Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
101 - 190
حدیقہ ندیہ نوع اول فصل اول باب اول میں فرماتے ہیں:
اذا علمت ھذا ظھرلک فسادقول من قال ان کلام اﷲ تعالٰی مقول بالاشتراک الوضعی علی معنیین الصفۃ القدیمۃ والمولف من الحروف والکلمات الحادثۃ فانہ قول یؤول بصاحبہ الی اعتقاد الشرک فی صفات اﷲ تعالٰی واشارۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھنا فی ھذا الحدیث (ای حدیث ان ھذا القرآن طرفہ بیداﷲ تعالٰی و طرفہ بایدیکم رواہ ابن ابی شیبۃ والطبرانی فی الکبیر ۱؎ عن ابی شریح رضی اﷲ تعالٰی عنہ) الی القراٰن تفید انہ واحد لا تعدد لہ اصلا وھو الصفۃ القدیمۃ وھو مکتوب فی المصاحف المقروبالالسنۃ، المحفوظ فی القلوب من غیر حلول فی شیئ من ذٰلک ومن لم یفھم ھذا علی حسب ما ذکرنا لصعوبتہ علیہ یجب علیہ الایمان بہ بالغیب کما یؤمن باﷲ تعالی وبباقی صفاتہ سبحانہ وتعالٰی ولا یجوز لاحد ان یقول بحدوث مافی المصاحف والقلوب والالسنۃ ۲؎ الی اخرھا افاد و اجاد علیہ رحمۃ الملک الجواد۔
جب تمھیں یہ معلوم ہوگیا تو پھر تم پر اس کے اس قول کافساد ظاہر گیا کہ جس نے یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالٰی کا کلام اشتراک وضعی کے طور پر دو معنوں پر بولا گیا ہے۔ ایک صفت قدیمہ اور دوسرا وہ جو حروف اور کلمات حادثہ سے مرکب ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا قول ہے جو اللہ تعالٰی کی صفات میں اعتقاد شرک کی طرف راجع (اور پہنچاتا ہے ) لہذا یہ قول قطعا ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کااس حدیث میں یعنی حدیث ذیل میں اس طرف اشارہ ہے۔ یہ قرآن مجید اس کی ایک طرف اللہ تعالٰی کے بے مثل ہاتھ میں ہے۔ اور اس کی دوسری طرف تمھارے ہاتھوں میں ہے۔ تو گویا آپ کا قرآن مجید کی اسی حیثیت کی طرف اشارہ ہے۔ محدث ابن ابی شیبہ اور امام طبرانی نے معجم کبیرمیں حضرت ابو شریح رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیا ہے پس اس اشارہ سے یہ فائدہ حاصل ہوا کہ اللہ تعالٰی کا کلام ایک ہے اس میں بالکل کوئی تعدد نہیں۔ اور وہ صفت قدیمہ ہے جو مصاحف میں لکھا ہوا ہے۔ زبانوں سے پڑھا گیا اور دلوں میں ضبط شدہ ہے کہ جس میں کوئی حلول نہیں، او رجو کوئی ہمارے ذکر کردہ بیان کے مطابق اس مسئلہ کو بوجہ اس کے اشکال کے نہ سمجھے تو پھر بھی واجب ہے کہ وہ اس پر اسی طرح ایمان بالغیب رکھے کہ جس طرح اللہ تعالٰی پاک اور برتر کی ذات اور دیگر صفات پر ایمان رکھتا ہے اور کسی کے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ مصاحف میں مرقوم دلوں میں موجود اور زبانوں پر جاری ہے وہ حادث ہے (یہ سب کچھ) آخر تک علامہ موصوف  نے افادہ فرمایا اور اس میں کمال کردیا۔ لہذا اللہ تعالٰی جو پوری کائنات کا بادشاہ اور نمایاں  طور پر سخی ہے اس کی ان پر خصوصی رحمت وبرکات کا دائمی نزول ہو۔ (ت)
 (۱؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی فی الکبیر     الترغیب فی اتباع الکتاب والسنۃ     حدیث ۳  مصطفی البابی مصر    ۱ /۷۹)

(۲؎ الحدیقہ الندیہ     شرح الطریقہ المحمدیہ     باب اول    مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد   ۱ /۶۲۔ ۶۱)
امام اجل عارف باللہ سیدی عبدالوہالا شعرانی قدس سرہ الربانی میزان الشریعۃ الکبرٰی باب مایجوز بیعہ ومالا میں فرماتے ہیں:
قدجعلہ (ای المکتوب والمصحف) اھل السنۃ والجماعۃ حقیقۃ کلام اﷲ تعالٰی وان کان النطق بہ واقعا منا فافھم واکثر من ذٰلک لایقال ولا یسطر فی کتاب ۱؎۔
اہل سنت وجماعت نے جو کچھ مصاحف میں لکھا ہوا ہے اس کو حقیقۃً اللہ تعالٰی کا کلام ٹھہرا یا اگر چہ ہماری طرف سے اس کا تلفظ (بولنا) واقع ہوتا ہے۔ لہذا اس کو اچھی طرح سمجھ لیجئے کیونکہ اس سے زیادہ نہ کہا جاسکتا ہے اور نہ کسی کتاب میں لکھا جاسکتاہے۔ (ت)
 (۱؎ المیزان الکبرٰی باب مایجوز یبعہ ومالایجوز مصطفی البابی مصر  ۲ /۶۷)
اور پرظاہر کہ اس بارہ میں سب کسوٹیین یکساں ہیں جس طرح کاغذ کی رقوم میں وہی قرآن کریم میں مرقوم ہے اسی طرح فونو میں جب کسی قاری کی قراءت بھری گئی اور اشکال حرفیہ کہ ہوائے دہن پھر ہوائے مجاور میں بنی تھی اس آلہ میں مرتسم ہوئیں ان میں بھی وہی کلام عظیم مرسوم ہے اور جس طرح زبان قاری سے جوادا ہوا قرآن ہی تھا۔ یوہیں اب جو اس آلہ سے ادا ہوگا قرآن ہی ہوگا جس طرح اس آلہ سے اگر حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کی کوئی غزل ادا کی جائے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہ غزل نہیں یا حضرت شیخ سعدی قدس سرہ کا کلام نہیں یوہیں جب اس سے کوئی آیہ کریمہ ادا کریں کوئی شبہہ نہیں کرسکتا کہ وہ آیت ادا نہ ہوئی، ضرور ادا ہوئی اور اسی تادیہ سے ہوئی جو اصل قاری کی زبان وگلو سے پیدا ہواتھا۔
رہا یہ کہ پھر اس کے سماع سے سجدہ کیوں نہیں واجب ہوتا جب کہ فونو سے کوئی آیہ سجدہ تلاوت کی جائے،

اقول : (میں کہتاہوں۔ ت) ہاں فقیر نے یہی فتوٰی دیا ہے مگر اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ آیت نہیں اس کا انکار تو بداہت کا انکار ہے۔ نہ ہماری تحقیق پر یہاں اس عذر کی گنجائش ہے کہ وجوب سجدہ کے لئے قاری کا جنس مکلف سے ہونا عند الاکثر وھو الصحیح اور مذہب اصح پر عاقل بلکہ ایک مذہب مصحح پر بالفعل اہل ہوش سے بھی ہونا درکار ہے۔ طوطی یا مینا کو آیت سجدہ سکھادی جائے تو اس کے سننے سے سجدہ واجب نہ ہوگا۔ اسی طرح مجنون بلکہ ایک تصحیح میں سوتے کی تلاوت سے بھی وجوب نہیں نہ اس پر اگرچہ جاگنے کے بعد اسے اطلاع دے دی جائے کہ تو نے آیت سجدہ پڑھی تھی نہ اس سے سننے والے پر۔
تنویر الابصار ودرمختار میں ہے:
لا تجب بسماعہ من الطیر ۲؎۔
سجدہ تلاوت واجب نہ ہوگا جبکہ کسی پرندے سے آیت سجدہ سنے ۔ (ت)
(۲؎ درمختار شرح تنویر الابصار   کتاب الصلٰوۃ باب  سجود التلاوۃ   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۱۰۵)
ردالمحتار میں ہے :
ھوالاصح زیلعی وغیرہ وقیل تجب وفی الحجۃ ھو الصحیح ، تاتارخانیۃ قلت والاکثر علی تصحیح الاول وبہ جزم فی نور الایضاح ۱؎۔
اور وہی زیادہ صحیح ہے زیلعی وغیرہ (میں یہی مذکورہ ہے) اوریہ بھی کہا گیا بصورت مذکورہ سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے چنانچہ فتاوٰی حجۃ میں ہے کہ یہی صحیح ہے تتارخانیہ ، میں کہتاہوں کہ اکثر ائمہ کرام قول اول کی تصحیح پر قائم ہیں۔ چنانچہ نورالایضاح میں اسی پر یقین کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ردالمحتار    کتا ب الصلٰوۃ     باب سجود التلاوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۱۷)
اسی میں ہے :
النائم اذا اخبرانہ قرأھا فی حالۃ النوم تجب علیہ وھو الاصح تتارخانیہ و فی الدرایۃ لا تلزمہ ھو الصحیح امداد ففیہ اختلاف التصحیح وامالزومھا علی السامع منہ اومن المغمی علیہ فنقل فی الشرنبلالیۃ ایضا اختلاف الروایۃ و التصحیح وکذا من المجنون ۲؎۔
سونے والے کو جب بتا یا جائے کہ اس نے بحالت خواب آیت سجدہ پڑھی تو اس پر سجدہ کرنا واجب ہے۔ اوریہی زیادہ صحیح ہے۔ تتارخانیہ اور درایہ میں ہے۔ کہ اس پر (دریں صورت) سجدہ لازم نہیں اور یہی صحیح ہے۔ امداد، پس اس میں تصحیح کا اختلاف ہے لیکن سامع (سننے والا) اور بیہوش پر سجدہ تلاوت کا لزوم (تو اس کے متعلق گزارش ہے کہ شرنبلالیہ میں روایۃ اور تصحیح کا اختلاف نقل کیا گیا ہے۔ اور اسی طرح دیوانے کے بارے میں ہے۔ (ت)
 (۲؎ردالمحتار   کتا ب الصلٰوۃ     باب سجود التلاوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۱۶)
اسی میں ہے:
قال فی الفتح لکن ذکر الشیخ الا سلام انہ لایجب بالسماع من مجنون او نائم او طیرلان السبب سماع تلاوۃ صحیحۃ وصحتھا التمییز ولم یوجد وھذا التعلیل یفید التفصیل فی الصبی فلیکن ھو المعتبران کان ممیزا وجب بالسماع منہ و الا فلااھ واستحسنہ فی الحلیۃ ۳؎۔
فتح القدیر میں فرمایا: لیکن شیخ الاسلام نے ذکر فرمایا اگر دیوانے یا سونے والے یا پرندہ سے آیت سجدہ سنی تو سجدہ تلاوت واجب نہیں کیونکہ اس کا سبب تلاوت صحیحہ ہے۔ اور صحت تلاوت کا مدار تمیز ہے اور وہ یہاں نہیں پائی گئی۔ اور یہ تعلیل اس بات کا فائدہ دیتی ہے کہ یہی تفصیل بچے میں کی جائے گی۔ لہذا اسی کااعتبار کرنا چاہئے، کہ اگر بچہ عقل وتمیز رکھتا ہے تو اس سے  آیۃ سجدہ سنی گئی تو سجدہ تلاوت واجب ہے ورنہ نہیں اھ اور اس کو حلیہ میں مستحسن قرار دیا گیا ہے۔ (ت)
 (۳؎ ردالمحتار    کتا ب الصلٰوۃ    باب سجود التلاوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۵۱۶)
ہم ثابت کرتے آئے ہیں کہ یہ جو فونو سے سننے میں آئی اس مکلف عاقل ذی ہوش کی تلاوت ہے نہ کہ اس کی مثال وحکایت ۔ پھر آخر یہاں سجدہ نہ واجب ہونے کی کیا وجہ ہے۔ اقول: (میں کہتاہوں ۔ت) ہاں وجہ ہے اورنہایت موجہ ہے کہ گنبد کے اندر یا پہاڑ یا چکنی گچ کردہ دیوار کے پا س اور کبھی صحرا میں بھی خود اپنی آواز پلٹ کر دوبارہ سنائی دیتی ہے جسے عربی میں صدا کہتے ہیں۔ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ اس کے سننے سے بھی سجدہ واجب نہیں ہوتا، نہ خود قاری پر نہ سامع اول پر جس نے تلاوت سن کر دوبارہ یہ گونج سنی نہ نئے پر جس نے پہلی تلاوت نہ سنی تھی اور یہ صدا ہی سنی کہ حکم مطلق ہے۔
Flag Counter