Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
105 - 190
قال اﷲ تبارک وتعالٰی ولاتزروازرۃ وزرا اخرٰی ۲؎۔
اللہ تبارک وتعالٰی نے ارشاد فرمایا: کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم    ۶ /۱۶۴)
اور کوئی فی نفسہٖ جائز کام کفار سے سیکھنے میں حرج نہیں اگر چہ انھیں کی ایجاد ہو جیسے گھڑی، تار، ریل وغیرہا اور فونو بذات خود معازف اور مزامیرسے نہیں کہ اس کے لئے کوئی خاص آواز ہی نہیں جس کے واسطے اسے وضع کیا ہو یا اس سے قصد کیجاتی ہو وہ تو ایک آلہ مطلقہ ہے جس کی نسبت ہر گونہ آواز کی طرف ایسی ہے جیسی اوزان عروضیہ کی کلام کی طرف بلکہ حروف ہجا کی معنی کی طرف حروف ہجا من حیث ہی حروف الہجا علوم رسمیہ میں کسی خاص معنی کے لئے موضوع نہیں بلکہ وہ آلہ تادیہ معانی مختلفہ ہیں جیسے معنی چاہیں ان سے ادا کرسکتے ہیں اچھے ہوں خواہ برے یہاں تک کہ ایمان سے کفر تک سب انھیں حروف سے ادا ہوتا ہے ایسے الہ مطلقہ کو من حیث ہی کذا حسن یا قبیح کسی کے ساتھ موصوف نہیں کرسکتے بلکہ وہ مدح وذم وثواب و عقاب میں اس چیز کا تابع ہوتا ہے جو اس سے ادا کی جائے، تلوار بہت اچھی ہے اگر ا س سے حمایت اسلام کی جائے اور سخت بری ہے۔ اگر خون ناحق میں برتی جائے، اسی لئے حدیث میں فرمایا:
الشعر بمنزلۃ الکلام فحسنہ کحسن الکلام وقبیحہ کقبیح الکلام۔ رواہ البخاری فی الادب ۱؎ المفرد والطبرانی فی المعجم الاوسط عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص وابو یعلی عنہ وعن ام المومنین الصدیقۃ والدار قطنی عن عروۃ عنہا والشافعی عن عروۃ مرسلا رضی اﷲ تعالٰی عنہم و اسنادہ حسن۔
شعر بمنزلہ کلام کے ہے تو اس کا چھا مثل اچھے کلام کے ہے اور اس کا برا مثل برے کے، (امام  بخاری نے ادب المفرد میں، امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کے حوالے سے اسے روایت کیا ہے۔ اور محدث ابویعلٰی نے ان سے اور ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ سے بھی اسے روایت کیا ہے۔ اور امام دارقطنی نے بواسطہ حضرت عروہ مائی صاحبہ سے اور امام شافعی نے حضرت عروہ سے بطور ارسال اسے روایت فرمایا ہے۔ اللہ تعالٰی ان سب سے راضی ہو۔ اس حدیث کی سند درجہ حسن رکھتی ہے۔ (ت)
 (۱؂ المعجم الاوسط      حدیث ۷۶۹۲     ریاض  ۸ /۳۴۰    و ادب المفرد حدیث ۸۶۵          مکتبہ اثریہ شیخوپورہ      ص۲۲۳)
یہ اسی سبب کے اوزان عروضیہ ادائے ہر گونہ کلام کے آلہ ہیں تو ان پر فی انفسہا کوئی حکم حسن وقبح نہیں ہوسکتا بلکہ مؤدی بہا کے تابع ہوں گے شعر میں اچھی بات ادا کی جائے تو حدیث صحیح میں
ان من الشعر لحکمۃ ۲؎
 (بیشک بعض شعر ضرور حکمت ہوتے ہیں۔ ت) ارشاد ہوا ہے اور یاوہ سرائی یا ہر زہ درائی کی جائے تو
الشعراء یتبعھم الغاون ۳؎
(اور شاعروں کی پیروی اور ان کا اتباع گمراہ کرتے ہیں۔ ت) فرمایا گیا وہاں
ان اﷲ یؤید حسان بروح القدس
 (اللہ تعالٰی حضرت جبریل سے حضرت حسان کی تائید کرتاہے۔ ت) کی بشارت جانفزا ہے اور دوسری طرف
امرؤالقیس صاحب لواء الشعراء  الی النار
(امرؤ القیس شاعروں کا علمبردار آتش دوزخ میں ہے۔ ت) کی وعید جانگزا۔
رواہ الاحمد ۴؂ والبزار عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ
(اسے احمد وبزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ۔ ت)
 (۲؎ ادب المفرد     حدیث ۸۶۵     باب من قال ان من البیان سحرا الخ     المکتبہ الاثریہ شیخوپورہ    ص۲۲۵)

(صحیح البخاری         کتا ب الادب باب مایجوز من الشعراء     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۹۰۷)

(۳؎ القرآن الکریم     ۲۶ /۲۲۴)

(۴؎ کنز العمال     برمز حم و ت عن عائشہ     حدیث ۳۳۲۴۸     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۱/ ۶۷۲)

(مسند امام احمد بن حنبل         عن عائشہ رضی اللہ عنہا     دارالفکر بیروت    ۶ /۷۲)
بعینہٖ یہی حالت فونو کی ہے کہ وہ کسی صوت خاص کے لئے موضوع نہیں جسے معازف ومزامیر میں داخل کرسکیں بلکہ ادائے ہر قسم آوازکا آلہ ہے تو حسن وقبح و منع واباحت میں اسی آواز مؤدی بہ کا تابع ہوگا جب تک خارج سے کوئی مغیر عارض نہ ہو اگر اس میں سے مزامیر کی آواز سنی جائے تو حکم مزامیر میں ہے اور بہ نیت تذکرہ وعظ وتذکیر کی آواز سنی جائے تو حکم وعظ وتذکیر میں اور وعظ ومذکر کا ذی روح ہونا کچھ شرط نہیں ؎
مرد باید کہ گیرد اندر گوش         وزنبشت ست بند بر دیوار
 (مرد کو چاہئے کہ اپنے کانوں سے نصیحت سنے اگر چہ کلمات نصیحت کسی دیوار پر لکھے ہوں۔ ت)
آلہ ادا میں فی نفسہٖ کوئی آواز ودیعت ہی نہیں ہوتی آوازیں تو رکاوٹوں میں ہیں آلہ محض مثل گلو و حنجرہ ہے جس سے ہر طرح کی صوت نکال سکتے ہیں تو خراب وناجائز پلیٹوں کاحکم پاک وجائز قالبوں کی طرف کیوں ساری ہونے لگا اور اگر بھرنے والوں نے ایک ہی ریکارڈ کے ایک پہلو پر کچھ آیات یا اشعار حمد و نعت اور دوسرے پر کچھ خرافات بھری ہیں تو یہ بے ادبی وجمع ضدین ان کا فعل ہے خذ ما صفا و دع ما کدر (جو صاف ہولے لو، جو گدلا ہو چھوڑ دو۔ ت) پرعمل کرنے والے اس پر کیوں ماخوذ ہوں گے اس کی نظیر کنیز مشترک ہے اس کے ایک صالح مولٰی نے اسے قرآن عظیم پڑھایا دوسرے فاسق نے گانا سکھایا تو اس کے گلے سے دونوں چیزوں کا ادا ہوسکنا صالح آقا کو اس سے قرآن عظیم سننا منع نہ کردیگا عرف میں اسے باجا کہنا مزامیر ومعازف ممنوعہ کے حکم میں داخل نہ کردے گا۔
فان الامورلمقاصدھا وانما الاعمال بالنیات وانما لکل امری مانوی ۱؎۔
کیونکہ کاموں کا اعتبار بلحاظ ان کے مقاصد کے ہے اعمال کا مدار ارادوں پر ہے اور ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے کہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہے۔ (ت)
(۱؎صحیح البخاری         باب کیف کان بدء الوحی الخ         قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱ /۲)
معازف و مزامیرآلات لہو وطرب ہیں جو خاص موسیقی کی آوازیں ادا کرنے کو لذت نفسانی و نشاط شیطانی کے لئے وضع کئے گئے ہر غیر ذی روح جس سے آواز کسی مقصد حسن یا مباح کے لئے پیدا کی جائے اس میں داخل نہیں ہوسکتا اگر چہ اس سے آواز نکالنے کو بجانا کہیں یوں تو طبل غازی ونقارہ سحری بھی باجا ہے ریل کے انجن میں جو سوراخ دھواں نکالنے کو رکھا جاتا ہے جس سے لوگوں کا جان ومال بچانے کے لئے ان کی اطلاع دہی کو آواز نکالی جاتی ہے اس آواز کو بھی سیٹی یا پپہیا کہتے ہیں مگریہ نام اس فعل حسن کو ممنوع سیٹی اور پپہیے کے حکم میں نہ کردے گا بالجملہ یہاں جو کچھ حرج آیا نیت لہو سے یا مجمع لہو سے ہے۔ کہ قرآن عظیم کا اس نیت سے سننا لذاتہٖ حرام قطعی اور اس مجمع میں سننا لغیرہٖ ممنوع شرعی ۔ جب یہ دونوں منتفی ممانعت منتفی، یہ نظر اولٰی کی تقریر ہے اورنظر دقیق فرمائیگی کہ یہ سب کچھ حق وبجا مگر فعل حرج سے اب بھی نہ بچا، بھرنے والوں کے مقاصد فاسدہ معلوم ہیں کہ لہو ولعب ہے اور اس کے ذریعہ سے ٹکا کمانا تو ان کا بنانا حرام اور اسے استعمال کرنے والے اس حرام کے معین ہوئے اگر لوگ نہ خریدتے نہ سنتے، تو وہ ہر گزقرآن عظیم بھرنے کی جرأت نہ کرتے، شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے کہ جس بات سے حرام کو مدد پہنچے اسے بھی حرام فرمادیتی ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: (لوگو!) گناہ اور زیادتی کے معاملات میں ایک دوسرے کی مدد نہ کیا کرو (ت)
(۱؎ القرآن الکریم    ۵/ ۲)
جو چیز بنانا ناجائز ہو اسے خریدنا استعمال میں لانا بھی منع ہوتا ہے کہ یہ نہ لیں تو وہ کیوں بنائیں ان کامول لینا اور کام میں لانا ہی انھیں بنانے پر باعث ہوتا ہے ولہذا خواجہ سراؤں کا خریدنا ان سے کام خدمت لینا شرعا منع ہوا اور ائمہ کرام نے اس کی علت بھی یہی بیان فرمائی کہ آدمی کو خصی کرنا حرام ہے یہ فعل اگر چہ ان خریدنے والوں کا نہیں مگر ان کا خریدنا ہی ان فاسقوں کو اس پر جرأت دلاتا ہے کوئی مول نہ لے تو کیوں ایسی ناپاکی کریں۔
امام ابوجعفر طحاوی معانی الآثار میں فرماتے ہیں : لما نھی عن اخصاء بنی اٰدم کرہ بذٰلک اتخاذ الخصیان لان فی اتخاذھم مایحمل من تحضیضھم علی اخصائھم لان الناس اذا تحاموا اتخاذ ھم لم یرغب اھل الفسق فی اخصائھم وقد حدثنا ابن ابی داؤد ثنا القواریری ثنا عفیف بن سالم ثنا العلاء بن عیسی الذھلی قال اتی عمر بن عبدالعزیز بخصی فکرہ ان یبتاعہ وقال ماکنت لا عین علی الاخصاء فکل شیئ فی ترک کسبہ ترک لبعض اھل المعاصی فلا ینبغی کسبہ ۱؎۔
جب اولاد آدم کے خصی (نامرد کرنا) کرنے سے منع کردیا گیا پس اسی لئے خصی افراد سے خدمت لینا اور انھیں کسی کام میں استعمال کرنا مکروہ ہے کیونکہ استعمال کرنے سے لوگوں کا انھیں خصی کرنے پر ابھار اور آمادگی پیدا ہوتی ہے۔ کیونکہ جب لوگ انھیں استعمال کرنے سے بچیں اور پر ہیز کریں تو پھر بدکار اور اوباش لوگ انسانوں کو خصی کرنے کی طر ف رغبت نہ کریں۔ ابن ابی داؤد، القواریری، عفیف بن سالم العلاء بن عیسٰی الذہلی کے چند وسائط سے ہم تک (یعنی امام ابوجعفر طحاوی تک) یہ حدیث پہنچی کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک خصی آدمی کو لایا گیا تو آپ نے اس کو خرید لینا نا پسند کیا اور فرمایا میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ انسان کے خصی کرنے پر بدکرداروں سے تعاون کروں، پھر ہر کام کہ جس کے نہ کرنے سے بعض گناہگاروں سے گناہ چھوٹ جاتا ہے تو پھر نامناسب ہے کہ ایسا کام کیا جائے۔ (ت)
(۱؎ شرح معانی الآثار     کتا ب السیر باب انزاء الحمیر علی الخیل     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۷۶)
ہدایہ میں ہے :
یکرہ استخدام الخصیان لان الرغبۃ فی استخدامھم حث الناس علی ھذا الضیع وھو مثلۃ محرمۃ ۲؎۔
خصی لوگوں سے خدمت لینا مکرہ ہے کیونکہ انسان سے خدمت لینے کی رغبت رکھنا لوگوں کو اس برے کام پر امادہ کرنا ہے اوریہ ''مثلہ'' ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ الہدایہ         کتا ب الکراھیۃ    مسائل متفرقہ     مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴ /۴۷۲)
غایۃ البیان میں مختصر امام طحاوی سے ہے:
یکرہ کسب الخصیان وملکھم واستخدامھم وقال ابو حنیفۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ لو لا استخدام الناس ایاھم لما اخصاھم الذین یخصونھم ۳؎،
خصی لوگوں کی کمائی، اور ان کا ملک (یعنی ملکیت) اور ان سے خدمت لینا یہ سب کام مکروہ ہیں، حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ارشاد فرمایا: اگر لوگوں کا ان سے خدمت لینا نہ ہوتا تو پھر جو لوگ انھیں خصی کرتے ہیں وہ کبھی انھیں خصی نہ کرتے (ت)
 (۳؎ مختصر الطحاوی     کتا ب الکراھیۃ   یکرہ کسب الخصیان الخ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۴۴۳)
اسی دلیل سے ہمارے علماء نے بیل بکرے کے خصی کرنے اور گھوڑی سے خچر لینے کا جوازثابت فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو خصی دنبے قربانی کئے اور خچر پر سواری فرمائی، اگر یہ فعل ناجائز ہوتے حضور پر نور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان کو کام میں نہ لاتے ،
شرع معانی الآثار شریف میں ہے :
قد رأینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ضحی بکبشین موجوئین وھما المرضوضان خصاھما والمفعول بہ ذٰلک قد انقطع ان یکون لہ نسل فلو کان اخصاؤھما مکروہا اذا لما ضحی بھما رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۱؎۔
بیشک ہم نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی یعنی وہ دو ایسے دنبے تھے کہ جن کے دونوں خصیے کو فتہ تھے۔ اور جس کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے اس کی نسل ختم ہوجاتی ہے۔ اگر دنبوں کو خصی کرنا مکروہ ہوتا تو حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام ایسے مکروہ جانورں کی کبھی قربانی نہ کرتے۔ (ت)
 (۱؎شرح معانی الآثار         کتاب الکراھیۃ باب اخصاء البہائم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۴۲۱)
Flag Counter