حدیث میں چہل حدیث کی بہت فضیلت آتی ہے۔ ائمہ وصلحاء نے رنگ رنگ کی چہل حدیثیں لکھی ہیں ہم بتوفیقہ تعالٰی یہاں غیر خدا کو سجدہ حرام ہونے کی چہل حدیث لکھتے ہیں یہ حدیثیں دو نوع:
نوع اول: سجدہ غیر کی مطلقا ممانعت۔
حدیث (عہ) اول : جامع ترمذی وصحیح ابن حبان وصحیح مستدرک ومسند بزار وسنن بیہقی میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے :
قال جاءت امرأۃ الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقالت یارسول اﷲ اخبر نی ماحق الزوج علی الزوجۃ قال لوکان ینبغی لبشر ان یسجد لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا اذا دخل علیہالما فضلہ اﷲ علیھا ھذا لفظ البزار ۱؎ والحاکم والبیھقی وعندالترمذی المرفوع منہ بلفظ لوکنت آمرا احدا ان یسجد لاحد لا مرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۲؎۔
ایک عورت نے بار گاہ رسالت علیہ افضل الصلٰوۃ والتحیۃ میں حاضر ہوکر عرض کی یا رسول اللہ شوہر کا عورت پر کیا حق ہے۔ فرمایا اگر کسی بشر کو لائق ہوتا کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کرے تومیں عورت کو فرماتا کہ جب شوہرگھر میں آئے اسے سجدہ کرے اس فضیلت کے سبب جو اللہ نے اسے اس پر رکھی ہے یہ الفاظ بزر، حاکم اور بیہقی کے ہیں۔ امام ترمذی کے ہاں مرفوع الفاظ یہ ہیں کہ اگر کسی کو کسی کے لئے سجدہ کاحکم فرماتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث حسن صحیح ہے۔ (ت)
(۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار حدیث ۱۴۶۶ باب حق الزوج علی زوجتہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۱۷۸)
(المستدرک للحاکم کتا ب النکاح ۲/ ۱۸۹ و الترغیب والترھیب بحوالہ البزار والحاکم ۳/ ۵۴)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب الرضاع باب ماجاء فی الزوج علی المرأۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۳۸)
عہ : رأیتہ فی جامع الترمذی وغرہ فی الدرالمنثور ۱؎ تحت قولہ عزوجل الرجال قوامون علی النساء للبزار والحاکم والبیھقی وفی نکاح والترغیب، ۲؎ وذیل الجامع۳؎ الصغیر لابن حبان اقتصر فی ھذا علی مرفوعہ مشیا من الکتاب علی موضوعہ و وقع فی کنز العمال ۴؎ رمزن للنسائی وھو تصحیف ت للترمذی ۱۲ منہ ۔
میں نےیہ حدیث جامع ترمذی میں دیکھی ہے اور اس کو درمنثور نے آیۃ کریمہ ''الرجال قوامون علی النساء'' کی تفسیر میں بزار حاکم اور بیہقی کی طرف منسوب کیا ہے اور ترغیب کے باب نکاح اور جامع صغیر کے ذیل میں اس کو ابن حبان کی طرف منسوب کیا اور اس میں صرف مرفوع حصہ پر اقتصار کیا ہے اپنی کتاب کے موضوع کے مطابق اور کنزا العمال میں رمز ن نسائی واقع ہے حالانکہ یہ رمز ت کی جگہ ن کو ذکر کردیا گیا ہے یعنی ترمذی کے بجائے غلطی سے نسائی کا رمز کردیا ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ الدرالمنثور تحت آیۃ الرجال قوامون الخ ۲ /۱۵۲) (۲؎ اترغیب والترھیب حدیث ۱۹ ۳/ ۵۴)
(۳؎ کنزالعمال حدیث ۴۴۷۹۴ ۱۶/ ۳۳۶ ) (۴؎ کنزالعمال حدیث ۴۴۷۷۳ ۱۶/ ۳۳۲)
حدیث(عہ) دوم: بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی:
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حائطا فجاء بعیر فسجد لہ فقالوا ھذہ بہیمۃ لاتعقل سجدت لک ونحن نعقل فنحن ان نسجد لک فقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لبشران یسجد بشرلو صلح لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا لما لہ من الحق علیھا۔
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم ایک باغ میں تشریف لے گئے ایک اونٹ نے حاضر ہوکر حضور کو سجدہ کیا صحابہ نے عرض کی یہ بے عقل چوپایہ ہے اس نے حضور کو سجدہ کیا ہم تو عقل رکھتے ہیں ہمیں زیادہ لائق ہے کہ حضور کوسجدہ کریں۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آدمی کو لائق نہیں کہ آدمی کو سجدہ کرے ایسا مناسب ہوتا تو میں عورت کو فرماتا کہ شوہر کو سجدہ کرے اس حق کے سبب جو اس کا اس پر ہے۔
امام جلال الدین سیوطی نے مناہل الصفا میں فرمایا: اس حدیث کی سند حسن ہے۔
شفاء شریف کی شروح خفاجی اور قاری کی اور مناہل الصفا تخریج احادیث الشفاء امام خاتم الحفظ کی۔ ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ مجمع الزوائد بحوالہ احمدوالبزار باب فی معجزاتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم الخ دارالکتب بیروت ۹/ ۷۱۴)
(نسیم الریاض فصل فی الآیات فی ضروب الحیوانات ۳ /۸۰ ، ۸۱ و شرح الشفاء لملاعلی قاری علی ہامش نسیم الریاض۳/ ۸۰)
حدیث (عہ) سوم : احمد ونسائی وبزار وابونعیم انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال کان اھل بیت من الانصار لھم جمل یسنون علیہ وانہ استصعب علیھم (فذکر القصۃ الی قولہ) فلما نظر الجمل الی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خر ساجدا بین یدیہ فقال لہ اصحابہ یار سول اﷲ ھذہ بہیمۃ لاتعقل تسجد لک ونحن نعقل فنحن احق ان نسجد لک قال لایصلح لبشران یسجد لبشرولو صلح ان یسجد بشر لبشر لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا من عظم حقہ علیھا ۱؎ وعند النسائی مختصرا۔
یعنی انصار میں ایک گھر کا آبکشی کا اونٹ بگڑ گیا کسی کو پاس نہ آنے دیتا کھیتی اور کھجوریں پیاسی ہوئیں۔ سرکار میں شکایت عرض کی، صحابہ سے ارشاد ہوا چلو باغ میں تشریف فرماہوں۔ اونٹ اس کنارے پر تھا۔ حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف چلے۔ انصارنے عرض کی یا رسول اللہ! وہ بورا نے (باؤلے) کتے کی طرح ہوگیا ہے مبادا حملہ کرے۔ فرمایا ہمیں اس کا اندیشہ نہیں۔ اونٹ حضور کو دیکھ کر چلا اور قریب آکر حضور کے لئے سجدہ میں گرا حضور نے اس کے ماتھے کے بال پکڑ کر کام میں دے دیا وہ بکری کی طرح ہوگیا (آگے وہی ہے کہ )صحابہ نے عرض کی ہم تو ذی عقل ہیں ہم زیادہ مستحق ہیں کہ حضور کو سجدہ کریں۔ فرمایا آدمی کو لائق نہیں کہ کسی بشر کو سجدہ کرے ورنہ میں عورت کو مرد کے سجدے کاحکم فرماتا۔ امام منذری نے کہا اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے راوی مشاہیر ثقہ۔
(۱؎ دلائل النبوۃ لابی نعیم الفصل الثانی والعشرون الجزء الثانی عالم الکتب بیروت ص۱۳۷)
(مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳/ ۵۹۔ ۵۸)
درمنثور میں احمد اور مواہب میں حمد اورنسائی کی طرف منسوب ہے اور ترغیب میں بزار کا اضافہ ہے۔ امام منذری نے کہا۔ اور اس کونسائی نے مختصرا روایت کیا ہے اھ اور میں نے ابونعیم کی دلائل النبوۃ میں دیکھا کہ اور کزشتہ غلطی کے برعکس یہاں غلطی ہے اس کو ترمذی نے ابوہریرہ کی حدیث کے تحت حضرات سے بطور تعلیق روایت کیاہے ان حضرات میں پہلے حضرت انس رضی اللہ عنہم ہیں۔ ۱۲ منہ (ت)
حدیث(عہ) چہارم: امام احمد وبزار وابونعیم انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی :
قال دخل النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حائطا الانصار ومعہ ابوبکر وعمر فی رجال من الانصار وفی الحائط غنم فسجدن لہ فقال ابوبکر یا رسول اﷲ کنا نحن احق بالسجود لک من ھذہ الغنم قال انہ لاینبغی فی امتی ان یسجد احد لاحد ولو کان ینبغی ان یسجد احد لاحد لامرت المرأۃ ان تسجد لزوجھا ۱؎۔
حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم انصار کے ایک باغ میں تشریف فرما ہوئے صدیق وفاروق اور کچھ انصار رضی اللہ تعالٰی عنہ ہمرارکاب تھے باغ میں بکریاں تھیں انھوں نے حضور کو سجدہ کیا صدیق نے عرض کی یا رسول اللہ ! ان بکریوں سے ہم زیادہ حقدار ہیں اس کے کہ حضور کو سجدہ کریں، تو فرمایا بیشک میری امت میں نہ چاہئے کہ کوئی کسی کو سجدہ کرے۔اور ایسا مناسب ہوتا تومیں عورت کو شوہر کو سجدے کا حکم فرماتا۔
ملا علی قاری نے شرح الشفاء امام قاضی عیاض میں کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے علامہ خفاجی نے نسیم الریاض میں کہا یہ حدیث صحیح ہے۔
(۱؎ نسیم الریاض فصل فی الآیات فی ضروب الحیوانات مرکز اہلسنت برکات رضا عجزات للہند ۳/ ۸۰)
(دلائل النبوۃلابی نعیم الفصل الثامن والعشرون ذکر سجود البہائم عالم الکتب بیروت الجزء الثانی ص۱۳۵)
عہ : عزاہ فی المواھب ۲؎ لابی محمد عبداﷲ بن حامد الفقیہ فی کتاب دلائل النبوۃ لہ فقال الزرقانی مابعد المصنف التجوز فقد رواہ احمد والبزار ۴؎ وکذٰلک عزاہ لھما الامام السیوطی فی مناھل الصفا فی تخریج حدیث الشفاء وررأیتہ ابی نعیم فی دلائل النبوۃ والیہ عزا فی الخصائص ۴؎ ۲ منہ
مواہب میں اس کو ابو محمد بن عبداللہ بن حامد فقیہ کی کتاب دلائل النبوۃ کی طرف منسوب کیا ہے تو زرقانی نے کہا مصنف کا مجازا ذکر ہے۔ تو اس کو احمد اور بزار نے روایت کیا اوریونہی امام سیوطی نے مناھل الصفا میں ان دونوں کی طرف منسوب کیا اور میں نے اس کو ابونعیم کی دلائل النبوۃمیں دیکھا ہے اور امام السیوطی نے خصائص میں اس کی طرف منسوب کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۲ ؎ المواہب اللدنیہ ۲/ ۵۵۱)
(۳؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ۵/ ۱۴۳ )
(۴؎ الخصائص الکبرٰی ۲/ ۲۶۵)