(۴۶ تا ۴۸) ان سے بھی بدرجہا سخت سے سخت بیباکی یہ کہ ''حضرت علی وصحابہ کبار سے لے کر تمام بڑے بڑے علماء مشائخ اولیاء سے سجدہ تعظیمی ثابت ہے'' ص ۲۳۔ یہ مولٰی علی پر افتراء صحابہ کبارپر افتراء، تمام ائمہ کرام پر افتراء، یہ تین افترالاکھوں افتراؤں کا مجموعہ ہیں۔ بکر سچا ہے تو مولٰی علیہ یا کسی صحابی یا کسی امام تابعی یا امام اعظم، امام شافعی، امام مالک، امام احمد، امام ابویوسف، امام محمد، امام بخاری، امام مسلم یا ان کے یا ان کے کسی ایک شاگرد سے ثبوت صحیح دکھائےکہ انھوں نے کسی غیر خدا کو سجدہ کیا یا اسے جائز بتایا ورنہ قرآن مجید میں جو کچھ کاذبین پر ہے اس سے ڈرے اور جلد سے جلد توبہ کرے ،
کذب فی الدنیا سے فی الدین
سخت تر ہے۔ اور
بحکم حدیث لعنتہ ملائکۃ السماء والارض ۱؎
(اس پر آسمان وزمین کے فرشتوں کی لعنت ہے۔ ت)کا استحقاق ہے
(۱؎ کنز العمال بحوالہ ابن عساکر عن علی حدیث ۱۹۰۱۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۰/ ۱۹۳)
اور زید وعمرو پر افتراء سے صحابہ وائمہ پر افتراء خبیث تر ہے اور قرآن کریم میں
"انما یفتری الکذب الذین لایؤمنون"۲
(جھوٹ وہی لوگ تراشتے (اور باندھتے ہیں) جو درحقیقت ایمان نہیں رکھتے۔ ت) کا احقاق ہے
والعیاذ باللہ تعالٰی ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی الاعلی
( اللہ تعالٰی کی پناہ گناہوں سے بچنا اور حصول نیکی کی طاقت سوائے اللہ تعالٰی بلند وبالا کی توفیق دئے بغیر کسی میں نہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۶ /۱۰۵)
(۴۹) آگے افتراء واختراع کی اور بھی پوری تند چڑھی کہ ''ان سب کا اجماع مسئلہ سجدہ تعظیمی میں ثابت ہے اور کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا تو پس(عہ) اگر سجدہ تعظیمی گمراہی بھی ہے تو اجماع امت سے گمراہی اس کی جاتی رہی '' ص ۲۳
انا اللہ وانا الیہ رجعون
( یقینا ہم اللہ کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ت) سچ فرمایا حدیث مجید نے : حُبُّک الشیئَ یُعمِی ویُصِم ۳؎۔ کسی چیز کی محبت اندھا وبہرا کردیتی ہے۔ (ت)
عہ: تو بھی دو پس ہی رہے فصاحت، ف کہا چھوڑی یوں کہا ہوتا فتوپس کہ تینوں زبانیں جمع ہوجاتیں ۱۲ منہ
(۳؎مسند احمد بن حنبل باقی حدیث ابی الدرداء المکتب الاسلامی بیروت ۵ /۱۹۴)
تعصب آدمی کو اندھا بہر کردیتا ہے۔ سچ فرمایا رب العزت عزجلالہ نے :
آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
(۴؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۴۶)
سجدہ غیر پر امت کرشن کافر کاضر ور اجماع ہے جس پنڈت سے چاہوں پوچھ لو جس مند ر میں چاہو دیکھ لو لیکن امت محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم اس ملعون تہمت سے بری ہے۔
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۵؎
( عنقریب ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے، ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۲۶ /۲۲۷)
بلکہ ابھی بکر کے مستند فتاوٰی عزیز سے سن چکے کہ غیر کے لئے سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی ہے۔
(۵۰) طرفہ یہ کہ'' گمراہی بھی ہے تو اجماع سے جاتی رہی'' یعنی امت گمراہی پر اجماع تو کرلیتی ہے لیکن اس اجماع سے گمراہی کی کا یاپلٹ ہوکر ہدایت ہوجاتی ہے۔
انا للہ واناالیہ رجعون
زہے گمراہی وجنون
لایعقلون شیئا ولا یھتدون ۱؎
(نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں اور نہ راہ پاتے ہیں۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲ /۱۷۰)
(۵۱) صفحہ ۲۰ پر لطائف اشرفی کی عبارت نقل کی اور اس کی ابتداء سے یہ عبارت چھوڑدی:
اما وضع جبھہ بین یدی الشیوخ بعضے از مشائخ رواداشتہ اما اکثر مشایخ اعراض کردہ اند واصحاب خود را ازاں امتناع ساختہ کہ سجدہ تحیت در امت پیشین بودحال منسوخ ست ۲؎۔
مشایخ کرام کے سامنے پیشانی زمین پر رکھنا بعض نے اس روایت کو جائز فرمایا اکثر مشائخ نے اس کا انکار کیا ہے اور اس سے اظہار نفرت فرمایا) اور اپنے اصحاب کو اس سے منع فرمایا کہ سجدہ تحیت پہلی امتوں میں جائز تھا لیکن اس امت میں منسوخ ہے۔ (ت)
(۲؎ لطائف اشرفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص۲۹)
یہ کتنی بھاری خیانت ہے اس کلام لطائف میں بہت لطائف تھے۔
اولا سجدہ تحیت کی منسوخی جس کا بکر کو انکار ہے۔
ثانیا بکرکے ادعائے کاذب اجماع کا رد کہ اکثر اولیاء انکار سجدہ پر ہیں۔
ثالثا بلکہ ممانعت سجدہ پراجماع کا ثبوت کہ بکر نے خود اپنے ادعائے کاذب اجماع کی یونہی مرہم پٹی کی ہے کہ ''اکثر اجماع ہے و"للاکثر حکم الکل" اکثر واسطے کال کا حکم ہے'' ص ۲۴۔ اسی کی مستند لطائف سے ثابت ہوا کہ اکثر مشائخ کرام ممانعت سجدہ پر ہیں اوعر اکثر کے واسطے کا حکم ہے تو تحریم سجدہ پر اجماع اولیائے کرام ثابت ہوا اور اجماع علماء خود ظاہر اور بکر کی دوسری مستند فتاوی عزیزیہ میں مصرح تو غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت ہونے پر اولیاء وعلماء کا اجماع ہوا تو یہ بکر خود اپنی مستند وں سے اجامع کا منکر اور علمائے کرام و اولیائے عظام سب کا مخالف ہے
وکفی بہ خسرانا مبینا
(اوریہی کھلا گھاٹا کافی ہے۔ ت)۔
رابعا بکر کے اس کذب صریح وافترائے قبیح کا رد کہ ''سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کو کیا جاتا تھا'' ص ۲۳ وہ فرماتے ہیں جمہور اولیائے منع فرماتے تھے یہ کہتا ہے سب اولیاروا رکھتے تھے ع
ببین تفاوت رہ از کجاست تابکجا
(دیکھو تو سہی راستے کافرق کہ کہاں سے کہاں تک ہے۔ ت)
خامسا الحمدللہ فوائد الفواد وغیرہ کی سند کا خودہی جواب دے لیا جب جمہور اولیا ء کا ممانعت پر ہیں اور اکثر کے لئے حکم کل تو اجماع اولیاء تحریم پر ہوا اجماع کے مقابل کوئی قول سند نہیں ہوسکتا خود بکر نے کہا'' اجماع ثابت ہے کوئی شخص انکار کی مجال نہیں رکھتا'' ص ۲۳۔
عبارت لطائف میں تین لطائف اور بھی ہیں آیندہ کااتنظار کیجئے، لطائف کے اس کلام میں بکر پر یہ قاہر رد تھے کہ تمام کاروائی دریا برد تھی لہذا دو ٹکڑا صاف کتر لیا دین میں ایسی دغا بازی کیا شان اسلام ہے۔
(۵۲) ص ۲۳ میں دلیل العارفین فوائد السالکین تحفۃ العاشقین کا نام لیا اور عبارت نقل نہ کی جہاں بحوالہ صفحہ عبارت نقل کی وہاں تو وہ صریح کذب جری کی راہ لی یہاں کیا اعتبار ہے اور اگر ان میں وہ مضمون ہو اور بکر نے خیانت بھی نہ کی ہو تو اولا اسی کاثبوت درکار کہ یہ کتابیں حضرات منسوخ الیہم رضی اللہ تعالٰی عنہم کی ہیں بہت کتابیں محض جھوٹ نسبت کرکے چھاپ دی ہیں جس کا ذکر آخر فضل سوم میں آتا ہے۔
(۵۳) ثانیا اگربیان ثقات سے ثابت ہو کہ ان حضرات کی کوئی کتاب اس نام سے تھی تو بلاشبہ یہ مشہور متداول نہیں بلکہ کتب غریبہ پر اعتماد جائز نہیں۔ علامہ سید احمد حموی غمز العیون و البصائر شرح الاشباہ والنظائر میں محقق بحر صاحب بحرالرائق سے ناقل :
لایجوز النقل من الکتب الغریبۃ التی لم تشتھر ۱؎۔
غیر مشہور کتابوں سے نقل جائز نہیں،
(۱؎ غمز العیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر خطبۃ الکتاب ادارۃ القرآن الکریم ۱ /۱۶)
فتح القدیر وبحرالرائق ونہر الفائق ومنح الغفار وغیرہا میں ہے :
لووجد بعض نسخ النوادر فی زماننا لایحل عزوما فیھا الٰی محمد ولا الی ابی یوسف لانھا لم تشتھر فی عصر نا فی دیارنا ولم تتداول نعم اذا وجد النقل عن النوادر مثلا فی کتاب مشہور معروف کالہدایۃ والمبسوط کان ذٰلک تعویلا علی ذٰلک الکتاب ۲؎۔
اگر ہمارے زمانے میں نوادر میں نوادر کا کوئی نسخہ پایا جائے تو اس میں جو کچھ ہے اسے ابویوسف یا محمد کی طرف نسبت کرنا حرام ہے اسی لئے کہ وہ کتاب ہمارے زمانے میں یہاں مشہور ومتداول نہیں ہاں نوادر سے اگر مثلا ہدایہ یا مبسوط کسی مشہور معروف کتاب میں نقل ہو تو اس نقل کا ماننا اس مشہور کتاب کے اعتماد پر ہوگا
(۲؎ فتح القدیر کتاب ادب القاضی مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۶۰)
اپنے زمانے میں غیر مشہور کی قید سے افادہ فرمایا کہ پہلے اگر مشہور بھی تھی تو اب معتبر نہیں نہ کہ وہ رسالہ کہ کبھی مشہور نہ تھے، نہ ہیں۔ کسی الماری سے کوئی نسخہ نقل ہو کر چھپ جانا اسے کتاب مشہور نہ کردے گا۔
(۵۴) ثالث تمام مدارج طے ہونے کے بعد یہی جواب کافی ووافی کہ جمہور اولیاء وجمیع ائمہ منع پر ہیں تو اجماع ہوا اور اجماع کے خلاف اقوال شان مستند نہیں ہوسکتے۔
(۵۵) یہی عبارت مباحث معدن المعانی میں ہیں۔
(۵۶) جب بکر کی جرأتیں یہاں تک ہیں تو اس تحریف کی کیا شکایت کہ لطائف میں دربارہ سجدہ ملائکہ ملتقط سے نقل ہوا :
کان السجدۃ لھاطر فان طرف التحیۃ و طرف العبادۃ فالتحیۃ کانت لاٰدم والعبادۃ ﷲ تعالٰی ۱؎۔
یعنی اس سجدے کی دو طرفیں تھیں۔ طرف تحیت وطرف عبادت، ان میں تحیت تو حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ واسلام کے لئے تھی اور عبادت اللہ عزوجل کے لئے۔
(۱؎ لطائف اشرفی فی طوائف صوفی لطیفہ ہفدہم مکتبہ سمنانی کراچی حصہ دوم ص ۲۹)
اسے یوں بنالیا ص ۲۲ کہ سجدہ کی دوقسمیں ہیں : ایک سجدہ تحیت، ایک سجدہ عبادت، پس سجدہ تحیت آدمی کے لئے ہے اور سجدہ عبادت خدا تعالٰی کے لئے'' شاید دہلی کے شاعر نے بکر ہی سے کہا تھا کہ ؎
عیار ہو بیباک ہو جو آج ہو تم ہو بندے ہو مگر خوف خدا کا نہیں رکھتے
(۵۷) ایسا ہی جُل عبارت کا کشاف سے کھیلا اس کی اصل عبارت یہ ہے :
فان قلت کیف جاز لھم ان یسجد والغیر اﷲ قلت کانت السجدۃ عندھم جاریۃ مجری التحیۃ والتکرمۃ کالقیام و المصافحۃ وتقبیل الید ونحوھا مما جرت علیہ عادۃ الناس من افعال شہرت فی التعظیم والتوقیر ۲؎۔
یعنی اگر تو کہے یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام اور ان کے بیٹوں کو غیر خدا کے لئے سجدہ کیسے جائز ہوگیا تو میں کہوں گا ان کے یہاں سجدہ تحیت کا رواج تھا جیسے قیام (مصافحہ ودست بوسی وغیرہ افعال تعظیم وتوقیر جن کا لوگوں میں رواج ہے۔
(۲؎ الکشاف (تفسیر الزرمخشری) تحت آیۃ ۱۲ /۱۰۰ انتشارات آفتاب تہران ۲ /۳۴۴)
اسے یہ بنالیا کہ ص ۱۳'' سجدہ تعظیمی قرن اول سے جاری ہے'' اول تو رواج حال میں سجدہ کا نام کہاں تھا قیام ومصافحہ ودست بوسی کا ذکر تھا جس کا صاف یہ مطلب کہ جیسے اب یہ افعال تحیت ہیں یعقوب علیہ الصلٰوۃ والسلام کے زمانے میں سجدہ تحیت تھا۔ پھر
جرت علیہ عادۃ الناس''
سے اتنا ثابت کہ زمخشری کے زمانے میں ان کا رواج ہے قرن اول کایہاں کون ساحرف تھا، نہ قرن اول میں قیام ودست بوسی عادت ناس تھی، وقوع خاص وعادت ناس میں جو فرق نہ کرے جوہل ہے تو یہ کشاف پر دہورا افترا ہے۔
(۵۸) بکر اس کی عبارت میں بھی قطعو بریدسے نہ چوکا، وہ جو اس نے سوال قیام کیا تھا کہ اگر تو کہے انھیں غیر خدا کے لئے سجدہ جائز ہوگیا صاف اڑادیا جس سے کھلتا تھا کہ ہماری شریعت میں ناجائز ہے جس پر سوال ناشیئ ہوا، اگر ہماری شریعت میں بھی جائز ہوتا تو سوال کا کیا منشا تھا