قال ربنا تبارک وتعالی ولایأمرکم ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربایا ایأمر کم بالکفر بعد اذانتم مسلمون ۱؎۔
(ہمارے رب تبارک وتعالٰی نے فرمایا) نبی کو یہ نہیں پہنچتا کہ تمھیں حکم فرمائے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو رب ٹھہرالو کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دے بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔
(۱؎القرآن الکریم ۳/ ۸۰)
عبد بن حمید اپنی مسند میں سیدنا ا مام حسن بصری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی کہ فرمایا :
بلغنی ان رجلا قال یارسول اﷲ نسلم علیک لما یسلم بعضنا علی بعض افلا نسجدلک قال لاولکن اکرموا نبیکم واعرفوا الحق لاھلہ فانہ لا ینبغی ان یسجدوا لاحد من دون تعالٰی فانزل اﷲ تعالٰی ماکان لبشر الی قول بعد اذا نتم مسلمون o۱؎
مجھے حدیث پہنچی کہ ایک صحابی نے عرض کی یارسواللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ہم حضور کو بھی ایسا ہی سلام کرتے ہیں جیسا کہ آپس میں کیا ہم حضور کو سجدہ نہ کریں ، فرمایا نہ بلکہ اپنے نبی کی تعظیم کرو اور سجدہ خاص حق خدا کا ہے۔اسے اسی کے لئے رکھو اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ سزاوار نہیں اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔
(۱؎ الدرالمنثور بحوالہ عبد بن حمید الحسن تحت آیۃ ۳/ ۸۰ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی قم ایران ۲/ ۴۷)
اکلیل فی استباط التزیل میں اس آیت کے نیچے یہی حدیث اختصار ذکر کے فرمایا :
تو اس آیہ کریمہ نے غیر خدا کو سجدہ حرام فرمایا : آیت کی ایک شان نزول یہ بھی ہے کہ نصارٰی نے کہا ہمیں عیسٰی نے حکم دیا ہے کہ ہم ان کو خدا مانیں اس پر اتری ،
امام خاتم الحفاظ نے جلالین میں دونوں سبب یکساں بیان کئے :
نزل لما قال نصارٰی نجران ان عیسٰی امر ھم ان یتخذوا ربا اولما طلب بعض المسلمین السجود لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
آیت مذکورہ اس وقت نازل ہوئی جب بحران کے عیسائیوں نے کہا کہ حضرت عیسٰی السلام نے انھیں حکم دیا کہ وہ حضرت عیسٰی کو رب بنالیں، یا اس کانزول اس وقت ہوا جب بعض مسلمانوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ (ت)
اس نے ظاہر کردیا کہ دونوں سبب قوی ہیں کہ خطبہ میں وعدہ ہے کہ تفسیر میں وہی قول لائیں گے جو سب سے صحیح تر ہو اور بیضاوی ومدارک وابوسعود وکشاف وتفسیر کبیر میں وشہاب وجمل وغیرہم عامہ مفسرین نے اسی سبب اول کو ترجیح دی ہے کہ مسلمانوں نے حضور کو سجدے کی درخواست کی اس پر اتری خود آخرآیت میں فرمایا گیاتمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کہ تم مسلمان ہو تو ضرور مسلمان مخاطب ہیں جو خواہان سجدہ ہوئے تھے نہ کہ نصارٰی۔
مدارک شریف وکشاف میں ہے :
بعد اذانتم مسلمون یدل علی ان المخاطبین کانوا مسلمین وھم الذین استأذنوہ ان یسجدو ا لہ ۱؎۔
آیت کے الفاظ
''بعد اذا انتم مسلمون''
اس بات پردلالت کرتےہیں کہ آیت کریمہ کے مخاطب مسلمان تھے اور یہ وہی لوگ تھے جنھوں نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے انھیں سجدہ کرنے کی اجازت مانگی ۔ (ت)
(۱؎ مدارک التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ ۔ ۱/ ۱۶۶ وتفسیر کشاف تحت ۳/ ۸۰ انتشارات آفتاب تہران ۱/ ۴۴۰)
بیضاوی وارشاد العقل میں ہے :
دلیل ان الخطاب للمسلمین وھم المستأذنون لان یسجد وا لہ ۲؎۔
آیت میں یہ دلیل ہے کہ اس میں خطاب مسلمانوں کو ہے۔ اوریہ وہی لوگ ہیں کہ جنھوں نے حضور پاک سے انھیں سجدہ کرنے کی اجازت مانگی۔ (ت)
(۲؎ انوار التزیل (تفسیر بیضاوی) النصف الاول ص۶۶ وارشادالعقل السلیم تحت آیۃ ۳/ ۸۰ الجزء الثانی ص۵۳)
کبیر ۳میں قول کشاف نقل کرکے مقرر کھا فتوحات میں ہے :
یہ فاصلہ اس قول کی ترجیح ہے کہ آیت اللہ مسلمانوں کے حق میں نازل ہوئی کہ جو حضور پاک سے عرض کررہے تھے کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں (ت)
(۵؎ عنایۃ القاضی علی انوازل التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ دارصادر بیروت ۳/ ۴۱)
تفسیرنیشاپوری میں بھی اس کی تقویت کی
اقول وباﷲ التوفیق
(میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتاہوں) خطاب نصارٰی پر انتم مسلمون میں مجاز کی ضرورت ہے کہ نصارٰی نجران مسلمان کب تھے تو معنی (عہ) یہ لینے ہونگے
ایامرکم آباءکم الاولین بالکفر بعد ان کانوا مسلمین ۔
کیا عیسٰی تمھارے اگلے باپ داداؤں کو جو ان کے زمانے میں دین حق پر تھے کفر کاحکم کرتے بعد اس کے کہ وہ ایمان لاچکے تھے اور خطاب مسلمین پر کفر حل تاویل کی حاجت ہے کہ مسلمان نے ہر گز سجدہ عبادت نہ چاہا۔
عہ: اقول : وتاویلی ھذا اصح واظھر من تاویل الشھاب فی حاشیۃ البیضاوی اذ قال وان جاز ان یقال للنصارٰی انامرکم بالکفر بعد اذ انتم مسلمون ای منقادون و مستعدون لقبول الدین الحق ارخاء للعنان واستدراجا ۱؎ اھ ففیہ مالایخفی علی نبیہ ۱۲ منہ
اقول: میری یہ تاویل بیضاوی کے حاشیہ میں شہاب کی اس تاویل سے اصح واظہر ہے جو انھوں نے فرمایا کہ نصارٰی کو یہ کہنا کیا ہم تمھیں کفر کا حکم کرتے جب تم مسلمان ہوچکے اگر جائز ہے تو اس معنی میں کہ مطیع ہوچکے ہو اور دین حق کوقبول کرنے میں رغبت پیدا کرچکے ہو یہ بطور ارضاء عنان واستدراج ہے اھ تو اس تاویل میں اعتراض ہے جو سمجھدا ر پر مخفی نہیں ہے۔ ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ عنایۃ القاضی علی انوار التنزیل تحت آیۃ ۳/ ۸۰ دارصادر بیروت ۳/ ۴۱)
اولا یہ صحابہ سے معقول تھا روز اول سے تو حید کا آفتاب عالم آشکار فرمادیا تھا موافق مخالف نزدیک کادورہر شخص جانتا تھا ہرگھر میں چر چا تھا کہ یہ ایک اللہ کی عبادت بلاتے اور شرک کے برابر کسی شیئ کو دشمن نہیں رکھتے تو کسی صحابی سے عبادات نبی کی درخواست اور وہ بھی خود نبی سے کیونکہ متصور تھی خصوصا سجدہ کی درخواست کرنے والے کون تھے، اجلہ صحابہ معاذ بن جنبل وقیس بن سعد وسلمان فارسی حتی کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہم جیسا کہ فصل احادیث میں آتاہے۔
ثانیا حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب میں یہی فرمایا کہ ایسا نہ کرو، یہ نہ فرمایا کہ تم عبادت غیر کی درخواست کرکے کافر ہوگئے تمھاری عورتیں نکاح سے نکل گئیں تو بہ کرو دوبارہ اسلام لاؤ، پھر عورتیں راضی ہوں تو ان سے نکاح کرو۔
ثالثا سب سے زائد یہ کہ مولٰی تعالٰی بھی تو خود اسی آیت میں ان کو مسلمان بتارہاہے کہ تم تو مسلمان ہوکیا تمھیں کفر کاحکم دیں۔لہذا امام محمد بن حافظ الدین وجیز میں فرماتے ہیں :
قول تعالٰی مخاطبا الصحابۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہم ایأمرکم بالکفر بعد اذا انتم مسلمون، نزلت حین استأذنوا فی السجود لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ولایخفی ان الاستئذان لسجود التحیۃ بدلالۃ بعد اذ انتم مسلمون، ومع اعتقاد جواز سجدۃ العبادۃ لایکون مسلما فکیف یطلق علیہم بعد اذ انتم مسلمون ۱؎۔
اللہ عزوجل نے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے فرمایا کیا نبی تمھیں کفر کا حکم دیں بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو یہ آیت اس وقت اتری جب صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ ولسم کو سجدہ کرنے کی اجازت چاہی اور ظاہر ہے کہ انھوں نے سجدہ تحیت کی درخواست کی تھی اس دلیل سے کہ فرماتا ہے کہ بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو اور سجدہ عبادت جائز مان کر مسلمان نہیں رہتا تویہ کیونکر فرمایا جاتا کہ بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ کتاب الفاظ تکون اسلاما اوکفرا الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۴۳)
اقول (میں کہتاہوں) بعدہ یہی دلیل روشن کررہی ہے کہ کفر سے کفر حقیقی مراد نہیں کہ کفر حقیقی کی درخواست کرکے بھی مسلمان نہیں رہتا پھر کیونکر فرمایا جاتاکہ بعداس کے کہ تم مسلمان ہو،
وقد کان استدل بہ البعض القائلون بان سجدۃ التحیۃ کفر مطلقا، وذکرہ فی الوجیز دلیلالھم، فانقلب الدلیل علی المدعی وثبت انھا لیست یکفر کما علیہ الجمھور والمحققون فاحفظ وتثبت وﷲ الحمد۔
بعض لوگوں نے اس سے استدلال کیا ہے کہ جو سجدہ تعظیمی کے علی الاطلاق کفر کے قائل ہیں ، وجیز میں ان کی دلیل ذکر فرمائی۔ پھر دلیل دعوی پر پلٹ آئی تو یہ ثابت ہوگیا کہ سجدہ تعظیمی کفر نہیں جیسا کہ جمہور اور اہل تحقیق کا یہ مؤقف ہے۔لہذا اس کو یادرکھو اور اللہ تعالٰی ہی کے لئے حمدہے۔ (ت)
لاجرم کفر سے مراد کفر دون کفر ہوگا جو محاورات شارح میں شائع ہے خصوصا سجدہ کہ نہایت مشابہ پرستش غیر ہے فصل دوم میں زمین بوسی کی نسبت کافی شرح وافی وکفایہ شرح ہدایہ وتبیین شرح کنز ودرمختار ومجمع الانہر وفتح اللہ المعین وجواہر اخلاطی وغیرہا سے آئے گا
لانہ یشبہ عبادۃ الوثن ۲؎
بت پرستی کے مشابہ ہے، تو سجدہ تو مشابہ تر کفر ہوگا، اس کی صورت بعینہا صورت کفر بلا ادنی تفاوت ہے تو کفر صوری ضرور ہے جیسا کہ فصل دوم میں خلاصہ ومحیط ومنح الروض ونصاب الاحتساب وغیرہا سے آتا ہے
ان ھذا کفر صورۃ ۳؎
سجدہ صورت کفر ہے۔
(۲؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء وغیرہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۵)
(۳؎ منح الروض الازھر علی الفقہ الاکبر فصل فی الکفر المصطفی البابی مصر ص۱۹۳)
اہل علم کے کلام میں جو اطلاق ہے اس میں یہ ایک تنازع کی جگہ ہے جیسا کہ اللہ تعالٰی عزت والے اوربڑی شان والے کی مدد سے عنقریب آئے گا (ت)
بہر حال آیۃ کریمہ میں ایک طریقہ تجوز ہے لہذا امام خاتم الحفاظ نے دونوں شان نزول برابر رکھیں اور شک نہیں کہ ایک ایک آیت کے لئے کئی کئی شان نزول ہوتے ہیں اور قرآن کریم اپنے جمیع وجوہ پر حجت ہے
(جیسا کہ تفسیر کبیر اور شارح مواہب اللزرقانی وغیرہما میں ہے۔ ت) تو قرآن عظیم نے ثابت فرمایا کہ سجدہ تحیت ایسا سخت حرام ہے کہ مشابہ کفر ہے والعیاذ باللہ تعالٰی صحابہ کرام نے حضور کو سجدہ تحیت کی اجازت چاہی اس پر ارشاد ہوا کیا تمھیں کفر کا حکم دیں ، معلوم ہوا کہ سجدہ تحیت ایسی قبیح چیز ایسا سخت حرام ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا : جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کا یہ حکم ہے پھر اوروں کا کیا ذکر۔ واللہ الہادی۔