نص ۱۵: جواہر الاخلاطی کتاب الاستحسان (۱۶) پھر ہندیہ جلد ۵ ص ۳۶۸، ۳۶۹ (۱۷) نصاب الاحتساب باب ۴۹ (۱۸) یہ سب امام اجل فقیہ ابوجعفر ہندوانی سے :
وھذا لفظ النصاب وہو اتم من قبل الارض بین ایدی السلطان اوالامیرا اوسجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ وان کان سجد بنیۃ العبادۃ للسطان اولم تحضرہ النیۃ فقد کفر ۲؎۔
جس نے بادشاہ یاسردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت تھا تو کافر تو نہ ہوا مگر گنہگار مرتکب کبیرہ ہوا، اور اگر پرستش بادشاہ کی نیت کی یا عبادت وتحیت کوئی نیت اس وقت نہ تھی تو بیشک کافر ہوگیا۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۶۹۔ ۳۶۸)
نص ۱۹ : فتاوٰی امام ظہیر الدین مرغینانی (۲۰) اس کا مختصر للامام عینی (۲۱) اس سے غمز العیون والبصائر ص ۳۱ (۲۲) فتاوٰی خلاصہ قلمی قبیل کتا ب الہبۃ (۲۳) اس سے منح الروض ص ۲۳۵ :
وھذا الفظ الامام العینی قال بعضھم یکفر مطلقا وقال اکثرھم ھو علی وجوہ ان اراد بہ العبادہ یکفر وان ارادبہ التحیۃ لایکفر و یحرم علیہ ذٰلک وان لم تکن لہ ارادۃ کفر عند اکثر اھل العلم ۳؎۔
غیر خدا کو سجدے سے بعض نے کہا مطلقا کافر ہے، اور اکثر نے اس میں کئی صورتیں ہیں اگر اس کی عبادت چاہی تو کافر ہے اور تحیت کی نیت کی تو کفر نہیں حرام ہے اور اگر کچھ نیت نہ تھی تو اکثر ائمہ کے نزدیک کافرہے۔
(۳؎ غمز العیون البصائر بحوالہ العینی فی مختصر الفتاوٰی الظہیریۃ الفن الاول ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۴۵)
خلاصہ کے لفظ یہ ہیں :
اماالسجدۃ لہٰؤلاء الجبابرۃ فھی کبیرۃ ھل یکفر قال بعضھم یکفر مطلقا وقال بعضہم (وفی نسخۃ الطبع اکثر ھم) المسالۃ علی التفصیل ان اراد بھا العبادۃ یکفر وان ارادبھا التحیۃ لایکفر قال وھذا موافق لما قال وھذا موافق لما فی سیر الفتاوٰی والاصل ۱؎۔
رہا ان سلاطین کو سجدہ وہ گناہ کبیرہ ہے۔ اور کافر بھی ہوگا یا نہیں بعض نے کہا مطلقا کافر ہوجائے گا اور اکثر نے فرمایا مسئلہ میں تفصیل ہے اگر عبادت چاہی کافر ہوجائے گا اور تحیت تو نہیں۔ اور یہی اس مسئلہ کے موافق ہے جو فتاوٰی کی کتاب السیر اور امام محمد ررضی اللہ تعالٰی عنہ کی کتاب مبسوط میں ہے۔
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الفاظ الکفر الفصل الثانی الجنس الحادی عشر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۴/ ۳۸۹)
علی قاری نے اسے یوں نقل بالمعنی کیا :
فی الخلاصۃ من سجد لھم ان ارادبہ التعظیم ای کتعظیم اﷲ سبحانہ کفروا ان ارادبہ التحیۃ اختار بعض العلماء انہ لایکفر اقولوھذا ھو الاظھر وفی الظھیریۃ قال بعضھم یکفر مطلقا ۲؎۔
خلاصہ میں ہے جس نے انھیں سجدہ کیا اگر تعظیم کا قصد تھا یعنی مثل تعظیم الٰہی تو کافر ہوگیا اور تحیت کا ارادہ نہ تھا تو بعض علماء نے اختیار فرمایا کہ کافر نہ ہوگا، میں کہتاہوں یہی ظاہر تر ہے۔ اورفتاوٰی ظہیریہ میں ہے کہ بعض نے کہا مطلقا کافر ہوجائے گا۔
(۲؎ منح الروض الازہر الشرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)
اقول: لیس فی الخلاصۃ لفظ التعظیم بل العبادۃ فلا حاجۃ الی ایرادہ ثم تفسیرہ بما یرجع الی العبادۃ الا ان یکون فی نسخۃ لفظ التعظیم کما ان فیھا بعضہم مکان اکثر ھم کنسخۃ القلم واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول: (میں کہتاہوں کہ خلاصۃ میں لفظ ''التعظیم'' نہیں بلکہ لفظ ''عبادت'' مذکو رہے لہذا اس کے لانے کی کچھ ضرورت نہیں پھر اس کی ایسے کلام سے تشریح کرنا کہ عبادت کی طرف راجح ہے مگر یہ کہ اس کے ایک نسخہ میں لفظ ''تعظیم'' موجود ہو جیسا کہ اس کے ایک ''نسخہ'' میں اکثر ھم کی جگہ بعضھم جیسا کہ قلمی نسخہ میں ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
نص ۲۴ : امام اجل صدرشہید شرح جامع صغیر میں (۲۵) ان سے امام سمعانی خزانۃ المفتین قلمی کتاب الکراھیۃ میں (۲۶) جواہر الاخلاطی قلمی کتاب الاستحسان (۲۷) اس سے عالمگیریہ جلد ۵ ص ۳۶۸ (۲۸) جامع الفصولین جلد ۲ س ۳۱۴ (۲۹) برمز من مجمع النوازل (۳۰) مرموزجز یعنی وجیز المحیط سے (۳۱) جامع الرموز ص ۵۳۵ (۳۲) جامع الفصولین ص۱۱ (۳۴) مجمع الانہر جلد ۲ ص ۵۲۰، اور یہ لفظ امام صدر شہید کے ہیں :
من قبل الارض بین یدی السلطان او امیر او سجد لہ فان کان علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن ارتکب الکبیرۃ ۱؎۔
جس نے بادشاہ کو کسی سردار کے سامنے زمین چومی یا اسے سجدہ کیا اگر بطور تحیت ہوکافر نہ ہوگا ہاں مرتکب کبیر ہوا۔
(۱؎ خزانۃالمفتین کتاب الکراھیۃقلمی ۲/ ۲۱۳ و جامع المفصولین الفصل الثامن والثلاثون ۲/ ۳۱۴)
جامع الرموز وغیرہ کے لفظ یہ ہیں :
لایجوز فانہ کبیرۃ ۲؎
زمین بوسی وسجدہ تحیت ناجائز وکبیرہ ہیں۔
(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵)
جواہر وہندیہ میں یوں ہے :
لایکفر ولکن یاثم بارتکابہ الکبیرۃ ھو المختار ۳؎۔
یعنی مذہب مختار میں زمین بوسی سجدہ تحیت سے کافر نہ ہوگا مگر مجرم ہوگا کہ اس نے کبیرہ کیا۔
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ بحوالہ جواہر الاخلاطی کتا ب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون ۵/ ۳۶۸)
جامع الفصولین کے لفظ دوم یہ ہیں :
اثم لو سجدہ علی وجہ التحیۃ لارتکاب ماحرم ۴؎۔
سجدہ تحیت سے گنہگار ہوگا کہ اس نے حرام کا ارتکاب کیا۔
(۴؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴)
مجمع الانہر کے لفظ یہ ہیں :
من سجد لہ علی وجہ التحیۃ لایکفر ولکن یصیر آثما مرتکبا الکبیرۃ ۵؎۔
سجدہ تحیت سے کافر تو نہ ہوگا ہاں گنہگار مرتکب کبیرہ ہوگا۔
(۵؎ مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ فصل فی بیان احکام النظرہ ونحوہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۲)
نص ۳۵ : درمختار کتاب الحظر قبیل فصل البیع (۳۶) مجمع الانہر محل مذکور :
وھل یکفر ان علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفروان علی وجہ التحیۃ لاوصار آثما مرتکبا للکبیرۃ ۱؎۔
اس سے کافر بھی ہوگا یانہیں؟ اگر بروجہ عبادت و تعظیم کرے کافرہے۔ اور بروجہ تحیت تو کافر نہیں مجرم ومرتکب کبیرہ ہے۔
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)
(۳۷) علامہ ابن عابدین جلد ۵ ص ۳۸۷ کلام مذکور درپر :
تلفیق القولین قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لایکفر بھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ وقال شمس الائمۃ السرخسی ان کان لغیر اﷲ تعالٰی علی وجہ التعظیم کفر ۲؎۔
یعنی یہاں دو قول تھے : ایک یہ کہ سجدہ تعظیمی کفر ہے امام شمس الائمہ سرخسی کا یہی قول ہے دوسرا یہ کہ سجدہ تحیت کفر نہیں۔ امام صدر شہید کا یہی مختار ہے شارح نے دونوں کا ایک ایک حصہ لے کر یہ تفصیل کی کہ تعظیم مقصود ہو تو کفر اور تحیت تونہیں۔
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بروت ص۲۴۶)
اقول : وباللہ التوفیق
(میں کہتاہوں اور توفیق اللہ تعالٰی سے ہے۔ت ) امام صدر شہید صرف نفی کفر فرماتے ہیں: سجدہ تحیت کے گناہ کبیرہ ہونے کی خود انھوں نے تصریح فرمائی کہ نص ۲۰ میں گزری اور تعظیم سے کبھی مطلق مراد لیتے ہیں بایں معنی تحیت بھی تعظیم ہے خصوصا تحیت عظماء نص ۴۵ میں امام فقیہ النفس اور نص ۵۱ میں سیدی عبدالغنی قدس سرہ، سے آتا ہے کہ تحیت وتعظیم کو ایک صورت رکھا اور عبادت کے مقابل لیا اور کبھی خاص تعظیم مثل تعظیم الٰہی مراد لیتے ہیں جیسا کہ نص ۲۳ میں منح الروض سے گزرا اس وقت وہ مساوی عبادت ہے اس کی نظیر قسم دوم میں خود صاحب درمختار کی در منتقی سے آتی ہے کہ تعظیم کو تحیت کے مقابل لیا قول شمس الائمہ میں یہی مراد ہے تو یہ تلفیق نہیں تو فیق ہے دونوں مرادوں کی تحقیق ہے اور اللہ عزوجل ولی توفیق ہے۔
نص ۳۸: کتا ب الاصل اللامام محمد (۳۹) فتاوٰی کتاب السیر (۴۰) ان دونوں سے فتاوٰی خلاصہ فتاوٰی قلمی آخر کتاب الفاظ الکفر (۴۱) فتاوٰی غیاثیہ ۱۰۷ (۴۲) محیط (۴۳) اس سے شرح فقہ اکبر ص ۳۵ (۴۴) نصاب الاحتساب باب ۴۹ (۴۵) وجیز امام کردری جلد ۶ص ۳۴۳ (۴۶) اختیار شرح مختار (۴۷) اس سے علامہ شیخی زادہ شارح ملتقی جلد ۲ ص ۵۲۰ :
اذا قال اھل الحرب لمسلم اسجد للملک والاقتلناک فالا فضل ان لایسجد لان ھذا کفر صورۃ والافضل ان لایأتی بما ھو کفر صورۃ وان کان فی حالۃ الاکراہ ۱؎۔
جب حربی کافر کسی مسلمان سے کہیں بادشاہ کو سجدہ کر ورنہ ہم تجھےقتل کردیں گے توافضل یہ ہے کہ سجدہ نہ کرےکہ یہ صورۃ کفر ہے اور صورۃ کفر سے بچنا بہتر اگر چہ حالت اکراہ ہو ۔
(۱؎ منح الروض الاززہر شرح الفقہ الاکبر بحوالہ المحیط فصل فی صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)