Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
91 - 146
قسم دوم : سجدہ تو سجدہ زمین بوسی حرام ہے۔ اس پر پندرہ نص قسم اول میں تھے ۱۵ تا ۲۸ و ۲۴ تا ۳۴ و ۳۵ تا ۳۶ کہ دونوں اصالۃ دربارہ تقبیل ارض ہیں ۲۶ اور سنئے کہ مجموع ۴۱ نص ہوں۔

نص ۷۱: جامع صغیر امام کبیر (۷۲) اس سے فتاوٰی تاتارخانیہ (۷۳) اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹ (۷۴) کافی شرح وافی قلمی ہردو تصنیف امام جلیل ابوالبرکات نسفی صاحب کنز (۷۵) غایہ البیان علامہ انزاری قلمی شرح ہدایہ ہر دو درکتاب الکراھیۃ قبیل فصل فی البیع (۷۶) کفایۃ امام جلال الدین کرمانی شرح ہدایہ جلد ۴ ص ۴۳ (۷۷) تبیین الحقائق امام زیلعی شرح کنز جلد ۶ ص ۲۵ (۷۸) تنویر الابصار امام شیخ الاسلام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ غزی (۷۹) درمختار علامہ مدقق علاؤ الدین دمشقی کتاب الحظر محل مذکور (۸۰) مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر جلد ۲ ص ۵۲۰ (۸۱) فتح المعین علی الکنز جلد ۳ ص ۴۰۲ (۸۲) جواہر الاخلاطی قلمی کتاب الاستحسان (۸۳) تکملۃ للعلامۃ الطوری جلد ۸ ص ۲۲۶ (۸۴) شرح الکنزر للملامسکین محل مذکور (۸۵) فتاوٰی غرائب (۸۶) اس سے فتاوٰی ہندیہ صفحہ مذکورہ ۔  ان سولہ نصوص جلیلہ میں ہے :
مایفعلونہ من تقبیل الارض بین یدی العلماء والعظماء فحرام والفاعل والراضی بہ آثمان ۱؎۔
عالموں اور بزرگون کے سامنے چومنا حرام ہے اور چومنے والا اور اس پر راضی ہونے والا دونوں گنہ گار۔
 (۱؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۵)
کافی وکفایہ وغایۃ وتبیین ودرو مجمع وابوالسعود وجواہرنے زائد کیا۔
لانہ یشبہ عبادۃ الوثن ۲؎
اس لئے کہ وہ بت پرستی کے مشابہ ہے۔
 (۲؎ درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء وغیرہ     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۵)
طوری کے لفظ یہ ہیں
لانہ اشبہ بعبدۃ  الاوثان ۳؂ ۔
ایسا کرنے والا بت پرستوں سے نہایت مشابہ ہے۔
 (۳؎ تکلمہ البحرالرائق     کتاب الکراھیۃ فصل فی الاستبراء وغیرہ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۸/ ۱۹۸)
نص ۸۷: علامہ سید احمد مصری طحطاوی جلد ۴ ص زیر قول مذکور در :
یشبہ عبادۃ الوثن لانہ فیہ صورۃ السجود لغیر اﷲ تعالٰی ۴؎۔
زمین بوسی اس لئے بت پرستی کے مشابہ ہے کہ اس میں غیر خدا کو سجدہ کی صورت ہے۔
 (۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار   کتاب الکراھیۃ  دارالمعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۹۲)
اقول: (میں کہتاہوں) زمین بوسی حقیقۃ سجدہ نہیں کہ سجدہ میں پیشانی رکھنی ضروری ہے جب یہ اس وجہ سے حرام مشابہ ہے پرستی ہوئی کہ صورۃ قریب سجدہ ہے تو خود سجدہ کس درجہ سخت حرام اور بت پرستی کا مشابہ تام ہوگا۔ والعیاذ باللہ تعالٰی: 

نص ۸۸: غنیہ ذوی الاحکام للعلامۃ الشرنبلالی جلد اول ص ۳۱۸ (۸۹) متن مواہب الرحمن سے :
یحرم تقبیل الارض بین یدی العالم للتحیۃ ۱؎،
عالم کے سامنے تحیت کی نیت سے زمین بوسی حرام ہے۔
 (۱؎ غنیہ ذوی الاحکام  حاشیۃ الدرر والغرر    کتاب الکراھیۃ فصل من ملک آمۃ بشراء   میر محمد کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۶۸)
نص ۹۰ـ: خادمی علی الدرر ص ۱۵۵ : تقبیل الارض والانخناء لیس بجائزیل محرم ۲؎۔
زمین چومنا اور جھکنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
 (۲؎ حاشیہ الخادمی علی الدرر شرح الغرر   کتاب الکراھیۃ  فصل قولہ مشربۃ عن محرمہا  مطبوعہ عثمانیہ ص۱۵۵)
نص ۹۱: ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۹ (۹۲)درمنتقی شرح ملتقی سے اقسام بوسہ میں :
حرام لارض تحۃ وکفر لھا تعظیما ۳؎۔
زمین بوسی بطور تحیت حرام اور بروجہ تعظیم کفر ہے۔
 (۳؎الدرا لمنتقی فی شرح الملتقی علی ہامش مجمع الانہر  کتاب الکراھیۃ  فصل فی بیان احکام داراحیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۵۴۲)
نص ۳۹ : فتاوٰی ظہیریہ (۹۴) مختصر امام عینی (۹۵) اس سے غمز العیون ص ۳۱ (۹۶) شرح فقہ اکبر ص ۳۳۵:
اما تقبیل الارض فہو قریب من السجود الا ان وضع الجبین اوالخد علی الارض افحش واقبح من تقبیل الارض ۴؎۔
زمین چومنا سجدے کے قریب ہے اور حین یا رخسارہ زمین پر رکھنا اس سے بھی زیادہ فحش وقبیح ہے۔
 (۴؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ     مصطفٰی البابی مصر    ص۱۹۳)
قسم سوم :  زمین بوسی بالائے طاق رکوع کے قریب تک جھکنا منع ہے اس پر ۶۴، ۹ دو نص اور پر گزرئے، تیس اور سنئے۔

نص ۹۷ :  زاہدی (۹۸) اس سے جامع الرموز ص ۵۳۵ (۹۹) اس سے ردالمحتار جلد ۵ ص ۳۷۸ (۱۰۰) نیز شیخی زادہ علی الملتقی جلد ۲ ص ۵۲۰ :
الانخناء فی السلام الی قریب الرکوع کالسجود ۱؎۔
سلام میں رکوع کے قریب تک جھکنا بھی مثل سجدہ ہے۔
(۱؎ جامع الرموز کتا ب الکراھیۃ  ۳/ ۳۱۵ ومجمع الانہر ۲/ ۵۴۲)
نص ۱۰۱ :  شرعۃ الاسلام (۱۰۲) اس کی شرح مفاتیح الجنان ص ۳۱۲ :
 (لایقبلہ ولا ینحنی لہ) لکونھا مکروھین ۲؎۔
  نہ بوسہ دے نہ جھکے کہ دونوں مکروہ ہیں۔
 (۲؎ شرح شرعۃ الاسلام     فصل فی سنن المشی وآدابہ     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۳۱۲)
نص ۱۰۳ : احیاء العلوم جلد ۲ ص ۱۲۴ (۱۰۴) اتحاف السادہ جلد ۶ص۲۸۱ :
 (الانحناء عند السلام منھی عنہ) وھو عن فعل الاعاجم ۳؎۔
سلام کے وقت جھکنا منع فرمایا گیا اور وہ مجوسی کا فعل ہے۔
 (۳؎ اتحاف السادۃ المتقین     کتاب آداب الاخوۃ والصحبۃ    الباب الثالث    دارالفکر بیروت    ۶/ ۲۸۱)
 (۱۰۵) عین اعلم قلمی باب ثامن (۱۰۶) شرح علی قاری جلد اول ص ۲۷۴ (۱۰۷) ذخیرہ سے (۱۰۸) نیز محیط سے:
 (لاینحنی) لان الانحناء یکرہ للسلاطین وغیرھم ولانہ صنیع اھل الکتاب ۴؎۔
سلام میں نہ جکھے کہ بادشاہ ہو یا کوئی کسی کے لئے جھکنے کی اجازت نہیں اور ایک وجہ ممانعت یہ ہے کہ وہ یہود ونصارٰی کا فعل ہے۔
 (۴؎ شرح عین العلم لملا علی قاری بحوالہ المحیط والذخیرۃ    الباب الثامن امرت پریس لاہور    ص۲۱۳)
نص ۱۰۹  : حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ جلد اول ص ۳۸۱ :
معلوم ان من لقی احد امن الاکابر فحنی لہ رأسہ اوظھرہ ولوبالغ فی ذٰلک فمرادہ التحیۃ والتعظیم دون العبادۃ فلا یکفربھذا الصنیع وحال المسلم مشعر بذلک علی کل حال واما العبادۃ فلا یقصدھا الا کافر اصل فی الغالب ولکن التملق الموصل الی ھذا المقدار من التذلل مذموم ولہذا جعلہ المصنف رحمہ اﷲ تعالٰی من التذلل الحرام ولم یجعلہ کفرا ۱؎۔
معلوم ہے کہ جو اکابر میں کسی سے ملتے وقت اس کے لئے سر یاپیٹھ جھکائے اگر چہ اس میں مبالغہ کرے اس کا ارادہ تحیت وتعظیم ہی کا ہوتا ہے نہ کہ اس کی عبادت کا تو اس فعل سے کافرنہ  ہوجائیگا۔ بہر حال خود مسلمان کا حال اس نیت کو بتارہا ہے عبادت کا ارادہ تو غالبا وہی کرے گا جو سرے سے کافر ہو۔ ہان اتنی چاپلوسی جو اس حد کے ذلیل بننے تک پہنچادے بد ہے اسی لئے جھکنے کو مصنف رحمہ اللہ تعالٰی نے حرام کہا کفر نہ ٹھہرایا۔
 (۱؎ؒ الحدیقہ الندیہ     شرح الطریقہ المحمدیہ     والخلق الثانی عشر     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۱/ ۵۴۷)
نص ۱۱۰ : امام اجل عزالدین بن عبدالسلام (۱۱۱) ان سے امام ابن حجر مکی فتاوٰی کبرٰی میں جلد ۴ ص ۲۴۷ (۱۱۲) ان سے امام عارف نابلسی حدیقہ ص ۳۸۱میں :
الانحناء البالغ الی حد الرکوع لایفعلہ احد لا حد کالسجود ولا بأس بما نقص من حد الرکوع لمن یکرہ من اھل الاسلام ۲؎۔
حد کروع تک کوئی کسی کے لئے نہ جھکے جیسے سجدہ اور اس قدر سے کم میں حرج نہیں کہ کسی اسلامی عزت والے کے لئے جھکے۔
(۲؎الحدیقہ الندیہ  شرح الطریقہ المحمدیہ   بحوالہ ابن حجر فی فتاوٰی     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد   ۱/ ۵۴۷)
اقول :  ھذا ھوا الجمع بین النصوص المتوافرۃ المتظافرۃ علی المنع وبین مافی الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ الھندیۃ عن الغرائب تجوز الخدمۃ لغیر اﷲ تعالٰی بالقیام واخذ الیدین والانحناء ۳؎ اھ و قد اشاروا الیہ فی النصوص الاربعۃ التی صدرنا بھا فتلک سبعۃ وباﷲ التوفیق۔
اقول: (میں کہتاہوں) یہی جمع کرنا ہے (یعنی دونوں قولوں میں مواخذہ اور مطابقت پیدا کرنا ) درمیان ان نصوص کثیرہ جو باہم ایک دوسرے کی مؤید ہیں اور اس قول کے درمیان جو فتاوٰی عالمگیری میں فتاوٰی غرائب سے منقول ہے کہ کسی مخلوق (یعنی غیر خدا) کی قیام مصافحہ کرنے اور جھکنے سے خدمت کرنا جائز ہے اھ بیشک انھوں (ائمہ کرام) نے اس کی طرف ان چار نصوص میں اشارہ فرمایا جن کو ہم پہلے لائے ہیں پس سات ہوگئیں اور اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔ (ت)
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ  کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون     نورانی کتب کانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
Flag Counter