Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
95 - 146
(۲۰) غالبا ایسا حوالہ دینے والا سوئر اور شراب بھی بحالت اختیار حلال کرلے گا کہ آخر بحالت اضطرار ان کی اباحت تو خود قرآن عظیم میں ہے :

(۲۱) یہاں تک تو خیانت ہی تھی اب کمال سفاہت وخودکشی ملاحظہ ہو اس عبارت سے استناد کیا جو اس کے زعم میں باطل کی پوری قائل ہے سجدہ تحیت پر قتل سے اکراہ ہو اس وقت سجدہ کرلینا صرف افضل کہا۔ معلوم ہوا کہ جائز یہ بھی ہے کہ نہ کرے اور قتل ہوجائے، تو ظاہر ہوا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے جس سے بچنے کو جان دے دینااور قتل ہوجانا روا ہے تو سئر کھانے سے بھی سخت تر حرام ہوا کہ مضطر یا مکرہ اگر اسے بقدر ضرورت نہ کھائے  اور مرجائے یا مارا جائے گنہگار مرے
کمانصوا علیہ قاطبۃ
(جیسا کہ بالاتفاق ان سب نے اس کی تصریح فرمائی ۔ت) 

عالمگیری میں ہے :
السلطان اذا اخذ رجلا وقال الاقتلنک او لتأکل لحم ھذا الخنزیر یفترض علیہ التناول فان لم یتناول حتی قتل کان آثما ۳؎۔
اگر بادشاہ نے کسی شخص کو گرفتار کیا اور کہا کہ اس سور کا گوشت کھائے ورنہ میں تمھیں قتل کردوں گا تو اس پر کھانا فرض ہے اگر اس نے نہ کھایا یہاں تک کہ وہ قتل کردیا گیا تو وہ گناہگا ر ہوگا۔ (ت)
 (۳؂ فتاوٰی ہندیہ         کتاب الاکراہ      الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور   ۵/ ۳۸)
درمختار میں ہے :
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضو اوضرب مبرح فرض فان صبر فقتل اثم ۱؎۔
قتل یا قطع اندام یا ضرب شدید کی دھمکی دے کر سورکے گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا تو اس پر کھانا فرض ہے۔ (پھر اگر اس نے نہ کھایا ) اور صبر کیا تو گناہگار ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    کتاب الاکراہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۶)
اکل خنزیر میں اگر اتنا ہی اکراہ ہوکہ نہ کھایا تو اگلی کاٹی جائے تو کھانا فرض ، نہ کھائے گنہ گار ، اور غیر خدا کو سجدہ تحیت میں اگر قتل سے اکراہ ہوجب بھی سجدہ ضرور نہیں اور جان دے دینی جائز اگر چہ بہتر حفظ جان تھا۔

کتنافرق عظیم ہوا اور ہونا یہ تھا کہ اکل خنزیر میں عبادت غیر کی مشابہت نہیں بخلاف سجدہ تو اس کا دوسرے کے لئے کرنا واھد قہار جلہ وعلا کے خاص حق پرست درازی ہے۔ آدمی انصاف ودین رکھتا ہو تو صرف یہی نمبر اس کی ہدیت کو بس ہے
ولایزید الظلمین الا خسارا
 ( ظالموں کو سوائے نقصان اور گھاٹے کے کچھ نہیں بڑھاتا۔ ت)
 (۲۲) پھر کہا ''اس قسم کا مضمون فتاوٰی قاضی خاں میں بھی ہے'' اس قسم کا مضمون نہیں بلکہ وہ عبادت ہی فتاوٰی قاضی خاں کی ہے عالمگیری نے اسی سے نقل کی ہے تو اس کا حوالہ بھی وہی سخت فریب دہی ہے۔

(۲۳) نہیں نہیں نری فریب دہی نہیں بلکہ خودکشی اور اپنے منہ اپنے زعم باطل کی پوری بیخکنی بکر مذکور نے اسی تحریر ص۱۲ میں کہا ''ہدایہ'' ردالمختار، فتاوٰی قاضی خان نہایت معتبر کتابیں ہیں قرآن وحدیث کے غور واحقاق کے بعد ان کو مرتب کیا ہے '' اسی فتاوٰی قاضی خاں سے ایک ہی صفحے بعد خود وہ عبارت پیش کی جس نے ثابت کردیا کہ سجدہ تحیت اکل خنزیر سے بھی بد تر حرام ہے۔ عرب تو علی اھلھا کہتے تھے یہاں
علی نفسہا تجی براقش۔
 (۲۴) یہ تو فتاوٰی قاضی خاں کا فیصلہ تھا بکر کی دوسری مسلم کتاب ممدوح کتاب منقح کتاب ردالمحتار کی سنئے درمختار میں فرمایا :
مایفعلونہ من تقبل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والرضی بہ آثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن ۱؎۔
علماء وبزرگان کے سامنے زمین بوسی جو لوگ کرتے ہیں حرام ہے اور کرنے والا اور اس پرراضی ہونے والا دونوں گنہگار ہیں اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔
 (۱؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۲۴۵)
ایسی عمدہ پُر تحقیق کتاب ردالمحتار نے اسے مقرر رکھا۔

(۲۵) پھر درمختار میں فرمایا:
وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ ۲؎۔
یعنی آیازمیں بوسی سے کافر ہوگا یا نہیں اگر بطور عبادت وتعظیم ہے کافر ہوجائے گا اور اگر بطور تحیت ہے کافر نہ ہوگا ہاں مجرم ومرتکب کبیرہ ہوگا۔
 (۲؎درمختار   کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ  مطبع مجتبائی دہلی  ۲/ ۲۴۵ )
اسی پر اسی نہایت معتمد کتاب ردالمحتار نے فرمایا:
تلفیق لقولین قال الزیلعی وذکر الصدور الشھیدانہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالٰی علی وجہ التعظیم کفر اھ قال القہستانی وفی الظھیرۃ یکفر بالسجدۃ مطلقا ۳؎۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہاں دو قول تھے، ایک پر کہ سجدہ سے مطلقا کافر ہوجائے گا یہی فتاوٰی ظہیریہ میں ہے اور پھر امام شمس الائمہ سرخسی بھی سجدہ تعظیمی کو مطلقا کفر فرماتے ہیں دوسرا یہ کہ مرکتب کبیرہ ہوگا مگبر کفر نہیں۔
 (۳؎ ردالمحتار        کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ       داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۴۶)
امام صدر شہید نے اسی کو اختیار فرمایا اس لئے کہ اس سے تحیت مقصود ہوتی ہے نہ کہ عبادت شارح نے ان دونوں قولوں کو یوں فرمایا کہ کافر کہنے والوں کی مراد وہ ہے کہ بروجہ عبادت ہو، اور صرف گناہ کبیرہ کہنے والوں کی مراد ہو ہے کہ محض بروجہ تحیت ہو۔ کہئے اس اعلٰی معتمد کتاب نے بھی دو ہی قول بتائے کفریا گناہ کبیرہ، جوز کا بھی کہیں پتا دیا۔

(۲۶) پھر اسی پر تحقیق کتاب نے اوررجسٹری کی، اس کے متصل فرمایا :
وفی الزاھدی الایماء فی السلام الی قریب الرکوع کالسجود فی المحیط انہ یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ ۱؎۔
یعنی مجتبٰی میں ہے کہ سلام میں رکوع کے قریب تک جھکنا بھی سجدے کے مثل ہے اور محیط میں فرمایا کہ بادشاہ وغیرہ کسی کے لئے جھکنا ہو منع ہے۔
 (۱؎ ردالمحتار     کتا ب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۴۶)
 (۲۷) ہنوز بس نہیں، چند سطریں بعد اقسام بوسہ میں فرمایا :
حرام للارض تحیۃ وکفر لہا تعظیما ۲؎۔
زمین بوسی بطور تحیت حرام ہے اور بطور تعظیم کفر ۔
 (۲؎ردالمحتار     کتا ب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۲۴۶)
افسوس کہ خود بکر معتمد کتابیں زعم بکر کو کیسا کیسا باطل کررہی ہے واللہ الحمد اورآگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے فصل چہارم آنے دیجئے۔

(۲۸) ص ۲۳ ''سجدہ تعظیمی تمام بزرگوں کوکیا جاتاہے'' یہ جھوٹ لاکھوں جھوٹ کا ایک جھوٹ، اور عامہ اولیائے کرام پر تہمت ہے جس کا رد خود اسی کی مستند سے عنقریب آتا ہے۔
 (۲۹ تا ۴۵) صفہ ۲۳'' ہر خاندان ہر سلسلہ کے بزرگوں کو تعظیمی سجدہ کرنے کا ثبوت کتابنوں میں ہے'' حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ پر افتراء، حضرت شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی پر افتراء حضرت بہاؤ الحق والدین نقشبندی پر افتراء، حضرت شیخ عبدالواحد بن زید پر افتراء، حضرت خواجہ فضیل بن عیاض پر افتراء، حضرت ابراہیم بن ادھم پر افتراء، حضرت ہبیرہ بصری پر افتراء، حضرت سید الطائفۃ جنید پر افتراء، حضرت  حبیب عجمی پر افتراء، حضرت عمشاد دینوری پر افتراء، حضرت بایزید بسطامی پر افتراء، حضرت معروف کرخی پر افتراء، حضرت سری سقطی پر افتراء، سلطان ابوالحق کاذرونی پر افتراء، حضرت نجم الدین کبرٰی پر افتراء، حضرت سری سقطی پرافتراء، سلطان ابواسحق گاذرونی پر افتراء، حضرت نجم الدین کبرٰی پر افتراء، حضرت علاؤ الدین طوسٰی پر افتراء، حضرت ضیاء الدین عبدلاقاہر پر افتراء، یہ حضرات سلسلوں اور خانوادوں کے سردار ہیں ثبوت دے ان کو کب سجدہ ہو ا اور انھوں نے جائز رکھا، یہ افتراء بھی ہزاروں افتراؤں کا ایک ہے۔
Flag Counter