Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
80 - 146
الزبدۃ الزکیۃ لتحریم سجود التحیۃ (۱۳۳۷ھ)

(سجدہ تعظیمی کے حرام ہونے کے بارے میں پاکیزہ مکھن)
مسئلہ ۱۸۶ : باراول از بنارس پھاٹک شیخ سلیم مدرسہ ابراہیمیہ مرسلہ مولوی حافظ عبدالسمیع صاحب ۹ رمضان المبارک ۱۳۳۷ھ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ میں کہ قال زید سجدہ تعظیم وتحیت مرشد طریقت کے لئے اب بھی جائز ہے اور استدلال کرتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کے مسجود ملائکہ ہونے سے ونیز واقعہ حضرت یوسف علیہ السلام سے، اور کہتا ہے
والقی السحرۃ ساجدین ۱؎۔
ساحروں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو سجدہ کیا۔
(۱؎ القرآن الکریم    ۲۶/ ۴۶)
قال عمرو سجدہ تحیت ادیان ماضیہ میں جائز تھا ہماری شریعت غراء محمدیہ علی صاحبہا الصلٰوۃ والسلام میں وہ حکم منسوخ ہوا۔ جیسا کہ تفسیر جلالین، مدارک، خازن، روح البیان، جامع البیان، تفسیر کبیر، فتح العزیز وغیرہم میں مصرح ہے۔ اور ساحروں کو عرفان حق حاصل ہوا اور انھوں نے معبود حقیقی کو سجدہ کیا۔ جیسا کہ
قالواٰمنا برب العالمین رب موسٰی وھارون ۲؎
 (جادو گر کہنے لگے ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے جو حضرت موسٰی اور حضرت ہارون کا پروگارہے۔ ت) اس پر دال ہے نہ کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کو سجدہ کیا۔
 (۲؎ القرآن الکریم۷ /۱۲۱)
قال زید آیات اخبار وقصص ناسخ ومنسوخ نہیں ہوتا
کما فی نور الانوار
 (جیسا کہ نورا لانوار میں ہے۔ ت) لہذا اباحت اس کی باقی ہے۔ قال عمرو علمائے مفسرین نے اس حکم کا منسوخ ہونا مصرح بیان فرمایا۔ قال زید مفسرین کی مجرد رائے ہم پر حجت نہیں تاوقتیکہ کوئی آیت اس کی ناسخ یا ممانعت میں نہ وارد ہو۔ قال عمرو آیات قرآنی اس کی ممانعت میں نص صریح ہیں مثلا :
یایھاالذین اٰمنوا ارکعوا واسجدوا واعبدواربکم ۱؎۔
پس اللہ تعالٰی کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔ (ت)
(۱؎ القران الکریم   ۲۲/ ۷۷)
پس معلوم  ہوا سجدہ عبادت ہے پس عبادت غیر خداکی شرک ہے نیز
فاسجدوا للہ واعبدوا ۔
پس اللہ کے لیے سجدہ کرو اور اسی کی عبادت کرو۔
 (۲؎ القرآن الکریم     ۵۳/ ۶۲)
اور : واسجدوا ﷲ الذی خلقھن ان کنتم ایاہ تعبدون ۳؎۔
اللہ تعالٰی کےلئے سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا۔ اگر تم خاص اسی کی عبادت اور بندگی کرتے ہو۔ (ت)میں لام واسطے تخصیص کے ہے اورایاہ بھی تخصیص کے لئے آتا ہے۔ لہذا سجدہ مخصوص ذات باری تعالٰی کے لئے ہے اور غیر کے لئے شرک وحرام وکفر۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۴۱/ ۳۷)
قال زید ان آیتوں میں سجدہ عبادت کی تخصیص ہے نہ سجدہ تحیت کی۔ لہذا وہ جائز ہے۔
قال عمرو لاتسجدو الشمس ولاللقمر ۴؎
 (نہ سورج کو سجدہ کرو اورنہ چاند کو۔ ت) سے غیر اللہ کے لئے سجدہ ممنوع ہونا ثابت ہے اگر چہ سجدہ تحیت  ہو اور فقہاء ومتکلین نے اس کو حرام وکفر فرمایا ہے۔
(۴؎القرآن الکریم      ۴۱/ ۳۷)
کما فی شرح فقہ اکبر ''ملا علی'' انجاح الحاجۃ حلبی شرح المنیۃ مالا بد منہ، عالمگیری۔
جیسا کہ شرح فقہ اکبر ملا علی قاری، انجاح الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ، حلبی کبیر وصغرٰی شرح منیۃ المصلی اور مالابد منہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی اور عالمگیری میں ہے۔ (ت)
نیز احادیث صحیحہ اس کی مخالفت میں بکثرت وارد ہیں۔ قال زید آیت میں یہ کہا ہے
لا تسجدوا للانسان
 (کسی انسان کو سجدہ نہ کرو۔ ت) حدیثوں میں جواز ہے عکرمہ بن ابوجہل مشرف باسلام ہوئے اور انھوں نے حضرت کو سجدہ کیا آپ نے منع نہ فرمایا
کما فی مدارج النبوۃ وروضۃ الاحباب
 (جیسا کہ مدارج النبوۃ اور روضہ الاحباب میں ہے۔ ت) ایک صحابی نے حضرت کی پیشانی پر سجدہ کیا تو حضرت نے فرمایا تو نے اپنا خواب سچا کیا۔ پس ثابت ہوا کہ سجدہ جائز،
کما فی مشکوٰۃ
 (جیسا کہ مشکوٰۃ میں ہے۔ ت) قال عمرو عکرمہ کی روایت سے سجدہ مراد لینا اہل علم پر مخفی نہیں کہ کس قدر سادہ لوح ہے کیونکہ منقول ہے۔
فطأطأ رأسہ من الحیاء، کما فی سیرۃ الحلبی وسیرۃ النبویۃ۔
پس اس نے شرم وحیاء کی وجہ سے اپنا سر جھکا دیا جیسا کہ سیرت حلبیہ اور سیرت نبویہ میں ہے۔ (ت)

اور مدارج النبوۃ میں ہے۔
انگاہ از غایت شرمندگی سر درپیش افگند ۱؎۔
اس وقت غایت شرم وندامت کی وجہ سے اس نے اپنا سر ان کے آگے جھکا دیا۔ (ت)
 (۱؎ مدارج النبوۃ    ذکر عکرمہ بن ابی جہل     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۱۹۹)
حدیث مشکوٰۃ سے معلوم ہوا کہ پیشانی انور مسجود علیہ تھی نہ مسجود لہ، لہذا وہ مفید مدعی نہیں۔ جس چیز پر سجدہ کیا وہ مسجود لہ قرار نہیں پاتی، فتدبر (پس خوب غوروفکر کیجئے۔ ت)
فالعجب کل العجب
 (انتہائی حیرت اور تعجب کی بات ہے۔ ت) ونیز حدیث قیس ومعاذ بن جبل میں سجدہ تحیت کی نفی صریح وارد ہے۔
لاتفعلوا مشکوٰۃ ابن ماجہ
 (ایسا مت کرو۔ مشکوٰۃ وابن ماجہ۔ ت) نیز دیگر احادیث جو پرچہ صوفی نمبر۱۲۴ جلد ۲۱ ماہ رجب ؁۳۷ھ میں شائع ہوچکی ہے ملاحظہ ہو۔
 (۲؎ مشکوٰۃ والمصابیح     کتاب النکاح    الفصل الثالث     مطبع مجتبائی دہلی    ص۲۸۲)

(سنن ابن ماجہ         ابواب النکاح باب حق الزوج علی المرأۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱۳۴)
قال زید یہ سب حدیثیں خبراحاد ہیں۔ یہ نفی پر حجت ہوسکتیں ونیزآیات، قرآنی سے اباحت ثابت ہے اگر چہ مور خاص ہے مگر حکم عام ہے۔ قال عمرو آیات قرآن واحادیث نبوی وتصریحات فقہاء ومتکلمین سے حرمت وکفر ہونا ثابت ہے اس کی اباحت پر حالت اختیاری میں کوئی روایت ضعیف بھی وارد نہیں لہذا دعوٰی بلا دلیل ہے وہ مقبول نہیں۔ پس مفتیان دین  بیان فرمائیں کہ قول حق وصواب کس کا ہے۔
فای الفریقین احق بالامن ان کنتم تعلمون  الذین آمنوا ولم  یلبسوا  ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وہھ المھتدون ۱؎ بینوا توجروا
پھر دو گروہوںمیں سے امن کے زیادہ لائق کون ہے اگر تم علم رکھتے ہو (تو بتاؤ) انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی امیزش نہ کی ان ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ پانے والے ہیں۔ بیان فرماؤ اجرپاؤ۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم   ۶/ ۸۲۔۸۱)
باردوم :  از میرٹھ خیر نگر دروازہ مرسلہ مظہر الاسلام صاحب نبیرہ نواب ممتاز علی خان ۲۹ شوال ۱۳۳۷ھ

مجدد مائتہ حاضرہ حضرت مولانا بالفضل اولٰنا جناب مولوی احمد رضاخاں صاحب دامت برکاتہم سلام وآداب کے بعد گزارش خدمت کہ ۲۸ جون ۲۹ رمضان المبارک کو رسالہ نظام المشائخ خدمت والا میں روانہ کرکے استدعا کی گئی تھی کہ براہ کرام سجدہ تحیت کے جواز وعدم جواز  کی بابت شرع شریف کے مطابق اپنی قیمتی رائے سے خادم کو مطلع فرمایا جائے تاکہ یہ بے بضاعت جناب کے احسان وکرم کی وجہ سے اس عظیم شام مسئلہ میں تشفی واطمینان حاصل کرسکے چند روز ہوئے کہ جناب کہ معرکۃ الآرا تصنیف جو کہ تقویۃ الایمان کے روہ ابطال میں تحریر خادم کی نظر سے گزری اس کے صفحہ ۴۳ پر سجدہ تحیت کے جواز میں جو عبارت مزین ہے وہ حسب ذیل ہے:
''واذا قلنا اللملئکۃ اسجدوا والاٰدم فسجدوا الاابلیس ۲؎۔
اور جب ہم نے فرشتوں سے فرمایا کہ آدم کو سجدہ کہ وہ سب سجدہ میں گرے سوائے ابلیس کے۔
 (۲؎القرآن الکریم ۲/ ۳۴)
ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا ۳؎۔
یوسف نے اپنے ماں باپ کو تکت پر بلند کیا اور وہ سب یوسف کے لئے سجدے میں گر ے۔
 (۳؎القرآن الکریم    ۱۲/ ۱۰۰)
یہ خاک بدہن گستاخ اللہ تعالٰی ملائکہ آدم ویعقوب ویوسف علیہم الصلٰوۃ والسلام سب کا شرک ہوا۔ اللہ تعالٰی نے حکم دیا ملائکہ نے سجدہ کیا آدم راضی ہوئے یعقوب ساجد، یوسف رضامند''

پھرجناب والا تحریر فرماتے ہیں : ''اور یہاں نسخ کا جھگڑا پیش کرنا ہے محض جہالت۔ شرک کسی شریعت میں حلال نہیں ہوسکتا کبھی ممکن نہیں کہ اللہ تعالٰی شرک کا حکم دے اگر چہ اسے پھر کبھی منسوخ بھی فرمادے'' 

اگر جناب براہ کرام اپنی محققانہ رائے سے اس ناچیز کو مطلع فرمائیں گے تو یہ درحقیقت ایک بہت بڑی اسلامی خدمت متصور ہوگی۔ جناب کی مذکورہ بالاتحریر کے صریح معنی تو یہی سمجھ میں آئے کہ سجدہ تحیت جائز ہے والسلام مع الکرام۔
Flag Counter