Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
78 - 146
مسئلہ ۱۷۳: نماز کے وقت مسجد میں تمام نمازی کسی شخص کے آنے پر تعظیما کھڑے ہونا اور مثل سجدے کے قدموں پر سر رکھ کر بوسہ دینا جائز ہے یانہیں؟
الجواب

عالم دین اور سلطان اسلام اورعلم دین میں اپنا استاذ ان کی تعظیم مسجد میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی کی جائے گی اور مجالس خیر میں بھی اور تلاوت قرآن عظیم میں بھی عالم دین کے قدموں پر بوسہ دینا سنت ہے اور قدموں پر سر رکھنا جہالت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۴: از پوپوری جتارن مارقوار مسئولہ حبیب اللہ بروز سہ شنبہ ۲ رجب ۱۳۳۴ھ

مصافحہ کرتے وقت درود شریف پڑھنا چاہئے یادعا پڑھنا چاہئے ؟

الجواب

درود اور دعا دونوں ہوں اور صرف درود کافی ہے۔ کہ الحمدللہ کے بعد ہر دعا سے افضل ہے۔واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۵: مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل از شہر گونڈل علاقہ کاٹھیا واڑ     مورخہ ۹ شعبان یکشنبہ ۱۳۳۴ھ

سلام کرنا اشارہ کے ساتھ یعنی وقت سلام مسنون ہاتھ پیشانی تک لے جانا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب

بلاضرورت فقط اشارہ پر قناعت بدعت اور یہود ونصارٰی کی سنت ہے اور سلام مسنون کے ساتھ محل حاجت عرفیہ میں اشارہ بھی ہو توحرج نہیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۶: از کلکتہ ڈاک خانہ ہٹ تلا بڑاصاحب کا ہاٹ محمد غلام فرہاد بروز چہارشنبہ ۱۳ ذوالقعدہ ۱۳۳۴ھ

مکرمی ومعظمی جناب مولانا شاہ عبدالمصطفٰی احمد رضاخاں صاحب بعدآداب وتسلیم معروض آنکہ ہم لوگ احاطہ بنگال ضلع فرید پور تھانہ پالنگ موضع لاکرتلہ میں سب لوگ اہلسنت وجماعت کے ہیں مگر ان میں سے بعض لو گ ایسے حنفی کہلاتے ہیں مگر عقیدہ وہابیت کا ہے یعنی دیوبند کا۔ چونکہ وہ لوگ دیوبند کا کیفیت سے اچھی طرح واقف نہیں اور ہمارے بنگال کا ہادی جو نپور کے مولانا کرامت علی صاحب کی اولاد ہیں وہ لوگ بھی دیوبند کے عقیدہ پر چلتے ہیں یعنی قیام وفاتحہ وثانی جماعت وغیرہ کو ناجائز کرتے ہیں لہذا ہم لوگ نے حضور کی کتاب کوکبۃ الشھابیۃ اور چند پرچہ کلکتہ منشی لعل خان صاحب سے منگا کر دکھلایا کہ تم لوگوں کا عقیدہ اہلسنت وجماعت کے خلاف ہے بہر حال ہم لوگ سے اختلاف کرتارہا مگر اس وقت مسئلہ قدمبوسی اور سجدہ تحیہ میں ہم لوگوں کو بہت مجبورکیا، ہم لوگ قادریہ شریف میں سلسلہ بھاگل پور کے مریدان اسلام آباد احاطہ بنگال کے مولانا شاہ محمد عبدالحی صاحب سے دست بیعت کیا ہوں انھوں نے سجدہ تحیہ کو جائز رکھتے ہیں اور دیوبندی خلاف ہیں اب ہم لوگوں نے کہا کہ یہ مسئلہ ایسے آدمی سے دریافت کرنا چاہئے جو کہ متوسط سنت وجماعت کے ہیں۔ لہذا ہم لوگ حضور کو بمقابلہ مقتدا اسلام اور حامی سنت وجماعت کا جانتا ہوں اب یہاں سے دو فتوٰی دیا جاتا ہے کہ ہم لوگ سجدہ تحیۃ کو جائز رکھتا ہوں اور مقتدا دیوبندی کفر اور حرام ناجائز کہتے ہیں۔ خیر گزارش ضروری یہ ہے کہ حضور اگر جائز کرتے ہیں تو بہت خوب اور اگر ناجائز کریں بسر تسلیم مان لیتاہوں مگر امید کرتاہوں کہ جواب اس طرح ہونا چاہئے کہ فتوٰی دیوبندی ہم پر غالب نہ ہوجائے، والسلام۔
الجواب

بزرگان دین کی قدمبوسی بلا شبہ جائز بلکہ سنت ہے۔ بکثرت احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے پائے مبارک چومے اور حضور نے منع نہ فرمایا۔ رہا سجدہ تحیت، اگلی شریعتوں میں جائز تھا۔ ملائکہ نے بحکم الٰہی حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ حضرت سیدنا یعقوب علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی زوجہ مقدسہ اور ان کے گیارہ صاحبزادوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو سجدہ کیا۔ سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام جو حضرت سیدنا مریم (علیہما السلام) کے شکم مبارک میں تھے اور سیدنا یحیٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام ان کی بہن کے شکم مقدس میں جب حضرت مریم اپنی بہن کے پاس تشریف لائیں ان کی بہن عرض کرتی ہیں:
انی ارٰی مافی بطنی یسجد لما فی بطنک ۱؎۔
میں دیکھتی ہوں کہ وہ جو میرے پیٹ میں ہے اس کے لئے سجدہ کرتاہے جو تمھارے پیٹ میں ہے۔
 (۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)     تحت آیۃ ان اﷲ یبشرک بیحیٰی الخ     المطبعۃ البہیمۃ مصر    الجزء الرابع ص۳۸)

(روح المعانی     تحت آیۃ ان اللہ یبشرک بیحیٰی مصدقا بکلمۃ الخ    ادارۃ الطباعۃ المنیریۃ مصر     الجزء الثالث ص۱۳۰)
وہابیہ خذلہم اللہ تعالٰی کہ اس کو شرک کہتے اللہ کے رسولوں  اور فرشتوں کو شرک کا مرتکب اور اللہ عزوجل کو معاذاللہ شرک کاحکم دینے والا ٹھہراتے ہیں
قال اللہ تعالٰی: ورفع ابویہ علی العرش وخروالہ سجدا ۲؎۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو تخت کے اوپر بٹھایا اور وہ سب (والدین وبردران) حضرت یوسف کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گر گئے (ت)
 (۲؎ القرآن الکریم      ۱۲/ ۱۰۰)
وقال اﷲ تعالٰی واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لاٰدم فسجدوا الاابلیس ۳؎۔
اور اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہہ دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو تو سوائے شیطان کے سب نے سجدہ کیا۔ (ت)
 (۳؎القرآن الکریم        ۲/ ۳۴)
دیوبندیہ خود مرتدین ہیں ان کو مسائل اسلامی میں دخل دینے کا کیا حق۔ علمائے حرمین شریفین نے ان کے پیشواؤں کو نام بنام لکھا ہے کہ من شک فی کفرہ وعذابہ فقد کفر ۱؎ جوان کے عقائد پر مطلع ہوکر ان کے کفر میں شک کرے خود کافر ۔ ہاں ہماری شریعت مطہرہ نے غیر خدا کے لئے سجدہ تحیت حرام کیا ہے اس سے بچنا فرض ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ حسام الحرمین علی منحر الکفر والمین     مطبع اہلسنت وجماعت بریلی    ص۹۴)
مسئلہ ۱۷۷: مرسلہ حکمت یارخاں ساکن بریلی محدث شاہ آباد     ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بمبئی اور اس کے اطراف و جوانب میں قدیم سے یہ طریقہ جاری ہے کہ ہر جماعت پنجگانہ کے بعد نماز او ردعا خیر سے فارغ ہو کر مصلیان مسجد باہم مصافحہ کرکے رخصت ہوتے ہیں آج کل موضع کرلا میں ایک مولوی صاحب اس کو بدعت قبیحہ قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے کسی قول وفعل سے یہ ثابت نہیں اس لئے ہر گز ایسا نہ کرنا چاہئے، دوسرے ایک صاحب کا قول ہے کہ مسلمان خانہ خدا میں پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بعد باہم مصافحہ کرکے محبت واتفاق و اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یہ نہایت مستحسن طریقہ ہے اگر بدعت قبیحہ ہوتا  تو علمائے دین ضرور اس سے منع فرماتے حالانکہ آج تک کسی سنی عالم نے اس سے ممانعت نہیں کی۔ پس اس کے لئے قول فیصل بدلائل قوی تحریر فرمائیں کہ رفع نزاع ہو۔ بینوا توجروا۔ بیان فرماؤ اور اجر وثواب پاؤ۔ ت)
الجواب

صحیح یہ ہے کہ وہ جائز اور بہ نیت حسنہ مستحب ومستحسن ہے۔ اور جہاں کے مسلمانوں میں اس کی عادت ہے وہاں انکار سے مسلمانوں میں فتنہ وتفرقہ پیدا کرنا جہالت اور بربنائے اصول وہابیت ہو جیسا کہ آج کل اکثر یہی ہے تو صریح ضلالت والعیاذ باللہ۔
نسیم الریاض شرح شفائے امام قاضی عیاض میں ہے:
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۲؎۔
زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ کرنا ایک جائز بدعت ہے۔ (ت)
 (۲؎ نسیم الریاض     فی شرح الشفاء للقاضی عیاض     الباب الثانی     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۱۳)
درمختار میں ہے:
وقولھم انہ بدعۃ ای مباحۃ حسنۃ کما افادہ النووی فی اذکارہ وغیرہ فی غیرہ ۱؎۔
ان کا یہ فرمانا کہ مصافحہ کرنا بدعت ہے یعنی جائز اور اچھی بدعت ہے جیسا کہ امام نووی نے کتاب الاذکار میں اور دوسرے ائمہ کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر فرمایا ہے۔ (ت)
(۱؎درمختار     کتاب الحظروالاباحۃ     باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۲۴۴)
اور تفصیل مرام وازلہ اوہام ہمارے رسالہ وشاح الجید میں ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۸: موضع کٹیا ڈاک خانہ سکندر پور ضلع فیض آباد     مرسلہ محمد ناظر خاں صاحب زمیندار مؤرخہ ۲۴ذی القعدہ ۱۳۳۵ھ

بوسہ قبر جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب

اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے۔ بکثرت اکابر جواز و منع دونوں طرف ہیں اور عوام کے لئے زیادہ احتیاط منع میں ہے۔ خصوصا مزارات طیبہ اولیاء کرام پر کہ ان کے اتنا قریب جانا ادب کے خلاف ہے۔ کم از کم چارہاتھ فاصلے سے کھڑا ہو
کما فی العالمگیریۃ وغیرہا
 (جیسا کہ فتاوٰی عالمگیریہ وغیرہ میں ہے۔ ت) توبوسہ کیسے دے سکتا ہے۔
وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۷۹: از ڈاکخانہ دھامونکے تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ مرسلہ محمد قاسم قریشی مدرس مدرسہ مورخہ ۲۷ ذی القعدہ     ۱۳۳۵ھ

ایک مسلم کو کون کون سے مواقع اور کون کون سے اشخاص پر پہلے السلام علیکم کہنا واجب ہے وکذالک کیا کوئی مواقع واشخاص ایسے بھی ہیں جبکہ تحیات کا جواب دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
الجواب

ابتدا بہ سلام مسلمان سنی صالح پر سنت ہے اور اعلی درجہ کی قربت ہے مگر واجب کبھی نہیں سوا اس صورت کے کہ سلام نہ کرنے میں اس کی طرف سے ضرر کا اندیشہ صحیح ہو جن صورتوں میں سلام مکروہ ہے جیسے مصلی یا تالی یا ذاکر یا مستنجی یا آکل پر ان لوگوں کو اختیار ہے کہ جواب دیں یا نہ دیں۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter