Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
102 - 190
تنویر ودر میں ہے:
لاتجب بسماعۃ من الصدٰی ۱؎۔
آواز بازگشت سے آیت سجدہ سنی  تو سجدہ تلاوت واجب نہیں۔ (ت)
 (۱؎ درمختار شرح تنویر الابصار     کتا ب الصلٰوۃ    باب سجود التلاوۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۵)
بحرالرائق میں ہے:
تجب علی المحدث والجنب وکذا تجب علی السامع بتلاوۃ ھؤلاء الا المجنون لعدم اھلیتہ لا نعدام التمییز کالسماع من الصدی کذا فی البدائع والصدی مایعارض الصوت فی الاماکن الخالیۃ ۲؎۔
بے وضو اور جنبی (ناپاک) پر سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے۔ اور اسی طرح ان لوگوں سے تلاوت سننے والے پر بھی سجدہ کرنا واجب ہے مگر دیوانے پر نہیں۔ اس لئے کہ وہ اہلیت سجدہ نہیں رکھتا کیونکہ اس میں عقل اور تمیز نہیں جیسے آواز بازگشت سننے سے وجوب سجدہ نہیں۔ البدائع میں یہی مذکور ہے اور صدی (آواز بازگشت) وہ ہے جو بلند مقامات میں آواز سے ٹکرائے اور اس کے مقابل پید اہوجائے۔ (ت)
 (۲؎ بحرالرائق    کتا ب الصلٰوۃ    باب سجود التلاوۃ       مصطفی البابی مصر    ۲ /۱۱۹)
اب صدا میں علماء مختلف ہیں کہ ہوا اسی تموج اول سے پلٹتی ہے یا گنبد وغیرہ کی ٹھیس سے وہ تموج زائل ہوکر تموج تازہ اس کیفیت سے متکیف ہم تک آتا ہے مواقف ومقاصد اور ان کی شروح میں ثانی کو ظاہر بتایا پھر اس ثانی کے بیان میں عبارات مختلف ہیں بعض اس طرف جاتی ہیں کہ پلٹتی وہی ہوا ہے مگر اس میں تموج نیا ہے یہی ظاہر ہے شرح مواقف وطوالع وبعض شروح طوالع سے، بعض تصریح کرتی ہیں ہوا ہی دو سری اس کیفیت سے متکیف ہوکر آتی ہے یہ نص مواقف ومقاصد شرح ہے۔ مطالع الانظار کی عبارت پھر متحمل ہے ولہذا ہم نے یہ مضمون ایسے الفاظ میں اد اکیا کہ دونوں معنی پید ا کریں۔
مواقف میں ہے:
  الظاھر الصدی تموج ھواء جدید لارجوع الھواء الاول ۱؎۔
ظاہر یہ ہے کہ آواز بازگشت ایک نئی ہوا میں موج پیدا ہوناہے۔ لہذا وہ پہلی ہوا کا واپس لوٹنا نہیں۔ (ت)
(۱؎ المواقف مع شرحہ     النوع الثالث المقصد الثانی   منشورات الشریف الرضی قم ایران     ۵ /۲۶۷)
شرح میں ہے :
وذٰلک لان الھواء اذا تموج علی الوجہ الذی عرفتہ حتی صادم جسما یقادمہ و یردہ الی خلف لم یبق فی الھواء المصادم ذٰلک التموج بل یحصل فیہ بسبب مصادمتہ ورجوعہ تموج شبیہ بالتموج الاول وقد یظن ان الھواء المصادم یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ فیحمل ذٰلک الصوت الاول الی السامع الاتری ان الصدی یکون علی صفتہ وھیأتہ وھذا وان کان محتملا الا ان الاول ھو الظاھر ۲؎۔
یہ اس لئے کہ جب ہوا میں اس وجہ کے مطابق موج پیدا ہو کہ جس کو آپ پہچان چکے حتی کہ اگر وہ کسی ایسے جسم سے ٹکرائے کہ جو اس کے مقابلے میں آئے اور وہ اسے پیچھے کی طرف لوٹادے تو پھر اس ٹکرانے والی ہوا میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ اس میں تصاد م اور رجوع کی وجہ اور سبب سے ایک ایسا تموج پیدا ہوگا جو تموج اول کے بالکل مشابہ اور اس کی شبیہ ہوگا، اور کبھی یہ گمان کیا جاتا ہے کہ ہوا متصادم بعینہٖ یعنی بالکل اس پہلے تموج کے ساتھ متصف رہتے ہوئے واپس لوٹتی ہے پھر اس پہلی ہی آواز کو اٹھا کر سامع تک پہنچادیتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ صدی (بازگشت) اپنی صفت اور ہیئت پر باقی ہوتی ہے اگر چہ اس بات کا احتمال ہے مگر پہلی بات ہی ظاہر ہے۔ (ت)
(۲؎ شرح المواقف  النوع الثالث المقصد الثانی   منشورات الشریف الرضی قم ایران   ۵ /۶۸، ۲۶۷)
مقاصد میں ہے :
جعل الواصل نفس الہواء الراجع او اخر متکیفا بکیفیتہ علی ما ھو الظاھر ۳؎۔
نفس ہوا راجع کو واصل قرار دینا یا دوسری ہوا کو جو پہلی کی کیفیت سے متکیف (اور متصف) ہو جیسا کہ یہ ظاہر ہے۔ (ت)
 (۳؎ المقاصد علی ہامش شرح المقاصد     النوع الثالث     دارالمعارف النعمانیہ لاہور    ۱ /۲۱۷)
شرح میں ہے :
  ترددوا فی ان حدوثہ من تموج الھواء الاول الراجع علی ھیأتہ او من تموج ھواء اخر بیننا وبین المقاوم متکیف بکیفیۃ الھواء الراجع وھذا ھو الاشبہ ۱؎۔
ماہرین عقلیات کو اس بات میں تردد ( اورتذبذب) ہے کہ آواز کے پیدا ہونے کا اصل سبب کیا ہے۔ آیا وہ پہلی ہوا جو اپنی ہیئت پر لوٹنے والی ہے (وہ اس کے حدوث کا سبب ہے) یا کسی دوسری ہوا کا تموج (لہرانا) جو ہمارے اور جسم کے مقابل کے درمیان واقع ہے جو لوٹنے والی ہوا کی کیفیت سے متصف اور متکیف ہے (وہ آواز کے حدوث کا سبب ہے) اوریہی شبہہ ہے۔ (ت)
(۱؎ شرح المقاصد     النوع الثالث    دارالمعارف النعمانیہ لاہور     ۱/ ۲۱۸)
طوالع میں ہے :
الصدی صوت یحصل من انصراف ھواء متموج عن جبل او جسم املس ۲؎۔
الصدی آواز بازگشت ایک ایسی آواز ہے جو کسی پہاڑ یا ملائم (چکنا) جسم سے موج والی ہوا کے لوٹنے سے پیدا ہوتی ہے۔ (ت)
 (۲؎ طوالع الانوار )
اس کی شرح مطالع میں ہے:
فان الھواء اذا تموج وقاومہ مصادم کجبل او جدار ا ملس بحیث یصرف ھذا الھواء المتموج الی خلف محفوظا فیہ ھیئاۃ تموج الھواء الاول حدث من ذٰلک صوت وھو الصداء ۳؎۔
جب ہوا میں تموج یعنی لہر پیدا ہو، اور کوئی ٹکرانے والا جسم (متصادم) اس کے مقابل ہوجائے جیسے پہاڑ یا کوئی ملائم دیوار کہ یہ مقابل جسم اس تموج والی ہوا کو پیچھے پھیردے اور دھکیل دے کہ اس پہلی ہوا کا تموج اپنی ہیت پر بدستور محفوظ ہو پس اس سے ایک آوازپیدا ہوگی۔ پس وہی ''صدی'' یعنی آواز بازگشت ہے۔ (ت)
 (۳؎ مطالع الانظار شرح طوالع الانوار)
اس کی دوسری شرح میں ہے :
  الصدی صوت یحصل من ھواء متموج منصرف عن جسم املس یقاوم الھواء المتموج ویمنعہ من النفوذ فیہ وبالضرورۃ ینصرف الھواء المتموج من ذٰلک الجسم الی الخلف علی مثل الھیائۃ التی کان علیھا وحینئذ یحتمل ان یکون الھواء المتموج المصادم للجسم الا ملس یرجع متصفا بتموجہ الاول بعینہ ویحمل الصوت الی السامع وان یکون سبب الصدی تموج جدید حصل للھواء لانہ اذا تموج الھواء حتی صادم جسما املس یقاومہ ویردہ الی الخلف لم یبق فی الھواء المتصادم ذٰلک التموج بل یحصل لسبب المصادمۃ والرجوع تموج شبیہ بالتموج الاول فھنا التموج الجدید الذی کان ابتداء ہ عندانتھاء الجدید الذی ھو سبب الصدی قیل الاظھر ھو الثانی ۱؎۔
الصدی آواز بازگشت ایک آواز ہے جو موج والی ہوا جو کسی ملائم جسم کی وجہ سے لوٹتی ہے جو تموج والی ہوا کے مقابل ہوتا ہے۔ اور اس کو اس میں نفوذ سے روکتا ہے۔ لہذا اس ضرورت کی بناء پر تموج والی ہو ا اس جسم سے اسی پہلی ہیئت پر پیچھے کی طر ف لوٹ جاتی ہے۔ لہذا اس صورت میں یہ احتمال ہے کہ تموج والی ہوا جو کسی چکنے اور ملائم جسم سے ٹکراتے ہوئے بعینہٖ پہلے تموج سے متصف رہتے ہوئے لوٹ جائے اور آواز کو اٹھا کر سامع تک پہنچادے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آواز بازگشت (صدی) کاسبب کوئی تموج جدید ہو جو ہوا کو حاصل ہوا ہو، کیونکہ جب ہوا میں تموج پیدا ہو جبکہ اس سے کوئی ایسا ملائم جسم مقابل ہوجائے جو اسے پیچھے کی طرف لوٹا دے۔ پھر ہوا متصادم میں وہ تموج باقی نہ رہے گا بلکہ تصادم اور رجوع کے سبب سے ہوا میں کوئی ایسی موج پیدا ہوجائے جو بالکل تموج اول کی شبیہ ہو۔ پس یہ تموج جدید کہ جس کی راہنمائی پہلے تموج کی انتہا سے ہے۔ پس یہی آواز بازگشت (صدٰی) کا سبب ہے۔ اور کہا گیا کہ یہ دوسری بات زیادہ ظاہر ہے۔ (ت)
(۱؎شرح طوالع الانوار)
Flag Counter