Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
97 - 146
 (۵۹) اسی طرح کشاف میں عبادت وتحیت کا فرق بتا کر کہا :
یجوز ان یختلف الاحوال والاوقات فیہ ۱؎۔
اس میں احوال واوفات کا اختلاف ہوسکتاہے۔
 (۱؎ الکشاف     عن حقائق التنزیل     تحت آیۃ  ۲ /۳۴     انتشارات آفتاب تہران    ۱ /۲۷۳)
یعنی جب جائز تھا اب حرام ، یہ کسے کہا، سجدہ تحیت کو یا سجدہ عبادت کو، کیا وہ بھی کسی زمانے میں غیر خدا کے لئے جائز وھوسکتا ہے۔ یہ ہے کل جمع کشاف کا کلام جس پر وہ صریح تہمت رکھدی کہ ''بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پر زور دیا ہے'' ص ۱۴ ۔ ؎
غرض اومفتری نتواں برآمد     کہ اواز خود سخن می آفریند
(جھوٹ کہنے والے سے یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ خود بات کو گھڑ لیتا ہے۔ ت)
 (۶۰) شاہ عبدالعزیز صاحب کو قول افتراء کے ساتھ فعلی افترا سے بھی نہ چھوڑا کہ ''وہ خود والدین و اولیاء اللہ کے مزارات پر سجدہ تعظیمی ادا کرتے تھے'' ص ۱۴۔ اللہ عزوجل فرماتاہے :
ھاتوا برھانکم ان کنتم صٰدیقین ۲؎
اپنی برہان لاؤ اگر سچے ہو۔
 (۲؎ القرآن الکریم    ۲ /۱۱۱)
 (۶۱) یہ وہی شاہ عبدالعزیز صاحب ہیں جن کے فتوٰی سے سن چکے کہ سجدہ تحیت باجماع قطعی حرام ہے یہ وہی شاہ صاحب ہیں جو تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں:
درامتہائے سابقہ جائز بود چنانچہ درقصہ حضرت یوسف واخوان ایشان واقع شدہ کہ ''وخروالہ سجدا درشریعت ماایں طریق ہم فیما بین مخلوقات حرام ست بدلیل احادیث متواترہ کہ دیں باب وارد شدہ ۱؎۔
پہلی امتوں میں سجدہ تعظیمی جائز تھا، جیسا کہ حضرت ابویوسف کے بھائیوں کے واقعہ میں مذکور کہ انھوں نے یوسف کو سجدہ کیا۔ لیکن ہماری شریعت میں یہ طریقہ بھی لوگوں کا آپس میں اختیار کرنا حرام ہے ان متواترحدیثوں کی وجہ سے جو اس باب میں وارد ہوتیں۔ (ت) تو یہ افتراء بھی سو افتراء ہے
 (۱؎ فتح العزیز (تفسیر عزیزی)         تحت آیۃ ۲/۳۴     مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۷۷)
 (۶۲) جس کی یہ قاہر تصریحیں ہوں اس کے ایک محاورہ کے لفظ مسجود خلائق کو معنی حقیقی شرع پر حمل کرنا اوراس سے اس کے نزدیک جواز نکالنا صریح ہٹ دھرمی ہے یوں تو شاہ صاحبسے بدرجہاں اعلم واعظم حضرت شیخ محقق مولٰنا عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی مدارج شریف میں ہے رب عزوجل نے حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت فرمایا :
تسمیہ کردم  او را بحمد واحد محمود وگردانیدم او را عابدو معبود ۲؎۔
میں نے ان کا نام محمد، احمد اور محمود رکھا، اور میں نے ان کو عابد اور معبود بنایا (یعنی خدا کی عبادت کرنے والا اور لوگوں کا محبوب اور مخدوم) (ت)
 (۲؎ مدارج النبوۃ)
اب یہاں بھی کہنا کہ حضرت محدث دہلوی ''معبود'' کا لفظ کسی بندے کے حق میں لکھتے ہیں یا کسی خدا کے ص ۱۶ ، سجدہ تحیت بالائے طاق عبادت مخلوق بھی جائز کرلینا اور یہ ''کسی خدا'' بھی عجیب لفظ ہے۔ معلوم نہیں بکر کے نزدیک کتنے خدا ہیں شاید کرشن مت کے چھپن کروڑلئے ہوں۔

(۶۳) بکر نے جو مضمون فوائد الفواد سے نقل کیا بعینہٖ یہی مضمون سیرا لاولیاء میں حضرت سلطان الاولیا رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
دریں حال کہ اوپیش مابود وحید الدین قریشی درآمد وسر برزمین نہاد۔ شیخ سعدی خویش گوید ؎

ہرجا کہ روئے زندہ دلے برزمین تست

ہر جا کہ دست غمزدہ دردعائے تست
اسی حال میں جب وہ میرے سامنے تھا وحید الدین قریشی آیا اور اس سرزمین پر رکھا۔ شیخ سعدی علیہ الرحمۃ کیا خوب فرماتے ہیں : ؎

''جس جگہ چہر تازہ ہو تو وہ تیری زمین پر بچھا ہے اور جس جگہ غمزدہ ہو تو ہاتھ تجھ سے دعا کے لیے ہیں" ۔
بزرگے دیگر گوید ؎

شعاع روز بہی تابد از جبین کسے

کہ درپستش تو برنہد بخاک جبین ۱؎۔
'' ایک دوسرے بزرگ فرماتے ہیں: ؎

'' ابد تک روشن شعاع کسی کی پیشانی سے پھوٹتی ہیں کہ تیری پرستش کے لئے وہ پیشانی زمین پر رکھ دیتاہے''(ت)
 (۱؎ سید الاولیاء         باب ششم نکتہ درمیان اعتقاد مرید الخ     مؤسسۃ اتنشارات اسلامی لاہور    ص۳۵۰)
یہاں تو نہ نرا مسجود بلکہ پرستش موجود، اب کہہ دینا کہ حضرت سلطان الاولیا رضی اللہ تعالٰی عنہ معاذاللہ غیر خدا کے لئے سجدہ عبادت روا جانتے تھے جیسے یہاں پرستش بمعنی عبادت نہیں بلکہ خدمت یونہی وہاں مسجود بمعنی مخدوم ومطاع، یہ خود مشہور معنٰی ہیں اور عام محاورہ میں مستعمل ہے۔ مگر عناد کا کیا علاج۔
 (۶۴) بکر کو ہر قسمِ اختراع میں کمال ہے لغت میں بھی اجتھاد ہے لفظ کے معنی بھی دل سے تراش لیے جاتے ہیں  عالمگیری پر افتراء نمبر اول میں یہ لفظ گھڑے
''اوطأ طأ راسہ فلا باس ''
جس کا صاف ترجمہ یہ تھا ''یا سرخم کیا تو حرج نہیں'' اسے یہ بنالیا ص ۱۳ ''، یااپنے سر کو زمین پر رگڑے تو کچھ مضائقہ نہیں'' بکر سے پوچھئے طأطأۃ کا ترجمہ ''زمین پر رگڑنا'' کہاں کی زبان ہے۔ مقام حیرت ہے جب اصل عبارت ہی اپنی ساختہ پر داختہ تھی جس کاعالمگیری میں تھل نہ بیڑا تو سرے سے اوسجدلہ کیوں نہ گھڑلیا اس کی کیا ضرورت آڑے آئی کہ لفظ طأطأ رکھ کر ترجمہ بھی جھوٹا کرے مگر یہ کہ اختراع میں اپنی مہارت دکھانی کہ عبارت بھی دل سے تراشیں پھر اس جھوٹ کا ترجمہ جھوٹ درجھوٹ گھڑیں
ظلمت بعضھا فوق بعض ۲؎
 (اتنے زیادہ اندھیرے ہیں کہ  وہ ایک  دوسرے پر چھائے ہوئے ہیں۔ت)
 (۲؎ القرآن الکریم      ۲۴/ ۴۰)
(۶۵) سیر الاولیاء میں تھا : مرید زمین بوسید ۳؂  اس کا ترجمہ یہ تراشہ گیا "مرید زمین پر سر بسجود ہوگیا "۔ اگر ترجمہ کتاب پر یہ حسب عادت بکری افتراء ہے تو ظاہر ورنہ فحوائے حدیث  صحیح مسلم
"فھو احد الکاذبین"
تو وہ ایک  جھوٹا ہے ۔ت) نقد وقت ہے لطائف میں تھا
بعضے اصحاب روایت شرعی ہم آوردہ آند ۴؎''
جس کا ترجمہ بکر نے یہ کیا'' بعض اصحاب شرعی کی روایت بھی لاتے ہیں '' کہ استمرار پر دلالت کرے حالانکہ اس کا حاصل صرف اس قدر کہ کوئی صاحب اس پر روایت شرعی بھی لائے۔
 (۳؎ سیر الاولیاء     باب ششم    مؤسسۃ انتشارات اسلامی بیروت    ص۳۵۰)

(۴؂لطائف اشرفی     فی بیان طوائف صوفی     لطیفہ ہفدہم   مکتبہ سمنانی کراچی    حصہ دوم ص۲۹)
جس سے ظاہر کہ مصنف لطائف نے نہ وہ روایت آپ دیکھی نہ اس پر ایسا اعتماد کہ جزما فرماتے کہ یہاں روایت شرعی بھی ہے بلکہ ایک شخص مجہول کا حوالہ دیا یہ سند نہیں ہوسکتا کہ ارشاد حضرت قدوۃ الکبراء     تو درکنار    قول صاحب لطائف بھی نہیں نہ ناقل معلوم بلکہ مجہول الاسم والمسمی۔
 (۶۶تا۶۹) اس ناقل مجہول کی نقل کی حالت یہاں سے کھلتی ہے کہ اس نے ایک مضمون میں نقل کیاکہ نبی وپیر وبادشاہ و والدین ومولی کو سجدہ تحیت جائز ہے اور بے دھڑک کہہ دیا یہ سب بیان فتاوی قاضیخان اور صغیر خانی اور تیسیر اور سراجی اور خانی اورکافی میں ہے ، فتاوی قاضی خان اور افتراء صغیر خانی پر افتراء ،سراجی پر افتراء ،
ھاتو ا برھانکم ان کنتم صادقین ؂۱
 (لوگو! اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو ۔ت)
 (۱؂ القرآن الکریم    ۲/ ۱۱۱)
 (۷۰)جہالت کی یہ حالت کہ فتاوی قاضی خان کو جدا گنا اور خانی کو جدا ، حلانکہ یہ وہی ہے۔

(۷۱) تیسیر جسے بکر نے ص۱۴ پر فتاوی تیسیر کہا ہمارے مذہب کا کوئی فتاوی اس نام کا نہیں  اس ناقل اور اب اس کے متبع بکر پر لازم کہ بتائے یہ کیا کتاب کس کی تصنیف اور اس میں یہ مضمون کہاں ہے۔

(۷۲)ملتقط کے معنی میں جو تحریف کی نمبر۳۲میں گزری اسی سلسلہ میں لکھاص۲۲ حضرت ابن عباس نے فرمایا ہے " سجدہ تحیت مثل سلام کے ہے اور کچھ نہیں حرج نہیں  اگر پیر وں کے سامنے رخسارے رکھے جائیں " یہ اگرمقولہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما شامل کی ا تو ابن عباس پر افتراء ہے ورنہ ملتقط پر۔
 (۷۳) اگر ابن عباس نے گزشتہ امتوں میں سجدہ تحیت کو بجائے سلام کہا تو ہمیں کیا مضراور مخالف کو کیا مفید اور اگر یہ مطلب کہ ابن عباس اب سجدہ تحیت کومثل سلام کہتے ہیں تو قطعا ان پر افتراء۔ رہا یہ کہ پھر صاحب لطائف نے ایسی افتراء بھری نقل کو درج کتاب کیوں کیا ، جب انھوں نے فرمادیا کہ بعض یہ روایت لائے وہ بری الذمہ ہوگئے جیسے بہت محدثین احادیث باطلہ موضوعہ روایت کرتے ارو جانتے کہ جب ہم نے سند لکھ دی ہم پر الزام نہ رہا علاوہ بریں مولنا ملک العلماء بحر العلوم فواتح الرحموت میں فرماتے ہیں  :
العدول من غیرالائمۃ لایبالوں عمن اخذوا و رووا الاتری الشیخ علاء الدولۃ السمنانی کیف اعتمد علی الرتن الھندی و ای رجل یکون مثلہ فی العدالۃ  ۱؂ ۔
یعنی اماموں کے سوا اور ثقہ عادل حضرات اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ کس سے لیتے کس سے روایت کرتے ہیں حضرت شیخ علاء الدولۃ سمنانی قدس سرہ کو نہ دیکھا کیونکر رتن ہندی پر اعتماد فرمالیا حضرت ممدوح کے برابر کون عادل ہوگا۔
 (۱؂ فواتح الرحموت   بذیل المستصفٰی  الاصل الثانی       منشورات الشریف الرضی قم ایران    ۲/ ۱۷۵ )
 (۷۴) ص۱۴ پر جہاں  چند حوالوں میں بے نقل عبارت صرف نام گنائے ہیں جن میں خاص کر معارف وسراجیہ وعزیزیہ وشرح مشکوۃ کے حوالے یقینا جھوٹ ہونا اوپر واضح ہوچکا اور فتاوی تیسیر کوئی فتاوی ہی نہیں انھیں میں   چھٹا نام معین الدین  واعظ کی تفسیر سورہ یوسف کا ہے بکر جب اس قدر شدید الاجتراء کثیر الافتراء ہے تو اس حوالے پر کیا اعتماد ، اور ہو تو تصریحات ائمہ و ارشادات حدیث کے مقابل ایک واعظ کی بات سے کیا استناد ، یہ حقیقت ہے بکر کی سندوں کی ،
ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
 (گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت بلند مرتبہ اور عظیم شان والے اللہ تعالی کی توفیق دینے کے سوا کسی میں نہیں۔ت)
Flag Counter