Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
113 - 190
مسئلہ ۱۹۵ ۱۹۶: مستفسرہ ذکاء اللہ خاں رضوی روز سہ شنبہ     بتاریخ ۸شعبان ۱۳۳۳ھ

(۱) زید کا قول ہے کہ خضاب مہندی میں ملاکر لگانا جائز ہے۔

(۲) زید کا قول ہے کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ وقت جہاد داڑھی کترواناچاہئے۔
الجواب

(۱) مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سیاہ آئے حرام ہے قیامت کے دن ان کے منہ کالے کئے جائیں، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من اختضب بالسواد سود اﷲ وجھہ یوم القیامۃ ۱؎۔
جو سیاہ خضاب کرے قیامت میں اللہ تعالٰی اس کا منہ سیاہ کرے گا۔
 (۱؎ مجمع الزوائد     کتاب اللباس     باب فی الشیب والخضاب     دارالکتاب بیروت    ۵/ ۱۶۳)

(کنز العمال    برمز طب عن ابی الدرداء     حدیث ۱۷۳۳۳     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۶۷۱)
ہاں مہندی میں اتنا نیل ملانا جس سے رنگ سرخ ہی رہے مگر اس میں ذرا پختگی آجائے یہ جائز ہے وھو المراد بالماثور وبما ھو فی الخانیۃ وغیرھا مذکورہ (حدیث سے منقول اور خانیہ وغیرہ میں مذکور سے یہی مراد ہے۔ ت)

(۲) زید محض جھوٹا ہے قرآن مجید پر افتراء کرتاہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۷: مسئولہ مولوی محمد اسمعیل صاحب محمود آباد مسجد چھاؤنی بریلی ۷ ربیع الثانی ۱۳۳۴ھ

رات کے وقت آئینہ دیکھنا منع ہے یا نہیں خصوصا عورتوں کو کہ اپنے خاوند کے لئے بناؤ سنگھار کرتے وقت آئینہ دیکھنے کی سخت ضرورت پڑتی ہے۔
الجواب: رات کو آئینہ دیکھنے کی کوئی ممانعت نہیں، بعض عوام کاخیال ہے کہ اس سے منہ پر جھائیاں پڑتی ہیں اور اس کا بھی کوئی ثبوت نہ شرعاً ہے نہ طبعاً نہ تجربۃً، اورعورت کہ اپنے شوہر کے سنگار کے واسطے آئینہ دیکھے ثواب عظیم کی مستحق ہے ثواب کی بات  بے اصل خیالات کی بناء پرمنع نہیں ہوسکتی واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۸: مسئولہ عزیز الحسن طالب علم مدرسہ اہلسنت شنبہ یکم شعبان ۱۳۳۴ھ

مردوں کے لئے مہندی کا استعمال شوقیہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس قدر عضو بدن میں؟ بینوا توجروا
الجواب: ہاتھ پاؤں میں مہندی کی رنگت مرد کے لئے حرام ہے اور سراور داڑھی میں مستحب۔
مسئلہ۱۹۹: از کلکتہ زکریا اسٹریٹ ۲۲ مولوی عبدالحلیم صاحب میرٹھی     ۷ رمضان المبارک ۱۳۳۶ھ

خضاب لگانے اور مردوں کی داڑھی مونچھ اور سر کے بال کالے کرنے کے متعلق شریعت بیضا کا کیا حکم ہے؟ یہ حدیث کہ ''خضاب لگانے والا جنت کی بونہ سونگھے گا'' کس خضاب سے متعلق ہے۔ نیل و مہندی ملا کر جو خضاب کیا جاتاہے اور جس سے بال بالکل کالے نہیں ہوتے وہ کس حکم میں ہے؟ اور اگر اسی سے بعض طرق کے تبدل وتغیر کے باعث بالکل سیاہ ہوجائیں تو کیا حکم ہے؟ نوجوان بیوی یا اور بعض کیفیات میں کیا خضاب اسود ناجائز ہونے کی صورت میں استثناء رہے گا؟ اوراگر ایسا ہے تو ان بعض کیفیات کی توضیح کیا ہے؟
الجواب : سیاہ خضاب حرام ہے۔
قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غیروا ھذا بشیئ واجتنبوا السواد رواہ مسلم ۱؎ عن جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی حدیث اٰخر من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ رواہ الطبرانی ۲؎۔
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ان بالوں کو کسی چیز سے تبدیل کردو لیکن سیاہی سے بچو، مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سند سے اسے روایت کیا۔ اور ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے جس نے سیاہ خضاب لگایا قیامت کے دن اللہ تعالٰی اس کا چہرہ سیاہ کرے گا۔ اس کو امام طبرانی نے روایت کیا ۔ (ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب اللباس باب استحباب خضاب الشیب بصفرۃ الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۱۹۹)

(۲؎ کنز العمال     بحوالہ طب عن ابی الدرداء     حدیث۱۷۳۳۳     موسسۃ الرسالہ بیروت    ۶/ ۶۷۱)
حدیث مذکور فی السوال سیاہ خضاب ہی کے بارے میں ہے خود اسی کے الفاظ کا ارشاد ہے:
یخضبون بالسواد کحواصل الحمام لایریحون رائحۃ الجنۃ رواہ ابوداؤد ۳؂ والنسائی عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
کچھ لوگ سیاہ خضاب لگائیں گے جیسے کبوتر کے پوٹے ہوں، وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھیں گے، ابوداؤد ونسائی نے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اس کو روایت کیا ۔ (ت)
 (۳؎ سنن ابی داؤد     کتاب الترجل باب ماجاء فی خضاب السواد     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲/ ۲۲۲)

(سنن النسائی باب النہی من الخضاب بالسواد     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۲/ ۲۷۷)
سیاہ خضاب مطلقاً حرام ہے اور سیاہ مقول بالتشکیک نیلا، اودا، کاسنی سب سیاہ ہے اور بفرض غلط سیاہ نہ ہو تو قریب سیاہ قطعا ہے اور حدیث صحیح کاارشاد ہے: لاتقربوا السواد، رواہ الامام احمد ۱؎ عن انس  رضی اﷲ عنہ۔

سیاہی کے پاس نہ جاؤ (اس کو امام احمد نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل )
اور حدیث ابوداؤد ونسائی میں کبوتر کے پوٹے سے تشبیہ بھی اسی طرف ناظر ، جنگلی کبوتروں کے پوٹے اکثر نیلگوں ہوتے ہیں۔ خاص مہندی کی رنگت گہری نہیں ہوتی جب اس میں کچھ پتیاں نیل کی ملادی جائیں تو سرخ گہرا رنگ ہوجاتاہے یہ حسن ہے نہ یہ کہ اتنا نیل ملا دیا جائے کہ سیاہ کردے، یا پہلے مہندی سے رنگ کر جب بال خوب صاف ہوگئے اس پر نیل تھوپاکہ یہ سب وہی حرام صورتیں ہیں جن کو اجتنبوا (سیاہی سے بچو۔ ت) فرمایا، لایجدون رائحۃ الجنۃ (وہ لوگ جنت کی خوشبو نہ پائیں گے۔ ت) فرمایا: جس پر سود اللہ وجہہ (اللہ تعالٰی ان کے چہرے سیاہ کردے گا۔ ت) آیا ۔ شراب کہ خلط نمک سے سرکہ ہوجائے نہ یہ کہ گھڑے بھر شراب میں نمک کی ایک کنکری ڈال کر پی جائے نہ یہ کہ بہت سانمک پھانک کر اوپر سے شراب چڑھائے، تحریم سواد سے صرف مباشران جہاد کا استثناء ہے جیسے اون کو ریشم کا بانا، اور صاحبین کے نزد یک خالص ریشمیں روا ہیں، اور زوجہ جوان کی غرض سے ایک روایت مرجوحہ میں جواز آیا ہے اور مرجوح پر حکم فتوٰی جہل وخرق اجماع ہے۔
امام محمد علیہ الرحمۃ فتاوٰی ذخیرہ میں فرماتے ہیں:
الخضاب بالسواد للغز ولیکون اھیب فی عین العدومحمود باتفاق وان فعل ذٰلک لیزین نفسہ للنساء فمکروہ علیہ عامۃ المشائخ ۲؎۔
جہاد میں سیاہ خضاب کی اجازت ہے تاکہ دشمن کی نگاہ میں بارعب اور خوفناک ہوجائے اوریہ بالاتفاق اچھا ہے۔ اور اگر اپنے آپ کو عورتوں کے لئے زیب وزینت دے تویہ مکروہ ہے اور اسی پر عام مشائخ قائم ہیں۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ     بحوالہ الذخیرۃ کتاب الکراہیۃ الباب العشرون     نورانی کتب خانہ پشاور         ۵/ ۳۵۹)
Flag Counter