Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
81 - 146
الجواب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللھم لک الحمد یا من خشعت لہ القلوب وخضعت لہ الاعناق وسجدت لہ الجباہ ÷ وحرم السجود فی ھذا الدین المحمود ÷ والشرع المسعود ÷ لمن سواہ ÷ صل وسلم وبارک علی اکرم من سجد لک لیلا ونھارا ÷ وحرم السجود لغیرک تحریماجھارا ÷ وعلی الہ وصحبہ الفائزین بخیرہ ÷ الذین لم یشن اﷲ وجوھھم بالخرور بغیرہ ÷ نورنا اﷲ بانوارھم ÷ ووفقنا الاتباع اٰثارھم ÷ اٰمین۔
اے اللہ! تعریف وتوصیف تیرے لئے ہے۔ اے وہ ذات کہ جس کے لئے دل عاجز ہوگئے۔ (یعنی ان میں فروتنی پیدا ہوگئی) اور اس کے لئے گردنیں جھک گئیں اور پیشانیاں سجدہ ریزہوگئیں۔ اور اس اچھے دین اور باسعادت شریعت میں اس کے سوا کسی غیر کو سجدہ حرام ہوگیا۔ اے اللہ! درود وسلام اور برکت نازل فرما اس مقد س ہستی پر جو ان لوگوں میں سب سے بڑے کریم ہیں۔ جنھوں نے رات دن تجھے سجدہ کیا۔ اور تیرے سوا کسی دوسرے کو واضح طورپرسجدہ کرنا حرام فرمایا۔ اور ان کی آل اور ساتھیوں پر (نیز درود وسلام اور برکات نازل ہو) جو اس کی بھلائی میں کامیاب ہوگئے۔ وہ ایسے ہیں کہ کسی غیر کے آگے گرنے سے۔ اللہ تعالٰی نے ان کے چہروں کو عیبناک نہیں کیا۔ اللہ تعالٰی ہمیں ان کے انوار سے روشن فرمائے اور ہمیں ان کے نشانات قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ اے اللہ! ہماری یہ دعا قبول فرمالیجئے! (ت)
مسلمان اے مسلمان! اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان جان اور یقین جان کہ سجدہ حضرت عزت جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔ اس کے غیر کو سجدہ عبادت یقینا اجماعا شرک مہین و کفر مبین اور سجدہ تحیت حرام وگناہ کبیرہ بالیقین اور اس کے کفرہونے میں اختلاف علمائے دین ایک جماعت فقہاء سے تکفیر منقول اور عندالتحقیق وہ کفر صوری پرمحمول ۔
کما سیأتی بتوفیق المولٰی سبحنہ وتعالٰی
 (جیساکہ اللہ تعالٰی پاک وبرتر کے توفیق دینے سے عنقریب یہ مسئلہ آئے گا۔ ت) ہاں مثل صنم وصلیب وشمس وقمر کے لئے سجدے پر مطلقا اکفار ،
کما فی شرح المواقف وغیرہ من الاسفار
 (جیسا کہ شرح مواقف وغیرہ بڑی کتابوں میں مذکورہے۔ ت) ان کے سوا مثل پیرومزار کے لئے ہر گز ہر گز نہ جائز ومباح جیسا کہ زید کا ادعائے باطل نہ شرک حقیقی نا مغفور جیسا کہ وہابیہ کا زعم عاطل۔ بلکہ حرام ہے۔ اور کبیرہ
وفحشاء۔ فیغفر لمن یشاء ویعذب من یشاء ۱؎
 (اللہ تعالٰی جس کو چاہے معاف کردیتاہے اور جس کو چاہے سزاد یتاہے۔ ت)
 (۱؎القرآن الکریم       ۲/ ۲۴۸)
ابطال شرک کے لئے تو وہی واقعہ حضرت آدم او رمشہور جمہور پر حضرت یوسف بھی علیہما الصلٰوۃ والسلام دلیل کافی ہے۔ محال ہے کہ مولٰی کہ ملائکہ وانبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام میں سے کوئی کسی مخلوق کو  اپنا شریک کرنے کا حکم دے اگر چہ پھر اس منسوخ بھی فرمائے اور محال ہے کہ ملائکہ وانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام میں سے کوئی کسی کو  ایک آن کے لئے شریک خدابنائے یا اسے رواٹھہرائے، کوکبۃالشہابیۃ میں اسی کا بیان اور زعم وہابی کا ابطال بین البرہان۔ اس کا صرف اتنا مفاد و ومقصود کہ وہابی کا شرک باطل و مردود، وہابی نے اس پر شرک نامغفور کا حکم لگا کر آدم ویعقوب ویوسف وملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام سب کو معاذاللہ مشرک بنادیا۔ اور رب عزوجل کو (خاک بدہن گستاخی) شرک کاحکم دینے اور جائز رکھنے والا ٹھہرا دیا۔ یہ ضرور حق اور افادہ جواز سے اجنبی مطلق کیا جو کچھ شرک نہ ہو سب جائز و رواہے۔ یوں تو زناء وقتل وشر ب وخمر واکل خنزیر سب کچھ حلال ٹھہرتاہے کہ یہ باتیں بھی شرک نہیں تو معاذاللہ سب جائز ہوئی اور جہل صریح وضلال مبین۔
والعیاذ باللہ رب العالمین
 (اور اللہ تعالٰی کی پناہ جو سارے جہانوں کا پروردگا ہے۔ ت) اور ابطال اباحت کو احادیث متواترہ اور ائمہ دین کے نصوص وافرہ مسئلہ شرعیہ حدیث وفقہ سے لیا جائے گا اور ان میں اس کی تحریم متواتر اس کے ممنوع وناجائز وگناہ کبیرہ ہونے کی تصریحات متظافر، پرچہ نظام المشائخ دہلی رجب ۱۳۳۷ھ کا اس سوال کے ساتھا آیا اس میں متعلق سجدہ تحریر بے تحریر نے ایک ایسے نام سے انتساب پایا جس کی طرف اس کی نسبت نے عجب تعجب دلایا۔ اس تحریر میں اول تاآخر جہالتیں سفاہتیں عبارات و مطالب میں طرفہ خیانتیں ، شرح مطہر پر شدیدجرأتیں حتی کہ خود نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سخت حملہ ہائے بے باک حضور ورب حضور پر افتراہائے ناپاک۔ پھر صحابہ وائمہ وفقہاء واولیاء کا کیا ذکر ان کی رفیع شان میں کمال زبان درازوں کی کیا فکر یہاں تک کہ ان کو نہ صرف جاہل ضدی سنگدل بتایا بلکہ بھر منہ شقی ملعون شیطان راندہ درگاہ ٹھہرایا۔
وسیجزی اﷲ الفاسقین کذٰلک یجزی الظالمین
 (عنقریب اللہ تعالٰی نافرمانوں کو سزادے گا اور اسی طرح ظالموں کو بدلہ دے گا۔ ت) یہ سب بھی اینہم پر علم تھے کہ اور ضلال کیا کم تھے جب مذہب نہیں کچھ عجب نہیں مگر سخت آفت یہ کہ عبارتیں کی عبارتیں جی سے گھڑیں اور صاف بے دھڑک مشہور کتابوں کی طرف نسبت کردیں تو وہ بھی اس جسارت کی شان سے کہ جلد وصفحہ وباب کے نشان سے مذہبی حالت کچھ سہی۔ جسے ادنی حیاوانسانیت کے دائرے میں رہنا پسند ہو کیونکر ان کا مرتکب ہوسکے اگر نہ رسالہ خبیثہ سیف النقی کی طرح پابند اثر دیوبند ہو نہ کہ ایک مشہور شخص جو پیش خویش صوفی وشیخ بننے کا خواہشمند ہو بہر حال مسلمانوں کو اس کے فریبوں سے بچانا لازم اشد جسے ہم نے بکر سے تعبیر کیا ہے کسے باشد مذکور سوال زید کے جنتے مگر ہیں سب مشتے از خروارہ بکر ہیں لہذا خبر گیری اسی کی کافی آئی
وکل الصید فی جوف الفراء ۱؎
 (ہر شکار فراء کے پیٹ میں ہے۔ ت) ایسی تحریرات اگرچہ قطعا نا قابل التفات بعد اشاعت فاحشہ اس کا انسداد امر مہم۔
 (۱؎ کنز العمال بحوالہ الدیلمی     حدیث ۴۴۱۳۸     ۱۶/ ۱۲۱  و تاج العروس فصل الفاء من باب الہمزۃ     ۱/ ۹۶)
اب یہ مبارک جواب بتوفیق الوھاب چھ فصل پر منقسم:

فصل ۱ :  قرآن کریم سے سجدہ تحیت کی تحریم، یہ اس کار دہے جو بکر نے صفحہ ۸ پر کہا : ''کوئی آیت سجدہ انسان کے خلاف قرآن میں کہیں بھی نہیں''

فصل ۲ : چالیس حدیثوں سے سجدہ تحیت کی تحریم : یہ اس کا رد ہے جو بکر نے ایک ضعیف حدیث دکھا کر صفحہ ۹پر کہا : ''اسی حدیث کو سجدہ تعظیمی کے مخالف سند میں پیش کیا کرتے ہیں سوائے اس کے اور کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں'' اللہ اکبر۔ متواترہ حدیثوں کے مقابل یہ ڈھٹائی۔
فصل ۳ : ایک سو دس نصوص فقہ سے سجدہ تحیت کی تحریم۔ یہ اس کا رد ہے جو بکر نے صفحہ ۲۳ پر کہا : ''سوائے چند جاہل ضدی لوگوں کے کوئی سجدہ تعظیم کے خلاف نہ تھا'' صفحہ ۲۴ : ''اس سے انکار کرنے والے شیطان کی طرح راندہ درگاہ ہوں گے'' صفحہ ۱۰ : سجدہ تعظیمی کا انکار موجب لعنت و پھٹکار
'' وسیعلم الذین ظلموا ای منقب ینقلبون ۲؎
 (بہت جلدی ظالم جان لیں  گے کہ وہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
 (۲؎القرآن الکریم    ۲۶/ ۲۲۷)
فصل ۴ : خود بکر کی سندوں اوراسی کے مستندوں اور اسی کے منہ سے قرآن مجید واحادیث متواترہ واجماع علماء واجماع اولیاء سے سجدہ تحیت حرام ہونے کا ثبوت یہ کاہے کارد ہے اسے بکر سے پوچھئے۔

فصل ۵ : اس ذراسی تحریر میں بکر کے افتراء اختراع، کذب، خیانت، جہالت، سفاہت، کا اظہار

فصل ۶ :  سجدہ آدم ویوسف علیہما الصلٰوۃ والسلام کی بحث اور اس سے استدلال مجوز کا قاہر ابطال۔
وباللہ التوفیق والوصول الی التحقیق والحمدﷲ رب العالمین وصلی اﷲ تعالٰی علی سیدنا ومولٰنا والہ وصحبہ اجمعین۔ آمین!
اور اللہ تعالٰی ہی سے کرم سے حصول توفیق ہے۔ اور تحقیق تک رسائی ہوسکتی ہے۔ ہر تعریف اللہ تعالٰی ہی کے لئے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ہمارے آقا اور مولٰی اور ان عذاب کی سب آل اور تمام ساتھیوں پر اللہ تعالٰی کی رحمت نازل ہو اے اللہ! ہمار ی دعا قبول فرمالیجئے۔ (ت)
Flag Counter