حدیث سی ودوم : بزارمسند میں امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ سے راوی :
قال لی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی مرضہ الذی مات فیہ ائذن للناس علی فاذنت للناس علیہ فقال لعن اﷲ قو ما اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ثم اغمی علیہ فلما افاق قال یا علی ائذن للناس فاذنت لھم فقال لعن اﷲ قوما اتخذوا قبور انبیائھم مسجدا ثلثا فی مرض موتہ ۱؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وفات انور کے مرض میں مجھ سے فرمایا : لوگوں کو ہمارے حضور حاضر ہونے دو۔ میں نے اذن دیا۔ جب لوگ حاضر ہوئے توحضور نے فرمایا: اللہ کی لعنت ہو ہر اس قوم پر جس نے اپنے انبیاء کی قبریں جائے سجدہ ٹھہرالیں، پھر حضور پر غشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہوا فرمایا: اے علی! لوگوں کو اذن دو۔ میں نے اذن دیا فرمایا : اللہ کی لعنت ہوتی ہے اس قوم پر جس نے اپنے ابنیاء کی قبریں جائے سجدہ کرلیں۔ تین بار ایسا ہوا۔
(۱؎ کشف الاستار حدیث۴۳۶ ۱/ ۳۱۹،و ۲۲۰ )
حدیث سی وسوم : ابوداؤد طیانسی وامام احمد مسند اور طبرانی کبیر میں بسند جید اور ابونعیم معرفۃ الصحابۃ اور ضیاء صحیح مختارہ میں اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی مات فیہ ادخلوا علی اصحابی فدخلوا علیہ وھو متقنع ببرد معافری فکشف القناع ثم قال لعن اﷲ الیھود النصارٰی اتخذوا قبور انبیائھم مساجد ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مرض وفات شریف میں فرمایا : میرے اصحاب کو میرے حضور لاؤ۔ حاضر ہوئے، حضور نے رخ انور سے کپڑا ہٹا کر فرمایا : یہود ونصارٰی پر اللہ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں محل سجدہ قرار دے لیں،
(۲؎ کنز العمال حدیث ۲۲۵۲۳ ۸/ ۱۹۵)
حدیث سی وچہارم : امام احمدو طبرانی بسند جید عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ان من شرار الناس من تدرکھم الساعۃ و ھم احیاء ومن یتخذ القبور مساجد ۳؎۔
بیشک سب لوگوں سے بدتروں میں وہ ہیں جن کے جیتے جی قیامت قائم ہوگی او روہ کہ قبروں کو جائے سجدہ ٹھہراتے ہیں۔
(۳؎ مسند احمد بن حنبل ۱/ ۴۰۵ و ۴۳۵ والمعجم الکبیر حدیث ۱۰۴۱۳ ۱۰/ ۲۳۳ )
حدیث سی وپنجم : عبدالرزاق مصنف میں مولا علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من شرار الناس من یتخذ القبور مساجد ۴؎۔
بدترلوگوں میں ہیں وہ کہ قبروں کو محل سجود قراردیں۔
(۴؎ المصنف لعبد الرزاق ۱/ ۴۰۵)
حدیث سی وششم وسی وہفتم : صحیح مسلم میں جندب اور معجم طبرانی میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہے :
قال سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قبل ان یموت بخمس وہو یقول الا ان من کان قبلکم کانوا یتخذون قبور انبیائھم وصالحیھم مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد انی انھاکم عن ذٰلک ۱؎۔
میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وفات پاک سے پانچ روز پہلے حضور کو فرماتے سنا خبردار! تم سے اگلے اپنے انبیاء اولیاء کی قبروں کو محل سجدہ گاہ قرار دیتے تھے خبردار۔ تم ایسانہ کرنا ضرور تمھیں اس سے منع فرماتا ہوں۔
تنبیہ: شرح منتقی میں حدیث جندب پر کہا اس کے مانند مضمون طبرانی نے بسند جید زید بن ثابت اوربزار نے مسند میں ابوعبیدہ بن الجراح وابن عدی نے کامل میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا: اس کے ثبوت پر تین حدیثیں اور ہوں گی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
حدیث سی وہشتم : عقیلی بطریق سہل بن ابی صالح عن ابیہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دعا فرمائی :
الٰہی: میرے مزار کریم کوبت نہ ہونے دینا اللہ کی لعنت ان پر جنھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مسجد کرلیں
(۲؎الشفاء فصل فی حکم زیارۃ قبر ۲/ ۷۵)
حدیث سی ونہم : امام مالک مؤطا میں عطا بن یسار سے مرسلا اور بزار مسند میں ابوبطریق عطا بن یسار ابوسعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے موصولا راوی : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
اشد غضب اﷲ تعالٰی علی قوم اتخذوا قبور انبیائھم مساجدا۳؎۔
اللہ کا غضب اس قوم پر ہوا جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ ٹھہرایا۔
(۳؎ مؤطا امام مالک باب جامع الصلٰوۃ ص ۱۵۹ و کشف الاستار حدیث ۴۴۰ ۱/ ۲۲۰)
حدیث چہلم : عبدالرزاق مصنف میں عمرو بن دینار سے مرسلا راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
بنی اسرائیل نے اپنے انبیاء کی قبروں کو محل سجدہ کرلیا تو اللہ عزوجل نے ان پر لعنت فرمائی۔ والعیاذ باللہ۔
(۴؎ المصنف لعبد الرزاق حدیث ۱۵۹۱ ۱/ ۴۰۶)
افادہ: علامہ قاضی بیضاوی پھر علامہ طیبی شرح مشکوٰۃ پھر علامہ قاری مرقاۃ میں لکھتے ہیں :
کانت الیھود والنصارٰی یسجدون القبور انبیاھم ویجعلونھا قبلۃ ویتوجھون فی الصلٰوۃ نحوھا فقد اتخذوھا اوثانا فلذلک لعنھم ومنع المسلمین عن مثل ذٰلک ۵؎۔
یہود ونصارٰی اپنے ابنیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کے مزاروں کو سجدہ کرتے اور انھیں قبلہ بنا کر نماز میں ان کی طرف منہ کرتے تو انھوں نے ان کو بت بنالیا، لہذانبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس سے منع فرمایا۔
ایک یہ کہ بقتصد عبادت قبور انبیاء کو سجدہ کرتے، دوسرے یہ کہ ان کی طرف سجدہ کرتے۔
(۴؎ لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲)
پھر فرمایا:
وکلاالطریقین غیر مرضیۃ۔
دونوں صورتیں ناپسند ہیں۔ شیخ محقق لمعات میں اسے نقل کرکے فرماتے ہیں
وفی شرح الشیخ ایضا مثلہ ۵؎
(شیخ کی شرح میں بھی ایسا ہے۔ ت)
(۵؎لمعات التنقیح شرح مشکوٰۃ المصابیح عن التورپشی باب المساجد الخ مکتبہ المعارف العلمیہ لاہور ۳/ ۵۲)
شرح امام ابن الحجر مکی م یں بھی یوں ہیں ہے تو ظاہر کہ سجدہ اور قبر کی طرف سجدہ دونوں حرام ہے۔ اور ان احادیث کے تحت میں داخل ہیں، اور دونوں کو وہ سخت وعیدیں شامل۔
اقول: (میں کہتاہوں۔ت) بلکہ صورت دوم اظہر وارجح یہود سے عبادت غیر خدا معروف نہیں۔ ولہذا علماء نے فرمایا کہ یہودیت سے نصرانیت بد تر ہے کہ نصارٰی کا خلاف توحید ہے۔ اور یہود کا صرف رسالت میں۔
درمختار میں ہے :
النصرانی شرمن الیھودی فی الدارین ۱؎۔
عیسائی، یہودیوں سے دونوں جہانوں میں بد ترہیں۔ (ت)
(۱؎ درمختار کتاب النکاح باب نکاح الکافر مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۲۱۰)
ردالمحتار میں بزازیہ سے ہے :
لان نزاع النصارٰی فی الالیھات ونزاع الیھود فی النبوات ۲؎۔
اس لئے کہ عیسائیوں کا (ہم سے اختلاف ) الٰہیات یعنی توحید میں ہے جبکہ یہودیوں کا اختلاف رسالت میں ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب النکاح باب نکاح الکافر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۳۹۵)
لاجرم محرر مذہب سید نا امام محمد نے مؤطامیں صورت دوم کے داخل وعید ومشمول حدیث ہونے کی طرف صاف ارشاد فرمایا :
باب وضع کیاـ: باب القبر یتخذ مسجد ا اویصلی الیہ ۳؎۔
''باب'' قبر کو سجدہ گاہ بنایا جائے یا اس کے طرف منہ کرکے نماز پڑھی جائے ۔ (ت)
(۳؎ مؤطا للامام محمد باب القبر یتخذ مسجدا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ص۱۷۲)