Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
106 - 190
اسی کے باب انزاء الحمیر علی الخیل میں ہے:
لوکان مکروہا لکان رکوب البغال مکروھا لانہ لو لارغبۃ الناس فی البغال ورکوبھم ایاھا لما انزئت الحمیر علی الخیل ۲؎۔
گدھوں کا گھوڑی سے جفتی کرانا، اگر یہ مکروہ ہوتا تو ضرور خچروں پر سوار ہونا مکروہ ہوتا۔ اس لئے کہ اگر لوگوں کی خچروں کی طرف اور ان کی سواری کی طرف رغبت نہ ہوتی تو کبھی گدھوں سے گھوڑی پر جفتی نہ کرائی جاتی۔ (ت)
 (۲؎شرح معانی الآثار   کتا ب السیر باب انزاء الحمیر علی الخیل  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۷۶)
ہدایہ میں ہے :
لاباس باخصاء البھائم وانزاء الحمیر علی الخیل وقد صح ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رکب البغلۃ فلو کان ھذا الفعل حرام  لما رکبھا لما فیہ من فتح بابہ ۳؎۔
چوپایوں کے خصی کرنے میں اور گدھو ں سے گھوڑی پر جفتی کرانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے صحیح روایت میں یہ آیا ہے کہ حضور صلی اللہ تعلٰی علیہ وسلم خچر پر سوار ہوئے ہیں اگر یہ کام حرام ہوتا تو آپ کبھی خچر پر سوار نہ ہوتے کیونکہ اس میں برائی کا دروازہ کھلتا ہے۔ (ت)
 (۳؎ الہدایہ     کتاب الکراھیۃ مسائل متفرقہ    مطبع یوسفی لکھنو        ۴ /۴۷۲)
اسی باب سے ہے کہ قوی تندرست قابل کسب جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کودینے میں اس حرام پرمدد، اگر لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اختیار کریں۔
درمختار میں ہے:
لایحل ان یسأل شیئا من القوت من لہ قوت یومہ بالفعل اوبالقوۃ کا لصحیح المکتسب ویأثم معطیہ ان علم بحالہ لاعانتہ علی المحرم ۱؎۔
یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو، جیسے تندرست کمائی کرنے والا، اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الزکوٰۃ     باب المصرف     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۴۲)
یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا ناجائز ہوگا اسے خریدنا کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدناکام میں لانا منع نہ ہوگا اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔
فان رفع التالی یفتح رفع المقدم کما ان وضع المقدم ینتج وضع التالی۔
اس لئے کہ رفع تالی، رفع مقدم نتیجہ دیتی ہے جس طرح وضع مقدم وضع تالی کا نتیجہ دیتی ہے۔ (ت)
اقول: ( میں کہتا ہوں۔ ت) اور یہ خیال کہ ایک ہمارے چھوڑے سے کیا ہوتا ہے ہم نہ لینگے تو اور ہزاروں لینے والے ہیں مقبول نہیں، ہر ایک کا یہی خیال رہے تو کوئی بھی نہ چھوڑے توحکم شرع معطل رہ جائے گا چھوٹے گا یوہیں کہ ہر ایک اپنے ہی استعمال کو اس کا ذریعہ اصطناع سمجھے جب سب چھوڑ دینگے آپ ہی بنانا معدوم ہوجائے گا، اور اگر نہ چھوڑیں تو ہر ایک کو اپنی قبر میں سونا اپنے کئے کا حساب دینا ہے اوروں سے کیا کام، ایسی ہی جگہ کے لئے ارشاد ہوا ہے:
یایھاالذین اٰمنوا علیکم انفسکم لایضرکم من ضل اذااھتدیتم ۲؎۔
اے ایمان والو! تم اپنی جان کی اصلاح کرلو تمھیں اوروں کی گمراہی سے نقصان نہیں جبکہ تم خود راہ پر ہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم      ۵ /۱۰۵)
اگر کہے تو یہ ان افعال میں سے جو فی نفسہٖ مذموم ہیں تلاوت کی آواز گلاس میں ودیعت رکھنا بنفسہٖ مذموم نہیں، ان کی نیت لہو وغیرہ مقاصد ومفاسد نے اسے ممنوع کیا ۔

اقول: (میں کہتاہوں ۔ت) کام واقع سے ہے نہ محض فرض سے، جب واقع یہ ہے تو اس کی حرمت میں شک نہیں اور اس حرام کا دروازہ تمھیں خریدنے والوں کام میں لانے والوں نے کھولا کوئی مول نہ لے تو وہ کیوں ایسی ناپاکی کریں پھر عذر کا کیا محل، واﷲ العاصم عن سبیل الزیغ والزلل (ٹیڑھے اور پھسلنے والے راستوں سے اللہ بچاتا ہے۔ ت) اور قرآن عظیم ہی کے حکم میں ہیں اشعار حمد ونعت ومنقبت وجملہ عبارات وکلمات معظمہ دینیہ کہ نہ ان کو نجس چیز میں لکھنا جائز، یہ وجہ اول ہوئی، نہ انھیں کھیل تماشا بنانا جائز، یہ وجہ دوم ہوئی، نہ انھیں لہو ولغو بنانے کے جلسے میں شریک ہونا جائز، اگر چہ اپنی لعب کی نہ ہو یہ وجہ سوم ہوئی، نہ ان کی خریداری واستعمال سے لہو بنانے والوں کی مدد جائز، یہ وجہ چہارم ہوئی، حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے لہو مباح میں تو اپنا ذکر کریم ناپسند فرمایا اور انصار کی کمسن لڑکیوں نے بعد تقریب شادی کے گانے میں یہ مصرع پڑھا: ع
وفینا نبی یعلم مافی غد
 (ہم میں وہ نبی ہیں جو آئندہ کی باتیں جانتے ہیں)
ان کو منع فرمایا کہ :
دعی ھذہٖ وقولی بالذی کنت تقولین ۱؎۔
اسے رہنے دو وہی کہے جاؤ جو کہہ رہی تھیں۔
 (۱؎ صحیح البخاری         کتاب النکاح باب ضرب الدف فی النکاح     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۷۷۳)
امام حجۃ الاسلام محمد غزالی قدس سرہ العالی احیاء العلوم شریف اواخر کتاب مسئلہ السماع میں فرماتے ہیں:
ولذا لمادخل رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیت الربیع بنت معوذ وعندھا جواریغنین فسمع احدٰھن تقول ''وفینا نبی یعلم مافی غد'' علی وجہ الغناء فقال صلی ا ﷲ تعالٰی علیہ وسلم دعی ھذا وقولی ماکنت تقولین وھذا شہادۃ بالنبوۃ فزجرھا عنھا وردھا الی الغناء الذی ہو لھو لان ھذا جدمحض فلا یقرن بصورۃ اللھو ۱؎۔
یہی وجہ ہے کہ جب حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام ربیع دختر معوذ کے گھر تشریف لے گئے تو ان کے پاس بچیاں گیت گارہی تھیں تو حضور نے ان میں سے ایک کو یہ کہتے سنا کہ ہمارےاندر وہ نبی ہیں جو کل کی بات جانتے ہیں۔ وہ بچیاں گیت کے طورپر گا رہی تھیں تو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کو چھوڑدو اور وہی کہتی رہو جو پہلے کہہ رہی تھیں۔ تو اس پر نبوت کی گواہی تھی لیکن حضور علیہ السلام نے اس کہنے پر انھیں ڈانٹ دیا اور اس گانے کی طرف لوٹا دیا جو ایک کھیل کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے کہ یہ ایک خالص سنجیدگی ہے لہذا جو چیز صورۃً کھیل ہو اس سے بھی اس کا ملاپ ٹھیک نہیں۔ (ت)
 (۱؎ احیاء العلوم      کتاب آداب السماع والوجد     البا ب الثانی مطبعہ المشہد الحسینی قاہرہ    ۲ /۳۰۰)
یعنی یہ مصرع حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کی گواہی تھی کہ خدا کے بتائے سے اصالۃً غیب کا جاننا نبوت ہی کی شان ہے تو حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نہ چاہا کہ اسے صورت لہو میں شامل کیا جائے لہذا اس سے روک دیا وہابیہ اس حدیث کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں اور بات صرف اتنی ہے یہ بھی نہیں سوجھتا کہ اگر نسبت علم امور غیب ہی ناپسند فرماتے تو کن سے، کم فہم عورتوں سے اور وہ بھی لڑکیاں کہ منجر بمعنی ناجائز نہ ہو اورجب مرد عقل مالک بن عوف ہوازنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنا قصیدہ نعتیہ حضور میں عرض کیا ہے جس میں فرمایا: ع
ومتی تشاء یخبرک عما فی غد ۲؎۔
تو جب چاہے یہ نبی تجھے آئندہ کی باتیں بتادیں۔
 (۲؎ تفسیر القرآن العظیم لابن کثیر         تحت آیۃ  ۹ /۲۷     داراحیاء الکتب  العربی مصر     ۲ /۳۴۶)
Flag Counter