مسئلہ ۱۷۰ تا ۱۷۱: ازموضع سیوہارہ ضلع بجنور محلہ مولویاں مسئولہ حفظ الرحمن روز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
(۱) زید اپنے پیر کی تصویر کو نہایت احترام سے رکھتا ہے بوسہ دیتا ہے سجدہ تحیت کرتا ہے لہذا تصویر کو بوسہ دینا تصویر کو سجدہ تحیت کرنا کیسا ہے۔ ہر ایک کا حکم علیحدہ علیحدہ نص صریح یا حدیث صحیح یا قول امام سے بحوالہ کتب تحریر فرمادیں۔ اور زید ثبوت سجدہ تحیت میں کتاب انوار العیون فی اسرار المکنون مصنفہ شیخ عبدالقدوس کی یہ عبارت پیش کرتاہے:
مریدان حضرت شیخ العالم قدس سرہ پیش حضرت شیخ العالم سر پیش می آوردندوسجدہ پیش می رفتند ومی نشستند وامر وز ہماں سنت مریداں حضرت شیخ العالم جاری کہ پیش قبر حضرت شیخ العالم و پیش صاحب سجادہ سر برز مین می نہندوسجدہ می کنند ۲؎۔
حضرت شیخ العالم قدس سرہ (یعنی شیخ عبدالقدوس گنگوہی) کے مرید سرآگے کرکے ان کے روبرو سجدہ کرتے اور پھر بیٹھتے ہیں۔ آج حضرت شیخ العالم کے مریدوں میں وہی طریقہ جاری وساری ہے۔ کہ حضرت موصوف کی قبر کو سجدہ کرتے ہیں اور پھر ان کے سجادہ نشین کے آگے زمین پر سر رکھ کر انھیں سجدہ کرتے ہیں۔ (ت)
(۲؎ انوار العیون فی اسرار المکنون)
اس قول کے متعلق کیاحکم ہے؟ اور زید یہ بھی کہتاہے کہ سجدہ تحیت کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔
درمختار میں ہے:
وکذا مایفعلون من تقبیل الارض بین یدی العلماء العظماء فحرام والفاعل والراضی بہ اثمان لانہ یشبہ عبادۃ الوثن وھل یکفران علی وجہ العبادۃ والتعظیم کفر وان علی وجہ التحیۃ لاوصار اثمامرتکبا للکبیرۃ ۱؎ وفی الشامی قال الزیلعی وذکر الصدر الشھید انہ لایکفربھذا السجود لانہ یرید بہ التحیۃ ۲؎۔
اور اسی طرح جو کچھ جہلا اور نادان کیا کرتے ہیں کہ بڑے بڑے عظیم علماء کے آگے زمین کو بوسہ دیتے (تو یاد رکھو کہ ) یہ فعل حرام ہے لہذا کرنے والا اور اس سے خوش ہونے والا(دونوں) گنہگار ہیں اس لئے کہ یہ کام بت کی عبادت سے مشابہت رکھتاہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنے والا کافر ہوجائے گا یانہیں؟ اگر اس نے یہ کام بطور عبادت کیا اور اس کی تعظیم کی تو بلا شبہہ کافر ہوگیا۔ اور اگر تعظیم و بزرگی کی خاطر ایسا کیا تو کافرنہ ہوا لیکن پھر بھی گنہگار۔ گناہ کبیرہ بجالانے والا ہوا۔ اور فتاوٰی شامی میں ہے کہ علامہ زیلعی نے فرمایا امام صدرشہید نے ذکر فرمایا کہ اس طرح سجدہ کرنے سے وہ کافر نہ ہوگا کیونکہ اس سے اس کی مراد صرف تعظیم ہے۔ (ت)یعنی زیلعی وصدرشہید سجدہ تحیت کرنے والے کو کافر نہیں کہتے ۔
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۵)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظروالاباحۃ باب الاستبراء داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۴۶)
(۲) سجدہ عبادت سجدہ تعظیم، سجدہ تحیت، سجدہ شکر، تقبیل ارض ان سب کی تعریف وفرق تحریرفرمادیں نیز ان میں کون مخصوص ہے زندہ بزرگوں کے لئے اور کون ہے قبور وتصاویر کے لئے مع حوالہ کتاب
الجواب
(۱) غیر کو سجدہ بلا شبہہ حرام ہے پھر اگر بروجہ عبادت ہو تو یقینا اجماعا کفر ہے اور بروجہ تحیت ہو تو کفر میں اختلاف ہے اس کے حرام ہونے میں اختلاف نہیں اور حق یہی ہے کہ بے نیت عبادت حرام ہے کبیرہ ہے مگر کفر نہیں زیلعی کی عبارت کا صاف یہی مطلب ہے نفی کفر کرتے ہیں نہ کہ نفی حرمت ، احادیث صحیح اس بارے میں بکثرت وارد اور کتب ہرچہار مذہب اس کی تحریم پر متفق۔ بعض ملفوظات کہ بعض اولیاء کرام کی طرف بلا سند صحیح متصل منسوب ہوں ایسے مسئلہ جلیہ واضحہ متفق علیہا کے مقابل ہر گز قابل استناد نہیں۔ اور بالخصوص سجدہ قبر کے بارہ میں وہ حدیث موجود ہے۔
ارأیت لومررت بقبری اکنت تسجد لہ قال فلا تفعل ۳؎۔
بھلا دیکھئے اگرمیری قبر کے پاس سے گزرو تو کیا اس کو سجدہ کروگے؟ عرض کی: نہیں۔ (ت)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی حق الزوج علی المرأۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۱)
اور تصویر کو سجدہ تو کھلا پھاٹک بت پرستی کا ہے۔ دنیا میں بت پرستی کا آغاز تصاویر کو جانب قبلہ صرف نصب کرنے سے ہوا
کما فی صحیح البخاری وغیرہ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما
(جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے مروی ہے۔ ت) نہ کہ سجدہ کہ جانب قبلہ نصب سے ہزار ہا درجہ بدتر اور کفر سے ایساہی قریب ہے جیسے آنکھ کی سپیدی سے سیاہی ۔ تصویر کی تعظیم مطلقا حرام ہے بلکہ غیر محل اہانت میں اس کا رکھنا ہی حرام ومانع دخول ملائکہ رحمت ہے۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لاتدخل الملئکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ ۱؎۔
فرشتے اس گھرمیں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا اور تصویر ہو۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب بدء الخلق باب اذا قال احد کم امین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۵۸)
(جامع الترمذی ابواب الآداب باب ماجاء ان الملئکۃ لاتدخل الخ امین کمپنی کراچی ۲/ ۱۰۳)
یہ سب وساوس ابلیس ہیں۔ مسلمان اگر اس کے ہاتھوں میں نرم ہوا اور وہ اسے ہلاک کردے گا جلد کھچے اور اس عدومبین سے جدا ہوکر شریعت مطہر ہ کی باگ تھام لے و
(۲) سجدہ کسی قسم کا شریعت محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوٰۃ والتحیۃ میں غیر خدا کے لئے مطلقا جائز نہیں اور احکام منسوخہ سے استناد جہل وخرط انقیاد ورنہ سگی بہن سے نکاح بھی جائز ہو اپنا رب حقیقی و مالک بالذات جان کر اس کے حضور غایت تذلل کے لئے زمین پر پیشانی رکھنا سجدہ عبادت ہے اور معبود نہ جان کر صرف اس کی عٖظمت کے لئے روبخاک ہونا سجدہ تعظیم ہے اور وقت لقا باہمی موانست کے لئے سجدہ تحیت اور ہر شناسی نعمت کے اظہارکو سجدہ شکر اول وآخر مولی عزوجل کے لیے ہیں۔ پہلا فرض اور پچھلا مستحب۔ اور دوم سوم کہ غیر خدا کے لئے ہوں حرام ہیں کفر نہیں۔ یونہی چہارم بھی، اور پہلا کفر قطعی۔ اور غیر خدا کے لئے تقبیل ارض بھی حرام ہے اور جو کرے اور جس کے لئے کی جائے اور وہ راضی ہو دونوں مرتکب کبیرہ اور بہ نیت عبادت ہو تو یہ بھی کفر کہ عبادت غیر کی نیت خود ہی کفر ہے اگرچہ اس کے ساتھ کوئی فعل نہ ہو۔
ہندیہ میں ہے :
وفی الجامع الصغیر تقبیل الارض بین یدی العظیم حرام وان الفاعل والراضی اٰثمان کذا فی التاتارخانیۃ وتقبیل الارض بین یدی العلماء والزھاد فعل الجھال والفاعل والراضی اٰثمان کذا فی الغرائب ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جامع صغیر میں ہے کسی بڑے کے آگے زمین بوسی حرام ہے۔ اور ایسا کرنے والا اس پر راضی ہونے والا دونوں گناہ گار ہیں تاتارخانیہ میں اسی طرح مذکور ہے۔ اہل علم اور زاہدوں کے آگے زمین چومنا جاہلوں (ناواقف لوگوں) کا طریقہ ہے۔ لہذا ایسا کرنے والا اور اس پر راضی ہونے والا (دونوں)گنہگار ہیں فتاوٰی الغرائب میں یہی مذکورہے۔ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب الثامن والعشرون نوانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۶۹)
مسئلہ ۱۷۲: از ضلع گیا پردہ چک ڈاکخانہ شمشیر نگر مسئولہ ابوالبرکات بروز شنبہ بتاریخ ۱۷ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ بعد نماز عید وبقر عید مصافحہ و معانقہ کرنا آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے یا کہ نہیں؟ حدیث مع حوالہ کتب تحریر ہو اور ان اوقات میں مصافحہ کرنا کتب حنفیہ سے ثابت ہے کہ نہیں؟ فقط۔
الجواب
احادیث صحیحہ سے مصافحہ کی سنیت ثابت ہے اور خصوصیت وقت اسے ناجائز نہ کردے گی ۔
حدیث میں ہے:
صوم یوم السبت لالک ولا علیک ۲؎۔
صرف سنیچر کے دن روزہ رکھنا نہ تو تیرے لئے مفیدہے نہ مضر۔ (ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل حدیث امرأۃ رضی اللہ عنہا دارالفکر بیروت ۶/ ۳۶۸)
شاہ ولی اللہ دہلوی نے مسوی شرح مؤطا میں جواز مصافحہ بعد نماز عید کی اور نسیم الریاض میں مصافحہ بعد صلوۃ کی نسبت ہے۔ :
الاصح انھا بدعۃ مباحۃ ۱؎۔
زیادہ صحیح یہ ہے کہ مصافحہ (بعد از نماز) ایک مباح (جائز ) بدعت ہے۔ (ت)
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء للقاضی عیاض الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم دارالکتب العربی بیروت ۲/ ۱۳)
عین العلم میں ہے:
الاصرار بما لم ینہ عنہ حسن ۲؎۔
اس کام پر اصراروتکرار کرنا کہ جس سے منع نہ کیا گیا ہو اچھا کام ہے۔ (ت)
(۲؎ عین العلم البا ب التاسع فی الصمت وآفات اللسان مطبع اسلامیہ لاہور ص۲۰۶)
ایسے مباحات کہ عوام میں رائج ہوں وہ مواقف مسلمین کے باعث مباح نہیں بلک مستحب ہوجاتے ہیں اور اس میں مخالفت مکروہ ہے۔ اور یہ وہی کرے گا جو اپنی شہرت اورنکو بننا چاہتا ہے۔
شرح صحیح مسلم شریف ومجمع البحار وغیرہما میں ہے:
الخروج عن العادۃ شھرۃ ومکروہ ۴؎۔
لوگوں کی عادات سے نکلنا (قدم باہر رکھنا) باعث شہرت اور مکروہ ہے۔ وھو تعالٰی اعلم (ت)
(۴؎الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیہ الصنف التاسع تتمۃ الاصناف مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۱۲)