Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
117 - 190
حدیث شانزدہم: ابن سعد طبقات میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الخضاب بالسواد۔ ۳؎
رسول اﷲ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیاہ خضاب سے منع فرمایا۔
 (۳؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد )
افسوس کہ ذرا سے نفسانی شوق کے لئے آدمی ایسی سختیوں کو گوارا کرے۔
محیط میں ہے :
الخضاب بالسواد قال عامۃ المشائخ انہ مکروہ ۴؎۔
عام مشائخ نے فرمایا ہے کہ سیاہ خضاب مکروہ ہے۔ (ت)
(۴؎ ردالمحتار         بحوالہ المحیط     مسائل شتی             داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۸۲)
ذخیرہ میں ہے:
علیہ عامۃ المشائخ ۵؎۔
اسی پر عام مشائخ ہیں۔ (ت)
(۵؎ ردالمحتار بحوالہ الذخیرہ         کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۶۷۱)
درمختار میں ہے :
یکرہ بالسواد وقیل لا۔۱؎
سیاہ خضاب کا استعمال مکروہ ہے اور یہ بھی کہاگیا کہ مکروہ نہیں ہے۔(ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الحظروالاباحۃ    فصل فی البیع            مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۲۵۳)
ان تینوں عبارتوں کا یہی حاصل کہ عامہ مشائخ کرام وجمہورائمہ اعلام کے نزدیک سیاہ خضاب منع ہے، علماء جب کراہت بولتے ہیں اس سے کراہت تحریم مراد لیتے ہیں جس کا مرتکب گناہگار ومستحق عذاب ہے والعیاذباﷲ تعالٰی۔

 علامہ سیدحموی پھر علامہ سیدطحطاوی پھر علامہ سیدشامی رحمہم اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں :
ھذا فی حق غیرالغزاۃ ولایحرم فی حقھم للارھاب۔۲؎
یعنی سیاہ خضاب کا حرام ہونا غیرغازی کے حق میں ہے غازیوں کے لئے حرام نہیں۔
 (۲؎ ردالمحتار    مسائل شتی   داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۲)
شیخ محقق مولانا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اﷲ علیہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :
پیری نورالٰہی ست وتغییر نورالٰہی بظلمت مکروہ، ووعید درباب خضاب سیاہ شدید آمدہ اھ ملخصاً۔۳؎
بالوں کی سفیدی اللہ تعالی کا نور ہے اور خداتعالی کے نور کو سیاہی سے بدل دینا شرعاً مکروہ ہے اور سیاہ خضاب کے استعمال کرنے والوں کے لیے سخت وعید ہے ، اھ ملخصاً(ت)
(۳؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ    کتاب اللباس باب الترجل    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۵۷۰)
اسی میں ہے  :
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند وگاہے زرد نیز  ۴؂ اھ ملخصاً۔
سیاہ خضاب کااستعمال حرام ہے ،صحابہ کرام اور ان کےعلاوہ دیگر حضرات سرخ خضاب کیاکرتے تھےاورکبھی زرد بھی ،اھ ملخصاً
(۴؎اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ    کتاب اللباس باب الترجل    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۵۶۹)
بالجملہ یہی قول مختار ومنصور ومذہبِ جمہور ثابت بارشاد حضورپرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے اور شک نہیں کہ احادیث وروایات میں مطلقاً سیاہ رنگ سے ممانعت فرمائی تو جو چیز بالوں کو سیاہ کرے خواہ نِرانیل یا مہندی کا میل یا کوئی تیل، غرض کچھ ہو سب ناجائزوحرام اور ان وعیدوں میں داخل ہے، حدیث وفقہ میں اگر صرف نیل خالص کی ممانعت اور باقی سیاہ خضابوں کی اجازت ہوتی تو بیشک مہندی کی آمیزش کام دیتی اب کہ مطلقاً سیاہ رنگ کو حرام فرمایا تو جب تک اس قدرمہندی نہ ملے جونیل پرغالب آجائے اور اس کی سیاہی کو دور کردے کیاکام دے سکتی ہے کہ وجہ حرمت یعنی بالوں کی ظلمت اب بھی باقی، اور وہ جو حدیث میں وارد کہ حضرت سیدنا صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہ حناوکتم سے خضاب فرماتے ہرگز مفید نہیں کہ بتصریح علماء وہ خضاب سیاہ رنگ نہ دیتا تھا بلکہ سرخی لاتا جس میں سیاہی کی جھلک ہوتی، سرخ رنگ کا قاعدہ ہے جب نہایت قوت کو پہنچتا ہے ایک شان سیاہی کی دیتاہے ایسا خضاب بلاشبہ جائز بلکہ محمود جس کی تعریف صحیح حدیث میں خود حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے منقول رواہ احمد والاربعۃ۱؎ وابن حبان عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ (امام احمد اور دیگر چارمحدثین اور ابن حبان نے اس کو حضرت ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالے سے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الترجل    باب فی الخضاب    آفتاب عالم پریس لاہور        ۲ /۲۲۲)

(جامع الترمذی    ابواب اللباس        باب ماجاء فی الخضاب    امین کمپنی دہلی            ۱ /۲۰۸)

(سنن النسائی        کتاب الزینۃ الخضاب بالحناء والکتم        نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲ /۲۷۷)

(مسند احمد بن حنبل    عن ابی ذر   المکتب الاسلامی بیروت        ۵/۱۴۷، ۱۵۰، ۱۵۴)

(مواردالظمآن        کتاب اللباس    باب تغییر الشیب    المطبعۃ السلفیۃ        ص۳۵۵)
شیخ محقق نوراﷲ مرقدہ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں :
بصحت رسیدہ است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ خضاب می کرد بحنا وکتم کہ نام گیا ہے ست لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سُرخ مائل بسیاہی ست۔۲؎
صحیح طور پر یہ بات ہم تک پہنچی کہ امیرالمومنین ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے مہندی اور کتم(وسمہ) سے خضاب استعمال کیا، کتم ایک گھاس کانام ہے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے۔(ت)
(۲؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس    باب الترجل        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۳ /۵۷۰)
اسی کے قریب علامہ قاری نے جمع الوسائل شرح شمائل شریف ترمذی اور امام احمد قسطلانی نے ارشاد الساری شرح صحیح بخاری شریف میں تصریح فرمائی اور قولِ راجح وتفسیرِ جمہور پر کتم نیل کانام بھی نہیں بلکہ وہ ایک اور پتی ہے کہ رنگ میں سرخی رکھتی ہے شکل میں برگِ زیتون سے مشابہ ہوتی ہے جسے لوگ حنا یا نیل سے ملا کر خضاب بناتے ہیں۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں :
الکتم بفتح الکاف والمثناۃ الفوقیۃ نبت یشبہ ورق الزیتون یخلط بالوسمۃ ویختضب بہ۱؎۔
کَتَم چھوٹے کاف اور تاء کی زبر کے ساتھ بننے والا یہ لفظ ایک قسم کی گھاس کانام ہے جوزیتون کے پتوں سے مشابہت رکھتی ہے جس کو وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
(۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر        تحت حدیث ان احسن ماغیرتم بہ الخ        مکتبۃ الامام الشافعی ریاض    ۱ /۳۰۹)
اسی میں ہے :
الکتم بفتحتین نبت فیہ حمرۃ یخلط بالحناء اوالوسمۃ فیختضب بہ ۲؎۔
کتم کے پہلے دو حروف پر زبر استعمال ہوتی ہے یہ ایک قسم کی گھاس ہے جس کی رنگت سُرخ ہوتی ہے اس کو مہندی یا وسمہ میں ملاکر خضاب کیاجاتاہے۔(ت)
 (۲؎التیسیر شرح الجامع الصغیر    حدیث اول من خضب بالحناء والکتم الخ        مکتبۃ الامام الشافعی ریاض    ۱ /۳۹۲)
ابھی شرح مشکوٰۃ سے گزرا کہ رنگ آں سیاہ نیست۳؎ الخ (اس کا رنگ سیاہ نہیں ہوتا۔ت)
 (۳؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ    کتاب اللباس     باب الترجل        مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۳ /۵۷۰)
اقول: بلکہ فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ خود حدیثوں سے ثابت کرسکتاہے کہ حناوکتم کے خضاب کا رنگ سُرخ ہوتاتھا،
صحیح بخاری ومسند امام احمد وسنن ابن ماجہ میں عثمان بن عبداﷲ بن موہب سے مروی :
قال دخلت علی ام سلمۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا فاخرجت شعرا من شعر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مخضوبا (زاد الاخیران) بالحناء والکتم۔۴؎
یعنی میں حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے موئے مبارک (جو اُن کے پاس تبرکاتِ شریفہ میں رکھے تھے جس بیمار کو اس کا پانی دھوکر پلاتیں فوراً شفاپاتاتھا) نکالے مہندی اور کتم سے رنگے ہوئے تھے۔
 (۴؎ صحیح البخاری        کتاب اللباس    باب مایذکر فی الشیب    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۷۵)
انہیں عثمان بن عبداﷲ سے انہیں موئے اقدس کی نسبت صحیح بخاری شریف میں مروی :
ان ام سلمۃ ارتہ شعر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احمر۱؎۔
یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے انہیں نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے موئے مبارک سرخ رنگ دکھائے۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب اللباس    باب مایذکر فی الشیب    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۷۵)
ثابت ہواکہ حناوکتم نے سرخ رنگ دیا بلکہ اسی حدیث میں امام احمد رحمہ اﷲ تعالٰی کی دوسری روایت یوں ہے:
شعرا احمر مخضوبا بالحناء والکتم۲؎۔
یعنی ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے موئے مبارک سرخ رنگ دکھائے جن پر حناوکتم کا خضاب تھا۔
 (۲؎ مسند امام احمد بن حنبل    عن عثمان بن عبداﷲ            دارالفکر بیروت    ۶ /۲۹۶)
تو واضح ہوا کہ کَتم اگرچہ کسی شیئ کانام ہو مگر روایت مذکورہ سے حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نسبت سیاہ خضاب کا گمان کرنا یا اس شے پر نیل اور حنا ملے ہوئے کو مطلقاً جائز سمجھ لینا محض غلط ہے۔ افسوس کہ ہمارے زمانہ کے بعض صاحبوں نے خضاب وسمہ وحنا کی روایات تو دیکھیں اور ان کا مطلب اصلاً نہ سمجھا اول تو وسمہ نیل ہی کو نہیں کہتے بلکہ ایک اور پتی ہے کہ حنا میں مل کر اس کی سرخی تیز کردیتی ہے ورنہ خالص حنا کی سرخی گہری نہیں ہوتی۔

 قاموس وتاج العروس میں ہے :
الوسمۃ ورق النیل اونبات اٰخریخضب بورقہ۔۳؎
وسمہ گھاس نما پتوں والی نباتات ہے اس کے پتے خضاب کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔(ت)
 (۳؎ تاج العروس    فصل الواو        من باب المیم    داراحیاء التراث العربی بیروت ۹ /۹۳)
مغرب میں اسی معنی پر جزم کیا اور وسمہ بمعنی نیل کو قول ضعیف کہا،
حیث قال الوسمۃ شجرۃ ورقھا خضاب وقیل یجفف ویطحن ثم یخلط بالحناء فیقنأ لونہ والاکان اخضر۴؎۔
وسمہ کو نیل کہنا ضعیف قول ہے معتمدیہ ہے کہ عرب زبان میں وسمہ ایک درخت کانام ہے جس کی پتی سکھاکر پیس کر مہندی میں ملاتے ہیں جس سے اس کی سرخی خوب شوخ ہوجاتی ہے ورنہ پھیکی زردی مائل ہوتی ہے۔انتہی۔
 (۴؎ المغرب)
یوں تو بحمداﷲ روایات میں نیل والوں کے لئے اصلاً پتا نہیں اور اگر قاموس کی طرح دونوں معنی مساوی رکھے جائیں جب بھی نیل والوں کا استدلال باطل کہ قطعاً محتمل کہ وہ پتی مراد ہو جو حنا کی سرخی تیز کرتی ہے اور بالفرض ان کی خاطر مان ہی لیجئے کہ وسمہ سے نیل مراد توحاشا وہ روایتیں یہ نہیں کہتیں کہ پہلے مہندی کا خضاب کیجئے جس سے بال خود بخود صاف ہوجائیں اس پر وسمہ چڑھائیے کہ ظلمتیں اپنا پورا عمل دکھائیں نہ یہ کہ برائے نام نیل میں کچھ پتیاں مہندی کی ڈال کر خلط کا حیلہ کیجئے اور روسیاہی کا کامل لطف حاصل کیجئے بلکہ یہ مقصود کہ وسمہ میں اتنی حنا ملے کہ اس پر غالب آکر رنگ میں سیاہی نہ آنے دے بلکہ یہ مراد کہ اصل خضاب حنا کا ہو اور اس میں کچھ پتیاں نیل کی شریک کرلی جائیں جس سے اس کی سرخی میں ایک گونہ پختگی آجائے اس کی نظیر بعینہ یہ ہے کہ شراب میں نمک ملانے کو علماء نے باعث تخلیل وتحلیل فرمایاہے کہ جب سرکہ ہوگئی حقیقت بدل گئی حلت آگئی کہ اب وہ شراب ہی نہ رہی، ان روایات کو دیکھ کر کوئی صاحب پہلے نمک کھاکر اوپر سے شراب پی لیں یا گھڑے بھر شراب میں ایک کنکری نمک ڈال کر چڑھا جائیں کہ ہم تو نمک ملاکر پیتے ہیں، مقصود یہ تھا کہ نمک اس کا جوش بٹھادے ترش کرکے سرکہ بنادے ایسے حیلے شرع مطہر میں کیا کام دے سکتے ہیں، الحاصل مدارِ کاررنگ پرہے، بالفرض اگرخالص مہندی سیاہ رنگت لاتی وہ بھی حرام ہوتی اور خالص نیل زرد یا سرخ رنگ دیتا وہ بھی جائز ہوتا، یوں ہی نیل اور مہندی کا میل یا کوئی بلا ہو جو کچھ سیاہ رنگ لائے سب حرام ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔

رسالہ

حک العیب فی حرمۃ تسوید الشیب

ختم ہوا
Flag Counter