Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
90 - 146
نص ۴۸: فتاوی امام قاضی خان جلد ۴ ص ۳۷۸ (۴۹)اس سے فتاوی ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸ (۵۰)نیز اشباہ والنظائر قلمی فن اول قاعدہ ثانیہ  (۵۱)اس سے حدیقہ ندیہ امام عارف باللہ نابلسی جلد اول ص ۳۸۱ (۵۲)خزانۃ المفتین کتاب الکراھیۃ (۵۳)فتاوی کبری سے (۵۴)واقعات امام ناطفی  (۵۵)اس سے عیون المسائل  (۵۶)اس سے واقعات امام صدر شہید باب العین للعیون برمز وللواقعات  (۵۷) اس سے غایۃ البیان انزاری قلمی کتاب الکراھیۃ  محل مذکور  (۵۸)واقعات ناطفی  سے جامع الفصولین جلد دوم ص ۳۱۴  :
لو قال للمسلم اسجد للملک والاقتلناک قالوا ان امروہ بذلک للعبادۃ فالافضل لہ ان لا یسجد کمن اکرہ علی ان یکفر کان الصبر افضل وان امروہ بالسجود للتحیۃ والتعظیم کالعبادۃ فالافضل لہ ان یسجد ۔۲؂
اگر کافر نے مسلمان سے کہا بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ تجھے قتل کر دیں گے ،علماء نے فرمایا اگرکافر  اس سے سجدہ عبادت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرے جیسے کفر پر اکراہ میں صبر افضل ہے ، اور اگر سجدہ تحیت کو کہہ رہا ہے تو افضل یہ ہے کہ سجدہ کرکے جان بچائے ۔
 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     بحوالہ فتاوٰی قاضی خاں کتاب الکراھیۃ      البا ب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۶۹)
اقول : (میں کہتاہوں) ان دس عبارات نے روشن کیا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بدتر ہے ان میں یہ حکم ہے کہ اگر قتل بلکہ قطع عضو بلکہ ضرب شدید ہی کی تخویف سے ان کے کھانے پینے پر اکراہ کیا جائے تو کھانا پینا فرض ہے ورنہ گنہ گار ہوگا،

 علمگیریہ میں ہے :
اذا اخذ رجلا وقال لا قتلنک او لتاکلن لحم ھذا الخنزیر یفترض علیہ التناول ۱؎۔
اگر کسی نے کسی شخص کو پکڑا اور کہا اس سور کا گوشت کھائے ورنہ میں تجھے قتل کردوں گا۔ تو اس پر گوشت کھانا( اپنی جان کے تحفظ کے لئے) فرض ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ     کتاب الاکراہ     الباب الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵/ ۳۸)
درمختار میں ہے :
اکرہ علی اکل لحم خنزیر بقتل اوقطع عضوا وضرب مربح فرض فان صبر فقتل اثم ۲؎۔
اگر کسی کو قتل کی دھمکی یا قطع اندام یا ضرب شدید سے ڈراتے ہوئے سور کا گوشت کھانے پر مجبور کیا گیا (تو ایسی حالت میں) اس پر سور کا گوشت کھالینا (اپنی جان کے تحفظ کے لئے) فرض ہے (پھر اگر اس نے نہ کھایا) اور مصیبت پر صبر کیا اورقتل کردیا گیا تو گنہگار ہوگا۔
 (۲؎ درمختار  کتاب الاکراہ  مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۱۹۶)
لیکن یہاں اگر قتل سے بھی اکراہ ہو تو سجدہ تحیت کرلینا صرف افضل کہا فرض کیسا واجب بھی نہ کیا یعنی جائز یہ بھی کہ قتل ہوجائے اور سجدہ تحیت نہ کرے اگر چہ جان بچالینا بہتر ہے تو ظاہر ہوا کہ غیر خدا کو سجدہ تحیت شراب پینے اور سوئر کھانے سے بھی بدتر ہے والعیاذ باللہ تعالٰی، اور ہوا ہی چاہئے کہ اکل خنزیر میں عبادات غیر خدا کی مشابہت نہیں نہ اسے بلا استحلال کسی نے کفر کہا بخلاف سجدہ تحیت کہ ایک جماعت علماء سے اس پر حکم تکفیر آیاا ور اس کا دوسرے کے لئے کرنا واحد قہار عزوجلالہ کے حق پر دست اندازی ہے۔ آدمی دین وانصاف رکھتا ہو تویہی عبارات اس کی  ہدایت کو بس ہے۔
ولایزید الظالمین الا خسارا
 ( اور ظالموں کے سوائے گھاٹے کے کچھ نہ بڑھائے گا۔ ت)

نص ۵۹: عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۹ (۶۰) فتاوٰی غرائب سے :
لایجوز السجود الا اﷲ تعالٰی ۳؎۔
سجدہ غیر خدا کے لئے جائز نہیں۔
 (۳؎ فتاوٰی ہندیہ  بحوالہ فتاوٰی غرائب کتاب الکراھیۃ   الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹)
نص ۶۱: اکلیل امام جلیل خاتم الحفاظ سے فصل اول میں گزرا :
فیہ تحریم السجود لغیر اللہ تعالٰی ۴؎
اس آیت سے ثابت ہوا کہ غیر خدا کے لئے سجدہ حرام ہے۔
 (۴؎ الاکلیل فی استنباط التنزیل         تحت آیۃ ۳/ ۸۰     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ    ص۵۴)
نص ۶۲: نصاب الاحتساباب ۴۹ (۶۳) ایک تابعی جلیل سے کہ اکابر تابعین طبقہ اولٰی خلافت فاروقی کے مجاہدین سے تھے :
ان السجود فی دین محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایحل الا ﷲ تعالٰی ۱؎۔
بیشک محمد صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے دین میں اللہ عزوجل کے سوا سجدہ کسی کے لئے حلال نہیں
 (۱؎ نصاب الاحتساب)
نص ۶۴: طریقہ محمدیہ قلمی نوع سیزدہم آفات قلب میں تذلل کو حرام بتاکر فرمایا :
ومنہ السجود والرکوع والانحناء للکبراء عنہ الملاقاۃ والسلام وردہ ۲؎۔
اسی حرام فروتنی سے ہے بزرگوں کے ملتے اور انھیں سلام کرتے یا جواب دیتے وقت انھیں سجدہ یا ان کے لئے رکوع کرنا یا اقرب رکوع تک جھکنا۔
(۲؎ الطریقہ المحمدیہ     التذلیل اللمخلوق ھوالثالث عشر من آفات القلب     مکتبہ حنفیہ کوئٹہ    ۱/ ۲۳۸)
نص ۶۵: منح الروض ص ۲۲۷ :
السجد حرام لغیرہ سبحانہ تعالٰی ۳؎۔
غیر خدا کو سجدہ حرام۔
 (۳؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     فصل فی الکفر صریحا کنایۃ     المصطفٰی البابی حلبی مصر    ص۱۸۷)
نص ۶۶: روضہ امام جل ابوزکریا نووی۔  نص ۶۷: پھرا مام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۱۳ :
مایفعلہ کثیرون من الجھلۃ الظالمین من السجود بین یدی المشائخ فان ذٰلک حرام قطعا بکل حال سواء کان للقبلۃ اولغیرہا وسواء قصد السجود ﷲ تعالٰی اوغفل وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر عافانا اﷲ تعالٰی من ذٰلک ۴؎۔
وہ جو بہت ظالم جاہل پیروں کو سجدہ کرتے ہیں یہ ہر حال میں حرام قطعی ہے چاہے قبلہ کی جانب ہو یا اور طرف اور چاہے خدا کو سجدہ کی نیت کرے یا اس نیت سے غافل ہو پھر اس کی بعض صورتیں تو مقتضی کفر ہیں اللہ تعالٰی ہمیں اس سے پناہ دے۔
(۴؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاۃ مکتبہ الحقیقیہ دارالشفقت استانبوال ترکی     ص۳۴۹)
نص ۶۸: اعلام ص ۵۵ : قد صرحوا بان سجود جھلۃ الصوفیۃ بین یدی مشایخھم حرام وفی بعض صورہ مایقتضی الکفر ۱؎۔
بیشک آئمہ نے تصریح فرمائی کہ پیروں کو سجدہ کہ جاہل صوفی کرتے ہیں حرام اور اس کی بعض صورتیں حکم کفر لگاتی ہے۔
(۱؎ اعلام بقواطع الاسلام     مع سب النجاہ     مکتبہ الحقیقۃ     دارالشفقت استانبول ترکی         ص۳۸۸)
نص ۶۹: غایۃ البیان قلمی شرح ہدایۃ العلامۃ الاتفاقی محل مذکور بحث سجدہ میں :
ومایفعلہ بعضالجھال من الصوفیۃ بین یدی شیخھم فحرم محض اقبح البدع فینھون عن ذالک لامحالۃ۲؂
سجدہ کہ بعض جاہل صوفی اپنے پیر کےآگے  کرتے ہیں نرا حرام اور سب سے بدتر بدعت ہے وہ جبرا اس سے باز رکھیں جائیں ۔
 (۲؎ البنایۃ فی شرح الھدایۃ      کتاب الکراھیۃ      گصل فی الستبراء وغیرہ       المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمۃ    ۴/ ۲۵۶)
نص ۷۰ : وجیز امام حفظ الدین محمد بن محمد کردری جلد ۶ ص ۳۴۳ :وبھذا علم ان مایفعلہ الجھلۃ لطواغیتھم ویسمونہ پایکاہ کفر عند بعض المشائخ وکبیرۃ عندالکل فلوا عتقدھامباحۃ یشخہ فھو کافر وان امرہ شیخہ بہ ورضی بہ مستحسنالہ فالشیخ النجدی ایضا کافر ان کان اسلم فی عمرہ ۳؎۔
یہاں سے معلوم ہوا کہ سجدہ کہ جہال اپنے سرکش پیروں کو کرتے اور اسے پائگاہ کہتے ہیں بعض مشائخ کے نزدیک کفر ہے اور گناہ کبیرہ تو بالاجماع ہے پس اگرا اسے اپنے پیر کے لئے جائز جانے تو کافر ہے اور اگر اس کے پیرنے اسے سجدہ کا حکم کیا اور اسے پسند کرکے اس پر راضی ہوا تو وہ شیخ نجدی خود بھی کافر ہوا اگر کبھی مسلمان تھا بھی۔
 (۳؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش فتاوٰی ہندیہ     کتاب الفاظ تکون اسلاما الخ     نورانی کتب خانہ پشاور    ۶/ ۳۴۳ و ۳۴۴)
اقول: (میں کہتاہوں) یعنی ایسے متکبر خدا فراموش خود پسند اپنے لئے سجدے کے خوہشمند غالبا شرع سے آزاد بے قید وبند ہوتے ہیں یوں تو آپ ہی کافر ہیں اور اگر کبھی ایسے نہ بھی تھے تو حرام قطعی یقینی اجماعی کو اچھا جان کو اب ہوئے والعیاذ باللہ تعالٰی۔

الحمداللہ یہ نفس سجدہ تحیت کے حکم میں ستر نص ہیں کہ سجدہ اللہ واحد قہار ہی کے لئے ہے اور اس کے غیر کے لئے مطلقا کسی نیت سے ہو حرام حرام حرام کبیرہ کبیرہ کبیرہ۔
والحمدللہ حمد اکثیر او صلی اﷲ تعالٰی وسلم علی سیدنا ومولٰنا وآلہ وصحبہ تعزیر وتعزیرا اٰمین!
Flag Counter