فصل سوم ڈیڑھ سو نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کے حرام ہونے کا ثبوت
اور وہ بھی دو نوع ہیں:
نوع اول: تین قسم:
قسم اول: نفس سجدہ کا حکم کہ غیر خدا کے لئے مطلقا حرام ہے۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ ت) تحریم متفق علیہ ہے اور اسی قدر ہمارا مقصود ،اور تکفیرمیں عبارات چھ طور پر آئیں گی: (۱) غیر خدا کے لئے سجدہ کفر ہے۔ اس کا ظاہر الاطلاق ہے۔
(۲) غیر خدا کو سجدہ مطلقا کفر ہے اس میں تصریح اطلاق ہے۔
(۳) بحال اکراہ کفر نہیں ورنہ کفر یہ قید اولین میں بھی ضروری ہے۔
(۴) غیر کی نیت سے کفر اور اللہ عزوجل کے لئے نیت ہو یا کچھ نیت نہ ہو تو کفر نہیں،
(۵) بہ نیت عبادت کفر، اور بہ نیت تحیت کفر نہیں، اور کچھ نیت نہ ہو جب بھی کفر۔
(۶) غیر کی طرف اصلا کفر نہیں جب تک نیت عبادت نہ ہو، اور یہی صحیح ومعتمد ہےوحق و معتقد ہے اور باقی کفر صوری وغیرہ سے مؤول وباللہ التوفیق۔
نص ۱ـ: تبیین الحقائق امام فخر الدین زیلعی جلد اول ص ۲۰۲ (۲) غنیہ المستملی محقق ابراہیم حلبی ص ۲۶۶ (۳)فتح اللہ العین العلامۃ السید ابی السعود الازہری جلد اول ص ۲۹۰ :
(۴) نصا ب الاحتساب قلمی باب ۴۹ (۵) کفایۃ شعبی سے :
اذا سجد لغیر اﷲ تعالٰی یکفر لان وضع الجہۃ علی الارض لایجوز الاﷲ تعالٰی ۲؎۔
غیر خدا کو سجدہ کرے تو کافر ہے کہ زمین پر پیشانی رکھنا دوسرے کے لئے جائز نہیں۔
(۲؎ فتاوٰی نور الھدٰی بحوالہ المبسوط کتاب الکراھیۃ فصل فیما یصیر بہ المسلم کافر امکتبہ حقانیہ کوئٹہ ص ۴۳۹)
نص ۶: مسبوط الامام جلیل شمس الائمہ سرخسی (۷) اس سے جامع الرموز ص۵۳۵ :
من سجد لغیر اﷲ تعالٰی علی وجہہ التعظیم کفر ۳؎۔
غیر خدا کو سجدہ تعظیمی کرنے والا کافر ہے۔
(۳؎ جامع الرموز کتا ب الکراھیۃ مکتبہ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۳/ ۳۱۵)
نص ۸: منح الروض الازہر فی شرح الفقہ الاکبر ص ۲۳۴ :
اقول وضع الجبین اقبح من وضع الخدفینبغی ان لایکفر الایوضع الجبین دون غیرہ لان ھذہ سجدۃ مختصتہ ﷲ تعالٰی ۱؎۔
میں کہتاہوں زمین پر ماتھا رکھنا رخسارہ رکھنے سے بھی بد تر ہے تو چاہئے کہ اس میں کفر نہ ہو اور میں کہ یہ سجدہ ہے کہ اللہ عزوجل کے لئے خاص ہے۔
(۱؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)
اقول: اولا ان کان علی وجہ العبادۃ کفر ولو لو یزد علی تقبیل ارض اوانحناء بل بمجرد النیۃ والافلا کفر فی المعتمد وھو الحق المعتقد وثانیا الجبین احد جانبی الجبھۃ وھما جبینان وانما السجود وضع الجبھۃ فلیتنبہ۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) اولا اگر زمین پر بطور عبادت پیشانی رکھے تو کافر ہوجائے گا اگر چہ زمین چومنے یا صرف جھکنے بلکہ صر ف نیت کرنے پر اکتفاء کیا (اور اس سے مزید کچھ نہ کہا) تو قابل اعتماد کیا مذہب میں کفر نہیں لہذا یہی حق قابل اعتقاد ہے۔ ثالثا جبین '' پیشانی کی ایک جانب اور طرف ہے۔ اور پیشانی میں دو جنبین ہیں۔ اور سجدہ زمین پر پیشانی رکھنے کا نام ہے۔ لہذا اس سے آگاہ ہونا چاہئے۔ (ت)
نص ۹ : شرح نقایہ علامہ قہستانی ص ۳۳۵ (۱۰) مجمع الانہر ملتقی الابحرجلد ۴ ص ۲۲۰۔ دونوں فتاوٰی ظہریہ سے (۱۱) ردالمحتار علامہ شامی جلد ۵ ص ۴۷۸ جامع الرموز سے :
یکفر بالسجدۃ مطلقا ۲؎۔
غیر خدا کو سجدے سے مطلقا کافر ہوجائے گا۔
(۲؎ مجمع الانہر کتاب الکراھیۃ بیروت ۲/ ۵۴۲ وجامع الرموز کتاب الراہیۃ ایران ۳/ ۳۱۵)
(ردالمحتار کتاب الحطروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶)
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) امام عینی کے اختصار اور علی قاری کی نقل سے ظہیریہ میں یہ حکم جزمی نہیں بلکہ بعض کی طرف نسبت ہے کہ بعض نے مطلقا کافر کہا کماسیأتی (جیسا کہ آگے آئے گا۔ ت) مجمع الانہر وشامی دونوں کے مستند نقل علامہ قہستانی ہیں اور شک نہیں کہ امام عینی ان سے اوثق ہیں لہذا ہم نے یہاں ظہیریہ کو نہ گنا۔
نص ۱۲: غایۃ البیان علامہ اتقانی قلمی کتاب الکراھیۃ قبیل فصل من البیع : اما السجود لغیر اللہ فہو کافر اذا کان من غیر اکراہ ۳؎۔
غیر خدا کو بلا اکراہ سجدہ کفر ہے۔
(۳؎ غایۃ البیان کتاب الکراھیۃ قبیل نص من البیع (قلمی)
نص ۱۳: منح الروض ص۲۳۵ : اذا سجد بغیر الاکراہ یکفر عندھم بلاخلاف ۱؎۔
اگر بلاکراہ سجد ہ کیا تو باتفا علماء کافر ہوجائے گا۔
(۱؎ منح الروض الازھر شرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۹۳)
اقول :(میں کہتاہوں۔ت ) دعوی اتفاق بےمحل ہے اولا بلکہ صحیح ومختارہ وہی تفصیل نیت عبادت وتحیت ہے جن پر نصوص کثیرہ مطلقہ عنقریب آتے ہیں :
ثانیا اجلہ اکابر نے خاص صورت عدم اکراہ میں بھی سجدہ تحیت کفر نہ ہونے کی تصریحیں فرمائیں۔ فتاوٰی کبرٰی میں پھر خزانۃ المفتین قلمی کتاب الکراھیۃ نیز واقعات امام صدر شہید پھر خود یہی غایۃ البیان مذکور میں مسئلہ اکراہ لکھ کر فرمایا :
فھذا دلیل علی ان السجود نبیۃ التحیۃ اذا کان خائفا لایکون کفر ا فعلی ھذا القیاس من سجدہ عن السلاطین علی وجہ التحیۃ لایصیر کافرا ۲؎۔
یہ اس کی دلیل ہے کہ سجدہ تعظیمی جبکہ خائف (اور خطر محسوس کرے) تو کفرنہ ہوگا۔ لہذا اسی پریہ مسئلہ قیاس کیا گیا ہے کہ جو بادشاہوں کو سجدہ تعظیمی کرے تو کافر نہ ہوگا۔
(۲؎ خزانۃ الفتاوٰی کتا ب الکراھیۃ قلمی نسخہ ۲/ ۲۱۳)
جامع الفصولین جلد دوم میں بعدمسئلہ اکراہ ہے :
فہذا تؤید مامران من سجد للسطان تکریما لایکفر ۳؎۔
یہ مسئلہ گزشتہ کلام کی تائید کرتاہے کہ جس نے کسی بادشاہ کو بطور تعظیم سجدہ کیا تو (اس کاروائی سے) وہ کافر نہ ہوگا۔ (ت)
(۳؎ جامع الفصولین الفصل الثامن والثلاثون اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۴)
ثالثا خود علی قاری کی عبارت آتی ہے کہ روضہ انور کے سجدے کو صرف حرام کہا نہ کہ کفر،
رابعا بلکہ نص۲۷ میں وہی کہیں گے کہ بعض علماء نے تکفیر کی اور ظاہر تر عدم تکفیر ہے۔ پھر اتفاق درکنار وہ قول راجح بھی نہیں ضعیف ومرجوح ہے۔
نص۱۴ : امام ابن حجر مکی کی اعلام بقواطع الاسلام ص ۵۵ :
علم من کلاھم ان السجود بین یدی الغیر منہ ماھو کفرومنہ ماھو حرام غیر کفر فالکفر ان یقصد السجود المخلوق و الحرام ان یقصدہ ﷲ تعالٰی معظما بہ ذٰلک للمخلوق من غیر ان یقصدہ بہ اولایکون لہ قصد ۱؎۔
کلام علماء سے معلوم ہوا کہ غیر کو سجدہ کبھی کفرہے اور کبھی صر ف حرام۔ کفر تو یہ ہے کہ مخلوق کے لئے سجدہ کا قصد کرے اور حرام یہ کہ سجدہ اللہ تعالٰی کے لئے کرے اور مخلوق کی طرف کرنے سے اس کی تعظیم یا یہ کہ اصلا کچھ نہ ہو۔
(۱؎ اعلام بقواطع الاسلام مع سبیل النجاۃ مکتبۃ الحقیقۃ دارالشفقت استانبول ترکی ص۳۸۸)