| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
عقود الدریہ میں ہے: العمل بما علیہ الاکثر ۱؎ (اس پر عمل کرنا جس پر اکثر ہیں۔ ت) قول جمہور پر حدیث صحیح صحاح ستہ: عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعن اﷲ الواشمات والمستوشمات والناصمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغیرات خلق اﷲ ۲؎۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت فرمایا کہ اللہ تعالٰی ان عورتوں پر لعنت کرے جو ''خال'' گود نے والی اور خال گدوانے والی ہیں، چہرہ کے بال نوچنے اور نچوانے والی ہیں۔ اور خوبصورتی کے پیش نظر دانتوں کے درمیان کشادگی بنانے والی ہیں۔ اللہ تعالٰی کی تخلیق میں تبدیل کرنے والی ہیں۔ (ت) شاہد عدل ہے۔ عورت زیادہ اس کی محتاج ہے کہ شوہر کی نگاہ میں آراستہ ہو جب اسے یہ امور تغیر خلق اللہ کے سبب حرام وموجب لعنت ہوئے تو مرد پر بدرجہ اولٰی۔
(۱؎ العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوٰی الحامدیۃ) (۲؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب الموصولۃ وباب المستوشمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۰۔ ۸۷۹) (صحیح مسلم کتاب اللباس باب تحریم فعل الواصلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۰۵)
وقد قال تعالٰی لا تبدیل لخلق اﷲ ۳؎ وقال تعالٰی عن عدوہ ابلیس ولامرنھم فلیغیرن خلق اﷲ ۴؎۔
اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) اللہ تعالٰی کی تخلیق (پیدائش) میں کوئی تبدیلی نہیں، نیز اللہ تعالٰی نے اپنے دشمن شیطان لعین سے حکایتاً فرمایا (کہ اس نے کہا) ضرور انھیں حکم دوں گا تو وہ اللہ تعالٰی کی تخلیق میں تبدیل کریں گے۔ (ت)
(۳؎ القرآن الکریم ۳۰ /۳۰)(۴؎القرآن الکریم ۴ /۱۱۹)
نیز حدیث صحیح:
المتشبع بما لم یعط کلابس ثوبی زور رواہ الشیخان ۱؎ عن اسماء رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
ایسی چیز سے سیری دکھانے والا جو اس کو ملی نہیں اس طرح سے جیسے جھوٹ اور فریب کا لباس پہننے والا ، بخاری اور مسلم نے اس کو سیدہ اسماء رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا ہے (ت)
(۱؎صحیح البخاری کتاب النکاح باب التشبع بما لم ینل الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۷۸۵) (صحیح مسلم کتاب اللباس باب النہی عن التزویر فی اللباس قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۰۶۹)
اس پر وعید کو بس ہے ظاہر ہے کہ یہ خضاب اسی لئے ہوگا کہ عورت پر اظہار جوانی کرے۔ جوان ہے نہیں اور اس کی نگاہ میں جوان بنے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشاد سے وہ شخص سر سے پاؤں تک جھوٹ اور فریب کا جامہ پہنے ہے۔ اس سے بد تر اور کیا درکار ہے بخلاف جہاد حدیث متواتر میں ہے الحرب خدعۃ ۲؎ (جنگ دھوکا ہے۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الحرب خدعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۲۵) (صحیح مسلم کتاب الجہاد باب جواز الخداع فی الحرب قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۳
رسالہ حک العیب فی حرمۃ تسوید الشیب(۱۳۰۷ھ) (سفید بالوں کو کالا کرنے کی حرمت کے بارے میں عیب کو مٹانا)
مسئلہ ۲۰۰: از شہر کہنہ مرسلہ محمد شفیع علی خاں صاحب ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۰۷ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وسمہ نیل کا جس سے بال سیاہ ہوجائیں جائز ہے یا نہیں اور نیل میں حنا ملاکر لگانا درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب: وسمہ نیل حنا ملا کر لگانا جائز ہے بلاکراہت۔
فی الدرالمختار ملخصا یستحب للرجل خضاب شعرہ ولحیتہ ولو فی غیر حرب فی الاصح ویکرہ بالسواد وقیل لا مجمع الفتاوٰی، وفی رد المحتار و ورد ان ابابکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ خضب بالحناء والکتم ۱؎ اھ، واﷲسبحنہ وتعالٰی اعلم۔
درمختار میں مختصر طور پر مذکور ہے کہ مرد کے لئے اپنے بالوں اور داڑھی کو خضاب کرنا (یعنی رنگین کرنا) اگر چہ صحیح قول کے مطابق جہاد کے بغیر مستحب ہے البتہ سیاہ کرنا مکروہ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مکروہ نہیں ہے۔ مجمع الفتاوٰی اور فتاوٰی شامی میں ہے حدیث پاک میں آیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مہندی اور وسمہ سے خضاب کیا (یعنی ان سے بالوں کو رنگدار بنانا) اھ واللہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت) محمد یعقوب علی خاں۔
(۱؎ درمختار کتاب الکراہیۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳) (۱؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۷۱)
الجواب : صحیح مذہب میں سیاہ خضاب حالت جہاد کے سوا مطلقا حرام ہے جس کی حرمت پر احادیث صحیحہ و معتبرہ ناطق۔ فاقول: وباللہ التوفیق (پس میں کہتاہوں اور توفیق اللہ سے ہے۔ ت) :
حدیث اول: احمد ومسلم وابوداؤد ونسائی وابن ماجہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی حضور سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے والد ماجد حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی داڑھی خالص سپید دیکھ کر ارشاد فرمایا:
غیرواھذا بشیئ واجتنبوا السواد ۲؎۔
اس سپیدی کو کسی چیز سے بدل دو اور سیاہ رنگ سے بچو۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۹۹)
حدیث دوم : امام احمد اپنی مسند میں حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
غیر والشیب ولا تقربوا السواد ۳؎۔
پیری تبدیل کرو اور سیاہ رنگ کے پاس نہ جاؤ۔
(۳؎ مسند امام احمد بن حنبل عن انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۴۷)