Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
107 - 190
ان پر کیوں نہ انکار فرمایاحالانکہ انھوں نے تو ان لڑکیوں سے بہت زیادہ کہا جس سے قیامت تک کے کل غیبوں کا بالفعل حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو معلوم ہونا یا کم از کم ان کا جان لینا حضور کے اختیار میں دےدیا جانا ظاہر جس کی تشریح ہم نے اپنی کتاب ''الامن والعلی لنا عتی  المصطفٰی بدافع البلا(۱۳۱۱ھ)" میں ذکر کی انکار فرمانادرکنار حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس قصیدہ کے صلہ میں ان کے لئے کلمہ خیر فرمایا اور انھیں خلعت پہنایا اور انھیں ان کی قوم ہوازن  وقبائیل ثمالہ وسلمہ وفہم پر سردار فرمایا :
کما رواہ المعانی فی الجلیس والا نیس بطریق الحرمازی عن ابی عبیدۃ بن الجراح رضی اﷲ تعالٰی عنہ وابن اسحاق عن ابی وجزۃ یزید بن عبید السعدی۔
جیسا کہ معانی نے اس کو جلیس وانیس میں حرمازی کے طریق پر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور ابن اسحق نے ابی وجزہ یزید بن سعدی سے اسے روایت کیا ۔ (ت)

وﷲ الحمد جب لہو مباح میں اپنا ذکر پاک پسند نہ فرمایا تو لہو باطل کا کیا ذکر۔
بالجملہ  خلاصہ حکم  یہ کہ

یہاں تین چیزیں ہیں : ممنوعات، معظمات، مباحات۔
اول کا سننا مطلقا حرام وناجائز ہے اور فونو سےجو کچھ سنا جائے گا وہ بعینہٖ اسی شے کی آواز ہوگی جس کی صوت اس میں بھری گئی مزامیر ہوں ناچ خواہ عورت کا گانا وغیرہا، اصل کا جو حکم تھا بے تفاوت سرمو اس کا ہوگا کہ یہ خود ہی اصل ہے نہ کہ اس کی نقل ، طبلہ یا ستار کی آواز ہے تو بلا شبہہ وہ طبلہ اور ستار کی آواز ہے نہ کہ فونو کی،کہ فونو اپنی کوئی آواز نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی طبلہ اور ستار کی ہے نہ کہ دوسرے کی اوروہ بھی اسی وقت کی آواز ہے جو بھرتے وقت بجائی گئی تھی نہ کہ اور وقت کی، یوں ہی عورت کا گانا ہے تو یقینا وہ عورت ہی کا گانا ہے نہ کہ فونو کا کہ فونو گانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور وہ بھی اسی عورت کا گانا ہے نہ کہ دوسری کا اور وہ بھی اسی کا اسی وقت کا گانا ہے جو بھرتے وقت وہ گائی تھی۔

دوم بھی مطلقاً حرام وممنوع ہیں، اگر گلاسوں پلیٹوں میں کوئی ناپاکی یا جلسہ لہو ولعب کا ہے تو تحریم سخت ہے اور خود سننے والوں کی نیت تماشا ہے تو اور بھی سخت تر خصوصا قرآن عظیم میں اور اگر اس سب سے پاک ہو تو ان کے مقاصد فاسدہ کی اعانت ہو کر ممنوع ہے اور سب سے سخت تر وبال ان قاریوں غزل خوانوں پر ہے جو نوکری کرکے یا اجرت لے کر یا مفت گناہ خریدنے کو اپنا پڑھنا اس میں بھرواتے ہیں کہ وہ اصل بانی فساد ہوئے بھرنے والوں اور جب تک وہ گلاس پلیٹ باقی رہیں ان کے سننے والوں سنانے والوں سب کاگناہ ان کے نامہ اعمال میں ثبت ہوتارہے گا اگر چہ یہ قبر میں خاک ہوگئے ہوں بغیر اس کے کہ ان سننے سنانے بھرنے بھرانے والوں کے اپنے گناہ میں کچھ کمی ہو، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من سن فی الاسلام سنۃ سیئۃ فعلیہ وزرھا ووزر من عمل بھا الی یوم القیمۃ من دون ان ینقص من اوزرھم شیئا ۱؎۔
جس شخص نے اسلام میں کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اس کا گناہ اور جتنے قیامت تک اس پر عمل کریں گے ان سب کا گناہ اس پر ہوگا بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کچھ کمی واقع ہو۔ (ت)
 (۱؎ مسند امام احمد  بیروت  ۴ /۳۵۹،۳۶۱  وصحیح مسلم  باب من سن سنۃ الخ   ۲ /۳۴۱    وسنن ابی داؤد   ۲ /۲۷۹)
سوم میں تفصیل ہے اگر پلیٹوں  میں نجاست ہے تو حروف وکلمات کا ان میں بھرنا مطلقا ممنوع ہے کہ حرف خود معظم ہیں کما بیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کردیا ہے ۔ ت) اور اگر نجاست نہیں یا وہ کوئی خالی جائز آواز بے حروف ہے تو جلسہ فساق میں اسے سننا اہل اصلاح کا کام نہیں کہ انھیں اہل باطل سے اختلاط نہ چاہئے اور اگر تنہائی یا خاص صلحاء کی مجلس ہے تو کوئی وجہ منع نہیں اور یہاں ہمارے وہ مباحث کام دیں گے جونظر اولٰی میں گزرے پھر اگر کسی مصلحت شرعیہ کے لئے ہے جیسے عالم کو اس کے حال پر اطلاع پانے یا قوت اشغال دینے کے واسطے ترویح قلب کے لئے جب تو بہتر ورنہ اتنا ضرور ہے کہ ایک لایعنی بات ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
حسن اسلام المرء ترکہ ما لایعنیہ حدیث صحیح مشھور عن سبعۃ من الصحابۃ منھم الصدیق والمر تضی والحسین رضی اﷲ تعالٰی عنہ ورواہ الترمذی ۱؎ وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
خوبی اسلام یہ ہے کہ آدمی لایعنی بات نہ کرے (حدیث سات صحابہ سے صحیح اور مشہور ہے ان میں سے بعض یہ ہیں حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت علی، حضرت امام  حسین رضی اللہ تعالٰی عنہم، اور ترمذی اورابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ جامع الترمذی     ابواب الزہد باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ الخ         امین کمپنی دہلی   ۲ /۵۵)

(سنن ابن ماجہ   ابواب الفتن   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۹۵)
یہ بھی اس حالت میں ہے کہ نادراً ہو عادت ڈالنا اور وقت اس میں ضائع کیا کرنا مطلقاً مکروہ ہوگا۔
لحدیث کل شیئ من لہوالدنیا باطل الا ثلثۃ رواہ الحاکم۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
اس حدیث کی وجہ سے کہ دنیا کا ہر کھیل سوائے تین کھیلوں کے باطل ہے۔ امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے اس کو روایت فرمایا ۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب الجہاد     من علم الرمی ثم ترکہ الخ    دارالفکر بیروت    ۲ /۹۵)
ھذا ما عندی والعلم بالحق عند ربی واذقد خرجت العجالۃ فی صورۃ رسالۃ ناسب ان نسمیھا الکشف شافیا حکم فونو جرافیا ۱۳۲۸ھ لیکون علما وعلی عام التالیف علما وکان ذٰلک للتاسع عشر من شھر رمضان الذی انزل فیہ القراٰن وقت السحور ۱۳۲۸؁ھ الف وثلثمائۃ وثمان وعشرین من ھجرۃ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ وعلیھم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین اٰمین واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہ سب کچھ میرے نزدیک ہے۔اور ٹھیک اور واقعی علم تو میرے رب کے پاس ہے اور یہ جلدی کیا ہوا کام ایک رسالے کی شکل میں معرض وجود میں آگیا مناسب ہے کہ ہم اس کا نام الکشف شافیا حکم فونو جرافیا (یعنی شافی اور مکمل انکشاف فونو گراف کے حکم بیان کرنے میں) رکھیں تاکہ یہ اس کانام ہو اور اس کے سال تصنیف پر ایک نشان ہو، اور اس کی تصنیف ماہ رمضان کہ جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔ سال ہجری ۱۳۲۸ھ سید المرسلین کی ہجرت مبارک کے مطابق محبوب کریم اور تمام رسولوں اور حضور پاک کی سب آل اور تمام صحابہ پر اللہ کی بیحد وبےشمار رحمت وبرکات ہوں۔ آمین، اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس بزرگی والے کا علم زیادہ کامل اور زیادہ پختہ ہے۔ (ت)

_____

رسالہ

الکشف شافیا حکم فونو جرافیا

ختم ہوا
Flag Counter