Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۳(کتاب الحظر والاباحۃ)
100 - 190
اور فرماتاہے :
فاجرہ حتی یسمع کلام اﷲ ۲؎۔
تو اسے پناہ دو (یعنی آنے والے کو) تاکہ وہ اللہ تعالٰی کا کلام سنے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم        ۹/ ۶)
اور فرماتاہے :
فاقراءوا ماتیسر من القراٰن ۳؎۔
پڑھو، جس قدرقرآن مجید آسان ہو (یعنی آسانی سے پڑھ سکو۔ ت)
(۳؎القرآن الکریم      ۷۳ /۲۰)
اور فرماتاہے:
ولقد یسرنا القراٰن  للذکر فھل من مدکر ۴؎۔
یقینا ہم نے نصیحت کے لئے قرآن مجیدآسان کردیا۔ بھلا ہے کوئی نصیحت ماننے والا۔ (ت)
 (۴؎القرآن الکریم    ۵۴ /۱۷)
اور فرماتاہے :
بل ھو اٰیت بینت فی صدور الذین اوتوا العلم ۵؎۔
بلکہ وہ روشن اور واضح آیتیں ہیں ان لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں جنھیں علم سے نوازا گیا۔ (ت)
(۵؎القرآن الکریم      ۲۹ /۴۹)
اور فرماتاہے :
وانہ لفی زبر الاولین ۶؎۔
بیشک وہ پہلے لوگوں کے صحیفوں میں موجود ہے۔ (ت)
 (۶؎القرآن الکریم      ۲۶/ ۱۹۶)
اور فرماتا ہے:
فی صحف مکرمۃ مرفوعۃ مطھرۃ ۱؎۔
وہ باعزت بلند اور پاک صحیفوں میں مرقوم ہے۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم      ۸۰ /۱۳ و ۱۴)
اور فرماتاہے:
بل ھو قراٰن مجید فی لوح محفوظ ۲؎۔
بلکہ شرف وبزرگی والا قرآن کریم لوح محفوظ (محفوظ تختی) میں (لکھا ہوا) ہے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم      ۸۵/ ۲۱)
اور فرماتاہے :
  انہ لقراٰن کریم o فی کتب مکنون o لایمسہ الاالمطھرون o۳؎
بیشک وہ باعزت قرآن مجید ایک پوشیدہ کتاب میں درج ہے۔ اس کو سوائے پاکیزہ افراد کے اور کوئی ہاتھ نہیں لگاسکتا۔(ت)
(۳؎القرآن الکریم   ۵۶ /۷۷ تا ۷۹)
اور فرماتاہے:
نزلہ بہ الروح الامینoعلی قلبک لتکون من المنذرینo بلسان عربی مبین o۴؎ الی غیر ذٰلک من الایات
اسے روح الامین (حضرت جبریل) نے واضح عربی زبان میں تمھارے قلب اطہر پر اتارا تاکہ تم سنانے والے حضرات میں سے ہوجاؤ یہاں تک کہ ان کے علاوہ اور بھی بیشمار اس نوع کی آیات ہیں۔ (ت)
(۴؎القرآن الکریم   ۲۶ /۱۹۳ تا ۱۹۵)
دیکھو اسی کو مقرواسی کومسموع اسی کو محفوظ اسی کو مکتوب قرار دیا اسی کو قرآن اور اپنا کلام فرمایا۔
سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ فقہ اکبر میں فرماتے ہیں :
القراٰن کلام اﷲ فی المصاحف مکتوب وفی القلوب محفوظ وعلی الا لسنۃ مقرو وعلی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم منزل ولفظنا بالقراٰن مخلوق وکتابتنا لہ مخلوق وکلام اﷲ تعالٰی غیر مخلوق ۵؎
قرآن مجید اللہ کا کلام صحیفوں میں لکھا ہے اور دلوں میں محفوظ ہے اور زبانوں پر پڑھا گیا ہے۔ اور حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی ذات اقدس پر اتار اگیا ہے اور ہمارا قرآن مجید کہ بولنا اور اسی طرح اس کو لکھنا اور پڑھنا مخلوق ہے لیکن بااینمہ اللہ کا کلام مخلوق نہیں۔ (ت)
 (۵؎ فقہ اکبر مع وصیت نامہ         ملک سراج الدین اینڈ سننز کشمیری بازار لاہور    ص۴)
نیز وصایا میں فرماتے ہیں :
نقربان القراٰن کلام اﷲ تعالٰی و وحیہ وتنزیلہ وصفتہ لاھو ولاغیرہ بل ھو صفۃ علی التحقیق مکتوب فی المصاحف مقرو بالالسن محفوظ فی الصدور من غیر حلول فیہا (الی قولہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) واﷲ تعالٰی معبود ولا یزال عما کان وکلامہ مقرو ومکتوب ومحفوظ من غیر مزایلۃ عنہ ۱؎۔
ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ قرآن مجید اللہ تعالٰی کا کلام اس کی وحی اس کا نازل کردہ اور اس کی صفت ہے۔ لہذا وہ عین ہے اور نہ غیر۔ بلکہ بربنائے تحقیق اس کی صفت عالیہ ہے۔ صحیفوں میں لکھا ہوا۔ زبانوں پر پڑھا ہوا، اور سینوں میں حلول کے بغیر محفوظ شدہ۔ (امام صاحب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ا س ارشاد تک) اللہ تعالٰی سچامعبود ہے اور اس کی شان ہمیشہ ''الا ن کما کان'' (ایک شان پر جلوہ گر) ہے۔ پس اس کا کلام پڑھا گیا۔ لکھا گیا۔ اور حفاظت  شدہ ہے۔ بغیر اس کے کہ اس سے کوئی چیز زائل ہو۔ (ت)
 (۱؎ فقہ اکبر مع وصیت نامہ     ملک سراج الدین اینڈ سنز کشمیری بازار لاہور    ص۲۹)
عارف باللہ سیدی علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی مطالب وفیہ میں فرماتے ہیں:
لاتظن ان کلام اﷲ تعالٰی اثنان ھذا لفظ المقر و والصفۃ القدیمۃ کما زعم ذٰلک بعض من غلبت علیہ اصطلاحات الفلاسفۃ والمعتزلۃ فتکلم فی کلام اﷲ تعالٰی بما اداہ الیہ عقلہ وخالف اجماع السلف الصالحین رضی اﷲ تعالٰی عنہم علی ان کلام اﷲ تعالٰی واحد لا تعدد لہ بحال وھو عند نا وھو عندہ تعالٰی ولیس الذی عندنا غیر الذی عندہ ولا الذی عندہ غیر الذی عندنا بل ھو صفۃ واحدۃ قدیمۃ موجودۃ عندہ تعالی بغیر الۃ لوجودھا وموجودۃ ایضا عندنا بعینھا لکن سبب اٰلۃ ھی نطقنا وکتابتنا وحفظنا فمتی نطقنا بھذہ الحروف القراٰنیۃ وکتبنا ھا وحفظنا ھا کانت تلک الصفۃ القدیمۃ القائمۃ بذات اﷲ  التی ھی عندھا تعالی ھی عندنا ایضا بعینہا من غیر ان یتغیر من انھا عندہ تعالٰی ولا انفصلت عنہ تعالٰی ولا اتصلت بنا وانما ھی علی ما علیہ قبل نطقنا وکتابتنا وحفظنا ۱؎ الی اٰخر ما اطال واطاب علیہ رحمۃ الملک الوھاب۔
یہ گمان نہ کیجئے کہ اللہ تعالٰی کے دو کلام ہیں ایک یہ پڑھے ہوئے الفاظ دوسری وہ صفت قدیمہ۔ جیسا کہ بعض ان لوگوں نے گمان کیا کہ جن پرفلاسفہ اور معتزلہ کی زبان (اصطلاحات) غالب ہوگئی۔ پھر انھوں نے اللہ تعالٰی کے کلام میں ایسی گفتگو کی کہ جس تک انھیں ان کی ناقص عقل نے پہنچادیا۔ اور انھوں نے اسلاف صالحین کے اجماع کا خلاف کیا رضی اللہ تعالٰی عنہم باجود یہ کہ اللہ تعالٰی کا کلام ایک ہے کسی حال میں اس کے اندر کوئی تعداد نہیں، لہذا جو ہمارے نزدیک ہے وہی اللہ تعالٰی کے نزدیک ہے۔ اور یوں بھی نہیں جو ہمارے پاس ہے وہ غیر ہے اس کا جو اس کے پاس ہے اور نہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالی کے پاس ہے وہ اس کے خلاف ہے جو ہمارے پاس ہے۔ بلکہ وہ ایک ہی صفت قدیمہ ہے جو اللہ تعالی کے ہاں موجود ہے جبکہ اس کے وجود میں کسی آلہ کا کوئی دخل نہیں اور وہ بعینہ ہمارے پاس بھی موجو دہے مگر اس کا آلہ ہے اور وہ ہمارا بولنا لکھنا اوریاد رکھنا ہے۔پھر جب ہم ان حروف قرآنیہ کو بولیں انھیں لکھیں اور انھیں یاد کریں تو جو صفت قدیمہ کہ اللہ تعالٰی کی ذات سے قائم ہے جو اس کے حضور موجود ہے یہ وہی ہے جو بعینہٖ ہمارے پاس موجود ہے بغیر اس کے کہ اس میں تبدیلی پیدا ہوجائے اس صفت سے جو اللہ تعالٰی کے حضور موجود ہے اور یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالی سے کچھ منفصل (جدا ) ہو کر ہم سے متصل (پیوستہ) ہوجائے، بلکہ وہ صفت اب بھی اسی حالت پر موجود ہے جو ہمارے بولنے، لکھنے اور یاد کرنے سے پہلے جس حالت پر موجود تھی۔ علامہ موصوف نے آخر تک یہی طویل اور پاکیزہ کلام فرمایا بخشش کرنے والے، کائنات کے حکمران کی ان پر بے پایاں اور خصوصی رحمت کا نزول ہو۔ (ت)
 (۱؎ المطالب الوفیہ شرح الفرائد السنیۃ    )
Flag Counter