حدیث پنجم : بیہقی وابونعیم دلائل النبوۃ میں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
بینما نحن قعود مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا تاہ اٰت فقال یا رسول اﷲناضح آل فلاں قدابق علیھم فنھض رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم (فذکر القصۃ وفیہ سجود البعیر لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم) قال فقال اصحابہ یا رسول اﷲ بہیمۃ من البھائم تسجد لک لتعظیم حقک فنحن احق ان نسجد لک قال لا لوکنت آمرا احدا من امتی ان یسجد بعضھم لبعض لامرت النساء ان یسجدن لازواجھن۲؎۔
ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے کسی نے آکر عرض کی فلاں گھر کا شتر آبکش بے قابو ہوگیا حضور اٹھے اور ہم ہمراہ رکاب اٹھے ہم نے عرض کی حضور! اس کے پاس نہ جائیں۔ حضور تشریف لے گئے اونٹ کی نظر جمال انور پر پڑنا اور اس کا سجدے میں گرنا صحابہ نے عرض کی : یا رسول اللہ! ایک چوپایہ تو حضور کی تعظیم حق کے لئے حضور کو سجدہ کرے ہم زیادہ اس کے لائق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں، فرمایا: نہیں اگر میں اپنی امت میں ایک دوسرے کو سجدہ کا حکم دیتا تو عورتوں کو فرماتا کہ شوہروں کو سجدہ کریں۔
(۲؎دلائل النبوۃلابی نعیم الفصل الثامن والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۷)
حدیث ششم : احمد مسند اور حاکم مستدرک اور طبرانی معجم کبیر اور بیہقی ابونعیم دلائل النبوۃ اور بغوی شرح سنہ میں یعلٰی بن مرۃ ثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال خرج النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوما فجاء بعیر یرغو حتی سجد لہ فقال المسلمون نحن احق ان نسجد للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال لوکنت اٰمرا احدا ان یسجد لغیر اﷲ تعالٰی لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
ایک روز حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم باہر تشریف لئے جاتے تھے ایک اونٹ بولتا ہوا آیا قریب آکر حضور کو سجدہ کیا۔ مسلمانوں نے کہا ہمیں توزیادہ لائق ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو سجدہ کریں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : میں کسی کو غیر خدا کے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو فرماتا کہ شوھر کو سجدہ کرے۔ جانتے ہو یہ اونٹ کیا کہتاہے۔ یہ کہہ رہا ہے کہ اس نے چالیس برس اپنے آقا کی خدمت کی جب بوڑھا ہوا انھوں نے اس کا چارہ کم اور کام زیادہ کرد یا اب کہ ان کے یہاں شادی ہے چھری لی کہ حلال کریں۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کے مالکوں سے فرمابھیجا کہ اونٹ یہ شکایت کرتا ہے۔ انھوں نے عرض کی : یا رسول اللہ! واللہ وہ سچ کہتاہے۔ فرمایا میں تو چاہتاہوں کہ تم اسے میری خاطر چھوڑدو، انھوں نے چھوڑ دیا۔ مطالع المسرات میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
(۱؎ مطالع المسرات شرح دلائل الخیرات مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۲۴۱)
(دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۶)
حدیث ہفتم : مسند امام احمد میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے :
ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کان فی نفر من المھاجرین والانصار فجاء بعیر فسجد لہ فقال اصحابہ یا رسول اﷲ تسجد لک البھائم والشجر فنحن احق ان نسجد لک فقال اعبدوا ربکم و اکرموا اخاکم ولوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۲؎۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک جماعت مہاجرین وانصارمیں تشریف فرماتھے کہ ایک اونٹ نے آکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ چوپائے اور درخت حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو ہم تو زیادہ مستحق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں۔ فرمایا : اللہ کی عبادت کرو اور ہماری تعظیم۔ اگر میں کسی کو کسی کے سجدے کا حکم کرتا تو عورت کو حکم دیتا کہ شوہر کو سجدہ کرے۔
اس حدیث کا صرف اخیر ٹکڑا کہ ''اگر میں کسی کو سجدہ کاحکم کرتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا ''سنن ابن ماجہ میں بھی ہے اور اسی قدر ترغیب میں ابن حبان اور درمنثور میں ابوبکر بن ابی شیبہ کی طرف نسبت کیا۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا المکتب الاسلامی بیرو ۶/ ۷۶)
حدیث ہشتم : ابونعیم دلائل میں ثعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ سے راوی :
قال اشتری انسان من بنی سلمۃ جملا ینضح علیہ فادخلہ فی مربد فجرد کیما یحمل فلم یقدر احد ان یدخل علیہ الاتخبطہ فجاء رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذکر لہ ذٰلک فقال افتحوا عنہ فقالوا انانخشی علیک یا رسول اﷲ فقال افتحوا منہ فقتحوا فلما راٰہ الجمل خر ساجدا فسبح القوم وقالوا یارسول اﷲ کنا احق بالسجود من ھذہ البھیمۃ قال لوینبغی شیئ من الخلق ان یسجد لشیئ دون اﷲ ینبغی للمرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
بنی سلمہ میں کسی نے ایک اونٹ آبکشی کو خرید کر سار میں کردیا جب اسے لادنا چاہا جو پاس جاتا اس پر حملہ کرتا۔ حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جلوہ افروز ہوئے۔ سرکار میں یہ حال معروض ہوا ارشاد ہوا دروازہ کھولو، کھول دیا۔ اونٹ کی نگال جمال انور پر پڑنی تھی کہ حضور کے لئے سجدہ میں جاگرا۔ حاضرین میں سبحان اللہ سبحان اللہ کاشور پڑگیا۔ پھر عرض کی: یا رسول اللہ! ہم تو اس چوپائے سے زیادہ سجدہ کرنے کے سزا وار ہیں۔ فرمایا : اگر مخلوق میں کسی کو کسی غیر خدا کے لئے سجدہ مناسب ہوتا تو عورت کو چاہئے تھا کہ شوہر کوسجدہ کرے۔
(۱؎ دلائل النبوۃ الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۶)
حدیث نہم : ابونعیم غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال خرجنا مع رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فرأینا عنہ عجبا من ذٰلک انا مضینا فنزلنا فجاء رجل فقال یا نبی اﷲ انہ کان لی حائط فیہ عیشی وعیش عیالی ولی فیہ ناضحان فاغتلما علی فمنعانی نفسھما وحائطی وما فیہ ولایقدر احد ان یدنو منھما فنھض نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم باصحابہ حتی اتی الحائط فقال لصاحبہ افتح فقال یانبی اﷲ امرھما اعظم من ذلک قال افتح فلما حرک الباب قبلا لھما جلبۃ کحفیف الریح فلما انفرج الباب ونظرا الی نبی اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم برکا ثم سجدا فاخذ نبی اﷲ بروسھما ثم دفعہما الی صحابھما فقال استعملھما واحسن علفھما فقال القوم یانبی اﷲ تسجدلک البھائم فبلاء اﷲ عندنا بک احسن حین ھدانا اﷲ من الضلالۃ واستنقذنابک من المھالک افلا تأذن لنا فی السجود لک فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان السجود لیس لی الاللحی الذی لایموت ولو انی امراحدا من ھذہ الامۃ بالسجود لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
ہم ایک سفر میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رکاب انور میں تھے ہم نے ایک عجیب بات دیکھی ہم ایک منزل میں اترے وہاں ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کی : یا نبی اﷲ! میرا ایک باغ ہے کہ میری اور میرے عیال کی وہی وجہ معاش ہے اس میں میرے دوشتر آبکش تھے دونوں مست ہوگئے ہیں نہ اپنے پاس آنے دیں نہ باغ میں قدم رکھنے دیں کسی کی طاقت نہیں کہ قریب جائے، حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مع صحابہ کرام آٹھ کر اس کے باغ کو گئے، فرمایا کھول دے ، عرض کی یا نبی اللہ! ان کا معاملہ اس سے سخت تر ہے۔ فرمایا کھول، دروازے کو جنبش ہونی تھی کہ دونوں شور کرتے ہوا کی طرح جھپٹے، دروازہ کھلا اور انھوں نے جب حضور ازقدس صلی اللہ تعالٰی علیہو سلم کو دیکھاتو فورا سجدے میں گر پڑے۔ حضور نے ان کے سر پکڑ کر مالک کے سپرد کردئے اور فرمایا ان سے کام لے اور چارہ بخوبی دے۔ حاضرین نے عرض کی یانبی اللہ! چوپائے حضور کو سجدہ کرتے ہیں تو حضور کے سبب ہم پر اللہ کی نعمت تو بہتر ہے، اللہ نے گمراہی سے ہم کو راہ دکھائی اور حضورکے ہاتھوں پر ہمیں دنیا و آخرت کے مہلکوں سے نجات دی کیا حضور ہم کو اجازت نہ دیں گے کہ ہم حضور کو سجدہ کریں۔ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا سجدہ میرے لئے نہیں وہ تو اسی زندہ کے لئے ہے جو کبھی نہ مرے گا امت میں کسی کو سجدہ کاحکم دیتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا۔
(۱؎ دلائل النبوۃ الفصل الثانی والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۳۷۔۱۳۶)
حدیث دہم : طبرانی کبیر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
ان رجلا من الانصار کان لہ فحلان فاغتلما فادخلھا حائطا فسد علیھما الباب ثم جاء الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاراد ان یدعولہ والنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قاعدومعہ نفر من الانصار (فساق الحدیث وفیہ) فقال افتح ففتح الباب فاذا احدا الفحلین قریب من الباب فلما رأی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سجدلہ فشد رأسہ وامکنہ منہ ثم مشی الی اقصی الحائط الی الفحل الاخر فلما رأہ وقع لہ ساجدا فشد رأسہ وامکنہ منہ وقال اذھب فانھما لایعصیانک وفیہ قول صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا آمر احدا ان یسجد لاحد ولا آمرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
اس میں بھی حدیث ہشتم کی طرح دو اونٹوں کا مست ہونا ہے وہ سفر کا قصہ تھا اس میں یہ ہے کہ ان کے مالک انصاری دعا کرانے آئے کہ اللہ تعالٰی ان اونٹوں کو مسخر فرمادے اور حضور تشریف لے گئے دروازہ کھلوایا ایک دروازے کے قریب تھا دیکھتے ہی سجدے میں گرا حضور اقد س صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے باندھ کر حوالہ مالک کیا پھر منتہائے باغ پر تشریف لے گئے دوسرا وہاں ملا اس نے بھی سجدہ کیا اسے بھی باندھ کر حوالہ کیا اور درخواست سجدہ پر ارشاد ہوا میں کسی کو کسی کے سجدہ کے لئے نہیں فرماتا ایسا فرمانا ہوتا تو عورت کو سجدہ شوہر کا حکم کرتا۔
______________________________________تغایر سیاق دلیل ہے کہ یہ جدا وقعہ ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
حدیث یازدہم : عبد بن حمید وابوبکر بن ابی شیبہ ودارمی واحمد وبزار وبیہقی جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی :
وھذا لفظ الدارمی فی حدیث طویل مشتمل علی معجزات قال خرجت مع النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی سفر (فذکر معجز تین الی ان قال ) ثم سرنا ورسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیننا کانما علی رؤسنا الطیر تظلنا فاذا جمل ناد، حتی اذا کان بین سما طین خر ساجدا (ثم ساق الحدیث الی ان قال ) قال المسلمون عند ذٰلک یا رسول اﷲ نحن احق بالسجود لک من البھائم قال لاینبغی لشیئ ان یسجد لشیئ ولو کان ذٰلک کان النساء لازواجھن ۱؎۔
''میں ایک سفر میں ہمراہ رکاب والا تھا قضائے حاجت کے لئے پردے کی ضرورت تھی دوپیڑ چارگز کے فاصلے سے تھے مجھ سے فرمایا : اے جابر اس پیڑ سے کہہ دے کہ دوسرے سے مل جا۔ فورا مل گئے۔ بعد فراغ اپنی اپنی جگہ چلے گئے پھرسوار ہوا راہ میں ایک عورت اپنا بچہ لئے ملی۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! اسے ہر روز تین دفعہ شیطان دبا تا ہے حضور نے اس سے بچہ لےکر تین بار فرمایا : دور ہو اے خدا کے دشمن! میں اللہ کا رسول ہوں پھر بچہ اس کی ماں کو دے دیا۔ جب ہم پلٹتے ہوئے اسی منزل میں پہنچے وہی بی بی اپنا بچہ اور دو دنبے لئے حاضر ہوئی عرض کی یا رسول اللہ میر ا ہدیہ قبول فرمائیں قسم اس کی جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا کہ جب سے بچے کے خلل نہ ہوا۔ حضور نے فرمایا ایک دنبہ لے لو ایک پھیر دو۔ پھر ہم چلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیچ میں تھے گویا ہمارے سروں پر پرندے سایہ کئے ہیں ناگاہ ایک اونٹ چھوٹا ہوا آیا جب دونوں قطاروں کے بیچ میں ہوا سجدہ کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اس کا مالک حاضر ہو کچھ انصاری جوان حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! یہ ہمارا ہے فرمایا اس کا کیا قصہ ہے۔ عرض کی بیس برس سے ہم نے اس پر آبکشی نہ کی یہ فربہ چربی دار ہے اب چاہاکہ اسے حلال کرکے بانٹ لیں یہ ہم سے چھوٹ آیا۔ فرمایا یہ ہمارے ہاتھ فروخت کردو۔ عرض کی بلکہ یا رسول اللہ! وہ حضور کی نذر ہے۔ فرمایا اگر میرا ہے تو اس کے مرتے دم تک اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو، یہ دیکھ کر مسلمان نے عرض کی: یا رسول اللہ! چوپاؤں سے زیادہ ہمیں لائق ہے کہ حضور کو سجدہ کریں، فرمایا: کسی کو کسی کا سجدہ مناسب نہیں ورنہ عورتیں شوہر کو کرتیں'' امام جلیل سیوطی نے مناہل میں فرمایا : اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام قسطلانی نے مواہب شریف اور علامہ فاسی نے مطالع میں فرمایا : جید ہے۔ زرقانی نے کہا: اس کے سب راوی ثقہ ہے۔
(۱؎ سنن الدارمی باب مااکرم اللہ بہ نبیہ من ایمان الشجر بہ والبہائم والجن دارالمحاسن للطباعۃ القاہرہ ص۱۸۔ ۱۹)