے،
فی الھندیۃ عن الظھیریۃ عن الامام الفقیہ ابی اللیث اختلف الناس فی اخذ الجائزۃ من السلطان قال بعضھم یجوز مالم یعلم انہ یعطیہ من حرام، قال محمد رحمہ اﷲ تعالٰی وبہ ناخذ مالم نعرف شیئا حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ تعالٰی واصحابہ ۱؎اھ ،
فتاوٰی عالمگیری میں فتاوٰی ظہیریہ کے حوالے سے فقیہ ابواللیث سے روایت ہے بادشاہ سے انعام لینے کے بارے میں لوگوں کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ لیناجائزہے جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مالِ حرام سے دیتاہے، امام محمد نے فرمایا ہم اسی کو لیتے ہیں جب تک کسی معین شیئ کے حرام ہونے کی شناخت نہ ہو، امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھیوں کا یہی قول ہےاھ،
 (۱؎ فتاوی ہندیۃ    کتاب الکراھیۃ    الباب الثانی عشر    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۴۲)
وفی فتاوی الامام قاضی خان رجل دخل علی سلطان فقدم علیہ شیئ من الماکولات قالوا ان اکل منھا لاباس بہ اشتراہ بالثمن اولم یشتر الا ان ھذا الرجل ان کان یعلم انہ غصب بعینہ فانہ لایحل لہ ان یاکل من ذٰلک۲؎ ، وفیھا ان لم یعلم الاٰخذ انہ من مالہ او من مال غیرہ فھو حلال حتی یتبین انہ حرام ۱؎ اھ،
امام قاضی خان کے فتاوے میں ہے کہ ایک آدمی بادشاہ کے پاس گیا تو اس کے آگے کچھ کھانے کی چیزیں لائی گئیں، فقہاء نے فرمایا کہ اگر وہ یہیں کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں خواہ اس نے قیمت سے خریدی ہوں یا نہ خریدی ہوں، مگر جب یہ شخص جانتاہو کہ یہ بعینہٖ غصب ہے تو پھر اس کے لئے حلال نہیں کہ انہیں کھائے اھ اور اسی میں ہے کہ اگر لینے والا یہ نہ جانے کہ وہ لی ہوئی چیز دینے والے کے اپنے مال سے ہے یا کسی دوسرے کے مال سے ہے تو پھر وہ حلال ہے حتی کہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ حرام ہےاھ،
 (۲؎ فتاوی قاضیخان   کتاب الحظروالاباحۃ    نولکشور لکھنؤ        ۴ /۷۷۸)

(۱؎ فتاوٰی قاضی خان   کتاب الحظروالاباحۃ    نولکشورلکھنؤ    ۴ /۷۷۸)
وفی ردالمحتار عن الذخیرۃ سئل ابوجعفر عمن اکتسب مالہ من امر السلطان والغرامات المحرمۃ وغیرذٰلک ھل یحل لمن عرف ذٰلک ان یاکل من طعامہ قال احب الی فی دینہ ان لایاکل ویسعہ حکما ان لم یکن غصبا ۲؎ او رشوۃ  اھ وھکذا فی الھندیۃ عن المحیط عن الفقیہ ابی جعفر وحاشیۃ السیدی الحموی علی الاشباہ من قاعدۃ اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام وکون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب و الاصل الحل۳؎ اھ۔
فتاوٰی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے کہ امام ابوجعفر سے اس آدمی کے متعلق پوچھاگیا کہ جو امرسلطان سے مال کماتاہے اور اس میں حرام وغیرہ جرمانے بھی شامل ہوتے ہیں لہٰذا جو شخص ان معاملات کو جانتا پہچانتاہو کیا اس کے لئے حلال ہے کہ وہ اس کا کھاناکھائے، تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے دین کے معاملے میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ وہ نہ کھائے، اور اس کے لئے اس بات کی حکماً گنجائش ہے اگر وہ غصب یارشوت نہ ہو اھ، اسی طرح فتاوٰی عالمگیری میں محیط کے حوالے سے فقیہ ابوجعفر سے روایت ہے الاشباہ والنظائر پرسیدحموی کے حاشیہ میں ایک قاعدہ مذکور ہے کہ جب حلال اور حرام جمع ہوجائیں تو حرام غالب ہوگا اور بازار میں حرام کا غالب ہونا اس بات کو مستلزم نہیں کہ جو چیز خریدی گئی وہ حرام ہو اس لئے کہ یہ جائز ہے کہ خریدی ہوئی چیز حلال مغلوب ہو حالانکہ حِل اصل ہے اھ(ت)
 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی البیع    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۴۷)

(۳؎ غمزعیون البصائر مع الاشباہ والنظائر    الفن الاول        ادارۃ القرآن کراچی    ۱ /۱۴۸)
علماء فرماتے ہیں ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا نہیں یقینی اکل حلال خالص آج کل حکم عنقا کا رکھتاہے، غنیمت ہے کہ آدمی آنکھوں دیکھے حرام سے بچ جائے،
فی الخانیۃ لایخلو ذلک عن نوع شبھۃ الا انھم قالوا لیس زماننا زمان الشبھات فعلی المسلم ان یتقی الحرام المعاین ۱؎اھ، وفی الباب الخامس والعشرین من کراھۃ العالمگیریۃ عن جواھر الفتاوی فی الجملۃ ان طلب الحلال من ھٰذہ البلاد صعب وقد قال بعض مشائخنا علیک بترک الحرام المحض فی ھذا الزمان فانک لاتجد شیئا لاشبھۃ فیہ ۲؎ اھ۔
فتاوٰی قاضیخان میں ہے یہ چیز نوع شبہ سے خالی نہیں مگر فقہائے کرام نے فرمایا کہ ہمارا زمانہ شبہات سے بچنے کا زمانہ نہیں لہٰذا اس زمانے میں مسلمانوں کے لئے لازم ہےکہ وہ دیکھے ہوئے حرام سے بچےاھ، فتاوٰی عالمگیری کے پچیسویں باب کراہۃ میں جواہر الفتاوٰی کے حوالے سے ہے کہ حاصل کلام یہ ہے کہ ان شہروں میں حلال تلاش کرنا کسی قدر مشکل ہے، یہی وجہ ہے ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ اس زمانے میں تم پر خالص حرام کوچھوڑ دینالازم ہے کیونکہ تم کوئی ایسی چیز نہیں پاسکتے کہ جس میں کوئی شبہہ نہ ہو اھ(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الحظروالاباحۃ     نولکشورلکھنؤ    ۴ /۷۷۹)

(۲؎ فتاوٰی ہندیہ    کتاب الکراھیۃ    الباب الخامس والعشرون    نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۶۴)
مگرتاہم یہ حکم ظاہر کاہے دیانۃً اگر معلوم ہو کہ اس کا مال اکثروجہ حرام سے ہے تو متقی کاکام اس سے بچنا ہے جب تک ظاہر نہ ہو کہ یہ خاص مال جو اس کے صرف میں آئے گا وجہ حلال سے ہے، آدمی کو حظوظ نفس کی وسعتیں خراب کرتی ہیں، حق سبحانہ، وتعالٰی نے جب انسان کو بحکم الدنیا خضرۃ حلوۃ۳؎ (دنیا سرسبزمیٹھی ہے۔ت) 

اس سبزہ زار شہد نماز، ہرفروش یعنی دنیا میں بھیجا بمحض رحمت ازلی اس کے قاتل زہر کو الگ چُن کر حد مقرر فرمادی اور نواہی شرعیہ عام منادی سنادی کہ او غافل بکریو! اس احاطہ کے اندر نہ چرنا، تمہارا دشمن بھیڑیا کہ عبارت شیطان سے ہے اسی جنگل میں رہتاہے یہاں کی گھاس اس وقت کی نظر میں تمہیں ہری ہری دوب لہکتی لہلہاتی نظرآتی ہے مگر خبردار اس میں بالکل زہربھرا ہے، اب اس مرغزار کی گھاس تین قسم کی ہوگئی، کچھ سب کو معلوم ہے کہ اسی قطعہ کی ہے جس میں زہر ہے اور کچھ اس ٹکڑے سے بہت دور ہے جسے ہم یقینی اپنے حق میں نافع یا ضرر سے خالی جانتے ہیں اور جو کچھ اس پہلے خطہ کے آس پاس رہ گئی اس میں شبہہ ہے کیا جانئے شاید اس میں کی ہو وذٰلک۔
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم الحلال بین والحرام بین ومابینھما مشتبھات لایعلمھن کثیر من الناس ۱؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے البتہ ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔(ت)
 (۱؎ صحیح البخاری    کتاب الایمان     باب فضل من استبراء لدینہٖ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۳)
تو ہم میں جن کو اپنی جان پیاری اور ہوش و خردکی پاسداری تھی انہوں نے تو اس تختہ کی اور کوسوں کا طرار اُبھرا، اور بھولی بھیڑیں اپنی نادانی سے یہی کہتی رہیں کہ ابھی تو وہ ٹکڑا نہیں آیا ہے ابھی تو دور معلوم ہوتاہے، یہاں تک کہ خاص اس خطہ میں جاپڑیں اور زہر کی گھاس نے کام تمام کیا، آدمی کو اگر پلاؤ کی رکابی دی جائے اور کہہ دیں کہ اس کے خاص وسط میں روپیہ بھر جگہ کے قریب سنکھیا پِسی ہوئی ملی ہے ڈرتے ڈرتے کناروں سے کھائے گا اور بجائے ایک روپیہ کے چار روپیہ کی جگہ چھوڑ دے گا، کاش ایسی احتیاط جو اپنے بدن کی محافظت میں کرتا ہے قلب کی نگاہداشت میں بجالاتا۔ اے عزیز! بادشاہوں کا قاعدہ ہے ایک چراگاہ محصور کرلیتے ہیں کہ رعایا اس میں نہ چرانے پائے، عربی میں اسے حِمٰی کہتے ہیں ، خدا ورسول کی سچی سلطنت، قاہر بادشاہت میں حِمٰی محرمات شرعیہ ہیں، سے اپنے دین وآبرو کا خیال ہے شبہات سے بچے گا کہ مبادا آس پاس چراتے چراتے خاص حِمٰی میں پڑے، اور جو نہیں مانتے تو قریب ہے کہ انہیں ایک دن یہ واقعہ پیش آجائے، یہ مثال جو میں نے بیان کی کچھ میری ایجاد نہیں بلکہ خود حضوراقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمائی،
کما اخرجہ البخاری  ۲؎ ومسلم وابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن النعمان بن بشیر والطبرانی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھم اجمعین۔
جیسا کہ بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے نعمان بن بشیر سے تخریج کی، اور طبرانی نے ابن عباس کے حوالے سے ذکر کیا۔ اﷲ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔(ت)
 (۲؎ صحیح البخاری    کتاب الایمان     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۳)

(صحیح مسلم        کتاب المساقات     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۸)

(سنن ابی داؤد        کتاب البیوع            آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۱۷)

(جامع الترمذی    ابواب البیوع            امین کمپنی دہلی        ۱ /۱۴۵)
Flag Counter