کسب و حصولِ مال، خریدوفروخت، اُجرت، رشوت، سُود، قمار، بیمہ، پیشہ، صنعت، قرض،
نذرانہ، ہبہ، میراث، غصب وغیرہ اور ذرائع آمدنی، حلال وحرام ومشتبہ سے متعلق مسائل
مسئلہ ۲۰۱ : ازپنجاب
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ رنڈیوں اور ڈومنیوں کے یہاں مزدوری کرکے کمانا جائزہے یانہیں؟ اگر نہیں جائز تو نصارٰی کی نوکری کیوں جائزہے؟ اگرنہیں جائز تو لوگ اس روپیہ سے مساجد ومدارس میں چندہ کیوں دیتے ہیں؟ بیّنوا توجروا(بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ت)
الجواب
اصل مزدوری اگر کسی فعل ناجائز پر ہو سب کے یہاں ناجائز، اور جائز پر ہو تو سب کے یہاں جائز، اس امر میں رنڈیاں اور غیررنڈیاں، نصارٰی وہنود وغیرہم سب برابر ہیں۔ کلام اس میں ہے کہ اگر اُن کے یہاں کسی فعل جائز پر مزدوری کی تو آیا زرِ اُجرت اُن کے مال سے لینا روا، اور وہ اکل حلال ہوگا یانہیں، اس کا حکم یہ ہے کہ رنڈیوں کو جو مال گانے ناچنے یا معاذاﷲ زنا کی اُجرت میں ملتاہے ان کے لئے حرام ہے وہ ہرگز اس کی مالک نہیں ہوتیں وہ ان کے ہاتھ میں مال مغصوب کا حکم رکھتاہے، نہ انہیں خود اس کا اپنے صرف میں لانا جائز نہ دوسرے کو، وہ مال بعینہٖ اپنے قرض خواہ، کسی چیز کی قیمت، خواہ مزدوری کی اجرت میں، خواہ ویسے ہی بلامعاوضہ بطورہدیہ، خواہ صدقہ، خواہ کسی طرح لینا روا ہوسکے بلکہ فرض ہے کہ جن جن سے لیاہے انہیں کو پھیردیں۔
فی کراھیۃ الھندیۃ عن المحیط عن محمدرحمہ اﷲ تعالٰی فی کسب المغنیۃ ان قضی بہ دین لم یکن لصاحب الدین ان یاخذہ ۱؎ الخ وفی حظر ردالمحتار عن السغناقی عن بعض المشائخ کسب المغنیۃ کالمغصوب لم یحل اخذہ ۲؎ اھ۔
فتاوٰی ہندیہ، بحث کراھیۃ میں بحوالہ محیط امام محمد سے مروی ہے کہ گانے والی عورت کی کمائی سے اگر قرض ادا کیاجائے تو قرض خواہ کو اس کا لینا جائزنہیں الخ۔ ردالمحتار بحث ممنوعات میں امام سغناقی نے بعض مشائخ کے حوالہ سے روایت کی ہے کہ گو یا مغنیہ کی کمائی غصب شدہ چیز کی طرح ہے لہٰذا اس کا لینا جائزنہیں اھ(ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامش عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵ /۳۴۹)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۴۷)
اسی طرح اُن کے آشنا جو مال بطور تحفہ وہدیہ ان کے راضی رکھنے یا ان کا دل اپنی طرف مائل کرنے کو دے آتے ہیں اگر چہ اس وقت خالی ملاقات کو جائیں اور زنا یا غنا کچھ مقصود نہ رکھیں اس کابھی یہی حکم ہے کہ وہ رشوت ہے اور نڈیاں اس کی مالک نہیں ہوجاتیں اس کا واپس دینا بھی واجب ہے۔
فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار آثرا عن القنیۃ مقرا علیہ، مایدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردہ ولا تملک ۳؎ اھ۔
حاشیہ طحطاوی بردرمختار میں علامہ طحطاوی نے مصنف قنیہ کے کلام کو برقرار رکھتے ہوئے اس سے نقل کیاہے کہ عاشق معشوق کو جو کچھ بطور رشوت دے اور اس کے حوالے کرے تو اس کا واپس کرنا ضروری ہے اس لئے کہ معشوقہ اس کی مالک نہیںاھ۔(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب القضاء دارالمعرفۃ بیروت ۳ /۱۷۸)
اگرلینے والے کو معلوم ہوگا کہ یہ مال بعینہٖ وہی ہے انہوں نے گانے، ناچنے، زنا کی اُجرت یا آشناؤں سے تحفہ ہدیہ رشوت میں پایا ہے تو اسے لینا ہرگز روانہیں۔ اور وہ مال جو انہیں گانے ناچ مجلے میں انعام بلا شرط یعنی اُجرت مقررہ سے زیادہ ملتاہے ان کے حق میں حکم ہبہ کا رکھتاہے کہ وہ عقد اجارہ باطلہ جو ان افعال محرمہ پر ہوا یہ مال اس کے تحت میں داخل نہیں بلکہ بہت لوگ بطور خوشنودی کچھ اپنی ناموری کے خیال سے بعض جاہل یہ سمجھ کر کہ ایسے مقامات پر انعام دینا شان ریاست ہے دیاکرتے ہیں تو وہ اس مال کی مالک ہوگئیں، اسی طرح ڈومنیوں کو جو بیل ملتی ہے اس کابھی یہی حکم ہے۔
فی الخانیۃ الرجل اذا کان مطربا مغنیا ان اعطی بغیر شرط قالوایباح لہ ذٰلک و ان کان یاخذہ علٰی شرط، ردالمال علی صاحبہ ان کان یعرفہ وان لم یعرفہ یتصدق بہ ۱ اھ قلت والمسئلۃ منقولۃ عن محرر المذھب، اثرھا فی الھندیۃ عن المنتقی عن ابراھیم عن محمد وعنھا نقل فی ردالمحتار قال ومثلہ فی المواھب۔
فتاوٰی قاضی خان میں ہے جب کوئی شخص گانے بجانے والا ہو اور اس کو بغیر کسی شرط کے کچھ دیاگیا تو فقہاء کرام نے اس کو مباح قرار دیاہے لیکن اگر اسے پہچانتا نہیں تو پھر اسے خیرات کردے اھ، میں کہتاہوں یہ مسئلہ صاحب مذہب سے یعنی مذہب قلم بند کرنے والے سے منقول ہے جس کو فتاوٰی عالمگیری میں ''المنتقٰی'' کے حوالے سے ابراہیم نے امام محمد سے نقل کیاگیاہے اور اسی سے فتاوٰی شامی میں نقل کیاگیاہے اور اس نے کہاہے کہ المواہب میں اسی کی مثل مذکور ہے۔(ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضیخان کتاب الحظر والاباحۃ نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۹)
اقول: مگر اس قدر تفرقہ ضرور ہے کہ اگر دینے والے نے یہ مال حسب دستور فی الواقع انعام یا بیل کے طور پر دیا تو ہبہ ٹھہرے گا اور اگر اصل مقصود آشنائی بڑھانا اور اپنی طرف لبھانا ہے تو بیشک رشوت قرار پائے گا اور اسی حکم مغصوب میں داخل ہوجائے گا۔
فانما الامور بمقاصدھا ،
کاموں کا مدار ان کے مقاصد پرہے،
وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی۲؎۔
اور اعمال کامدار ارادوں پرہے لہٰذا ہرآدمی کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے ارادہ کیاہے۔(ت)
(۲؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدء الوحی الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲)
اور یہ فرق ملاحظہ قرائن سے معلوم ہوسکتاہے اسی لئے مسموع یوں ہے کہ رنڈی، ڈومنی سے معاذاﷲ جس شخص کو آشنائی ہوتی ہے وہ بلاوجہ بھی حسبِ مقدرت انعام کثیر اور جلد جلد بیل دیتاہے، یونہی بعض دیہات کی رسم سنی گئی ہے کہ نیوتے والے جوبیل رنڈی کودیتے ہیں صاحب خانہ کا قرض سمجھ کر دیاجاتاہے اور وہ اس اجرت مقررہ پر مجرا لیتاہے تو یہ بیل درحقیقت بیل نہیں بلکہ وہی اجرت ہے اور مغصوب میں داخل لان المعھود عرفا کالمذکورا لفظاً (اس لئے کہ ''معہود'' رواج میں مذکور کی طرح ہے۔ت) غرض ان صورتوں سے پاک ہو تو بیشک انعام اور بیل کا روپیہ ان کی ملک خاص ہے اور انہیں خود اس سےانتفاع اور دوسرے کو اس میں سے دیناجائزہے، اس لینے والے کو اگر معلوم ہو کہ مثلاً زرِ اجرت جو اس نے دیا خاص اس مال حلال سے تھا اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح اگر رنڈی کسی سے قرض لے کر اس کی اُجرت دے تو بھی لینا جائز، اب چاہے وہ اپنا قرض کسی مال سے ادا کرتی رہے۔
فی الخلاصۃ فالحیلۃ فی مثل ھذہ المسائل ان یشتری شیئا ثم ینقد ثمنہ من ای مالٍ احب وقال ابویوسف سألت ابا حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن الحیلۃ فی مثل ھذا فاجابنی بما ذکرناہ ۱؎ اھ قلت وسیأتی سند اٰخر۔
خلاصہ میں ہے کہ اس نوع کے مسائل میں حیلہ یہ ہے کہ وہ شخص کسی سے قرض لے پھر جس مال سے بھی چاہے وہ مقروضہ رقم ادا کردے، قاضی امام ابویوسف نے فرمایا : میں نے امام ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس قسم کے مسائل میں حیلہ دریافت کیاتھا تو آپ نے مجھے وہی جواب دیا جو ہم نے بیان کیا ہےاھ۔ میں کہتاہوں اس کی دوسری سند کا عنقریب ذکر آئے گا۔(ت)
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ الفصل الرابع المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۴ /۳۴۹)
اور اگر رنڈی مال حرام بعینہٖ نہ دے بلکہ اس مال سے کوئی شے مثلاً غلہ یا کپڑا خرید کر دیناچاہے تو اس کی دو صورتیں ہیں :
اول یہ کہ خریدنے میں نقدوعقد دونو اس مال حرام پر جمع ہوئے یعنی رنڈی نے اپنا حرام روپیہ بائع کے سامنے ڈال دیا کہ فلاں چیز دے دے، اس نے دے دی، یا حرام روپیہ دکھا کر کہا اس کے عوض دے دے۔ اس نے دے دی۔ اس نے یہی زرِ حرام قیمت میں دیا ا س صورت میں جو کچھ رنڈی نے خریدا وہ بھی مثل اس روپے کے حرام رہا۔
دوم یہ کہ نقدوعقد کا زرِ حرام پر اجتماع نہ ہو کسی رنڈی نے نہ روپیہ پہلے سے دیا یا نہ دکھایا بلکہ یونہی کہا کہ ایک روپیہ کی یہ چیز دے دے اس نے دے دی، اس نے قیمت میں زر حرام دیا، یا حلال روپیہ دکھا کر مانگی، پھر دیا حرام، یا حرام دکھاکر طلب کی، پھر دیا حلال کہ وجہیں اولین میں حرام پر عقد، اور ثالث میں اس کا نقد نہ ہوا، اس صورت دوم پر جو چیز رنڈی نے خریدی بہتر تو اس کا بھی نہ لیناہے۔
لان کثیرا من مشائخنا ذھبوا الی تحریم الابدال مطلقا فیما کان الخبث فیہ لعدم الملک۔
اس لئے کہ ہمارے بہت سے مشائخ مطلقاً ابدال کے حرام ہونے کی طرف گئے ہیں اس صورت میں کہ جس میں خباثت پائی جائے ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے۔(ت)
پھربھی اگر لے لے گا تو رنڈی اپنے افعال پر ماخوذ ہے، یہ خریدی ہوئی چیز نہ اس کے حق میں حرام کہی جائے گی نہ اس لینے والے کے حق میں،
لان جمہور ائمتنا المتاخرین افتوا بقول الامام الکرخی المفصل بالتفصیل المذکور رفقا بالمسلمین نظرا الی حال ھذا الزمان الفاشی فیہ الحرام بل منھم من زعم حل الابدال مطلقا فیما لایتعین بالتعین فی ردالمحتار عن التتارخانیۃ والوالجیۃ الفتوی الیوم علی قول الکرخی دفعا للحرج لکثرۃ الحرام قال وعلی ھذا مشی المصنف فی کتاب الغصب تبعاللدرروغیرھا۱؎ اھ وفی فتاوی الامام فخرالدین قاضی خاں اما الذی اشتراہ بالثمن اذا لم یکن الشراء مضافا الی الغصب فظاھر اما الذی اشتراہ بالثمن واضاف العقد الیہ فالعقد لم یقع علی الثمن المشار الیہ فلا یتمکن الخبث فی المبیع ۲؎ اھ،
اس لئے کہ ہمارے جمہورائمہ متاخرین نے امام کرخی کے قول پر فتوٰی دیا ہے جو ذکر کردہ تفصیل میں مفصل ہے۔ مسلمانوں کی آسانی کے پیش نظر اس زمانہ پر نظر رکھتے ہوئے کہ جس میں حرام زیادہ ہے، بلکہ ان میں سے کچھ وہ ائمہ ہیں جو مطلقاً ابدال کے حلال ہونے کا گمان رکھتے ہیں، اس صورت میں جس میں تعیین کے ساتھ شَے متعین نہ ہو، ردالمحتار میں تتارخانیہ اور ولوالجیہ کے حوالے سے منقول ہے کہ آج کے زمانے میں امام کرخی کے قول پر فتوٰی ہے دفع حرج کے لئے کثرت حرام کی وجہ سے، اس نے کہا کہ مصنف نے کتاب الغصب میں یہی روش اختیار کی ہے درر وغیرہ کا اتباع کرتے ہوئے اھ، اور فتاوی امام فخرالدین قاضیخان میں ہے لیکن اگر اس نے کسی چیز کو ثمن سے خریدا بشرطیکہ اس اشتراء کی اضافت غصب کی طرف نہ ہو تو اس کا حکم ظاہرہے لیکن اگر اس نے ثمن سے چیز خریدی اور عقد کی اضافت اس کی طرف کی تو پھر عقد، ثمن مشار الیہ پر واقع نہ ہوا تو مبیع میں خباثت پیدا نہ ہوگی اھ
(۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع باب المتفرقات داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ /۲۱۹)
(۲؎ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الحظر والاباحۃ مطبع نولکشور لکھنؤ ۴ /۷۷۸)
اقول وھٰھنا تحقیق و ازاحۃ وھم یعرف بالمراجعۃ الٰی رسالتنا فی اکل الحلال والحرام التی انا فی تالیفھا وترصیفھا فی ھذہ الایام واذا تمت فارجوا ان تکون نافعۃ مبارکۃ ان شاء اﷲ تعالٰی۔
اقول : (میں کہتاہوں کہ) یہاں تحقیق اور ازالہ وہم ہے جس کی پہچان ہمارے رسالے کی طرف مراجتعت پرموقوف ہے جو حلال و حرام کے کھانے کے موضوع پرہے، میں ان دنوں میں اس کی تصنیف و ترصیف(ترتیب) کررہاہوں پھر جب وہ مکمل ہوجائے گا تو میں امید رکھتاہو کہ وہ ان شاء اﷲ تعالٰی فائدہ بخش اور بابرکت ہوگا۔(ت)
اور اگرمعلوم ہو کہ یہ مال جو وہ مثلاً اُجرت میں دیتی ہے اگر چہ عین حرام نہیں مگر اس میں مال حلال و حرام اس طرح سے ملے ہوئے ہیں کہ تمیز نہیں ہوسکتی یا ہو تو بدقّت تمام ہو مثلاً رنڈی کے پاس دس روپیہ ناپاک کمائی کے تھے اور پانچ انعام یا قرض یا زراعت وغیرہ یا کسی وجہ حلال کے اور اس نے وہ سب ملادئیے اور شناخت نہیں کہ وہ دس کون سے تھے اور یہ پانچ کون سے، تو اس صورت میں جس قدر مال وجہ حلال سے تھا مثال مذکور میں پانچ روپیہ اس قدرلینا تو بلاشبہ جائزہے۔