Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
99 - 146
(۸۶) بکر ہے ہوشیار حدیث ام المومنین صدیقہ نقل کی جس میں صریح صیغہ نہی تھا اور عوام کو دھودکا دینے کو لکھ دیا ص ۹ ''، اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیںسوا اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں ہے۔ اول تو سند کا حدیث میں حصہ جھوٹ ہم نے بکر ہی کی مسلم سندوں سے ثابت کردیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام حرام حرام، سوئر کھانے سے بھی بدتر حرام۔

(۸۷) پھر حدیث کا اس ایک میں حصہ سفید جھوٹ، وہ حدیث صدیقہ شاید بکر نے مشکوٰۃ سے لی ہو کہ بکر کی اس تک رسائی ص ۱۵ سے نمبر ۴۲ میں ہوچکی ہے مشکوٰۃ کے اسی باب اسی فصل میں اس سے دو حدیث اوپر حدیث قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ موجود تھی جس میں صریح ممانعت موجود، اس نے چھپالیا اور کہہ دیا۔ اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں''۔
 (۸۸) نیز وہیں مشکوٰۃ میں تیسیری حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ کا پتا دیا تھا اسے بھی اڑا دیا اور کہہ دیا کہ ''اورکوئی ثبوت نہیں'' دین میں یہ چالاکیاں مسلمان کہلا کر نازیبا ہیں۔ حدیث معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ مسند امام احمد میں بسند رجال صحیح بخاری وصحیح مسلم یوں ہے۔
حدثنا وکیع ثنا الاعمش عن ابی ظبیان عن معاذ بن جبل انہ لما رجع من الیمن قال یا رسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجدلک قال لوکنت آمرابشرا یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
 (ہم سے وکیع نے بیان کیا کہ اعمش نے ابی ظبیان سے انھوں نے معاذ بن جبل سے روایت کیا) یعنی جب معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ یمن سے واپس آئے عر ض کی: یا رسول اللہ! میں نے یمن میں کچھ لوگوں کو دیکھا آپس میں ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں، تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کرے، فرمایا: میں اگر آدمی کو آدمی کے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتوا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل  حدیث معاذ بن جبل     المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۲۸۔ ۲۲۷)
(۸۹) اپنے ہی پاؤں پر تیشہ زنی، یہ کہ حدیث ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے تتمۃ میں وہ الفاظ بڑھادئے:
لاینبغی بشر ان یسجد لغیر اﷲ ۔
کسی انسان کے لئے لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالٰی کے سوا کسی اور کو سجدہ کرے۔

اس کی مبلغ علم مشکوٰۃ میں یہ حدیث ام المومنین کا تتمۃ نہیں بلکہ چوتھی حدیث سلیمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کرناچاہا حضور نے فرمایا :
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الاﷲ تعالٰی۔ اوردہ الامام النسفی فی الدارک ۱؎۔
کسی مخلوق کو سزاوار نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔  (امام نسفی اس کو مدارک میں لائے ہیں۔ ت)
(۱؎ مدارک التزیل     (تفسیر النسفی ) تحت آیۃ ۲ /۳۴     دارالکتب العربی بیروت    ۱ /۴۲)
یہ چار واقعہ جدا جدا ہیں حدیث صدیقہ میں اونٹ کا سجدہ دیکھ کر صحابہ نے اجازت چاہی،

قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حیرہ متصل کوفہ میں معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یمن میں سجدہ حکام دیکھ کر اجازت مانگی اور ہر بارایک ہی جواب ارشاد ہوا کسی بار اجازت نہ ہوئی

سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے خود سجدہ ہی کرنا چاہا منع فرمایا۔ 

ان تینوں حدیثوں میں ایک فائدہ اور ہے جس کے لئے بکر نے ان کو چھپایا کہ عنقریب ظاہر ہوگا ان شاء اللہ تعالٰی۔
(۹۰) حدیث صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا پر بکر کا ظلم اشد واخبث حد سے گزرگیا۔ صفحہ ۹ پر کہا '' سب سے بڑی بات تو یہ معلوم ہوتی ہےکہ حضور نے صحابہ کی خواہش کو سجدہ عبادت تصور کرکے جواب دیاتھا جبھی تو فرمایا کہ اپنے رب کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کااٰحترام واکرام بجالاؤ آپ کے ذہن میں سجدہ تعظیمی ہوتا تو عبادت رب کا حوالہ نہ دیتے اور احترام وتعظیم کو عبادت سے الگ کرکے ظاہر نہ فرماتے اس وقت توآپ کے ذہن میں سجدہ عبادت تھا''
انا ﷲ ونا الییہ راجعونo کبرت کلمۃ تخرج من افواھم ان یقولون الا کذبا o۲؎۔
(یقینا ہم اللہ تعالٰی کے لئے ہیں اور (بلا شبہہ اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں) کیا بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکل رہا ہے وہ تو نرا جھوٹ بک رہے ہیں۔
(۲؎ القرآن الکریم   ۱۸ /۵)
مسلمانو! محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جن پر قرآن کریم میں اترا :
یا یھاالذین اٰمنوا اجنتبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۱؎۔
 اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو بیشک کچھ گمان گناہ ہیں۔
 (۱؎ القرآن الکریم   ۴۹/ ۱۲)
وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جو خود فرماتے  :
ایاک والظن فان الظن اکذب  الحدیث ۲؎۔
گمان سے دور  رہ کہ گمان سے بڑھ کر کوئی جھوٹ بات نہیں الحدیث
 (۲؎ صحیح البخاری   کتاب الادب باب قولہ تعالٰی یا یھاالذین اٰمنوا اجتنبوا الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۸۹۶)
وہ اور اپنے صحابہ کرام حاضران بارگاہ پر یہ بد گمانی کہ یہ میری عبادت چاہتے ہیں مجھے دوسرا خدا بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انا ﷲ وانا الیہ راجعون o
 (ہم اللہ تعالٰی کا مال ہیں اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ت) کلا واللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تو یہ گمان نہ ہوا نہ اس درخواست سے کسی عاقل کو تعظیم وتکریم کے سوا کوئی گمان عبادت گزرتا مگر بکر نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر یہ خبیث بدگمانی کرکے اپنے لئے استحقاق جہنم کرلیا اگر توبہ نہ کرے۔
 (۹۱) یہی نہیں بلکہ اس میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر اور سخت تر الزام ہے حضور نے یہ سمجھا کہ صحابہ میری عبادت کیا چاہتے ہیں اس پر نہ غضب فرمایا نہ انکار نہ صحابہ کو تو بہ کی ہدایت نہ تجدید اسلام ونکاح کا حکم اس کا ذکر تک نہ کیا یہ ہلکی سی بات فرماکر چپ ہورہے کہ میں اس کا حکم کرتا تو عورت کو معاذاللہ وہ گمان فرمایا ہوتا تو اسی قدر فرماتے یایہ کہ ارے تم عبادت غیر چاہ کر مرتدہوگئے ارے تو بہ کرو اسلام لاؤ اپنی عورتوں سے پھر نکاح کرو۔ ایک باد یہ نشین ناواقف کے منہ سے اتنی بات نکلی تھی کہ ہم حضور کو اللہ تعالٰی کے یہاں شفیع لاتے ہیں اور اللہ تعالٰی کو حضور کے پاس۔ اس پر وہ غضب شدید فرمایا کہ دردویوار تجلی شان جلال سے بھر گئے دیر تک
سبحٰن اللہ سبحٰن اللہ سبحٰن اللہ
فرماتے رہے پھر اس اعرابی سے فرمایا:
اجعلتنی ﷲ ندا
کیا تو نے مجھے اللہ کا ہمسر ٹھہرایا،
ویحک اتدری مااﷲ
افسوس تجھ پر ارے تو جانتاہے کہ اللہ کیا ہے۔ پھر اس واحد قہار کی عظمت بیان فرمائی رواہ ابوداؤد ۳؎۔ یہاں مخلص صحابہ حاضران بارگاہ علیہم الرضوان سے معاذاللہ دوسرا خدا بنانے غیر خدا کی پوجا کرنے کی خواہش سمجھتے اور ساکت رہتے ہیں کیا یہ ممکن ہے، کلا واللہ کیا یہ شان رسالت ہے حاشا للہ،
 (۳؎ سنن ابی داؤد   کتاب السنۃ باب فی الجہمیۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۲۹۴)
جو رسول کو کفر وارتداد پر سکوت کرنے والا ٹھہرائے وہ خود کفر وارتداد کے گھاٹ تک پہینچ گیا کہ نبی کی ایسی شدید تو ہین کی
ھم الکفر یومئذ اقرب منھم اللایمان ۱؎
 (وہ اس دن ایمان کی بہ نسبت کفرکے زیادہ قریب تھے۔ ت)
(۱؎القرآن الکریم   ۳ /۱۶۷)
بکر نے تو یہ سمجھا کہ میں نے حدیث صدیقہ کی مدافعت میں اپنا زرو علم وقلم دکھایا اور نہ جانا کہ اس کے جہل و بیبا کانہ قول نے اسے کہاں تک پہنچایا، سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے :
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ لایری بھا بأسًا یھوی بھا سبعین خریفا فی النار ۲؎۔
بیشک آدمی ایک بات کہتاہے جس میں کچھ برائی نہیں سمجھتا اس کے سبب ستر بس کی راہ جہنم میں اتر جاتاہے۔
 (۲؎ جامع الترمذی     ابواب الزہد     باب ماجاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس     امین کمپنی دہلی ۲ /۵۵)

(مسند احمد بن حنبل   عن ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ   المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۳۶، ۲۹۷)

(سنن ابن ماجہ    کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۲۹۴)
اور فرمایا :
ان الرجل لیتکلم بالکلمۃ من سخط اﷲ مایظن ان تبلغ مابلغت فیکتب اﷲ علیہ بہا سخطہ الی یوم القیمۃ ۳؎۔
بیشک آدمی ایک بات ناراضی خدا کی کہتا ہے اس کے گمان میں نہیں ہوتا کہ کہاں تک پہنچی، اس کے سبب اللہ اس پر قیامت تک اپنا غضب لکھ دیتا ہے۔ والعیاز باللہ تعالٰی۔
 (۳؎ مسند احمد بن حنبل حدیث بلال ابن حارث     المکتب الاسلامی بیروت    ۳ /۴۶۹)

(المعجم الکبیر  حدیث۱۱۲۹  مکتبہ فیصلیۃ بیروت    ۱ /۳۶۷)
اللہ عزوجل کی طرف شکر ہے اس پر فتن زمانے سے کہ جسے الٹے سیدھے دو حرج ارود کے لکھنے آگئے وہ مصنف ومحقق ومجہتدین بیٹھا اور دین متین میں اپنی ناقص عقل فاسد رائے سے دخل دینے لگا قرآن وحدیث وعقاید وارشادات ائمہ سب کا مخالف ہوکر پہنچاجہاں پہنچا
ویتوب اﷲ علی من تاب ومن یتول فان اﷲ ھوالغفور الحمید۔
اور اللہ توبہ فرماتاہے جو کوئی توبہ کرے۔ اورجو کوئی پھر جائے تو بیشک اللہ تعالٰی بخشے والا تعریف والاہے۔ (ت)
Flag Counter