Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
79 - 146
مسئلہ ۱۸۰ تا ۱۸۳: از کلکتہ امر تلا لین ۲۶ گدی دیوان رحمت اللہ مرسلہ حاجی پیر محمد ۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

(۱) جو لوگ سیدوں کو کلمات بے ادبانہ کہا کرتے ہیں اور ان کے مراتب کو خیا ل نہیں کرتے بلکہ کلمہ تحقیر آمیز کہہ بیٹھتے ہیں ان کا کیاحکم ہے؟

(۲) حضور سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دربارہ محبت واطاعت آل کے لئے کچھ ارشاد فرمایا ہے یانہیں؟

(۳) اور جو لوگ سیدوں سے محبت رکھتے ہیں ان کے لئے یوم محشر میں آسانی ہوگی یانہیں؟

(۴) ایک جلسہ میں دو مولوی صاحبان تشریف رکھتے ہیں ایک ان میں سے سید ہیں تو مسلمان کسے صدر بتائیں؟
الجواب

(۱) سادات کرام کی تعظیم فرض ہے۔ اور ان کی توہین حرام بلکہ علمائے کرام نے ارشاد فرمایا جو کسی عالم کو مولویا یاکسی کو میروا بروجہ تحقیر کہے کافر ہے۔
مجمع الانہر میں ہے:
الاستخفاف بالاشراف والعلماء کفر ومن قال لعالم عویلم اولعلوی علیوی قاصدا بہ الاستخفاف کفر ۱؎۔
سادات کرام اور علماء کی تحقیر کفر ہے جس نے عالم کی تصغیر کرکے عویلم یا علوی کو علیوی تحقیر کی نیت سے کہا تو کفر کیا۔ (ت)
 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر         باب المرتد ثم ان الفاظ الکفر الخ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۶۹۵)
بیہقی امیرا لمومنین مولی علی کرم اللہ وجہہ سے اور ابوالشیخ و دیلمی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من لم یعرف حتی عترتی والانصار والعرب فھو لاحدی ثلاث اما منافقا واما لزنیۃ واما لغیر طھور ۲؎۔ ھذا لفظ البیھقی من حدیث زید بن جبیر عن داؤد بن الحصین عن ابن ابی رافع عن ابیہ عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظ غیرہ امامنا فق واما ولد زنیۃ واماامرء حملت بہ امہ فی غیر طہر ۳؎۔
جو میری اولاد اور انصار اور عرب کا حق نہ پہچانے وہ تین علتوں سے خالی نہیں۔ یا تومنافق ہے یا حرامی یا حیضی بچہ۔ (یہ بیہقی کے الفاظ زیدبن جبیر نے اپنے والد کے حوالہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کئے دوسروں کے الفاظ یوں ہیں۔ یا منافق ، ولدزنا یا اس کی ماں نے ناپاکی کی حالت میں اس کا حمل لیا۔ ت)
 (۲؎ شعب الایمان     حدیث ۱۶۱۴        دارالکتب العلمیہ بیروت        ۲/ ۲۳۲)

(۳؎ الفردوس بما ثور الخطاب    حدیث  ۵۹۵۵         دارالکتب العلمیہ بیروت        ۳/ ۶۲۶)
بلکہ علماء وانصار وعرب سے تو وہ مراد ہیں جو گمراہ بددین نہ ہوں اور سادات کرام کی تعظیم ہمیشہ جب تک ان کی بد مذہبی حد کفر کو نہ پہنچے کہ اس کے بعدوہ سیدہی نہیں نسب منقطع ہے۔
قال اﷲ تعالٰی انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: (اے نوح (علیہ السلام)! وہ تیرا بیٹا (کنعان) تیرے گھروالوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔ (ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۱۱/ ۴۶)
جیسے نیچری ، قادیانی، وہابی غیر مقلد، دیوبندی اگر چہ سید مشہور ہوں نہ سید ہیں نہ ان کی تعظیم حلال بلکہ توہین وتکفیر فرض، اور روافض کے یہاں تو سیادت بہت آسان ہے کسی قوم کا رافضی ہوجائے، دودن بعد میر صاحب ہوجائے گا، ان کا بھی وہی حال ہے۔ کہ ان فرقوں کی طرح تبرائیان زمانہ بھی  عموما مرتدین ہیں۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔
 (۲) محبت آل اطہار کے بارے میں متواتر حدیثیں بلکہ قرآن عطیم کی آیت کریمہ ہے۔
قل لااسئلکم علیہ اجرا الاالمودۃ فی القربٰی ۲؎۔
 (ان سے) فرمادیجئے (لوگو!) اس دعوت حق پر میں تم سے کچھ نہیں مانگتا مگر رشتہ کی الفت ومحبت (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم   ۲۳/ ۴۲)
ان کی محبت بحمداللہ تعالٰی مسلمان کا دین ہے۔ اور اس سے محروم ناصبی خارجی جہنمی ہے والعیاذ باللہ تعالٰی، مگر محبت صادقہ نہ روافض کی سی محبت کاذبہ جنھیں ائمہ اطہار فرما یاکرتے تھے خدا کی قسم تمھاری محبت ہم پر عار ہوگی۔ اطاعت عامہ اللہ و رسول کی پھر علمائے دین کی ہے''
قال اﷲ تعالٰی اطیعوا اﷲ واطیعوا الرسول واولی الامرمنکم ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالٰی کا حکم مانو، اور رسول کا حکم مانو، اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں(یعنی امراء وخلفاء) ۔ (ت)
(۳؎القرآن الکریم      ۴/ ۵۹)
اصل اطاعت اللہ و رسول کی ہے اور علمائے دین ان کے احکام سے آگاہ۔ پھر اگر عالم سید بھی ہو تو نور علی نور، امور مباحہ میں جہاں تک نہ شرعی حرج  ہو نہ کوئی ضرر سید غیر عالم کے بھی احکام کی اطاعت کرے کہ اس میں اس کی خوشنودی ہے اور سادات کرام کی خوشی میں کہ حد شرع کے اندر ہو حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی رضا ہے اور حضور کی رضا اللہ عزوجل کی رضا۔
 (۳) ہاں سچے محبان اہلبیت کرام کے لئے روز قیامت نعمتیں برکتیں راحتیں ہیں۔ طبرانی کی حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الزموامودتنا اھل البیت فانہ من لقی اﷲ وھو یودنا دخل الجنۃ بشفاعتنا والذی نفسی بیدہ لاینفع عبدا عملہ الا بمعرفۃ حقنا ۱؎۔
ہم اہلبیت کی محبت لازم پکڑوکہ جو اللہ سے ہماری دوستی کے ساتھ ملے گا وہ ہماری شفاعت سے جنت میں جائے گا ۔قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ کسی بندے کو اس کا عمل نفع نہ دے گا جب تک ہمارا حق نہ پہچانے۔
 (۱؎ المعجم الاوسط         حدیث ۲۲۵۱         مکتبہ المعارف ریاض    ۳/ ۱۲۲)
 (۴) اگر دونوں عالم دین سنی صحیح العقیدہ اور جس کام کےلئے صدارت مطلوب ہے اس کے اہل ہوں تو سید کوترجیح ہے ورنہ ان میں جو عالم یا علم میں زائد یا سنی ہو اور دونوں علم دین میں مساوی ہوں تو جو اس کام کا زیادہ اہل ہو۔
الاتری ان الاحق بالامامۃ الاعلم وما عد شرف النسب الابعد وجودہ وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اذا وسد الامر الی غیر اھلہ فانتظر الساعۃ۔ رواہ البخاری ۲؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
کیا تم نہیں دیکھتے کہ امامت کے زیادہ لائق وہ شخص ہے جو سب سے بڑا عالم ہو اور شرافت نسب کا شمار نہیں کیا جاتا مگر اس کے پائے جانے کے بعد، اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب کوئی کام کسی نا اہل کے حوالے کیا جائے تو قیامت آنے کا انتظار کیجئے۔ اسے بخاری نے روایت کیا ۔ اور اللہ تعالٰی سب کچھ بخوبی جانتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ صحیح البخاری         کتا ب العلم     باب من سئل علما الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۴)
مسئلہ ۱۸۴: از ضلع سیتاپور محلہ قضیارہ     مرسلہ الیاس حسین     ۲۳ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ

ایک شخص سید ہے لیکن اس کے اعمال واخلاق خراب ہیں اور باعث ننگ وعارہیں تو اس سید سے اس کے اعمال کی وجہ سے تنفر رکھنا نسبی حیثیت سے اس کی تکریم کرنا جائز ہے یانہیں؟ اس سید کے مقابل کوئی غیر مثل شیخ ، مغل، پٹھان وغیرہ وغیرہ کا آدمی نیک اعمال ہوں تو اس کو سید پر بحیثیت اعمال کے ترجیح ہوسکتی ہے کہ نہیں؟ شرع شریف میں ایسی حالت میں اعمال کو ترجیح ہے کہ نسب کو؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

سید سنی المذہب کی تعظیم لازم ہے اگر چہ اس کے اعمال کیسے ہوں ان اعمال کے سبب اس سے تنفرنہ کیا جائے نفس اعمال سے تنفر ہو بلکہ اس کے مذہب میں بھی قلیل فرق ہو کہ حدکفر تک نہ پہنے جیسے تفضیل تو اس حالت میں بھی اس کی تعظیم سیادت نہ جائے گی ہاں اگر اس کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچے جیسے رافضی وہابی قادیانی نیچری وغیرہم تو اب اس کی تعظیم حرام ہے کہ جو وجہ تعظیم تھی یعنی سیادت وہی نہ رہی۔
قال اﷲ تعالٰی انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اے نوح(علیہ السلام) وہ یعنی تیرا بیٹا تیرے خاندان اور گھرانے والوں میں سے نہیں اس لئے کہ اس کے کام اچھے نہیں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم                ۱۱/ ۴۶)
شریعت نے تقوٰی کو فضیلت دی ہے
ان اکرمکم عنداﷲ اتقٰکم ۲؎
 (اللہ تعالٰی کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔ ت)
 (۲؎القرآن الکریم                 ۴۹/ ۱۳)
مگر یہ فضل ذاتی ہے فضل نسب منتہائے نسب کی افضلیت پر ہے سادات کرام کی انتہائے نسب حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر ہے۔ اس فضل انتساب کی تعظیم ہر متقی پر فرض ہے کہ وہ اس کی تعظیم نہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۵: از مراد آباد مدرسہ اہلسنت بازار دیوان مرسلہ عبدالودود صاحب بنگال قادری برکاتی رضوی طالب علم مدرسہ مذکور     ۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۶ھ

سجدہ کَے قسم پر ہے اور کون ساکس لئے خاص ہے اور باقی کیسے ہیں؟

الجواب

سجدہ دو قسم ہے سجدہ عبادت وسجدہ تحیت۔ سجدہ عبادت غیر خدا کے لئے کفر ہے اور سجدہ تحیت غیر خدا کے لئے حرام مگر کفر وشرک نہیں۔ کہ اگلی شریعتوں میں جائز تھا اور کفر وشرک کبھی جائز نہیں ہوسکتا واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter