مسئلہ ۱۹۲: ۸ ربیع الآخر شریف ۱۳۱۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ داڑھی وغیرہ پر مرد کوبلاکسی وجہ موجہ کےوسمہ کرنا یا کسی رنگ سے رنگنا جائز ہے یا گناہ؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب : تنہامہندی مستحب ہے اور اس میں کتم کی پتیاں ملاکر کہ ایک گھاس مشابہ برگ زیتون ہے جس کا رنگ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہوتا ہے اس سے بہتر اور زرد رنگ سب سے بہتر، اور سیاہ وسمے کا ہو خواہ کسی چیز کامطلقا حرام ہے۔ مگر مجاہدین کو ۔
سنن ابی داؤد میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے:
مر علی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رجل قد خضب بالحناء فقال ما احسن ھذا قال فمراٰخرقد خضب بالحناء و الکتم فقال ھذا احسن من ھذا ثم مراٰخر قد خضب بالصفر فقال ھذا احسن من ھذا کلہ ۱؎۔
یعنی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ایک صاحب مہندی کا خضاب کئے گزرے فرمایا یہ کیا خوب ہے۔ پھر دوسرے گزرے انھوں نے مہندی اور کتم ملا کر خضاب کیا تھا فرمایا: یہ اس سے بہتر ہے، پھر تیسرے زرد خضاب کئے گزرے فرمایا: یہ ان سب سے بہتر ہے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب فی خضاب الصفرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۴)
معجم کبیر طبرانی ومستدرک میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
زرد خضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اہل اسلام کا اور سیاہ خضاب کافروں کا ہے۔
(المستدرک علی الصحیحین کتاب معرفۃ الصحابہ ذکر عبداﷲ بن عمرو بن العاص دارالفکر بیروت ۳/ ۵۲۶)
(کنز العمال بحوالہ طب وک عن ابن عمر حدیث ۱۷۳۱۵ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۲۸)
امام احمد مسند اور ابوداؤد ونسائی وابن حبان وحاکم وضیا اپنی اپنی صحاح اور بیہقی سنن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ سیاہ خضاب کریں گے جیسے جنگلی کبوتروں کے پوٹے، وہ جنت کی بو نہ سونگھیں گے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الترجل باب ماجاء فی خضاب السواد آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۲۲)
(سنن النسائی کتاب الزینۃ الخضاب بالسواد ۲/ ۲۷۷ ومسند احمد بن حنبل ۱/ ۲۷۳)
طبرانی کبیر اور ابن ابی عاصم کتاب السنہ میں حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من خضب بالسواد سود اﷲ وجہہ یوم القیمۃ ۲؎۔
جو سیاہ خضاب کرے اللہ تعالٰی روز قیامت اس کا منہ کالا کرے گا۔
(۲؎ کنز العمال بحوالہ طب عن ابی الدرداء حدیث ۱۷۳۳۳ موسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۶۷۱)
علامہ حموی وطحطاوی وشامی فرماتے ہیں:
ھذا فی حق غیر الغزاۃ ولا یحرم فی حقھم للارھاب ۳؎۔
یہ حکم مجاہدین کے سوا دوسروں کے لئے ہے لہذا ان کے لئے سیاہ خضاب کا استعمال حرام نہیں دشمنوں کو ڈرانے اور انھیں مرعوب کرنے کے لئے وہ اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ (ت)
(۳؎ ردالمحتار مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲)
اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں ہے:
بصحت رسیدہ است کہ امیر المومنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ خضاب می کرد بحناوکتم کہ نام گیا ہے است لیکن رنگ آں سیاہ نیست بلکہ سرخ مائل بسیاہی است ۴؎۔
طریقہ صحت تک یہ راویت پہنچی ہوئی ہے کہ امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کتم گھاس کی پتیاں ملاکر خضاب کیا کرتے تھے جس کا رنگ سیاہ نہیں بلکہ گہرا سرخ مائل بسیاہی ہو اکرتا تھا۔ (ت)
اس مسئلے کی تفصیل فتاوٰی فقیر میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
(۴؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب اللباس باب الترجل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۷۰)
مسئلہ ۱۹۳: ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۱۷ھ از شہر کہنہ مرسلہ سید عبدالواحدمتھراوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عورت کو زیبائش وآرائش کے لئے مسی سیاہ لگانا یا دانتوں کے گرجانے کے خوف سے سیاہ مسی لگانا کیسا ہے؟ بینوا توجروا
الجواب : مسی کسی رنگ کی ہو عورتوں کو علاج دنداں یا شوہر کے واسطے آرائش کے لئے مطلقا جائز بلکہ مستحب ہے۔ صرف حالت روزہ میں لگانا منع ہے۔
درمختار میں ہے سفید گوند کہ جس کے باہم اجزاء ملے ہوئے ہوں اور جو چبائی ہوئی ہو مگر مزید چبائے جانے کے قابل ہو تو اس کے استعمال یعنی چبانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، غیر روزہ دار کے لئے اس کا استعمال بلاعذر مکروہ ہے البتہ عذر کی وجہ سے خلوت میں اس کا چبانا مکروہ نہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مباح ہے اور مستورات کے لئے اس کا استعمال مستحب ہے اس لئے کہ یہ ان کی مسواک ہے فتح القدیر، فتاوٰی شامی میں ہے کہ مصنف نے اس کو چند شرائط کے ساتھ مشروط یا مقید (اسود، غیر ممضوغ (چبایا ہوا نہ ہو) غیر ملتئم (اجزاء باہم پیوستہ نہ ہوں)) اس لئے کہ غیر موصوفہ کے ہونے کی صورت میں اس کا کچھ نہ کچھ حصہ پیٹ میں چلا جاتاہے الخ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الصوم باب مایفسد الصوم مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۵۲)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب مایفسد الصوم داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۱۲)
مسئلہ ۱۹۴: از سرنیان ضلع بریلی مرسلہ امیر علی صاحب قادری ۴ رجب ۱۳۳اھ
عورت یا مرد کو سر میں گھی ڈالنا پھوڑے پھنسی پر استعمال کرنا۔
الجواب: جائز ہے مگر اس کا خیال رہے کہ سر میں بد بو نہ پیدا ہو دھوتا رہے اگر بد بو آنے لگے گی نماز مکروہ ہوگی، اور مرد کو مسجد میں جانے جماعت میں شریک ہونے سے محروم ہونا پڑے گا، اور یہ جائز نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔