Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
98 - 146
فصل دوم رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر بکر کے افتراء

 اور حدیث سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت
 (۷۵) بھلا یہاں تک تو لغت   وفقہ و ائمہ وصحابہ رضی اللہ تعالی عنھم ہی پر افتراء تھے مگر بکر کی بڑھتی  ہمت کیا صبر کرے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  پر بھی افتراء سے باز نہ آئی ص۹ پر کہا: خود آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
کلامی لاینسخ کلام اللہ؂۲
میرا کلام خدا کے کلام کو منسوخ نہیں کرسکتا ، یہ حدیث ابن عدی  ودار قطنی نے  بطریق محمد بن داؤد القنطری عن جبرون بن واقد الافریقی روایت کی ابن عدی نےکامل اور ابن جوزی نے علل میں کہا یہ حدیث منکر ہے ، ذہبی نےمیزان میں کہا جبرون متہم ہے اس نے قلت حیا سے یہ حدیث روایت کی ترجمہ، قنطری میں کہا یہ حدیث باطل ہے، ترجمہ افریقی میں کہا یہ حدیث موضوع ہے ، امام حجر نے لسان المیزان میں دونوں جگہ ان کے یہ  کلام مقرر رکھے ، بعد وضوح امر ایک منکر، باطل ، موضوع حدیث متہم بالکذب کی روایت کو کہنا کہ حضور نے فرمایا ہے، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر افتراء کی جرأت ہے۔
 (۱؂ الکامل فی ضعفاء الرجال  ترجمہ جبرون بن واقد الافریقی      دارالفکر بیروت    ۲/ ۶۰۲  )
 (۷۶) بکر مدعی حنفیت حنفیت سے جدا چلا ،مذہب حنفی میں بیشک آیت حدیث سے منسوخ ہوسکتی ہے
کما ھو مصرح فی کتب اصولھم قاطبۃ
 (جیسا کہ اصول کی عام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے۔ت)

احکام میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا کلام اللہ عزوجل ہی کا کلام ہے تو کلام خدا کلام خدا ہی سے منسوخ ہوا۔
قال اﷲ تعالٰی وماینطق عن الہوٰی o ان ھوالاوحی یوحی o۱؎
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) یہ نبی اپنی خواہش سے کچھ نہیں فرماتے وہ تو نہیں مگر وحی کہ بھیجی گئی۔
 (۱؎ القرآن الکریم      ۵۳/ ۳)
 (۷۷) صفحہ ۱۵ پرسرخی دی:
''آنحضرت نے خود سجدے کی اجازت دی''
یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت کی جس کی بحث ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر منہ بھر کر شدیدا فتراء ہے
ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدقین ۲؎
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
(۲؎القرآن الکریم     ۲ /۱۱۱)
اللہ عزوجل فرماتاہے :
انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون ۔۳؎
ایسے جھوٹ افتراء وہی کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔
 (۳؎القرآن الکریم     ۱۶ /۱۰۵)
لاالہ الا اﷲ
بلکہ حضور نے اسے حرام فرمایا۔
 (۷۸) اس سرخی کے نیچے کہا: مشکوٰۃ میں ابن خزیمہ بن ثابت سےہے کہ انھوں نے خواب میں آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی پیشانی پر اپنے آپ کو سجدہ کرتے دیکھا انھوں نے یہ خواب حضرت سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا تیرا خواب سچاہے آپ فورا لیٹ گئے اور ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کرنےکی اجازت دی'' مسلمانو! اس ظلم عظیم کو دیکھو کہاں پیشانی پر سجدہ کہاں خود حضور کوسجدہ، شاید بکر جانماز یازمین پر سجدہ کرتے یہ سمجھتا ہوگا کہ وہ اس کپڑے یا زمین کے ٹکڑے کو سجدہ کررہا ہے۔
 (۷۹) بے علمی کی یہ حالت کہ مشکوٰۃ شریف میں تھا :
عن ابن خزیمہ بن ثابت عن عمہ ابی خزیمۃ انہ رأی فیما یری النائم ۴؎۔
یعنی  ابن خزیمہ بن ثابت اپنے چچا ابوخزیمہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے خواب دیکھا۔

وہ خواب راوی خواب کی طرف نسبت کردیا کہ : ابن خزیمہ بن ثابت نے خواب دیکھا'' اور اس جہالت کے صدقے میں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ایک افترا دانستہ کردیا کہ ''ابن خزیمہ کو اپنی پیشانی پر سجدہ کی اجازت دی''
 (۴؎ مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الرؤیا         الفصل الثانی مطبع مجتبائی دہلی    ص۳۹۶)
(۸۰) ایسی ہی بےعلمی اور اس کے سبب نادانستہ افترا یہ ہےکہ حدیث میں تھا :
فاضطجع لہ وقال صدق رؤیاک ۱؎۔
حضور نے پہلوئے مبارک پر آرام کرکے ابوخزیمہ سے فرمایا اپنا خواب سچ کرلو۔
 (۱؎ مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الرؤیا     الفصل الثانی         مطبع مجتبائی دہلی    ص۳۹۶)
مرقاۃ میں ہے :
 (صدق رؤیاک) امرمن التصدیق ای اعمل بمقتضاھا ۲؎۔
اپنے خواب کی تصدیق کردیجئئے، یعنی لفظ صَدِّقْ یہ تصدیق کا امر ہے یعنی اس کے مقتضا کے مطابق عمل کیجئے۔ (ت)
 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ     کتاب الرؤیا     الفصل الثانی   المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ     ۸ /۴۰۶)
عربی سمجھ میں نہ آئے تو شیخ محقق کا فارسی ترجمہ سنئے :
گفت آنحضرت صدق رؤیاک راست گردان خواب خود راکہ دیدہ وسجدہ کن برجبہۃ من ۳؎۔
حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا : اپنے خواب کی تصدیق کرو جو تم نے دیکھا ہے لہذا میری پیشانی پر سجدہ کیجئے۔ (ت) سے یہ بنالیا کہ '' آپ نے فرمایا : تیرا خواب سچا ہے''
 (۳؎ اشعۃ اللمعات    کتاب الرؤیا     الفصل الثانی     مکتبہ نوریہ رضویہ    ۳ /۶۵۲)
 (۸۱) ممانعت سجدہ غیر اللہ کے بارے میں حدیث ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ مسند امام احمد میں ہے نقل کی جس میں ایک اونٹ کا حاضر ہو کر حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا اور اس پر صحابہ کی خواہش کہ انھیں بھی اجازت سجدہ ملے اور حضور کا اجازت نہ دینا ہے ۴؎۔
 (۴؎ مسند احمد بن حنبل     عن عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما     المکتب الاسلامی بیروت    ۶ /۷۶)
اور خود کہا ص ۹ ''اس میں کچھ شک نہیں کہ یہ حدیث صاف صاف سجدہ غیر اللہ کی مخالفت کرتی ہے اور کوئی گنجائش رسول خدا کے صریح الفاظ کے خلاف عذر کرنے کی باقی نہیں رہتی پھر جو تحریف کلام الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رگ اچھلی ان صاف صاف تصریح الفاظ نبوی کی یوں تبدیل وتغییر کی '' ص ۹ ''حدیث کے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر سجدہ غیر اللہ جائز ہو تا تو میں بیوں کو شوہر کے سجدہ کا امر کرتا اور امر سے وجوب ہوتا ہے لہذا حضور کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجدہ تعظیمی وجوب کے حد میں جائز ہوتا تو میں عورت پر مرد کا سجدہ واجب کرتا یعنی سجدہ تعظیمی واجب نہیں بلکہ مباح ہے'' یہ ''یعنی'' رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر صریح افتراء ہے حدیث کے کون سے حرف میں ہے کہ '' بلکہ مباح ہے'' جب حسب اقرار بکر شرط میں صرف ذکر جواز ہے کہ ''اگر سجدہ غیر اللہ جائز ہوتا'' اور جزا میں وہ ا مرہے کہ یقینا منتفی یعنی عورت کو سجدہ کاحکم ہونا اور انتفائے جزا اتنفائے شرط ہے تو حدیث کا صاف مفاد سجدہ کاعدم جواز ہوایعنی جائز ہوتا تو عورت کو حکم ہوتا لیکن عورت کو حکم نہ ہوا تو معلوم ہوا کہ سجدہ جائز نہیں ذکر امر جزا میں ہے کہ ''عورت پر سجدہ واجب کرتا'' جزا کا وجوب شرط میں کیسے داخل ہوگیا جواز پر ایجاب کا ترتیب بعید نہیں کہ واجب نہ ہوسکے گا مگر وہ جو جوازرکھتا ہو تو حاصل یہ کہ کوئی اگر سجدہ غیر میں جواز کی گنجائش ہوتی تو میں عورت پر مرد کے لئے واجب کردیتا لیکن وہ جائز نہیں ہوسکتا لہذا عورت کو اس کا حکم نہ دیا۔
 (۸۲) طرفہ جہالت جبکہ عورت پر وجوب امر سے ہوتا تو قبل امر وجوب نہ ہونا چاہئے تھا۔ نہ یہ کہ سجدہ غیر خدا واجب ہوتا تو میں عورت پر حکم سے واجب کردیتا۔

(۸۳) صحابہ نے اجازت ہی تو طلب کی تھی نہ کہ ایجاب تو نفی وجوب سے اس کا کیا جواب۔

(۸۴) بکر نے تتمہ حدیث نقل کیا ص ۸:
ولکن لاینبغی لبشران یسجد لغیر اﷲ۔
اور خود اس کا ترجمہ کیا ''لیکن آدمی کو زیبا نہیں کہ سوا خدا کے کسی کو سجدہ کرے'' پھر اس کا یہ مطلب گھڑتا کہ واجب نہیں مباح ہے کیسی کھلی تحریف ہے۔

(۸۵) حدیث قیس بن سعدر ضی اللہ تعالٰی عنہما کہ سنن ابی داؤد شریف میں ہے جنھوں نے شہر حیرہ میں لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے حاکم کو سجدہ کرتے ہیں واپس آکر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے حضور کو سجدہ کی اجازت مانگی ، ارشاد ہوا :
لاتفعلوا لوکنت آمر احد ان یسجد لاحد لامرت النساء وان یسجدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من حق ۱؎۔
نہ کرو اگر میں کسی کو کسی کے لئے سجدہ کا حکم دینے والا ہوتا تو ضرور عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس حق کے سبب جو شوہروں کا ان پر ہے۔
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب النکاح     باب فی حق الزوج علی المرأۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۹۱)
یہاں صریح صیغہ نفی موجود ہے لاتفعلوا سجدہ نہ کرو۔ اب بکر سے کہو اپنی اصول دانی لے کر چلے۔ ص ۹ ''شارح علیہ السلام کسی بات کا حکم امر کے صیغٖہ سے دیں تو وہ کام واجب ہوتاہے''یونہی شارع علیہ الصلٰوۃ والسلام کسی بات سے بصیغہ نہی منع فرمائیں تو وہ کام حرام ہوتا ہے۔ ثابت ہوا کہ سجدہ غیر حرام ہے اور حدیث کا وہ مطلب گھڑنا کہ ''واجب نہیں بلکہ مباح ہے'' محض افترائےناکام۔
Flag Counter