حدیث ہفدہم تا حدیث بست ویکم : طبرانی معجم کبیر اور ضیاء صحیح مختارہ میں زید بن ارقم سے موصولا، اور امام ترمذی جامع میں سراقہ بن مالک بن جعشم وطلق بن علی وام المومنین ام سلمہ وعبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہم سے تعلیقا راوی،
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لوکنت اٰمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۲؎۔
اگر مجھے کسی کو کسی کے لئے سجدے کا حکم ہوتا تو عورت کو فرماتا کو شوہر کو سجدہ کرے۔
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی حق الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸)
(المعجم الکبیر عن زید بن ارقم حدیث ۵۱۱۶ و ۵۱۱۷ ۵/ ۰۹ ۔ ۹۰۸ وکنز العمال حدیث ۴۴۷۹۹ ۱۶/ ۳۳۷)
حدیث بست ودوم: عبد بن حمید امام حسن بصری سے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کرنے کا اذن مانگنے پر وہ آیت اتری کہ کیا تمھیں کفر کا حکم دیں۳ ۔ یہ حدیث فصل اول میں گزری ۔
(۳؎ الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید عن الحسن تحت آیۃ ۳/ ۸۰ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۲/ ۴۷)
تذئیل اول : مدارک شریف میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے ہے انھوں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کرنا چاہا حضور نے فرمایا :
لاینبغی لمخلوق ان یسجد لاحد الا ﷲ تعالٰی ۱؎۔
کسی مخلوق کو جائز نہیں کہ وہ کسی کو سجدہ کرے ماسوائے اللہ تعالٰی کے۔ (ت)
تذئیل دوم : تفسیر کبیر میں بروایت امام سفین ثوری سماک بن ہانی سے ہے :
قال دخل الجاثلیق علی علی ابن ابی طالب رضی اﷲ تعالٰی عنہ فارادان یسجد لہ فقال لہ علی اسجد ﷲ ولا تسجدلی ۲؎۔
امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ کی بارگاہ میں سلطنت نصارٰی کو سفیر حاضر ہوگا، حضرت کو سجدہ کرنا چاہا، فرمایا: مجھے سجدہ نہ کرو اللہ عزوجل کو سجدہ کرو۔
(۲؎ مفاتیح الغیب تحت آیۃ ۲/ ۳۴ المطبعۃ البہیۃ المصریۃ مصر ۲/ ۲۱۳)
حدیث بست وسوم : جامع ترمذی میں بطریق الامام عبداللہ بن المبارک عن حنظلہ بن عبیداللہ اور سنن ابن ماجہ میں بطریق جریر بن حازم عن حنظلہ بن عبدالرحمن الدوسی اور شرح معانی الآثار امام طحاوی میں بطریق حماد بن سلمہ و حماد بن زید ویزید بن زریح وابی ہلال کلہم عن حنظلۃ الدوسی انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
قال قال رجل یا رسول اﷲ الرجل منا یلقی اخاہ اوصدیقہ اینحنی لہ قال لا ۳؎۔
ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم میں کوئی شخص اپنے بھائی یا دوست سے ملے تو اس کے لئے جھکے۔ فرمایا: نہ۔
(۳؎ جامع الترمذی ابواب الادب باب ماجاء فی المصافحۃ امین کمپنی دہلی ۲/ ۹۷)
(سنن ابن ماجہ باب المصافحۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۷۱)
امام طحاوی کے لفظ یہ ہیں :
انھم قالوا یارسول اﷲ اینحنی بعضنا لبعض اذا التقینا قال لا ۴؎۔
صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ ! کیا ملتے وقت ہم ایک دوسرے کے لئے جھکے فرمایا : نہ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔
(۴؎ شرح معانی الآثار کتاب الکراھیۃ باب المعانقۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/ ۳۹۹)
نوع دوم :قبر کی طرف سجدہ کی ممانعت حدیث بست وچہارم : امام احمد وامام مسلم وابوداؤد وترمذی ونسائی وامام طحاوی ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں ـ :
لا تصلوا الی القبور ولاتجلسوا علیھا ۱؎۔
قبروں کی طرف نماز نہ پڑھونہ ان پر بیٹھو۔
(۱؎صحیح مسلم کتاب الجنائز ۱/ ۳۱۲ و سنن ابی داؤد کتاب الجنائز ۲/ ۱۰۴)
(جامع الترمذی ابوا ب الجنائز ۱/ ۱۲۵ وشرح معانی الآثار کتاب الجنائز ۱/ ۳۴۶)
حدیث بست وپنجم : طبرانی معجم کبیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لاتصلوا الی قبروا ولا تصلوا علی قبر ۲؎۔
نہ قبر کی طرف نماز پڑھو نہ قبر پر نماز پڑھو۔ تیسیر میں ہے اس حدیث کی سند حسن ہے،
(۲؎ المعجم الکبیر عن ابن عباس حدیث ۱۲۰۵۱ المکتبہ الفیصلیۃ بیروت ۱۱ /۳۷۶)
حدیث بست وششم : صحیح ابن حبان میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من الصلٰوۃ الی القبور ۳؎۔
قبروں کی طرف نماز پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ علامہ مناوی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
(۳؎ کنز العمال بحوالہ حب عن انس حدیث ۱۹۱۹۱ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۷/ ۳۴۴)
حدیث بست وہفتم : ابوالفرج کتاب العلل میں بطریق رشد بن کریب عن ابیہ ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الا لایصلین احد الی احد ولا الی قبر ۴؎۔
خبردار! ہرگز نہ کوئی کسی آدمی کی طرف نماز میں منہ کرے نہ کسی قبر کی طرف، فیہ جبارۃ عن مندل رضی رشدین
حدیث وبست وہشتم : امام بخاری اپنی صحیح میں تعلیقا اور امام احمد وعبدرالرزاق وا بوبکر بن ابی شیبہ ووکیع بن الجراح وابونعیم استاد امام بخاری وابن منیع سند انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
رأنی عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وانا اصلی الی قبر فقال القبر امامک فنھانی وفی روایۃ للوکیع قال لی القبر لاتصل الیہ وفی روایۃ الفضل بن دکین فناداہ عمر القبر القبر فتقدم و صلی وجاز القبر۔
مجھے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے قبر کی طرف نماز پڑھتے دیکھا فرمایا تمھارے آگے قبر ہے قبر سے بچو قبر سےبچو اس کی طرف نماز نہ پڑھو۔ (اور فضل بن دکین کی روایت میں ہے کہ عمر نے پکارا قبر قبر۔ ت) یہ نماز ہی میں قدم بڑھائے کر آگے ہوگئے
(۱؎ کنز العمال بحوالہ عب، ش وابن منبع عن انس حدیث ۲۲۵۱۰ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۸/ ۱۹۳)
حدیث بست ونہم : احمد، وبخاری، مسلم، نسائی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
ان رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم قال فی مرضہ الذی لم یقم منہ لعن اﷲ الیھود والنصارٰی اتخذواقبور انبیائھم مساجد قالت ولولا ذٰلک لابرز قبرۃ غیرانہ خشی ان یتخذ مسجدا ۲؎ وفی روایۃ لھم عنھا عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اولئک شرار الخلق عنداﷲ عزوجل یوم القیمۃ ۳؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنی وفات اقدس کے مرض میں فرمایا : یہود ونصارٰی پر اللہ کی لعنت ہو انھوں نے اپنے انبیا کی قبروں کو محل سجدہ بنالیا اور فرمایا ایسا کرنے والے اللہ عزوجل کے نزدیک روز قیامت بد ترین خلق ہیں۔ ام المومنین نے فرمایا: یہ نہ ہوتا تو مزار اطہر کھول دیا جاتا مگر اندیشہ ہو ا کہ کہیں سجدہ نہ ہونے لگے لہذا احاطہ مخفی رکھا گیا۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الجنائز باب مایکرہ من اتخاذ المسجد علی القبور موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۷۷)
(صحیح البخاری باب ماجاء فی قبر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وابی بکر وعمر موسسۃ الرسالہ بیروت ۱/ ۱۸۶)
(صحیح البخاری کتاب المغازی باب مرض النبی وفاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۶۳۹)
(صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱)
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶/ ۱۲۱ و ۲۵۵)
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ باب ھل ینیش قبور مشرکی الجاھلیۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۱)
(صحیح مسلم کتاب المساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱)
حدیث سیم : اجلہ ائمہ مالک ومحمد وبخاری ومسلم وابوداؤد ونسائی وابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
یہود ونصارٰی کو اللہ مارے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدے کا مقام کرلیا۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ ۱/ ۶۲ و صحیح مسلم کتاب المساجد ۱/ ۲۰۱ وسنن ابی داؤد باب النباء علی القبر ۳/ ۱۰۴)
حدیث سی ویکم : مسلم اپنی صحیح اور عبدالرزاق مصنف اور دارمی سنن میں ام المومنین وعبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قالا لما نزلت برسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم طفق یطرح خمیصۃ لہ علی وجہہ فاذا اغتم کشفھا عن وجہہ فقال وھو کذٰلک لعنۃ اﷲ علی الیھود والنصارٰی اتخذوا قبور انبیائھم مساجد یحذر مثل ماصنعوا ۲؎۔
نزع روح اقدس کے وقت رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چادر روئے اقدس پرڈال لیتے جب ناگوار ہوئی مٹہ کھول دیتے۔ اسی حالت میں فرمایا : یہود ونصارٰی پر اللہ کی لعنت انھوں نے اپنے انبیاء کی قبریں مساجد کرلیں، ڈراتے تھے کہ ہمارے مزار پر انوار کے ساتھ ایسا نہ ہو۔
(۲؎ صحیح البخاری کتاب الصلٰوۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۶۲)
(صحیح مسلم کتا بالمساجد باب النہی عن بناء المسجد علی القبور قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۰۱)
(المصنف عبدالرزاق حدیث ۱۵۸۸ المکتب الاسلامی بیرو ۱/ ۴۰۶)
(کنز العمال بحوالہ عب عن عائشہ وابن عباس حدیث ۲۲۵۱۸ مؤسستہ الرسالہ بیروت ۸/ ۱۹۴)
(سنن الدارمی حدیث ۱۴۱۰ دارالمحاسن للطباعۃ ۱/ ۲۶۷)