Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
92 - 146
نص ۱۱۳ : واقعات امام ناطقی (۱۱۴) ملتقط امام ناصر الدین (۱۱۵) ان دونوںنصاب الاحتساب اول وآخر باب ۴۹ (۱۱۶) 

جواھرا لاخلاطی کتاب الاستحسان (۱۱۷) اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹:
الانحناء للسلطان اولغیرہ مکروہ لانہ یشبہ فعل المجوس ۱؎۔
بادشاہ ہو کوئی ، اس کے لئے جھکنا منع ہے کہ یہ مجوس کے فعل سے مشابہ ہے۔
 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ     البا ب الثامن والعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
نص۱۱۸ : مجمع الانہر جلد ۲ ص ۵۲۱ (۱۱۹) قصول عمادی ہے :
یکرہ الانحناء لانہ یشبہ فعل المجوسی ۲؎۔
جھکنا منع ہے کہ مجوسی کے فعل سے مشابہ ہے۔
 (۲؎ مجمع الانھر     بحوالہ فصول عمادی     کتاب الکراھیۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۴۴۲)
نص ۱۲۰ : مواہب الرحمن (۱۲۱) ا س سے شرنبلالیہ جلد اول ص ۳۱۸ (۱۲۲) محیط (۱۲۳) اس سے جامع الرموز ص ۵۳۵ (۱۲۴) اس سے ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۸:
یکرہ الانحناء للسلطان وغیرہ ۳؎۔
بادشاہ ہو خواہ کوئی اس کے لئے جھکنا منع ہے۔
 (۳؎ ردالمحتار     بحوالہ المحیط کتاب الحظروالاباحۃ      باب الاستبراء وغیرہ     داراحیاء التراث العربی بیروت       ۵/ ۲۴۶)
نص۱۲۵ : فتاوٰی کبرٰی للامام الہیتمی :
الانحناء بالظھر یکرہ ۴؎
پیٹھ جھکانا مکروہ ہے۔
 (۴؎ الفتاوٰی الکبرٰی لابن حجر مکی     باب السیر     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴/ ۲۴۷)
نص۱۲۶ : عالمگیریہ  جلد ۵ ص ۳۶۹ (۱۲۷) فتاوی امام تمرتاشی سے  :
یکرہ الانحناء عندالتحیۃ وبہ ورد النھی ۵؎۔
سلام کرتے جھکنا منع ہے حدیث میں اس سے ممانعت فرمائی ہے۔
(۵؎ فتاوٰی ہندیہ     بحوالہ التمرتاشی     کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
نوع دوم :  متلق مزارات یہ بھی تین قسم  :

قسم اول :  مزارات کو سجدہ یا ان کے سامنے زمین چومنا حرام اورحد رکوع تک جھکنا ممنوع۔

نص ۱۲۸ :  منسک متوسط علامہ رحمۃ اللہ تلمیذ امام ابن الہمام (۱۲۹) مسلک متقسط شرح ملاعلی قاری ص ۲۹۳ :
(لایمس عند زیارۃ الجدار) ولایقبلہ (ولا یلتصق بہ ولایطوف ولاینحنی ولا یقبل الارض فانہ) ای کل واحد (بدعۃ) غیر مستحسنہ ۱؎۔
زیارت روضہ انور سید اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
 (رزقنا اﷲ العود المیھاد بقبولہ)
(ہمیں اللہ تعالٰی دوبارہ روضہ اطہر کی زیارت نصیب فرمائے بشرطیکہ قبولیت ہو) کے وقت نہ دیوار کریم کو ہاتھ لگائے، نہ چومے، نہ اس سے چمٹے، نہ طواف کرے نہ جھکے نہ زمین چومے کہ یہ سب بدعت قبیحہ ہیں۔
 (۱؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط     مع ارشاد الساری     فصل والیغتتم ایام مقامہ الخ     دارالکتب بیروت    ص۳۴۲)
اقول:  (میں کہتاہوں) بوسہ میں اختلاف ہے اور چھونا چمٹنا اس کے مثل اور احوط منع اور علت خلاف ادب ہونا۔
لاماقالہ القاری فی القبلۃ انہ من خواص بعض ارکان القبلۃ کیف وقد نصوا علی استحسان تقبیل المصحف وایدی العلماء ارجلھم والخبز۔
وہ بات نہیں جو ملا علی قاری سے بوسہ دینے کے بارے میں صادر ہوئی کہ وہ بعض ارکان قبلہ کے خواص میں سے ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے اس لئے کہ ائمہ کرام نے مصحف شریف اور علمائے کرام کے ہاتھ پاؤں چومنے کے مستحسن ہونے کی تصریح فرمائی۔ نیز روٹی کو بوسہ دینے کی صراحت فرمائی۔ (ت)
اور جھکنے سے مرادبدستور تاحد رکوع، اور طواف سے یہ کہ نفس طواف بغرض تعظیم مقصود ہو
کما حققناہ فی فتاوٰی بما لامزید علیہ
 (جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بڑی تفصیل سے اس کی تحقیق کردی کہ جس پر اضافہ نہیں ہوسکتا ۔ ت)
نص ۱۳۰ :  شرح لباب صفحہ مذکورہ :
اما السجدۃ فلا شک انھا حرام فلا یغتر الزائر بمایری من فعل الجاھلین بل یتبع العلماء العالمین ۲؎۔
رہا مزار انور کو مسجد ہ وہ تو حرام قطعی ہے تو زائر جاہلوں کے فعل سے دھوکا نہ کھائے بلکہ علمائے باعمل کی پیروی کرے۔
(۲؎المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط     مع ارشاد الساری     فصل والیغتتم ایام مقامہ الخ     دارالکتب بیروت    ص۳۴۲ )
نص ۱۳۱ : زواجر عن اقراب الکبائر جلد اول ص ۱۱۰ :
قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لاتتخذواقبری وثنا یعبدی بعدی ای لاتعظموہ تعظیم غیر کم لاوثانھم بالسجود لہ اونحوہ فان ذٰلک کبیرۃ بل کفر بشرطہ ۱؎۔
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد کہ میرے مزار اقدس کو پرستش کا بت نہ بنانا اس سے یہ مراد ہے کہ اس کی تعظیم سجدے یا اس کے مثل سے نہ کرنا جیسے تمھارے اغیار اپنے بتوں کے لئے کرتے ہیں کہ سجدہ ضرور کبیرہ ہے بلکہ نیت عبادت ہو تو کفر۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔
 (۱؎ الزواجر عن اقتراف الکبائر     کتاب الصلٰوۃ باب اتخاذ القبو ر المساجد الخ     دارالفکر بیروت    ۱/ ۲۴۶)
قسم دوم :  مزار کو سجدہ درکنار کسی قبر کے سامنے اللہ عزوجل کو سجدہ جائز نہیں اگر چہ قبلہ کی طرف ہو۔

نص ۱۳۲ : طحطاوی الدر جلد اول ص ۱۸۳ :
قولہ مقبرۃ لان فیہ التوجہ الی القبر غالباا الصلٰوۃ الیہ مکروھۃ ۲؎۔
مقبرے میں نماز مکروہ ہے کہ اس مین غالبا کسی قبر کو منہ ہوگا اور قبر کی طرف نماز مکروہ ہے
 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار   کتاب الصلٰوۃ     دارالمعرفۃبیروت    ۱/ ۱۸۳)
نص ۱۳۳ : حلیہ امام ابن امیر الحاج قلمی اواخر مایکرہ فی الصلٰوۃ (۱۳۴) ردالمحتار جلدا ول ص۳۹۴:
المقبرۃ اذا کان فیہا موضع اعد للصلٰوۃ ولیس فیہ قبرولا تجاسۃ وقبلۃ الی قبر فالصلٰوۃ مکروھۃ ۳؎۔
قبرستان میں جب کوئی جگہ نما زکے لئے تیار کی گئی ہو اور وہاں نہ قبر ہو نہ نجاست مگر اس کا قبلہ قبر کی طرف ہو جب بھی نماز مکروہ ہے۔
 (۳؎ ردالمحتار علی الدرالمختار     کتاب الصلٰوۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۲۵۴)
نص ۱۳۵ : مجتبٰی شرح قدوری (۱۳۶) بحرالرائق جلد دوم ص ۲۰۹ (۱۳۷) فتح اللہ المعین جلد اول ص ۳۶۲:
یکرہ ان یطاء القبراو یجلس اوینام علیہ اویصلی علیہ اوالیہ ۴؎۔
مکروہ ہے کہ قبر کو پامال کرے یا اس پر بیٹھے یا اس پر چڑھ کر سوئے یا اس پر یا اس کی طرف نماز پڑھے۔ (ت)
 (۴؎ فتح المعین  باب الجنائز     ۹/ ۳۶۲     وبحرالرائق     بحوالہ المجتبٰی     کتاب الجنائز     ۲/ ۱۹۴)
 (۱۳۸) حلیہ آخر کتاب (۱۳۹) شامی ص ۹۳۵ :
تکرہ الصلٰوۃ علیہ والیہ لورود النھی عن ذٰلک ۱؎۔
قبر پر اورقبر کی طرف نماز منع ہے کہ رسول اللہ صل اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس سے ممانعت فرمائی۔
 (۱؎ ردالمحتار     باب صلٰوۃ الجنائز     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۰۶)
نص ۱۴۰ :  تبیین الحقائق امام زیلعی جلد اول ص ۲۴۶ :
یکرہ ان ینبغی علی القبر اویقعد علیہ او یصلی الیہ نھی علیہ الصلٰوۃ والسلام عن اتخاذ القبور مساجد ۲؎۔
قبر کے اوپر کوئی چنائی قائم کرنا یا قبر پر بیٹھنا یا اس کی طرف نماز میں منہ کرنا سب منع ہے رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےقبروں کو محل سجدہ قرار دینے سے منع فرمایا۔
 (۲؎ تبیین الحقائق     باب الجنائز فصل السلطان احق فی الصلٰوۃ     المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر    ۱/ ۲۴۶)
Flag Counter