مسئلہ ۱۹۰: اشہر کہنہ مرسلہ شیخ عبدالعزیز صاحب ۲۱ جمادی الاولٰی ۱۳۱۴ھ
خضاب سیاہ رنگ یعنی مہندی ونیل باہم مخلوط کر کے بلا ضرورت شرعی استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور ضرورت شرعی کیا کیا ہیں؟ صرف منہدی لگانا مسنون ہے یانہیں؟ سوائے خضاب مذکورہ بالااور خضاب بھی مثل مازو وہلیلہ وغیرہ کے جائز ہیں یا نہیں؟ جوا ب مع حوالہ کتاب مرحمت ہو۔
الجواب : سیاہ خضاب خواہ مازو ووہلیلہ ونیل کا ہو خواہ نیل وحنا مخلوط خواہ کسی چیز کا سوا مجاہدین کے سب کو مطلقا حرام ہے۔ اور صرف مہندی کا سرخ خضاب یا اس میں نیل کی کچھ پتیاں اتنی ملا کر جس سے سرخی میں پختگی آجائے اور رنگ سیاہ نہ ہونے پائے سنت مستحبہ ہے۔
شیخ محقق علامہ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ الشریف اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ شریف میں فرماتے ہیں:
خضاب بسواد حرام ست وصحابہ وغیرہم خضاب سرخ می کردند گاہے زردنیز اھ ملخصا ۱؎۔
سیاہ خضاب لگاناحرام ہے صحابہ اور دوسرے بزرگوں سے سرخ خضاب کا استعمال منقول ہے اور کبھی کبھار زرد رنگ کا خضاب بھی اھ ملخصا۔ (ت)
(۱؎ اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ کتاب اللباس باب الترجل نوریہ رضویہ سکھر ۳/ ۵۶۹)
حدیث میں ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الصفرۃ خضاب المؤمن والحمرۃ خضاب المسلم والسواد خضاب الکافر، رواہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم ۲؎ فی المستدرک عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
زردخضاب ایمان والوں کا ہے اور سرخ اسلام والوں کا اور سیاہ خضاب کافروں کا، (طبرانی نے کبیر میں اور حاکم نے مستدرک میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ ت)
(۲؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر عبداللہ بن عمر دارالفکر بیروت ۵/ ۴۸۲)
محیط پھر منح الغفار پھر ردالمحتار میں ہے:
اما الحمرۃ فھو سنۃ الرجال وسیما المسلمین ۱؎۔
رہی سرخی کی بات تو یہ مردوں کے لئے خصوصا مسلمانوں کے لئے سنت ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الخنثٰی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲)
قاضی خاں پھر شرح مشارق پھر شامی میں ہے:
مذھبنا ان الصبغ بالحناء والوسمۃ حسن ۲؎۔
ہمارامذہب یہ ہے کہ مہندی اور وسمہ لگانا اچھا ہے۔ (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الخنثٰی مسائل شتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۲)
احادیث میں سیاہ خضاب پر سخت سخت وعیدیں اور مہندی کے خضاب کی ترغیبیں بکثرت وارد ہیں۔
ہم نے اپنے فتاوٰی میں علی ا لاطلاق سیاہ خضاب کے حرام ہونے کی ایسے اندا زمیں تحقیق کی ہے کہ جس میں بیمار طبائع کے لئے شفا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۹۱: مسئولہ حافظ امیر اللہ صاحب ۲۴ رجب ۱۳۱۵ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ضعف بصر کے سبب سے طب میں علاج کے منجملہ ہر روز کئی دفعہ سر و ریش میں کنگھی کرنا بتا یا ہے۔ اور حدیث میں ایک دفعہ سے زیادہ کنگھا کرنا یا ایک دن کے بعد کرنا آیا ہے اس روایت کی بابت سوال ہے آیا معمول بہ ہے یا نہیں یہ روایت کہاں ہے؟ صورت اولٰی میں بضرورت علاج اجازت ہے یا نہیں؟ نہ بنظر زینت وکبر جو منجر بکبراست وتضییع وقت ہو، بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے۔ ت)
الجواب : احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی باسانید صحیحہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:
نھی رسول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الترجل الاغباء ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا مگر ناغہ کرکے۔
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب الترجل آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۲۱۷)
نیز ابوداؤد ونسائی کی حدیث میں بعض صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
نھانا رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم ان یمشط احدناکل یوم ۱؎۔
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ہم میں سے کوئی شخص روز کنگھی کرے۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی البول فی المستحم آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۵)
مقصود احادیث ترفہ وتنعم کی کثرت اور تزئین وتحسین بدن میں انہماک سے نہیں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ مرد کو زنانہ طو پر سنگار اور کنگھی چوٹی میں مشغول نہ چاہئے۔
مرقاۃ میں امام ولی الدین عراقی سے ہے:
ھو نھی تنزیہ لا تحریم والمعنی فیہ انہ من باب الترفۃ وتنعم فیجتنب ۲؎۔
یہ نہی تنزیہی ہے نہ کہ تحریمی اور اس کا معنی یہ ہے یہ آسودگی اور خوشحالی کے باب سے ہے لہذا اس کام سے پرہیز کرے۔ (ت)
(۲؎ مرقاۃ المفاتیح کتاب اللباس باب الترجل الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۲۲۶)
اور جہاں پر نیت ذمیمہ نہ ہو بلکہ بہ نیت صالحہ مثل علاج وغیرہ دن میں کئی بار کنگھی کرے کوئی حرج وکراہت نہیں،
امام مالک مؤطا میں ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی:
ان لی جمۃ أفارجلھا۔
میرے بال شانوں تک ہیں کیا میں انھیں کنگھی کروں ؟
فرمایا: نعم واکرمھا ہاں اور ان کی عزت کر۔
قال فکان ابوقتادہ ربما دھنھا فی الیوم مرتین لما قال لہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ۳؎۔
vیعنی ابوقتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اکثر دن میں دو بار بالوں یں تیل ڈالتے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمادیا تھا ہاں اور ان کی عزت کر، واللہ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ مؤطا امام مالک کتاب الجامع باب اصلاح الشعر میر محمد کارخانہ کراچی ص۷۲۱، ۷۲۲)