والعیاذ باللہ تعالٰی، پھر یہ تو ہیں خبیث صرف ان بھرنے والوں ہی کے ماتھے نہ جائے گی بلکہ باوجود اطلاع اسے تحریک دے کر الفاظ قرآنی کی آواز اس سے ادا کرنے والے اس کی خواہش کرکے ادا کرانے والے سننے والے سنانے والے اس پر راضی ہونے والے، باوصف قدرت انکار نہ کرنے والے سب اسی بلائے عظیم میں گرفتار ہوں گے۔ نہ فقط یوں کہ تو ہین کے مرتکب صرف بھرنے والے ہوں اور یہ اس کے روا رکھنے گوارا کرنے والے نہیں نہیں بلکہ ہر بار بعینہٖ ویسی ہی توہین جدید کے یہ خود پیدا کرنے والے کہ انھوں نے گویا نقوش کتابت قرآنیہ اس نجس میں لکھے انھوں نے الفاظ تلاوت قرآنیہ اس پر گزرتے ہوئے ادا کئے بلکہ اس وقت اس کی تجلی بے پردہ وحجاب جلوہ فرما ہوگی بھری ہوئی چوڑیوں میں نقوش قرآنیہ ہونا ہر شخص نہ سمجھے گا اور اب جو ادا کیا جائے گا کسی کو اس کے قرآن ہونے میں اصلا اشتباہ نہ ہوگا ولا حول ولا قوۃ الا باﷲ العلی العظیم (گناہوں سے تحفظ اور بھلائی کرنے کی قوت کسی میں نہیں بجز اللہ تعالٰی بلند مرتبہ اور بڑی شان والے کی توفیق دینے۔ ت)
وجہ دوم: یہ صورت تو وہ تھی کہ ان کا گلاسوں پلیٹوں کا پلیدو نجس ہونا معلوم یا مظنون ہی ہو ۔
فان الظن فی الفقہیات ملتحق بالیقین لاسیما مثل امر الاحتیاط فی الدین۔کیونکہ فقہی مسائل میں گمان ، یقین کے ساتھ ملحق ہے ۔ خصوصا اس نوع کے دینی احتیاط کے معاملہ میں۔ (ت)
بلکہ اگر حالت شبہہ ہو جب بھی حکم احتراز ہے۔ کہ محرمات میں شبہہ ملتحق بیقین ہے۔ کما نص علیہ فی الہدایۃ وغیرھا۔ (جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں اس پر نص کی گئی ہے۔ ت) اب وہ صورت فرض کیجئے کہ پلیٹ وغیرہ کی طہارت یقینی ہو اس کے اجزاء اور بنانے کا طریقہ معلوم ہو جس میں کہیں کسی نجاست کا خلط نہیں تو اس میں ایک کھلی سخت شدد نجاست معنوی رکھی ہوئی ہے وہ یہ کہ اس کا عام بجانا، سننا، سنانا سب کھیل تماشے کے طورپر ہوتا ہے۔ قرآن عظیم اس لئے نہیں اترا اسی عزت والے عزیز عظیم سے پوچھو کہ وہ کھیل کے طور پر اپنے سننے والے کی نسبت کیا فرماتاہے:
اقترب للناس حسابھم وھم فی غفلۃ معرضون o ومایاتیھم من ذکر من ربھم محدث الااستمعوہ وھم یلعبونo لاھیۃ قلوبھم ۱؎۔
لوگوں کے لئے ان کا حساب نزدیک آیا اور وہ غفلت میں روگرداں پڑے ہیں، نہیں آتا ان کے پاس ان کے رب سے کوئی نیا ذکر مگر اسے کھیلتے ہوئے سنتے ہیں دل کھیل میں پڑے ہوئے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۱/ ۱ تا ۳)
اور فرماتاہےـ:
افمن ھذا الحدیث تعجبونo وتضحکون ولا تبکونo وانتم سامدونo۲؎
تو کیا اس کلام کو اچنبا بناتے ہو اور ہنستے ہو اور روتے نہیں اورتم کھیل میں پڑے ہو۔
(۲؎ القرآن الکریم ۵۳/ ۵۹ تا ۶۱)
اور فرماتاہے :
وذرالذین اتخذوا دینھم لعباولھوا وغرتھم الحٰیوۃ الدنیا وذکر بہ ان تبسل نفس بما کسبت لیس لہا من دون اﷲ ولی ولا شفیع وان تعدل کل عدل لایؤخذ منھا اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا لھم شراب من حمیم وعذاب الیم بما کانوا یکفرون o۳؎۔
چھوڑدے ان کو جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور دنیا کی زندگی نے انھیں فریب دیا اور اس قرآن سے لوگوں کو نصیحت دے کہیں پکڑی نجائے کوئی جان اپنے کئے پر کہ خدا سے جدا نہ اس کا کوئی حمایتی ہو نہ سفارشی اور اگر اپنے چھڑانے کو سارے بدلے دے کچھ نہ لیا جائے یہ ہیں وہ لوگ کہ اپنے کئے پر گرفتار ہوئے انھیں پینا ہے کھولتاپانی اور دکھ کی مار ، بدلہ ان کے کفر کا۔
(۳؎القرآن الکریم ۶/ ۷۰)
اور فرماتاہے :
ونادٰی اصحب النار اصحب الجنۃ ان افیضوا علینا من الماء او مما رزقکم اﷲ قالوا ان اﷲ حرمھما علی الکفرین ۴؎o الذین اتخذوا دینھم لھو اولعباوغرتھم الحیوۃ الدنیا فالیوم ننسٰھم کما نسوا لقاء یومھم ھذا وماکانوا بایتنا یجحدونo۱؎
دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے فیض سے تھوڑا پانی دو یا وہ رزق جو خدا نے تمھیں دیا وہ کہیں گے بیشک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کردیں ہیں جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے فریب دیا تو آج ہم ان کو بھلا دیں گے جیسا وہ بھولے اس دن کاملنا اور جیسا جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے۔
(۴؎القرآن الکریم ۷ /۵۰) (۱؎ القرآن الکریم ۷ /۵۰ و ۵۱)
واقعی کفار نے یہ بڑا داؤ مسلمانوں سے کھیلا کہ ان کے دین کی جڑ ان کے ایمان کی اصل قرآن عظیم کو خود ان کے ہاتھوں کھیل تماشا بنوادیا یہ ان لوگوں کے فونو سے قرآن سننے سنانے کا خاص جزئیہ ہے کہ قرآن عظیم نے اس کی ایجاد سے تیرہ سو برس پہلے ظاہر فرمادیا اس سے بڑھ کر اور سخت بلا کیا ہوگی اس سے بد تر اور گندی نجاست کیا ہوگی۔ والعیاذ باللہ رب العالمین۔
وجہ سوم : زید اس مجمع لہو ولغو میں ہے تماشے کے طور پر قرآن مجید سنایا جارہا ہے اس کا دعوٰی ہے کہ میں تذکر وتفکر ہی کے طور پر سن رہا ہوں مجھے لہو مقصود نہیں، اگر یہ صحیح ہو جب بھی وہ گناہ وجرم سے بری نہیں ایسے مجمع میں شریک ہونا ہی کب جائز تھا اگر چہ تیری نیت نیت خیر ہو،
کیا قرآن عظیم نے نہ فرمایا :
واذا رأیت الذین یخوضون فی اٰیتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ واما ینسینک الشیطین فلا تقعد بعد الذکری مع قوم الظلمین ۲؎o
اور جب تو انھیں دیکھے جو ہماری آیتوں کو مشغلہ بنا رہے ہیں تو ان سے منہ پھیرلے یہاں تک کہ وہ کسی اور بات کے شغل میں پڑیں اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آنے پر ظالموں کے پاس سے فورا اٹھ کھڑا ہو،
(۲؎ القرآن الکریم ۶ /۶۸)
یہ کیا اسی کی یاد دہانی میں دوسری جگہ اس سے بھی صاف تر وسخت تر نہ فرمایا :
وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم اٰیت اﷲ یکفر بھا ویستھزأ بھا فلا تقعد وا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اﷲ جامع المنفقین و الکفرین فی جھنم جمیعا ۳؎۔
بیشک اللہ تعالٰی تم پر قرآن میں حکم اتار چکا کہ جب تم سنو کہ خدا کی آیتوں پر گرویدگی نہیں کی جاتی اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو تم ان کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات کے شغل میں پڑیں اور وہاں بیٹھے تو تم بھی انھیں جیسے ہو بیشک اللہ تعالٰی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔
(۳؎القرآن الکریم ۴ /۱۴۰)
آیتوں کو کھیل بنانے والے کافر ہوئے، اس وقت ان کے پاس بیٹھنے والے منافق ٹھہرے۔
یہاں پاس بیٹھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں بھی اکٹھے رہے والعیاذ باللہ تعالٰی معالم التزیل میں ہے عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا:
دخل فی ھذہ الایۃ کل محدث فی الدین وکل مبتدع الی یوم القیمۃ ۱؎۔
اس آیت میں قیامت تک کا ہر مبتدع ہر بد مذہب داخل ہے۔
(۱؎ معالم التنزیل علی ہامش الخازن تحت آیۃ وقد نزل علیکم فی الکتب الخ مصطفی البابی مصر ۱ /۶۱۲)
وجہ چہارم : صلحاء نے خاص اپنا جلسہ کیا جس میں سب نیت صالح والے ہیں اور تفکر وتذکر ہی کے طور اس میں سے قرآن مجید سنا خاص اس سے سننے کی یہ ضرورت تھی کہ اس میں کسی اعلٰی قاری کی نہایت درد ناک ودلکش قراءت بھری ہے اس میں سے قرأت سنانے والا بھی انھیں میں کا ہے کہ اس نے اس کا بنانا چلانا سیکھ لیا ہے۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ ت) اب یہاں دو نظریں ہیں: نظر اولٰی ونظر دقیق۔
نظر اولٰی صاف حکم کرے گی کہ اب اس میں کیا حرج ہے جب پلیٹیں طاہر و پاک فرض کرلی گئیں تو حرج صرف نیت لہو کا رہا اس سے یہ لوگ منزہ ہیں اور بھرنے والوں کی نیت فاسدہ کا ان پر کیا اثر۔