| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ) |
رسالہ الادلۃ الطاعنہ فی اذان الملا عنہ ( ملعونوں کی اذان کے بارے میں نیزے چبھونے والے دلائل)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۸۳: از انجمن محب اسلام مرسلہ مولوی صاحب صدر انجمن ۲۱ ذیقعدہ ۱۳۰۶ھ کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت وجماعت اس مسئلہ میں کہ بالفعل اہل تشیع نے اپنی اذان وغیرہ میں حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسبت کلمہ خلیفہ رسول اللہ بلا فصل کہنا اختیار کیا ہے۔ پس اہلسنت کو اس کلمہ کا سننا بمنزلہ سننے تبرا کے ہے یا نہیں، اور اس کے انسداد میں کوشش کرنا باعث اجر ہوگی یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان کرو تاکہ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب: الحمدﷲ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین محمد وخلفائہ الاربعۃ الراشدین والہ وصحبہ و اہل سنتہ اجمعین۔
تمام حمدیں اللہ تعالٰی رب العالمین کے لئے ہیں اور صلوٰۃ وسلام رسولوں کے آقا محمد صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان خلفاء اربعہ راشدین اورآپ کی آل وصحابہ اور تمام اہلسنت پر۔ (ت)
الحق یہ کلمہ مغضوبہ مبغوضہ مذکورہ سوال خالص تبرا ہے اور اس کا سننا سنی کے لئے بمنزلہ تبرا سننے سنی کےلیے بمنزلہ تبراسننے کے نہیں بلکہ حقیقۃً تبرا سننا ہے۔ والعیاذ باللہ تعالٰی رب العالمین، تبرا کے معنی اظہار براءت وبیزاری جس پر یہ کلمہ خبیثہ نہ کنایۃً بلکہ صراحۃً دال ہے کہ اس میں بالتصریح خلافت راشدہ حضرات خلفاء ثلثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی نفی ہے اور اس نفی کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ وہ بعد حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مسند نشین نہ ہوئے کہ ان کا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بعد تخت خلافت پر جلوس فرمانا فرمان واحکام جاری کرنا نظم ونسق ممالک اسلامیہ وتمام امور ملک ومال ورزم وبزم کی باگیں اپنے دست حق پر ست میں لینا وہ تاریخی واقعہ مشہور متواتر اظہر من الشمس ہے جس سے دنیا میں موافق مخالف یہاں تک کہ نصارٰی ویہود ومجوس وہنود کسی کو انکار نہیں بلکہ ان محبان خدا ونوابان مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روافض کو زیادہ عداوت کا مبنٰی یہی ہے ان کے زعم باطل میں استحقاق خلافت حضرات مولی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الاسنی میں منحصر تھا جب بحکم الٰہی خلافت راشدہ اول ان تین سرداران مومنین کو پہنچی روافض نے انھیں معاذاللہ مولٰی علی کا حق چھیننے والاٹھہرایا اور تقیہ شقیہ کی بدولت حضرت اسداللہ الغالب کو عیاذاباللہ سخت نامردود (ف) وبزدل وتارک حق ومطیع باطل بتایا ع
دوستی بے خرداں دشمنی ست
( بے عقل لوگوں کی دوستی اصل میں دشمنی ہے۔ ت)
کبرت کلمۃ تخرج من افواھھم ان یقولون الاکذبا ۱؎۔
کتنا بڑا بول ہے کہ ان کے منہ سے نکلتا ہے نرا جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۱۸/ ۵)
ف: روافض کے طور پر حضرت مولٰی علی معاذاللہ بزدل تارک حق مطیع باطل ٹھہرے۔
تو لاجرم لفظ بلا فصل میں جو نفی ہے اس سے نفی لیاقت واستحقاق مراد ، تو اس مجمل لفظ میں غضب وظلم وانکار حق واصرار باطل ومخالف دین واختیار دنیا وغیرہ وغیرہ ہزاروں مطاعن ملعونہ جو قوم روافض اپنے اعتقاد میں رکھتی اور زبان سے بکتی ہے سب دفعۃً موجود ہیں اور لائے نفی سے اپنی براءت وبیزاری کا کھلا اظہار، پھر تبرا اور کس چیز کا نام ہے میں اس واضح بات کے ایضاح کرنے یعنی آفتاب روشن کو چراغ دکھانے میں زیادہ تطویل محض بیکار سمجھ کر صرف اس الزامی نظر پر قناعت کرتاہوں، اگر کوئی شخص کہے (قوم شیعہ میں بعد عبدالرزاق بن ہمام کے جس نے ۲۱اھ میں انتقال کیا بلا فصل بہاؤ الدین املی ہونے سے محفوظ اور بظاہر نام اسلام سے محفوظ رہے۔ تو کیا اس نے ان دونوں کے بیچ میں جتنے شیعے گزرے مثل طوسی وحلی وکلینی وابن بابویہ وغیرہم سب کو کافر ملعون نہ کہا، نہیں نہیں یقینا اس کے کلام کا صاف صاف یہی مطلب ہے جس کے سبب ہم اہل حق بھی اس لفظ پر انکار کریں گے اور اسے ناپسند رکھیں گے کہ ہمارے نزدیک بھی ان سب پر علی الاطلاق حکم کفر ولعنت جائز نہیں۔ انصاف کیجئے کیا اگر یہ بات علانیہ برسر بازار پکاری جائے تو شیعہ کو کچھ نا گوار نہ ہوگا یا وہ اسے صریح توہین وتذلیل نہ سمجھیں گے حالانکہ اس بیچ میں جتنے شیعے گزرے کسی کو مدح وعقیدت شیعہ کے اصول مذہب میں داخل نہیں، نہ معاذاللہ قرآن وحدیث یا اقوال ائمہ اطہار رضوان اللہ تعالٰی علیہم ان لوگوں کی نیکی وخوبی پر دال، پھر حضرات خلفائے ثلثہ (ف۱) رضوان اللہ تعالٰی علیہم جن کی ثنا ومدحت وادب وعقیدت ہم اہل سنت کے اصول مذہب میں داخل اور ہمارے نزدیک ہزاروں آیات واحادیث حضرت رسالت واقوال ائمہ اہلبیت صلوات اللہ علیہ وعلیہم سے ان کی لاکھوں خوبیاں تعریفیں مالا مال ان کی نسبت ایسا کلمہ مغضوبہ اذان میں پکارا جانا کیونکر ہماری توہین مذہبی نہ ہو گا یا ہمارے دلوں کونہ دکھائے گا غرض یہ تو وہ روشن وبدیہی بات ہے جس کے ایضاح کو جو کچھ کہئے اس سے واضح تر نہ ہوگا مجھے بتوفیق اللہ عزوجل یہاں یہ ظاہر کرنا ہے کہ یہ کلمات جو روافض حال نے سنیوں کی ایذا رسانی کو اذان میں بڑھائے ہیں ان کے مذہب کے بھی خلاف ہیں۔
ف۱: حضرت خلفائے ثلثہ کی ثنا ومدحت ادب وعقیدت اہل سنت کے اصول مذہب میں ہے۔
(۱) ان کی حدیث وفقہ کی رو سے بھی اذان ایک محدود عبارت معدود کلمات کا نام ہے جن میں یہ ناپاک لفظ داخل نہیں۔ (۲) ان کے نزدیک بھی اس اذان منقول میں اور عبارت بڑھانا ناجائز وگناہ اور اپنے دل سے ایک نئی شریعت نکالنا ہے۔ (۳) ان کے پیشوا خود لکھ گئے کہ ان زیادتیوں کی موجب ایک ملعون (ف۲ ) قوم ہے جنھیں امامیہ بھی کافر جانتے ہیں۔
ف۲: روافض کے پیشواؤں نے کہا کہ اذان میں خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بلافصل وغیرہ زیادت کی موجد ایک ملعون قوم ہے۔
میں ان تینوں امور کی سندیں مذہب امامیہ کی معتبر کتابوں سے دوں گا اور ان کی عبارتیں مع صاف ترجمہ کے نقل کروں گا وباللہ التوفیق ولہ الحمد علی ارأۃ سواء الطریق (اللہ تعالٰی سے ہی توفیق ہے اسی کے لئے حمد ہے سیدھا راستہ دکھانے پر۔ ت) سند امر اول: شرائع الاسلام شیخ علی مطبوعہ کلکتہ مطبع گلدستہ نشاط ۱۲۵۵ھ کے صفحہ ۳۴ پر ہے: الاذان علی الاشھر ثمانیۃ عشر فصلا التکبیر اربع والشہادۃ بالتوحید ثم بالرسالۃ ثم یقول حی علی الصلوٰۃ ثم حی علی الفلاح ثم حی علی خیر العمل والتکبیر بعدہ ثم التھلیل کل فصل مرتان ۱؎۔ اذان مشہور تر قول پر اٹھارہ کلمے ہیں: تکبیر چار بار اور گواہی توحید کی پھر رسالت کی پھر حی علی الصلوٰۃ پھر حی علی الفلاح پھر حی علی خیر العمل اور اس کے بعد اللہ اکبر پھر لا الہ الا اللہ ہر کلمہ دو بار۔
(۱؎ شرائع الاسلام المقدمۃ السابقۃ فی الاذان والاقامۃ مطبعۃ الآداب فی النجف الاشرف ۱/ ۷۵)
خضید حی جو شہید ثانی کہا جاتا ہے اس کی شرح مدارک میں لکھتا ہے:
ھذا مذھب الاصحاب لا اعلم فیہ مخالفا والمستند فیہ ما رواہ ابن بابویہ والشیخ عن ابی بکر الحضر می وکلیب الاسدی عن ابی عبداﷲ علیہ السلام انہ حکی لھما الاذان فقال اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمدا رسول اﷲ اشھد ان محمدا رسول اللہ حی علی الصلوٰۃ حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العمل اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ لا الہ الا اﷲ ، والا قامۃ کذٰلک وعن اسمعیل الجعفی قال سمعت ابا جعفر علیہ السلام یقول الاذان والاقامۃ خمسۃ وثلثون حرفا فعد ذٰلک بیدہ واحدا واحدا الاذان ثمانیۃ عشر حرفا والاقامۃ سبعۃ عشر حرفا واشار المصنف بقولہ علی الاشھر الی مارواہ الشیخ بسندہ الی الحسین بن سعید عن النصربن سوید عن عبداﷲ بن سنان قال سألت ابا عبداﷲ علیہ السلام عن الاذان فقال تقول اﷲ اکبر اﷲ اکبر اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان لا الہ الا اﷲ اشھد ان محمد ا رسول اﷲ، اشھد ان محمد ا رسول اﷲ، حی علی الصلوٰۃ، حی علی الصلوٰۃ حی علی الفلاح حی علی الفلاح حی علی خیر العمل حی علی خیر العمل، اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ وروی زرارۃ والفضیل عن ابی عبداﷲ علیہ السلام، نحو ذٰلک وحکی الشیخ عن بعض الاصحاب تربیع التکبیر فی اخر الاذان وھو شاذ مردود بما تلونا من الاخبار ۱؎ اھ ملخصا۔
اذان کے وہی اٹھارہ کلمے ہونا مذہب تمام امامیہ کا ہے جس میں میرے نزدیک کسی نے خلاف نہ کیا اور اس کی سند وہ حدیث ہے جو ابن بابو یہ وشیخ نے ابوبکر حضرمی وکلیب اسدی سے روایت کی کہ حضرت ابو عبداللہ علیہ السلام نے ان کے سامنے اذان یوں بیان فرمائی اللہ اکبر ۴، اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲، اشھد ان محمد ا رسول اﷲ ۲، حی الصلوٰۃ ۲، حی علی الفلاح۲، حی علی خیر العمل ۲، اللہ اکبر ۲، لا الہ الا اﷲ ۲، اور فرمایا اسی طرح تکبیر کہے، اور اسمعیل جعفی سے روایت ہے میں نے حضرت امام ابو جعفر علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ اذان وتکبیر کا مجموعہ پینتیس کلمے ہے۔ پھر حضرت نے اپنے دست مبارک سے ایک ایک کرکے گنے، اذان اٹھارہ کلمے اور تکبیر سترہ اور وہ جو مصنف (یعنی حلبی نے شرائع الاسلام میں) کہا کہ مشہور تر قول پر اذان کے اٹھارہ کلمے ہیں وہ اس سے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتا ہے جو شیخ نے بسند خود حسین بن سعید اس نے نصر بن سوید اس نے عبداللہ بن سنان سے روایت کی کہ میں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے اذان کو پوچھا، فرمایا یوں کہہ اللہ اکبر ۲۔ اشھد ان لا الہ الا اﷲ ۲، اشھد ان محمد ارسول اللہ۲، حی علی الصلوٰۃ۲، حی علی الفلاح۲، حی علی خیر العمل ۲، اللہ اکبر ۲، لا الہ الا اللہ ۲ (یعنی اس حدیث میں شروع اذان صرف دو تکبیر سے ہے تو اذان کے سولہ ہی کلمے رہیں گے) اور زرارہ وفضیل نے امام ممدوح سے یونہی روایت کی اور شیخ نے بعض امامیہ سے اخر اذان میں چار تکبیریں نقل کیں اور وہ شاذ مردود ہے بسبب ان حدیثوں کے جو ہم نے ذکر کیں اھ ملخصا۔
(۱؎ مدارک الاحکام شرح شرائع الاسلام)