Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
116 - 190
حدیث ششم: طبرانی معجم الکبیر میں اور حاکم مستدرک میں عبداللہ بن عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی حضور پر نور صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ فرماتے ہیں :
الصفرۃ خضاب المومن والحمرۃ خضاب المسلم والسواد خضاب الکافر ۵؎۔
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافر کا۔
 (۵؎ المستدرک للحاکم     کتاب معرفۃ الصحابۃباب الصفرۃ خضاب المومن الخ    دارالفکر بیروت    ۳ /۵۲۶)
حدیث ہفتم: عقیلی وابن حبان وابن عساکر انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الشیب نور من خلع الشیب فقد خلع نور لاسلام ۱؎۔
سپیدی نور ہے جس نے اسے چھپایا اس نے اسلام کا نور زائل کیا۔
 (۱؎ الضعفاء الکبیر للعقیلی         ترجمہ ۱۹۲۳ الولید بن موسٰی الدمشقی     دارالکتب العلمیہ بیروت        ۳ /۵۲۶)
علامہ محمد حفنی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
خلع الشیب ای ازالہ وسترہ بان خضبہ بالسواد فی غیر جہاد ۲؎۔
خلع الشیب کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے بڑھاپے کو زائل کیا اور اسے بغیر جہاد کے سیاہ خضاب لگا کر چھپایا ۔ (ت)
 (۲؎ تعلیقات الحفنی علی ہامش السراج المنیر     تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ     المطبعۃ الازہر یہ مصر        ۲ /۳۵۲)
علامہ مناوی پھر علامہ عزیزی اس حدیث پر تفریع کرتے ہیں :
فنتفہ مکروہ وصبغہ بالسواد لغیر الجہاد حرام ۳؎۔
یعنی پس سفید بال اکھیڑنا مکروہ ہے اور سیاہ خضاب غیر جہاد میں حرام ۔ (ت)
 (۳؎ السراج المنیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث الشیب نور من خلع الخ     المطبعۃ الازہر یہ مصر        ۲ /۳۵۲)
حدیث ہشتم: حاکم کتاب الکنی والالقاب میں بسند حسن ام سلیم رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے راوی حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من شاب شیبۃ فی الاسلام کانت لہ نورا مالم یغیر ھا ۴؎۔
جسے اسلام میں سپیدی آئے وہ اس کے لئے نور ہوگی جب تک اسے بدل نہ ڈالے۔ (ت)
 (۴؎ کنز العمال     بحوالہ الحاکم فی الکنی     حدیث ۱۷۳۳۴         موسسۃ  الرسالہ بیروت        ۶ /۶۸۱)
حدیث نہم: دیلمی وابن النجار حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اول من خضب بالحناء والکتم ابراھیم و اول من اختضب بالسواد فرعون ۵؎۔
سب میں پہلے حناوکتم سے خضاب کرنے والے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم ہیں اور سب میں پہلے سیاہ خضاب کرنے والا فرعون۔
 (۵؎ الفردوس بما ثور الخطاب         حدیث ۴۷             دارالکتب العلمیہ بیروت        ۱ /۳۰۔۲۹)
علامہ مناوی اس حدیث کے نیچھے لکھتے ہیں:
فلذٰلک کان الاول مندوبا والثانی محرما الاللجھاد ۱؎۔
یعنی اسی لئے پہلا خضاب مستحب ہے اور دوسرا غیر جہاد میں حرام۔
 (۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث اول من خضب بالحناد الخ         مکتب الامام الشافعی الریاض    ۱/ ۳۹۲)
حدیث دہم: طبرانی معجم کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنۃ میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۲؎۔
جو سیاہ خضاب کرے گا اللہ تعالٰی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
 (۲؎ مجمع الزوائد         کتاب اللباس باب ماجاء فی الشیب والخضاب الخ     دارالکتب العربی بیروت        ۵/ ۱۶۳)

(کنز العمال         بحوالہ طبرانی کبیر     حدیث ۱۷۳۳۳     موسسۃ  الرسالہ بیروت        ۶/ ۶۷۱)
حدیث یازدہم: نیز معجم کبیر طبرانی میں بسند حسن عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من مثل بالشعر فلیس لہ عنداﷲ خلاق ۳؎۔
جو بالوں کی ہیئات بگاڑے اللہ کے یہاں اس کے لئے کچھ حصہ نہیں۔
 (۳؎ المعجم الکبیر للطبرانی     حدیث ۱۰۹۷۷             مکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۱۱/ ۴۱)
علماء فرماتے ہیں ہیأت بگاڑنا کہ داڑھی مونڈے یا سیاہ خضاب کرے، تیسیر میں ہے:
ای صیرہ مثلۃ بالضم بان نتفہ او حلقہ من الخدود اوغیرہ بالسواد ۴؎۔
یعنی بالوں کا مثلہ کرے لفظ مثلہ حروف میم کے پیش کے ساتھ (مفہوم یہ ہے کہ بالوں کی شکل و رنگت کو بدل ڈالے) بالوں کی ہئیت بگاڑنا یہ ہے کہ سفید بال اکھاڑے جائیں یا انھیں رخساروں سے مونڈ دیا جائے یا انھیں سفید نہ رہنے دے اور سیاہ کرڈالے۔ (ت)
 (۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث من مثل بالشعر الخ         مکتبۃ الامام الشافعی الریاض         ۲/ ۴۴۴)
حدیث دواز دہم تا پانزدہم: ابویعلٰی مسند اور طبرانی معجم کبیر میں واثلہ بن اسقع اور بیہقی شعب الایمان میں انس بن مالک وعبداللہ بن عباس اور ابن عدی کامل میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہم سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
شرکھو لکم من تشبہ بشبابکم ۱؎۔
تمھارے ادھیڑوں میں سب سے بدتر وہ ہےجو جوانوں کی سی صورت بنائے۔
 (۱؂ المعجم الکبیر   للطبرانی حدیث ۲۰۲             مکتبہ الفیصلیۃ بیروت        ۲۲/ ۸۴)

(مسند ابو یعلٰی         ترجمہ واثلہ بن الاسقع             موسسۃ  علوم القرآن بیروت    ۶/ ۴۷۸)

(شعب الایمان     حدیث ۷۸۰۵             دارالکتب العلمیۃ بیروت        ۶/ ۱۶۸)

(الکامل لابن عدی     ترجمہ الحسن بن ابی جعفر             دارالفکر بیروت        ۲/ ۷۲۱)
امام ابوطالب مکی قوت القلوب میں اور امام حجۃ الاسلام احیاء العلوم میں فرماتے ہیں :
الخضاب بالسواد منھی عنہ لقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خیر شبابکم من تشبہ بشیوخکم وشرشیو خکم من تشبہ بشبابکم ۲؎۔
بالوں کاسیاہ خضاب لگانا ممنوع ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تمھارے بہترین جو ان وہی ہیں جو بوڑھوں جیسی شکل و صورت بنائیں اور تمھارے بدترین بوڑھے وہ ہیں جو تمھارے جوانوں کی سی شکل وصورت اختیار کریں۔ (ت)
   (۲؎ احیاء العلوم  کتاب اسرار الطہارۃ فصل فی اللحیۃ عشر خصال الخ     نولکشور لکھنؤ   ۱/ ۱۰۳)
Flag Counter