Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
103 - 190
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) بر تقدیر ثانی ظاہر وہی معنی ثانی ہے کہ راجع ہوائے ثانی ہے، 

اولاً صدمہ جبل نے اگر ہوائے اول کو روک لیا اور اس کا تموج دور کردیا تو دوبارہ اس میں تموج کہاں سے آیا وہ تصادم تو اس کا مسکن ٹھہرا نہ کہ محرک۔

ثانیاً اثر قرع دو تھے۔ تحرک وتشکل۔ جوصدمہ تحرک سے روک دے گا تشکل کب رہنے دے گا جو نقش برآب  سے بھی نہایت جلد مٹنے والا ہے کیا ہم نہیں دیکھتے کہ پانی کو جنبش دینے سے جوشکل اس میں پیدا ہوتی ہے اس کے ساکن ہوتے ہی معاً جاتی رہتی ہے۔ خود شرح مواقف میں گزرا اذا انتفی انتفی ۲؎ (جب وہ منفی ہوگا تویہ منفی ہوگا۔ ت)
(۲؎ شرح المواقف     المقصدالاول النوع الثانی         منشورات الرضی قم ایران    ۵ /۲۵۸)
اور جب وہ تشکل جاتا رہا تو اب اگر کسی محرک سے پلٹے گی بھی اشکال حرفیہ کہاں سے لائے گی کہ وہ تحریک غیر ناطق سے ناممکن ہیں تو اس قول ثانی کی صحیح وصاف تعبیر وہی ہے جو مواقف ومقاصد میں فرمائی یعنی مثلا مقاومت جبل سے یہ ہوا تو رک گئی مگر اس کا دھکا وہاں کی ہوا کو لگا اور اس کے قرع سے اس میں تشکل وتحرک آیا آواز کا ٹھپا اس میں سے اس میں اتر گیا اور یہ رک گئی کہ نہ  اس میں تحرک رہا نہ تشکل۔

ثم اقول: (پھر میں کہتا ہوں۔ ت) شاید قائل کہہ سکے کہ پہلا قول اظہر ہے کہ مصادمت اجسام میں وہی پیش نظر ہے قوت محرکہ جتنی طاقت سے حرکت دیتی ہے پھینکا ہوا جسم اگر راہ میں مانع سے نہیں ملتا اس طاقت کو پورا کرکے رک جاتاہے اور اگر طاقت باقی ہے اور بیچ میں مقاوم مل گیا تصادم واقع ہوتا ہے اور وہ جسم ٹھوکر کھا کر بقیہ طاقت تحریک کے قدر پیچھے لوٹتا ہے یوں اس قوت کو پورا کرتا ہے جیسے گیند بقوت زمین پر مارنے سے مشاہدہ ہے اور جواب دے سکتے ہیں کہ یہ اس حالت میں ہے کہ دونوں جانب سے تصادم  ہو ہوا سالطیف جسم پہاڑ کے صدمہ سے ٹکر کھا کر پلٹنا ضرور نہیں غایت یہ کہ پھیل جائے بہر حال کچھ سہی اتنا یقینی ہے کہ آواز وہی آواز  متکلم  ہے خواہ پہلی ہی ہوا اسے لئے ہوئے پلٹ آئی یا اس کے قرع سے آواز کی کاپی دوسری میں اترگئی اور وہ لائی مگر شرع مطہر نے اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ فرمایا قول ثانی پر یہ کہنا ہوگا کہ سماع میں ایجاب سجدہ کے لئے اسی تموج اول سے وقوع سماع لازم  ہے اور قول اول پر قید بڑھانی واجب ہوگی کہ وہ تموج محض اس طاقت کا سلسلہ ہو جو تحریک گلو وزبان تالی نے پیدا کی تھی پلٹنے میں وہ قوت تنہا نہ رہی بلکہ تصادم کی قوت دافعہ بھی شریک ہوگئی۔ غرض کچھ کہئے یہی حکم سماع فونو میں ہوگا قول ثانی پر بعینہٖ وہی فونو کا واقعہ ہے کہ تشکل باقی اور متموج ہوائے ثانی اور قول اول پر یہاں بدرجہ اولٰی عدم وجوب لازم کہ جب بحال بقائے تموج وتشکل معاًصرف تخلل تصادم و رجوع سے ایجاب نہ رہا تو یہاں کہ تموج بدل گیا بروجہ اولٰی وجوب نہ ہوگا۔ اور مختصر یہ ہے کہ سجدہ سماع اول پر ہے نہ کہ معاد پر اگر چہ خاص اس سامع کی نظر سے مکرر نہ ہو اور شک نہیں کہ سماع صدا سماع معادہے۔ اور فونو کی تووضع ہی اعادہ سماع کے لئے ہوئی ہے لہذا ان سے ایجاب سجدہ نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

جب یہ مقدمہ جلیلہ ممہدہولیا تو اب بتوفیقہ تعالٰی تنقیح مسئلہ کی طرف چلئے۔ یہاں صور عدیدہ ووجوہ شتی ہیں:

وجہ اول: سب میں پہلے تحقیق طلب ان پلیٹوں گلاسوں کی طہارت ہے۔ مسالا کہ ان پر لگایا جاتاہے اگر اس میں کوئی ناپاک جز شامل ہے۔ ( جس طرح یورپ کی اکثر اشیاء میں معہود ومشہور ہے۔ان کے یہاں شراب کے برابر کوئی شے حافظ قوت ادویہ نہیں اور تمام تحلیلات اعمال کیمیا ویہ میں جن سے ایسی تراکیب کم خالی  ہوتی ہیں اسپرٹ کا استعمال لازم ہے اسپرٹ قطعا شراب ہے سمیت کے سبب قابل شرب نہ ہونا اسے شراب ہونے سے خارج نہیں کرسکتا بلکہ اس کی سمیت ہی غایت جوش واشتداد وسکروفساد سے ہے۔ برانڈیاں کہ یورپ سے آتی ہیں ان کے نشہ کی قوتیں اس کے قطرات سے بڑھائی جاتی ہیں فلاں قسم کے نوے قطروں میں اس کا ایک قطرہ ہے فلاں کے سو میں اور شرابیں پینے سے نشہ لاتی ہیں اور اسپرٹ صرف سونگھنے سے تو وہ حرام بھی ہے اور پیشاب کی طرح نجاست غلیظہ بھی۔ کما ھو الصحیح المعتمد المفتٰی بہ (جیسا کہ صحیح اور قابل اعتماد، اور وہ بات کہ جس پر فتوٰی دیا گیا ہے۔ ت) جب تو ظاہر ہے کہ قرآن عظیم کا اس میں بھرنا حرام قطعی ہے اور سخت شدید توہین وبے ادبی ہے جب وہ قالب نجس ٹھہرے تو یہ بعینہٖ ایسا ہوگا کہ کاغذ پیشاب میں بھگو کر معاذاللہ اس پر لکھنا جسے مسلمان تو مسلمان کوئی سمجھ والا کافر بھی گوارا نہ کرے گا۔ ہمارے علمائے کرام تصریح فرماتے ہیں کہ نجاست کی جگہ قرآن عظیم پڑھنا منع ہے۔ ولہذا حمام میں تلاوت مکروہ ہے۔
فتاوٰی امام قاضی خاں میں ہے:
یکرہ ان یقرأ القراٰن فی الحمام لانہ موضع النجاسات ولا یقرأ فی بیت الخلاء ۱؎۔
مکروہ ہے کہ حمام میں قرآن مجید پڑھا جائے اس لئے کہ وہ محل نجاست ہے۔ اور بیت الخلاء (لیٹرین) میں بھی قرآن مجید نہ پڑھا جائے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب الصلٰوۃ فصل فی قرأۃ القرآن     مطبع نولکشور لکھنؤ    ۱ /۷۸)
قنیہ وہندیہ میں ہے:
لابأس بالقراءۃ راکبا وما شیا اذا لم یکن ذٰلک الموضع معدا للنجاسۃ فان کان یکرہ لہ ۲؎۔
سوار ہونے والے اور پاپیادہ چلنے والے کے لئے قرآن مجید پڑھنے میں کچھ مضائقہ اورحرج نہیں بشرطیکہ وہ جگہ نجاست کے لئے نہ بنائی گئی ہو، اور اگر گندگی کے لئے بنی ہو تو وہاں تلاوت کرنا مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ القنیہ    کتاب الکراھیۃ الباب الرابع     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۱۶)
بلکہ جن کے نزدیک موت سے بدن نجس ہوجاتا ہے اور غسل میت اسے نجاست حقیقیہ سے تطہیر کے لئے رکھا گیا ہے وہ قبل غسل میت کے پاس بیٹھ کر تلاوت کو منع کرتے ہیں جب تک اسے بالکل ڈھانک نہ دیا جائے کہ نجاست منکشفہ کا قرب ہوگا۔
تنویر میں ہے :
کرہ قراءۃ القراٰن عندہ الی تمامہ غسلہ ۱؎۔
میت کو غسل دینے تک اس کے پاس قرآن مجید پڑھنا مکروہ ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار     کتاب الصلٰوۃ     باب صلٰوۃ الجنازۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۲۰)
درمختار میں ہے:
عللہ الشرنبلالی فی امداد الفتاح تنزیھا للقراٰن عن نجاسۃ المیت لتنجسہ بالموت قیل نجاسۃ  خبث وقیل حدث و علیہ فینبغی جوازھا کقراء ۃ المحدث ۲؎۔
امداد الفتاح میں علامہ شرنبلالی نے اس کی تعلیل ذکر فرمائی تاکہ قرآن مجید کو میت کی نجاست اور ناپاکی سے بچایا جائے کیونکہ نجاست اسے موت کی وجہ سے ناپاک کردیتی ہے۔ پھر اس نجاست میں اختلاف ہے چنانچہ بعض نے کہا کہ یہ نجاست خبیث ہے جبکہ بعض کے نزدیک حدث ہے۔ لہذا اس بنیاد پر مناسب ہے کہ میت کے پاس قرآن مجید پڑھناجائز ہے جیسے بے وضو کایاد سے قرآن مجید پڑھنا، (ت)
 (۲؎درمختار     کتاب الصلٰوۃ     باب صلٰوۃ الجنازۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰۔ ۱۱۹)
ردالمحتار میں ہے:
وذکر ط ان محل الکراھۃ اذا کان قریبا منہ اما اذابعد عنہ فلا کراھۃ اھ قلت والظاھر ان ھذا ایضا اذا لم یکن المیت مسجی بثوب یسترجمیع بدنہ ۳؎ الخ۔
علامہ طحطاوی نے ذکر کیا کہ اس کراہت کا محل یہ ہے کہ جب میت کے قریب بیٹھا ہو لیکن جب اس سے دور بیٹھا ہے اور قرآن مجید پڑھ رہا ہے) تو پھر کراہت نہ ہوگی اھ میں کہتا ہوں یہ کراہت بھی تب ہوگی کہ جب میت کسی ایسے کپڑے سے جو اس کے سارے جسم کو چھپائے ڈھانپی ہوئی نہ ہو الخ۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار    کتاب الصلٰوۃ    باب صلٰوۃ الجنازۃ   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۷۳)
جب قرب نجاست میں تلاوت منع ہوئی کہ اس ہوا کا جو اشکال حروف قرآن کی حامل ہے محل نجاست پرگزر نہ ہوخود نجس چیز میں معاذاللہ ان اشکال طاہرہ کا مرتسم کرنا کس درجہ سخت حرام ہوگا۔

اقول: وبما بینا ظھر وجہ التقیید بان لا یکون جمیع بدنہ مسجی فافھم۔ اقول: ( میں کہتاہوں) جو کچھ ہم نے بیان کیا اس سے قید لگانے کی وجہ ظاہر ہوگئی کہ میت کا پورا جسم ڈھانپا ہوا نہ ہو، پس اچھی طرح سمجھ لیجئے۔ (ت)
بلکہ حق یہ ہے کہ اس تقدیر پر جہل مردم وناواقفی حال آلہ وعدم نیت وعدم تنبہ کا قدم درمیان نہ ہو تو دیدہ دانستہ ان میں آیات بھرنے والے کا حکم معاذاللہ القائے مصحف فی القاذورات (اللہ تعالٰی کی پناہ۔ یہ تو مصحف شریف کو نجاستوں میں پھینکنا ہے۔ ت) کے مثل ہوتا ہم روشن کرچکے کہ تمام جلوہ گاہوں میں وہی صفت الٰہیہ بعینہا حقیقۃً جلوہ فرما ہوتی ہے تو اس کے لئے معاذاللہ یہ ناپاک کسوت مقرر کرنا کس درجہ ایمان ہی کے مخالف ہے۔
Flag Counter