Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
94 - 146
فصل اول صحابہ وائمہ اولیاء وکتب پر بکر کے فتراء خود اس کے مستندات اور اجماع وفقہ

 و جماہیر اولیائے سے تحریم سجدہ تحیۃکا ثبوت
(۱)بکر نے ص ۱۳ میں عالمگیریہ کی جلد خامس باب ۲۸ صفحہ ۳۷۸ کی طرف نسبت کیا :
قال الامام ابومنصور اذا قبل احد بین یدی احد الارض اوانحنی لہ اوطأطأ لہ راسہ فلا باس بہ لانہ یرید تعظیمہ لاعبادتہ۔
امام ابومنصور نے فرمایا : اگر کوئی شخص کسی کے آگے زمین چومے یا اس کے لئے جھکے یا اپنا سر جھکا ئے تو اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے وہ اس کی تعظیم کاارادہ رکھتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کرنے کا (ت)

یہ محض افتراء ہے عالمگیری میں اصلا اس عبارت کا نشان نہیں نری خود ساختہ ہے کیا امردین میں اغوا عوام کے لئے ایسی حرکات کسی مسلمان کہلانے والے کو زیبا ہیں۔
 (۲) جلد خامس (۳) باب ۲۸ (۴) ص ۳۷۸ یہ تین شدید جرأتیں ہیں کذب صریح اور اتنی جسارت وشوخ دچشمی سے کہ پوری تعیین مقام بھی کردیجائے (۵) اسی عالمگیری کی اسی جلد خامس کتاب الکراھیۃ ۲۸ ص ۳۶۸ میں ہے :
من سجد للسلطان علی وجہ التحیۃ اوقبل الارض بین یدیہ لایکفر ولکن یأثم لارتکاب الکبیرۃ ھو المختار کذا فی جواہر الاخلاطی ۱؎۔
یعنی جواہر الاخلاطی ہے بادشاہ کے لئے سجدہ تحیت یا اس کے سامنے زمین چومنے سے مذہب مختار میں کافر تو نہ ہوگا ہاں گنہگار ہوگا کہ اس نے کبیرہ کاارتکاب کیا۔ اسے چھوڑا، ایک خیانت۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۸)
 (۶) اسی میں وہیں ص ۳۶۹ میں ہے :
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی آثمان کذا فی التتارخانیۃ ۲؎۔
یعنی جامع الصغیر پھر تاتارخانیہ میں ہے بڑے کے آگے زمین چومنا حرام ہے اور چومنے والا اوروہ کہ اس پر راضی ہو بیشک دونوں مجرم ہیں۔
(۲؎فتاوٰی ہندیہ         کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور  ۵/ ۳۶۹)
دوخیانت۔

(۷) اسی میں اس کے متصل ہے :
وتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال والفاعل والراضی آثمان کذا فی الغرائب ۳؎۔
یعنی غرائب علماء ومشائخ کے سامنے زمین بوسی جاہلوں کا کام ہے اور فاعل وراضی دونوں گنہگار۔
 (۳؎فتاوٰی ہندیہ         کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور  ۵/ ۳۶۹)
تین خیانت 

(۸) اسی کے متصل ہے :
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس کذا فی جواہر الاخلاطی ۴؎۔
یعنی جواھر اخلاطی میں ہے بادشاہ خواہ کسی کے لئے جھکنا مکروہ ہے کہ فعل مجوس کے مانند ہے۔
 (۴؎فتاوٰی ہندیہ         کتاب الکراھیۃ     الباب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور  ۵/ ۳۶۹ )
چارخیانت اقول: (میں کہتاہوں) یہاں جھکنے سے بقدر رکوع جھکنا مقصود ہے جس طرح رسم مجوس و

ہنود ہے۔

(۹) اسی کے متصل ہے :
ویکرہ الانحناء عند التحیۃ وبہ ورد النھی کذا فی التمرتاشی ۱؎۔
یعنی فتاوٰی امام تمرتاشی میں ہے سلام کرتے وقت جھکنا مکروہ ہے حدیث میں اس سے ممانعت آئی۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتا ب الکراھیۃ     البا ب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۶۹)
پانچ خیانت (۱۰) اسی کے متصل ہے :
تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالٰی بالقیام و اخذا لیدین والانحناء ولایجوز السجود الااﷲ تعالٰی کذا فی الغرائب ۲؎۔
یعنی فتاوٰی غرائب میں ہے قیامت اور مصافحے اور جھکنے سے غیر خدا کی خدمت جائز ہے اور سجدہ جائز نہیں مگر اللہ تعالٰی کے لئے۔
 (۲؎فتاوٰی ہندیۃ     کتا ب الکراھیۃ     البا ب الثامن والعشرون         نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۲۶۹ )
چھ خیانت اقول : (میں کہتاہوں) یہاں خفیف جھکنا مراد ہے کہ حد رکوع (عہ)تک نہ پہنچے۔
عہ: بہ تقیید زاہدی وردالمحتار نمبر ۲۶ میں آتی ہے ۱۲ منہ
حدیقہ ندیہ امام علامہ عارف باللہ سیدی عبدالغنی بانلسی میں ہے:
الانحناء البالغ حد الرکوع لایفعل لاحد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۳؎۔
یعنی حد رکوع تک جھکنا غیر خدا کے لئے جائز نہیں جیسے سجدہ اور حد رکوع سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکیں۔
 (۳؎ الحدیقہ الندیہ شرح الطریقہ محمدیہ     الخلق الثانی عشر     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/ ۵۴۷)
عالمگیری میں اگر کچھ نہ ہوتا تو دل سے عبارت گھڑ کر اس کے سر باندھنی تہمت تھی نہ کہ اس میں یہ قاہر عبارات اپنے خلاف موجود ہوں اور اسی جلد اسی باب میں ہوں پھر وہ شدید جرأت ہزار افتراء کا ایک افتراء ہے۔

(۱۱) پھر کہا ص ۱۳ اس کے بعد اسی کتاب میں لکھا ہے۔
وقد تبین بذٰلک ان وضع الجباہ بین یدی المشائخ جائز بلاریب۔
بیشک اس سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ مشائخ کرام کے روبرو زمین پر اپنی پیشانیاں رکھ دینا بلا شک وشبہہ جائز ہے۔

اور ایک عبارت ۳ سطر کی گھڑلی، یہ بھی نراکذب ہے۔

(۱۲) اسی طرح سوافتراء کا ایک ہے۔ (۱۳) صفحہ ۱۳ میں جامع صغیر کی طرف نسبت کیا:
لاباس بوضع الخدین بین یدی المشائخ۔
مشائخ کے سامنے رخساروں کے رگنے میں حرج نہیں ۔ (ت)

یہ بھی خالص دروغ۔

(۱۴) ویساہی سو افتراء کے برابر ہے جامع صغیر کی عبارت ابھی گزری کہ زمین چومنا حرام ہے نہ کہ زمین پر رخسارے رکھنا۔

(۱۵)اسی صفحہ میں فتاوٰی عزیز یہ کہ نسبت ادعا کیا ''اس م یں بہت شرح وبسط سے تعظیمی سجدہ کی اباحت پرزوردیا ہے'' یہ بھی صریح ہٹ دھرمی ہے۔ فتاوٰی عزیزیہ میں بعد ذکر شبہات یہ جواب قاطع دیاکہ اجماع قطعی ست برتحریم سجدہ ۱؎ یعنی غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہونے پر اجماع قطعی قائم ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی عزیزیہ     سجدہ تحیۃ     مطبع مجتبائی دہلی    اول ص ۱۰۷)
(۱۶) تویہ بھی سو افتراء کے مثل ہوا۔  (۱۷) یہیں یہی مضمون فتاوٰی سراجیہ کی نسبت کیا ، یہ بھی خالص جھوٹ ہے سراجیہ بہت شرح وبسط درکنار کا نشان تک نہیں۔

(۱۸) یہی ادعا شرح مشکوٰۃ شیخ محقق کی نسبت کیا ، یہ بھی محض بہتان اسی میں تویہ ہے
سجدہ برائے زندہ باید کرد کہ ہر گز نمیر د و ملک اوزائل نگردد ۲؎
 (سجدہ اس زندے (خدا) کے لئے کرنا چاہئے جو کبھی مرتا نہیں اور اس کی بادشاہی کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی۔ ت)
 (۲؎ اشعۃ اللمعات)
 (۱۹) صفحہ ۱۳ میں عالمگیری سے نقل کیا :
وان اموہ بالسجود اللتحیۃ والتعظیم لالعبادۃ فلا فضل لہ ان یسجد۔
اگر کفار نے کسی کو سجدہ تحیۃ اور تعظیمی کرنے کا نہ کہ سجدہ عبادت کرنے کا ، تو افضل یہ ہے کہ وہ سجدہ کرے اھ (ت)

اور اس کی یہ سرخی دی ''تعظیمی سجدہ کرنا افضل ہے'' یعنی وہی سجدہ جس کی بحث ہے کہ بحالت اختیار زید

عمرو کو سجدہ تحیت کرنا، اسے عالمگیری میں افضل لکھا۔یہ بھاری خیانت ہے۔ 

عالمگیری کی عبارت یہ ہے :
ولوقال اھل الحرب للمسلم اسجد للملک والاقتلناک قالوا ان امروہ ، بذٰلک العبادۃ فالافضل لہ ان لایسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل ۱؎۔
یعنی اگر حربی کفار مسلمان سے کہیں کہ بادشاہ کو سجدہ کرورنہ ہم تمھیں قتل کردیں گے، یہ جبرا اگر انھوں نے سجدہ عبادت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ نہ کرے۔ اور جان دے دے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہے اور اگر یہ جبرسجدہ تحیت پر کیا تو افضل یہ ہے کہ کرلے اور جان بچالے۔

اس کے بعد وہ عبادت ہے
وان امرہ بالسجود للتحیۃ ۲؎
 (اگر داراحرب والے اسے سجدہ تحیت کرنیکا حکم دیں۔ ت)
 (۱؎ و ۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ الباب الثامن ولعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
اول سے وہ اری عبارت اڑادی کہ عوام نہ جانیں کہ کلمات حالت اکراہ میں ہے جہاں یہ جانتا ہو کہ نہ کرے توقتل کیا جائے گا۔ ایسی جگہ جان بچالینے کو افضل کہا ہے۔
Flag Counter