من ثم قال اصحابنا تحرم الصلٰوۃ الی قبور الانبیاء والاولیاء تبکا و اعظاما ۳؎۔
اسی وجہ سے ہمارے اصحاب نے فرمایا کہ انبیاء واولیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مزار ت شریفہ کی طرف نماز حرام ہے اگر چہ صرف تبرک وتعظیم کی نیت ہو۔
(۳؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶)
نص ۱۴۲ : ایضا ص ۱۱۶: (۱۴۳) بعض ائمہ نے گناہان کبیرہ متعلقہ بقبور میں فرمایا
والصلٰوۃ الیھا ۴؎
قبر کے سامنے نماز پڑھنا گناہ کبیرہ ہے۔
(۴؎الزواجر عن قتراف الکبائر کتاب الصلٰوۃ باب التخاذ قبور المساجد دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۶ )
نص ۱۴۴ : ارشاد الساری امام احمد قسطلانی (۱۴۵) تحقیق امام الفرج سے:
یحرم ان یصلی متوجھا الی قبرہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۵؎۔
حرام ہے کہ مزا ر انور حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔
(۵؎ ارشاد الساری شرح صحیح البخاری باب حل تنبش قبور الخ دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۴۳۰)
اقول: (میں کہتاہوں) رکوع سجود والی نماز میں قبر سامنے ہونے کی کراہت اس کی نمازہونے کے سبب نہیں نماز تو جنازہ بھی ہے اور اس میں میت کا سامنے ہونا شرط اور نماز ہی نہ ہوگی اور بغیر نماز دفن کردیا تو جب تک ظن سلامت ہے قبر پر نماز پڑھنا خود حکم شریعت ہے تو قطعا یہ کراہت نماز کے سبب نہیں بلکہ رکوع وسجود کے باعث اور یقینا معلوم کہ نماز کا رکوع وسجود اللہ عزوجل ہی کے لئے ہے اور مصلی یقینا استقبال قبلہ ہی کی نیت کرتاہے نہ کہ توجہ الی القبر کی۔ باینہمہ صرف قبر کا سامنے ہونا اللہ تعالٰی کے لئے سجدہ کو ممنوع کرتاہے تو خود قبر کو سجدہ کرنا یا اسے سجدہ میں قبلہ توجہ بنانا کسی درجہ سخت اشد ممنوع وحرام ہوگا، انصاف شرط ہے اوراس قسم کے نصوص اور نوع دوم کی، احادیث کی باقی تقریر وتقریب آئندہ آئی ہے وباللہ التوفیق۔
قسم سوم : نماز تو نماز قبر کی طرف مسجد کاقبلہ ہونا منع ہے اگر چہ نمازی کا سامنا نہ ہو مثلا امام کے سامنے کوئی ستون یا انگلی برابر دل کی آدھ گز اونچی لکڑی ہو کہ جماعت کا سامنا نہ رہا۔ پھر بھی مسجد کے قبلے میں قبر کی ممانعت ہے جب تک بیچ میں دیوار حائل نہ ہو۔
نص ۱۴۶: محرر مذہب امام محمد کی کتاب الاصل (۱۴۶) ان سے محیط (۱۴۸) ان سے ہندیہ جلد ۵:
اکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الحمام و القبر ۱؎۔
میں مکروہ رکھتاہوں اسے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبلہ کی طرف ہو۔
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۱۹)
نص ۱۴۹ : غنیہ شرح منیہ ص۳۶۶ :
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی الحمام او قبرلانہ فیہ ترک تعظیم المسجد ۲؎۔
مکروہ ہے کہ مسجد کا قبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو کہ اس میں مسجد کی بے تعظیمی ہے۔
(۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلٰوۃ فروع فی الخلاصۃ سھیل اکیڈمی لاہور ص۳۶۶)
نص ۱۵۰: خلاصہ جلد اول ص ۵۶ :
یکرہ ان تکون قبلۃ المسجد الی حمام او قبر اذا لم یکن بین المصلی وبین ھذا المواضع حائل کالحائط وان کان حائط لایکرہ ۱؎۔
مکروہ ہے کہ مسجد کاقبلہ حمام یا قبر کی طرف ہو جبکہ محل نماز اور ان مواضع میں دیوار کی مثل کوئی حائل نہ ہو ہاں بیچ میں دیوار ہو تو مکروہ نہیں۔
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلٰوۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبہ کوئتہ ۱/ ۶۰)
اقول: وباللہ التوفیق
(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں ) یہاں دو مسئلے ہیں:
ایک یہ کہ قبر کے سامنے ممنوع ہے۔ یہ حکم عام ہے مسجد میں ہو خواہ مکان میں خواہ صحرا میں، اور اس کا علاج سترہ ہے۔ کہ انگلی کا دل (موٹائی) اور آدھ گزطول رکھتا ہو، یا صحرا میں مصلی خاشع کے موضع نظر سے دور ہونا
کما فی جامع المضمرات ثم جامع الرموز ثم ردالمحتار و الطحطاوی علی مراقی الفلاح
( جیسا کہ جامع المضمرات، جامع الرموز ، فتاوٰی شامی اور طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے۔ ت) اور امام کا سترہ ساری جماعت کو کافی ہے تمام کتب میں اس کی تصریح ہے۔ گنگوہی نے کہ عداوت اولیائے کرام سے اپنے فتاوٰی حصہ اول ص ۳۰ میں یہ حکم لگایا کہ ''قبرستان میں سب کے واسطے امام اور مقتدی کے سترہ کا حاجت ہے سترہ امام کا مقتدی کو کافی ہونا مرور حیوان اور انسان میں کافی ہے قبور کا حضور مشابہ بشرک وبت پرستی ہے اس میں کفایت نہیں ہر ہرنمازی کے سامنے پردہ واجب ہے''۲؎ یہ شرع مطہر پر افتراء اور دل سے شریعت گھڑنا ہے۔
(۲؎ فتاوٰی رشیدیہ باب قضاء الفوائت محمدسعید اینڈ سنز مسافرخانہ کراچی ص۲۸۸)
دوسرایہ کہ مسجد کا قبلہ جانب قبر نہ ہو، یہ حکم مسجد سے خاص ہے یہاں تک کہ گھر میں جو جگہ نماز کے لئے مقرر کرلیں جسے مسجد البیت کہتے ہیں اس کے قبلہ میں حمام یا بیت الخلا ہو تو کچھ حرج نہیں نہ قبر میں مضائقہ،
کمانص علیہ فی المحیط الھندیۃ وغیرہا
(جیسا کہ محیط، فتاوٰی علمگیری اور ان دو کے علاوہ یہ حکم تعظیم مسجد کے لئے ہے
کما افادہ المحقق ابراھیم الحلبی
(جیسا کہ محقق ابراہیم حلبی نے اس کا افادہ پیش کیا ہے۔ ت) اور وہ جگہ حقیقۃ مسجد نہیں یہاں تک کہ اس میں جنب کو جانا بلکہ جماع بھی جائز ہے۔
ذخیرہ وحلیہ وغیرہما میں ہے :
لیس لمساجد البیوت حکم المساجد الا تری انہ یدخلہ الجنب من غیر کراھۃ ویأتی فیہ اھلہ ویبیع ویشتری من غیر کراھۃ۱؎۔
گھروں کی مساجد کا حقیقی مساجد جیسا حکم نہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ مساجد بیوت میں بغیر کراہت جنبی (ناپاک) داخل ہوسکتا ہے۔ اور وہاں وہ اپنی منکوحہ سے ہمبستری بھی کرسکتا ہے پھر اس میں بلا کراہت خرید وفروخت بھی ہوسکتی ہے۔ (ت)
مسجد حقیقی میں یہ کراہت نہ بعد قلیل سے زائل ہو نہ اس سترہ سے بلکہ دیوار درکار۔
کما سمعت فظھر الجواب وﷲ الحمد عما اوردالمحقق الحلبی فی الحلیۃ اذ قال لقائل ان یقول لا یلزم من مفارقۃ مساجد البیوت لمساجد الجماعات فی الاحکام المذکورہ عدم کراھۃ الاستقبال المذکور فی الصلٰوۃ فی البیوت بلاحائل بینہ وبین ذٰلک بل ینبغی ان یکون ھذا مما یساوی فیہ الصلٰوۃ فی البیوت و الصلٰوۃ فی مساجد الجماعات فلیتأمل ۲؎ اھ وتقریر الجواب ظاہر مماقررنا فالتفرقۃ التی ذکر فی المحیط وغیرہ غیر قائمۃ و التسوبۃ التی یریدھا المحقق حاصلۃ والحمدﷲ وعلی حبیبہ والہ الصلٰوۃ الکاملۃ اٰمین۔
اللہ تعالٰی ہی کے لئے ستائش وخوبی ہے لہذا اس اشکال کا جواب بالکل ظاہر اور واضح ہوگیا کہ جس کو محقق حلبی نے الحلیۃ مں ذکر فرمایا کہ کسی کہنے والے کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ یوں کہے کہ احکام مذکورہ میں مساجد بیوت (گھروں کی مسجدیں) اور مساجد جماعات (وہ مساجد جو نماز باجماعت کے لئے تعمیر ہوئیں) میں فرق بیان کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اگر لوگ گھروں کی مساجد میں آڑ اور پردہ کے بغیر نماز پڑھیں تو قبلہ کی طرف منہ کرنے میں کراہت نہ ہو، ( بلکہ اس صورت میں ضرور کراہۃ ہونی چاہئے) بلکہ مناسب اور موزوں یہ ہے کہ اس حکم میں مسجد بیت اور مسجد جماعات دونوں برابر یا مساوی ہوں، اس کو سوچنا چاہئے اھ۔ جو کچھ ہم نے ثابت کیا اس سے تقریر جواب ظاہر ہوگئی۔ لہذا وہ تفرقہ جو محیط وغیرہ میں ذکر کیا وہ قائم نہیں ۔ اور وہ ''تسویہ'' جو محقق موصوف چاہتے ہیں وہ حاصل ہے ۔ جملہ انواع تعریف اللہ تعالٰی کے لئے ثابت ہیں۔ اور اللہ تعالٰی کے محبوب کریم اور ان کی تمام آل پر کامل رحمتیں نازل ہوں، آمین۔ (ت)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
ہم اس مختصر بیان کو چار فصل کرتے ہیں :
فصل اول: صحابہ وائمہ واولیاء وکتب پر بکرکے افترا خود اس کے مستندات اوراجماع وفقہ و جماہیر اولیاء سے تحریم سجدہ تحیت کا ثبوت۔
فصل دوم : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر بکر کے افترائ، حدیثوں سے تحریم سجدہ کا ثبوت۔
فصل سوم : اللہ عزوجل پر بکر کے افترائ، خود اس کے منہ قرآن عظیم سے تحریم سجدہ کا ثبوت
فصل چہارم : سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کی بحث اور دلائل قاہرہ سے بطلان استدلال مجوزین کاثبوت۔
وباللہ التوفیق والوصول الی ذری التحقیق
(اور اللہ تعالٰی ہی کی مدد سے حصول توفیق ہے اور تحقیق کی چوٹی تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔ ت) ہر فصل میں اس کے متعلق بکر کے اور کمالات کثیرہ کابھی اظہار ہوگا کہ مسلمان دھوکے سے بچیں