Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
109 - 190
شہید شیعہ ابوعبداللہ بن مکی لمعہ دمشقیہ میں لکھتا ہے:
یکبر اربعا فی اول الاذان ثم التشھدان ثم حیعلات الثلث ثم التکبیر ثم التھلیل مثنی فھذہ ثمانیہ عشر فصلا فھذہ جملۃ الفصول المنقول شرعا ولا یجوز اعتقاد شرعیۃ غیر ھذہ لفصل فی الاذان والا قامۃ کالتشھد بالولایۃ لعلی ۱؎ اھ ملخصا۔
اول اذان میں چار بار اللہ اکبر کہے  پھر دونوں شھادتیں پھر تینوں حی علی پھر اللہ اکبر پھر لا الہ الا اللہ ہر کلمہ دوبارہ یہ اٹھارہ کلمے ہیں اور کل یہی ہیں جو شرع میں منقول ہوئے۔ان کے سوا اذان اور اقامت(ف۱) میں اور کسی کو مشروع جاننا جائز نہیں جیسے اشھد ان علیا ولی اﷲ اھ ملخصا۔
 (۱؎ اللمعۃ الدمشقیہ)
ف۱: بعض ائمہ روافض کی تصریح کہ اذان میں اشھدان علیا ولی اﷲ یا اس کے مثل کہناجائز ہے اور اذان میں اس کی مشروعیت  کا اعتقاد باطل ہے۔
سند امر دوم: اسی مدارک میں ہے:
الاذان سنۃ متلقاۃ من الشارع کسائر العبادات فیکون الزیادۃ فیہ تشریعا محرما کما یحرم زیادۃ ''ان محمد والہ خیر البریۃ'' فان ذٰلک وان کان من احکام الایمان الا انہ لیس من فصول الاذان ۲؎۔
اذان ایک سنت ہے جسے شارع (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) نے تعلیم فرمایا مثل اور عبادتوں کے تو اس میں کوئی لفظ بڑھانا اپنی طرف سے نئی شریعت (ف۲ ) ایجاد کرنا ہے اور یہ حرام ہے جیسے "ان محمد والہ خیر البریہ" کا بڑھانا حرام  ہوا کہ یہ اگر چہ احکام ایمان سے ہے مگر اذان کے کلمات سے نہیں ۔
 (۲؎ مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام)
ف۲: بعض پیشوا یان کی تصریح کہ ۱۸ کلمات منقولہ اذان سے کوئی کلمہ بڑھانا نئی شریعت گھڑنا ہے اور یہ حرام ہے۔
اسی میں ہے:
الاذان عبادۃ متلقاۃ من صاحب الشرع فیقتصر فی کیفیتھا علی المنقول والروایات المنقولۃ عن اھل البیت علیھم السلام خالیۃ عن ھذا اللفظ فیکون الاتیان بہ تشریعا محرما ۳؎۔
اذان ایک عبادت ہے کہ صاحب شرع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سیکھی گئی تو اس کی کیفیت میں اسی قدر اقتصار کیا جائے جس قدر شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام سے منقول ہے اور حضرات اہل بیت کرام علیہم السلام سے جو روایتیں منقول ہوئیں وہ اس لفظ سے خالی ہیں تو اس کا بڑھانا نئی شریعت تراشنا ہوگا کہ حرام ہے۔
 ( ۳؎ مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام)
سند امر سوم: شیخ صدوق شیعہ ابن بابویہ قمی کہ ان کے یہاں کے اکابر مجتہدین وارکان مذہب سے ہے۔ کتاب من لایحضرہ الفقیہ کے باب الاذان والاقامۃ للمؤذنین میں لکھتا ہے:
روی ابوبکرن الحضر می وکلیب ن الاسدی عن ابی عبداﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبراﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبراشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمداً رسول اﷲ اشھد ان محمداً رسول اﷲ حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العمل، اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ وقال مصنف ھذا الکتاب ھذا ھو الاذان الصحیح لایزاد فیہ ولا ینقص منہ و المفوضۃ لعنھم اﷲ قد وضعوااخبارا و زادوافی الاذان محمد وال محمد خیر البریۃ مرتین، وفی بعض روایاتھم بعد اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان علیا ولی اﷲ مرتین، ومنھم من روی بدل ذٰلک واشھد ان علیا امیر المومنین حقا مرتین ولا شک فی ان علیا ولی اﷲ و انہ امیر المومنین حقا وان محمد والہ صلوات اﷲ علیہم خیر البریۃ ولکن لیس ذٰلک فی اصل الا ذان وانما ذکرت ذٰلک لیعرف بھذہ الزیادۃ المتھمون بالتفویض المدلسون انفسھم فی جملتنا ۱؎۔
ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی حضرت ابوعبداللہ علیہ السلام سے روای کہ اس جناب نے ان کے سامنے اذان یوں کہہ کر سنائی اﷲ اکبر ۴ اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲ ، اشھد ان محمدا رسول اللہ ۲، حی علی الصلوٰۃ ۲، حی علی الفلاح ۲، حی علی خیر العمل۲، اﷲ اکبر۲، لا الہ الا اللہ ۲، مصنف اس کتاب کا کہتا ہے یہی اذان صحیح ہے نہ اس میں کچھ بڑھایا جائے نہ اس سے کچھ گھٹا یا جائے، اور فرقہ مفوضہ نے کہ اللہ ان پر لعنت کرے کچھ جھوٹی حدیثیں اپنے دل سے گھڑیں اور اذان میں محمد وال محمد خیر البریہ ۲ دو بار بڑھایا اور انھیں کی بعض روایات میں اشھد ان محمد رسول اﷲ کے بعد اشھد ان علیا ولی اللہ دوبارآیا اور ان کے بعض نے اس کے بدلے اشھد ان علیا امیر المومنین حقا دوبار روایت کیا اور اس میں شک نہیں کہ علی ولی اللہ ہیں اور بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور ان کی آل علیھم السلام تمام جہاں سے بہتر ہیں مگر یہ کلمے اصل اذان میں نہیں، اور میں نے اس لئے ذکر کردیا کہ اس زیادتی کے باعث وہ لوگ پہچان لئے جائیں جو مذہب تفویض سے متہم ہیں اور براہ فریب اپنے آپ کو ہمارے گروہ(یعنی فرقہ امامیہ) میں داخل کرتے ہیں۔
 (۱؎ من لایحضر الفقیہ     باب الاذان والاقامۃ الخ   دارالکتب الاسلامیہ تہران ایران    ۱/ ۸۹۔ ۱۸۸)
دیکھو امامیہ کا شیخ صدوق کیسی صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ اذان کے شروع میں وہی اٹھارہ کلمے ہیں اور ان پر یہ زیادتیاں مفوضہ کی تراشی ہوئی ہیں اور صاف کہتا لعنھم اللہ تعالٰی ان پر اللہ لعنت کرے۔

تنبیہ لطیف: جس طرح بحمداللہ تعالٰی ہم نے یہ امور پیشوایان شیعہ کی تصریحات سے لکھے یونہی مناسب کہ اس کلمہ خبیثہ کا تبرا ہونا بھی انہی کے معتمدین سے ثابت کردیا جائے صدر کلام میں جس واضح تقریر سے ہم نے اس کا تبر ا ہونا ظاہر کیا اس سب سے قطع نظر کیجئے تو ایک امام شیعہ کی شہادت لیجئے کہ اس کی تقریر سے اس ناپاک کلمے کا سبّ صریح ودشنام قبیح ہونا ثابت، ان کا علامہ کتاب المختلف میں لکھتاہے۔
المفاخرۃ لاتنفک عن السباب اذا المفاخرۃ انما تتم بذکر فضائل لہ وسلبھا عن خصمہ اوسلب رذائل عنہ واثباتھا لخصمہ وھذا معنی السباب ۱؎۔
دو شخصوں کا آپس میں تفاخر کرنا (کہ ہر ایک اپنے آپ کو دوسرے پر کسی فضل وکمال میں ترجیح دے) باہم دشنام دہی سے خالی نہیں ہوتا کہ مفاخرت یونہی تمام ہوتی ہے کہ یہ شخص کچھ خوبیاں اپنے لئے ثابت کرے اور اپنے مقابل کو ان سے خالی کہے یا بعض برائیوں سے اپنی تبرئی اور اپنے مقابل کے لئے انھیں ثابت کرے۔ اور یہی معنی دشنام دہی کے ہیں۔
 (۱؎ کتاب المختلف)
نقلہ بعض محشی الروضۃ البھیۃ شرح اللمعۃ الدمشقیۃ علی ھامشھا من کتاب الحج فی تفسیر السباب صفحہ ۱۶۱۔
اس کو روضہ بہیہ شرح لمعہ دمشقیہ کے بعض محشی نے اس کے حاشیہ پر کتاب الحج میں سباب کی تفسیر میں صفحہ ۱۶۱ پر نقل کیا ہے۔ (ت)
اب کہئے کہ خلافت حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فضیلت ہے یا نہیں۔ ضرور کہے گا کہ اعلی فضائل سے ہے اب کہے ''خلیفہ رسول اﷲ '' کہہ کر آپ نے اسے مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ کے لئے ثابت اور ''بلا فصل'' کہہ کر حضرات خلفائے ثلثہ رضوان اللہ علیہم سے سلب کیا یا نہیں، اقرار کے سوا کیا چارہ ہے۔ اور جب یوں ہے اورآپ کا علامہ گواہی دیتا ہے کہ شرع میں دشنام اسی کا نام ، تو کیا محل انکاررہا کہ یہ مبغوض کلمہ معاذاللہ علی الاعلان ہمارے پیشوایان دین کو صاف صاف دشنام دیتاہے پھر تبرا نہ بتانا عجیب سینہ زوری ہے۔
ہاں اب داد انصاف طلب ہے  اگر بالفرض یہ کلمہ ملعونہ ان کی اذان مذہبی میں داخل ہوتا اور ان کے یہاں روایات میں آتا تو کہہ سکتے کہ صرف اہلسنت کا دل دکھانا مقصو د نہیں بلکہ اپنی رسم مذہبی پر نظر ہے اب کہ یقینا ثابت کہ کلمہ مذکورہ خود ان کے مذہب میں بھی نہیں۔ نہ صاحب شرع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے اس کی روایت نہ حضرات ائمہ اطہار سے اس کی اجازت نہ ان کے پیشواؤں کے نزدیک اذان کی یہ ترتیب وکیفیت بلکہ خود انھیں کی معتبر کتابوں میں تصریح کہ اذان میں صرف اتنا بڑھانا بھی حرام ہے کہ اشھد ان علیا ولی اللہ اور یہ زیادتیاں اس فرقہ ملعونہ کی نکالی ہوئی ہیں جو باتفاق اہلسنت وشیعہ کافر ہیں، تو ایسی حالت میں اس کے بڑھانے کو ہر گز کسی رسم مذہبی کی ادا پر محمول نہیں کرسکتے بلکہ یقیناً سوا اس کے کہ اہلسنت کو آزار دینا اور ان کا دل دکھانا اور ان کی توہین مذہبی کرنا مدنظر ہے اور کوئی غرض مقصود نہیں، سبحان اللہ! طرفہ بیباکی ہے اگر یہ ناپاک لفظ ان کی اذان مذہبی میں ہوتا بھی تاہم کوئی فریق اپنی اس رسم مذہبی کا اعلان ہی نہیں کرسکتا جس میں دوسرے فریق کی توہن مذہبی یا اس کے پیشوایان دین کی اہانت ہو نہ کہ یہ ناپاک رسم کہ خود شیعہ کے بھی خلاف مذہب ملعون کافروں سے سیکھ کر یہ اعلان کریں اور ہمارے پیشوایان دین کی جناب میں ایسے الفاظ کہہ کر جو بتصریح انھیں کے عمائد کے صریح دشنام ہیں ہمارا دل دُکھائیں کیا اب ہند میں روافض کی سلطنت ہے یا گورنمنٹ ہند شیعہ ہوگئی یا اس نے ہماری توہین مذہبی کی پروانگی دے دی یا شیعی صاحبوں نے کوئی خفیہ طاقت پیدا کرلی جس کے باعث ارتکاب جرم میں دہشت نہ رہی،
فالی اﷲ المشتکی وعلیہ البلاغ وھو المستعان ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا محمد والہ وصحبہ اجمعین۔ والحمدﷲ رب العالمین۔

رسالہ

ادلۃ الطاعنۃ فی اذن الملاعنۃ

ختم ہوا
Flag Counter