| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۱۸۵ تا ۱۸۹: از بمبئی محلہ چھتری سرنگ متصل مسجد حافظ عبدالقادر چاندے مرسلہ شیخ عبداللہ ولد حاجی اللہ رکھا محرم ۱۳۱اھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان صورتوں میں کہ ذیل میں معروض ہے: (۱) کہ دریں زماں عورتوں کو ناک چھیدنا جائز ہے یا نہیں؟ (۲) ہم لوگ کاٹھیاواری اور کچھی، اور بعض دیہات ہند میں یہ رواج ہے کہ مرد مرجائے تو عورتیں ناک میں نتھنی پہنتی نہیں اور کہتی ہیں یہ ہمارے مرد کی نشانی ہے اور جب دوسرا مرد کریں گی تب پہنیں گی۔ یہ عقیدہ ان کا درست ہے یانہیں؟ (۳) ناک چھیدنا اہل سنت وجماعت کے نزدیک فرض، واجب، سنت ، مستحب ہے یاکیا؟ (۴) اس نہت چھیدنے کو
ما راٰہ المسلمون حسنا فھو عنداﷲ حسن ۱؎
(جس کام کو مسلمان اچھا جانیں وہ اللہ تعالٰی کے نزدیک بھی پسندیدہ ہے۔ ت) پر حمل کرسکتے ہیں یاکیا؟ کیونکہ عورتوں کی زینت ہے۔
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب معرفۃ الصحابۃ یتجلی اللہ لعبادۃ عامۃ ولا بی بکر خاصۃ دارالفکر بیروت ۳/ ۷۸)
(۵) ناک داہنی طرف کا یا بائیں طرف کا چھیدنا یا کیا کیونکہ اکثر بلاد ہند کی عورتیں بعض داہنی طرف کا اور بعض بائیں طرف کا ناک چھیدتی ہیں وغیرہ بینوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ تم اجر پاؤ۔ ت)
الجواب : عورتوں کو نتھ یا بلاق کے لئے ناک چھیدنا جائز ہے جس طرح بالوں، بالیوں، کان کے گہنوں کے لئے کان چھیدنا،
فی الدرالمختار لاباس بثقب اذن البنت استحسانا ملتقط وھل یجوز فی الانف لم ارہ ۱ملخصا قال العلامۃ الطحطاوی قلت وان کان مما یتزین النساء بہ کما ھو فی بعض البلاد فھو فیھا کثقب القرط وقال العلامۃ السندی المدنی قد نص الشافعیہ علی جوازہ اھ نقلھما العلامۃ الشامی ۲؎ واقراقول: ولاشک ان ثقب الاذن کان شائعا فی زمن النبی صلی تعالٰی علیہ وسلم وقد اطلع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولم ینکرہ ثم لم یکن الا ایلاماللزینۃ فکذا ھذا بحکم المساواۃ فثبت جوازہ بدلالۃ النص المشترک فی العلم بھا المجتہدون وغیرھم کما تقرر فی مقررہ۔
درمختار میں ہے کہ لڑکی کے کان چھیدنے میں بطور استحسان کوئی مضائقہ نہیں کیا ناک چھیدنا بھی جائز ہے۔ میں نے اس کو نہیں دیکھا، لیکن علامہ طحطاوی نے فرمایا کہ میں کہتاہوں کہ اگر یہ کام عورتوں کی زیبائش میں شامل ہے جیسا کہ بعض شہروں میں رواج ہے تو پھر یہ بالیوں کے لئے کان چھید نے کی طرح کا عمل ہے۔ اور علامہ سندھی مدنی نے فرمایا شوافع نے اس کے جائز ہونے کی تصریح کی ہے۔ ان دونوں باتوں کو علامہ شامی نے نقل کرنے کے بعد برقراررکھا ہے۔ میں کہتاہوں اس میں کچھ شک نہیں کہ کان چھیدنا حضور صلی اللہ تعلٰی علیہ وسلم کے عہد مبارک میں متعارف اور مشہور تھا اور حضور پاک صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر اطلاع پائی مگر ممانعت نہیں فرمائی، یہ دکھ پہنچانا صرف زیب وزینت کے لئے ہوگا، اور اس طرح یہ بھی ہے کیونکہ دونوں کا حکم مساوی ہے۔ پس اس کا جائز ہونادلالت نص کی بنیاد پر ثابت ہوگیا اس علم سے جس میں مجتہد وغیر مجتہد مشترک ہیں جیسا کہ یہ بات اپنے محل میں ثابت ہوچکی ہے۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۲) (۲؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع دارالمعرفۃ بیروت ۴/ ۲۰۹) (ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۰)
اور وہ صرف ایک امر مباح ہے فرض واجب سنت اصلا نہیں ہاں جو مباح بہ نیت محمودہ کیاجائے شرعاً محمودہوجاتا ہے جیسے مسی لگانی کہ عورت کو مباح ہے اور اگر شوہر کے لئے سنگار کی نیت سے لگائے تو مستحب کہ یہ نیت شرعاً محمود ہے۔ اور جب کہ یہ امر زیور ہائے گوش کے لئے کان چھیدنے سے کہ خاص زمانہ اقدس حضور پر نور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں رائج تھا اور حضور پر نور صلوات اللہ و سلامہ علیہ نے جائز مقرر رکھا بحکم دلالت ثابت تو اس کے لئے اثر ماراٰہ المسلمون (جس کومسلمان اچھا کہیں تو وہ اللہ تعالٰی کے نزدیک اچھا ہوتا ہے۔ ت) کی طرف رجوع کی حاجت نہیں فان الثابت بدلالۃ النص کالثابت بالنص (کیونکہ جو دلالت نص سے ثابت ہو وہ اسی طرح ہے جیسے نص سے ثابت ہے۔ ت) اور دہنے بائیں جانب میں مختار ہیں یہ کوئی امر شرعی نہیں رسم زمانہ پر مبنی ہے جس طرف چاہیں چھیدیں، رہا موت شوہر پر نتھ نہ پہننا ایام عدت تک تو شرعاً ضرور ہے کہ نتھ زیور اور زینت ہے اور بیوہ کو کوئی گہنا کسی طرح کا سنگار جائز نہیں۔
فی الدرالمختار وردالمحتار تحد (ای وجویا کما فی البحر) مکلفۃ مسلمۃ اذ اکانت معتدۃ بت او موت بترک الزینۃ بحلی ( ای بجمیع انواعہ بحروفی قاضی خاں المعتدۃ تجتنب عن کل زینۃ ۱؎ اھ ملتقطا۔
درمختار اور ردالمحتار میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت سوگ منائے یعنی اس کے لئے ایسا کرنا واجب اور ضروری ہے جیسا کہ البحرالرائق میں ہے۔ مسلمان عورت سوگ منانے کی پابند ہے خواہ وہ طلاق کی عدت گزار رہی ہو یا وفات کی سوگ منانے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی قسم کے زیورات نہ پہنے تاکہ زیبائش نہ ہونے پائے (البحرالرائق) فتاوٰی قاضی خاں میں ہے کہ عدت گزارنے والی عورت ہر قسم کی زیب وزینت سے پرہیز کرے اھ ملتقطا (ت)
(۱؎ درمختار فصل الحداد مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۵۹) (ردالمحتار فصل الحداد داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۱۷۔ ۶۱۶)
اور بعد ختم عدت اگر شرعاً نتھ وغیرہ پہننا ناجائز وممنوع سمجھے گنہگار ہوگی کہ یہ معاذاللہ شریعت مطہرہ پر افتراء ہے اوراگر جائز و روا سمجھ کر یو ہیں عادۃً نہ پہنے تو حرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔