Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
85 - 146
حدیث دوازدہم: بزار مسند اور حاکم مستدرک اور ابونعیم دلائل اور امام فقیہ ابواللیث تنبیہ الغافلین میں باسانید خودہا بریدہ بن  الحصیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
واللفظ لابی نعیم تعالی جاء اعرابی الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قد اسلمت فأرنی شیئا ازددبہ یقینا فقال ماالذی ترید قال ادع تلک الشجرۃ ان تاتیک قال اذھب فادعھا فاتاھا الاعرابی فقال اجیبی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فمالت علی جانب من جوانبھا فقطعت عروقہا ثم مالت علی الجانب الاٰخر فقطعت عروقہا حتی اتت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالت السلام علیک یا رسول اﷲ فقال الاعرابی حسبی حسبی فقال لھا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارجعی فرجعت فجلست علی عروقہا وفروعھا فقال الاعرابی ائذن لی یا رسول اﷲ ان اقبل راسک ورجلیک ففعل ثم قال ائذن لی ان اسجد لک قال لایسجد احد لاحد ولو امرت احدا ان یسجد لاحد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا لعظم حقہ علیھا ۱؎ ولفظ الفقیہ قال اتأذن لی ان اسجد لک قال لاتسجد لی ولایسجد احد لاحد من الخلق ولوکنت اٰمرا احدا بذٰلک لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا تعظیما لحقہ ۲؎۔
ایک اعرابی نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوکر عرض کی یا رسول اللہ ! میں اسلام لایاہوں مجھے ایسی چیز دکھائے کہ میرا یقین بڑھے۔ فرمایا: کیا چاہتاہے ۔ عرض کی: حضور ! اس درخت کو بلائیں کہ حضور میں حضور فرمایا: جا بلا۔ وہ اعرابی درخت کے پاس گئے اور کہا تجھے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں۔ وہ فورا ایک طرف کو اتنا جھکا کہ ادھر کے ریشے ٹوٹ گئے پھر ادھر اتنا جھکا کہ ادھر کے ریشے ٹوٹ گئے پھر چلا اور حضور انور میں حاضر ہوکر صاف زبان سے کہا سلام حضو پر اے اللہ کے رسول۔ اعرابی نے کہا: مجھے کافی مجھے کافی۔ رسول اللہ صلی الہ تعالٰی علیہ وسلم نے درخت سے فرمایا : پلٹ جا، فورا واپس ہوا اور انھیں ریشوں پر مع شاخوں کے بدستور جم گیا۔ اعرابی نے عرض کی  : یا رسول اللہ ! مجھے اجازت عطا ہو کہ سر اقدس اور دونوں پائے مبارک کو بوسہ دوں حضور نے اجاز ت دی۔ پھر عرض کی اجازت عطا ہو کو حضور کو سجدہ کرو۔ فرمایا: مجھے سجدہ نہ کرنا مخلوق میں کوئی  کسی کے لئے  سجدہ نہ کریں میں کسی کے لیے اس کا حکم کرتا تو عورت کو حکم کرتا کہ حق شوہر کی تعظیم کے لئے اسے سجدہ کرے۔ حاکم نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔
 (۱؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم     الفصل الثالث والعشرون     عالم الکتب بیروت     الجزء الثانی    ص۱۳۸)

(۲؎ تنبیہ الغافلین     باب حق الزوج علی زوجتہ     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۴۰۶)
حدیث سیزدہم : امام احمد وابن ماجد وابن حبان وبیہقی عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:
واللفظ لابن ماجۃ قال لما قدم معاذ من الشام سجدللنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال ماھذا یا معاذ، قال اتیت الشام فوافقتھم یسجدون لاساقفتھم وبطارفتھم فوددت فی نفسی ان نفعل ذٰلک بک فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فلا تفعلوا فانی لوکنت امرا احدا ان یسجد لغیر اﷲ تعالٰی لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
جب معاز بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ شام سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کیا۔ حضور نے فرمایا: معاذ! یہ کیا ، عرض کی : میں ملک شام کو گیا وہاں نصارٰی کو دیکھا کہ اپنے پادریوں اورسرداروں کو سجدہ کرتے ہیں تو میرا دل چاہا کہ ہم حضور کو سجدہ کریں، فرمایا : نہ کرو۔ میں اگر سجدہ غیر خدا کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
 (۱؎ سنن ابن ماجہ    ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۳۴)
اقول: (میں کہتاہوں) یہ حدیث حسن ہے اس کی سند میں کوئی ضعیف نہیں۔ ابن حبان نے اس کو صحیح روایت کیا اور منذری نے اس کے صالح ہونے کا اشارہ کیا۔

حدیث چہاردہم: حاکم صحیح مستدرک میں معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
انہ اتی الشام فراٰی النصاری یسجدون لاساقفتھم ورھبانھم وراٰی الیھود یسجدون لاحبارھم وربانیھم فقال لای شیئ تفعلون ھذا؟ قالو اھذا تحیۃ لانبیاء قلت فنحن احق ان نصنع بنبینا فقال نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انھم کذبوا علی انبیاء ھم کما حرفوا کتابھم لو امرت احدا  ان یسجد لا حد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا من عظم حقہ علیھا ۲؎۔
وہ شام کو گئے دیکھا نصارٰی نے اپنے پادریوں اور فقیروں کو سجدہ کرتے ہیں اور یہود اپنے عالموں اور عابدوں کو، ان سے پوچھا یہ کیوں کرتے ہو بولے یہ انبیا کی تحیت ہے ۔معاذا فرماتے ہیں میں نے کہا تو ہمیں زیادہ سزا وار ہے کہ ہم اپنے نبی کو کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اپنے انبیاء پر بہتان کرتے ہیں جیسے انھوں نے اپنی کتاب بدل دی ہے کسی کو کسی کے سجدہ کاحکم فرماتا تو شوہر کے عظیم حق کے سبب عورت کو حاکم نے کہا : یہ حدیث صحیح ہے۔
 (۲؎ الدرالمنثور     بحوالہ حاکم عن معاذ بن جبل     تحت آیۃ ۴/ ۳۴     مکتبہ آیۃ العظمٰی قم ایران    ۲/ ۱۵۴)

(مجمع الزوائد    عن معاذ بن رضی اللہ تعالٰی عنہ کتاب النکاح حق الزوج علی المرأۃ     دارالکتاب بیروت    ۴/ ۱۰۔ ۳۰۹)
حدیث پانزدہم : امام احمد مسند اورابوبکر بن ابی شیبہ مصنف اور طبرانی کبیر میں معاذ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
انہ لما رجع من الیمن قال یارسول اﷲ رأیت رجالا بالیمن یسجد بعضھم لبعض افلا نسجد لک قال لوکنت اٰمرا بشرا یسجد بشرا لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا۔۱؎
وہ جب یمن سے واپس آئے عرض کی یار سول اللہ میں نے یمن میں لوگوں کو دیکھا ایک دوسرے کو سجدہ کرتے ہیں تو کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں، فرمایا : اگر میں کسی بشرکے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل     حدیث معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۵/ ۲۸۔ ۲۲۷)

(الدرالمنثور   بحوالہ ابن ابی شیبہ واحمد تحت آیۃ   ۴/ ۳۴    مکتبہ آیۃ اللہ المظمی قم ایران    ۲/ ۱۵۳)

(المعجم الکبیر    حدیث ۳۷۳   المکتبہ الفیصلیۃ بیروت    ص۱۷۴،۱۷۵)
اقول :(میں کہتاہوں) یہ حدیث صحیح ہے اس کے سب راوی رجال بخاری ومسلم ہیں اور جب دونوں حدیثیں صحیح ہیں لاجرم دو واقعے ہیں ا ول بارشام میں یہود ونصارٰی کو دیکھ کر آئے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کیا جس پر ممانعت فرمائی دوبارہ اہل یمن کو دیکھ کر آئے اب اپنے مولٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کے کمال شوق میں یا تو پہلا واقعہ ذہن سے اتر گیا یا اس میں بوجہ مخالفت یہود ونصارٰی کہ آخر میں عمل نبوی اسی پر تھا نہی ارشاد کو محتمل سمجھااور بسبب احتمال نہی حتمی اس بار پہلے کی طرح سجدہ کیا نہیں حرف اذن چاہا اور ممانعت فرمائی گئی واللہ تعالٰی اعلم۔
حدیث شانزدہم :  ابوداؤد سنن اور طبرانی کبیر میں اور حاکم وبیہقی نے قیس بن سعد رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
قال اتیت الحیرۃ قرأیتھم یسجدون لمر زبان لھم فقلت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم احق ان یسجد لہ، قال فاتیت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقلت انی اتیت الحیرۃ فرأیتھم یسجدون لمرزبان لھم فانت یارسول اﷲ احق ان نسجد لک قال ارأیت لو مررت بقبری اکنت تسجد لہ قلت لا قال فلا تفعلوا لوکنت امرا احد ان یسجد لاحد لامرت النساء ان یجسدن لازواجھن لما جعل اﷲ لھم علیھن من الحق ۱؎۔
میں شہر حیرہ میں (کہ قریب کوفہ ہے) گیا وہاں کے لوگوں کو دیکھا اپنے شہر یار کو سجدہ کرتے ہیں میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم زیادہ مستحق سجدہ ہیں۔ خدمت اقدس میں حاضر ہوکر یہ حال وخیال عرض کیا: فرمایا بھلا اگر تمہارے مزار کو پر گزرو تو کیا مزار کو سجدہ کروگے۔ میں نے عرض کی: نہ ۔ فرمایا: تو نہ کرو۔ میں کسی کو کسی کے سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو شوہروں کے سجدے کاحکم فرماتا اس حق کے سبب جو اللہ تعالٰی نے ان کاان پر رکھا ہے۔  اور ابوداؤد نے سکوتا اس حدیث کو حسن بتایا اور حاکم نے تصریحا کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے تلخیص میں اسے مقرر کھا۔ کما فی الاتخاف (جیسا کہ اتحاف میں ہے۔ ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/ ۲۹۱)

(المستدرک للحاکم     کتاب النکاح  دارالفکر بیروت        ۲/ ۱۸۷)

(السنن الکبرٰی  کتاب القسم والنشوز باب ماجاء فی عظم حق الزوج علی المرأۃدار صادر بیروت    ۷/ ۲۹۱)
Flag Counter