Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
76 - 146
مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۳: ۱۲ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ

(۱) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان نے دوسرے سے السلام علیکم کہا دوسرے نے بھی جواب میں السلام علیکم ہی کہا دیگر یہ کہ سلام کے جواب میں آداب بندگی، تسلیمات وغیرہ وغیرہ کہے ایسی صورت میں اول السلام علیکم کہنے والا خاموش رہے یا کیا کہے اور جواب سلام کامسنون طریقہ سے جس نے نہیں دیا ہے وہ کس خطا کا مرتکب ہوا؟

(۲) دوسرے یہ کہ بہتر اور آسان طریقہ سلام اور اس کے جواب کا کیا ہے کس قدر الفاظ کہنا چاہئے؟

(۳) تیسرے یہ کہ ایک مقام پر چند یا ایک شخص بیٹھا ہو اور کوئی شخص آئے اور بعد سلام علیکم کرنے کے اور کوئی بات چیت کرکے فوراً چلا جائے قیام نہ کرے ایسی صورت میں مذکور کو جاتے وقت پھر السلام علیکم کہنا چاہئے یانہیں؟
 (۴) چوتھے یہ کہ ان لوگوں کو جو دوسرے دن یا روز مرہ بلکہ کبھی ایک دن میں چند بار بھی ملنے کا اتفاق پڑتا ہو ان کو بعد سلام اور جواب سلام کے اگر چہ دوسر اشخص اپنے کام ضروری میں مصروف ہو مگر مصافحہ کرنا بھی امر ضروری ہے۔ دیگر یہ کہ مصافحہ کون کون سے موقعوں پر کرنا ضروری ہے اور مصافحہ فرض ہے یا واجب یا سنت؟

(۵) پانچویں یہ کہ اگر کوئی مسلمان اگر چہ وہ خود گنہگار ہو اور اپنے آپ کو گنہ گار جانتا بھی ہو لیکن اپنے بھائی مسلمانوں کی حالت خلاف طریقہ اور برتاؤ کو دیکھ کر اورباوجود نصیحت اور ہدایت کرسکنے کے اور نہ کرے تو اس مسلمان مذکور کی بابت کیا حکم ہے؟ دیگر یہ کہ اگر شخص مذکور کسی وجہ خاص یعنی دوسرے کی خفگی وغیرہ کے باعث کچھ نہ کہے مگر خود غمگین ہو اور افسوس کرے اور اس کے حق میں دعائے خیر کرے تو شخص مذکور کچھ اجر پانے کا مستحق ہے یانہیں؟

(۶) چھٹی یہ کہ منافقانہ طریقے سے ملنا اور سلام کرنا کیسا ہے؟ چاہئے یانہیں؟
الجواب

(۱) السلام علیکم کے جواب میں السلام علیکم کہنے سے جواب ادا ہوجا ئے گا اگر چہ سنت یہ ہے کہ وعلیکم السلام کہے، آداب، تسلیمات، بندگی کہنا ایک مہمل بات ہے اورخلاف سنت ہے، اس کا جواب کچھ ضرورنہیں، وہاں مصلحت پر نظر کرے۔ اگر صورت یہ ہے کہ اس کا جواب نہ دینے سے وہ متنبہ ہوگا اور آئندہ خلاف سنت سے باز رہے گا تو کچھ جواب نہ دے، اور اگر وہ دنیا کے اعتبار سے بڑا شخص ہے اور اسے جواب نہ دینے میں ضرر و ایذاکااندیشہ ہے تو ویسا ہی کوئی مہمل جواب دے دے۔ اسی طرح اگر اسے جواب نہ دینے سے کینہ پیدا ہوگا یااپنی ناواقفی کے باعث اس کی دل شکنی ہوگی جب بھی جواب دینا اولٰی ہے اور سلام جب مسنون طریقہ سے کیا گیا ہو اور سلام کرنے والا سنی مسلمان صحیح العقیدہ ہو تو جواب دینا واجب ہے اور اس کا ترک گناہ مگر اجنبی جوان عورت اگر سلام کرے تو دل میں جواب دینا چاہئے واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۲) کم از کم السلام علیکم اوراس سے بہتر ورحمۃ اللہ ملانا اور سب سے بہتر وبرکاتہ شامل کرنا اور اس پر زیادت نہیں۔ پھرسلام کرنے والے نے جتنے الفاظ میں سلام کیا ہے جواب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے۔ اس نے السلام علیکم کہا  تویہ  وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے۔ اورا گر اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا تو یہ وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اوراگر اس نے وبرکاتہ تک کہا تویہ بھی اتنا ہی کہے کہ اس سے زیادت نہیں۔
 (۳) جاتے وقت پھر کہے لیست الاولٰی باحق من الاخرۃ (پہلا جواب دوسرے سے زیادہ بہتر نہیں۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔

(۴) مصافحہ سنت ہے اور اس کا وقت ابتدائے ملاقات ہے خواہ ابتدائے حقیقی ہو جیسے جو شخص ابھی آیا یا حکمی جیسے کوئی بد مذہب آیا اور بیٹھا اور گفتگو کرتا رہا اور ہدایت پائی اور سنی ہوا تو جتنے حاضرین اہلسنت ہیں ان سب کو اس سے مصافحہ چاہئے جیسا کہ امیر المومنین مولاعلی کرم اللہ وجہہ الکریم نے اس کا حکم دیا۔ نماز کے بعد بھی مصافحہ اسی ابتدائے حکمی میں داخل ہے کہ نمازی نماز میں دوسرے عالم میں ہوتا ہے ولہذا جو خارج نماز آیت سجدہ کی تلاوت کرے اس کے سننے سے نماز ی پر سجدہ واجب نہیں۔ اورنمازی تلاوت کرے تو جو نماز سے باہر ہے اس پر واجب نہیں۔ اس لئے شریعت مطہرہ  میں ختم نماز میں ایک، دوسرے پر سلام رکھا۔ دن میں اگر کئی بار ملتا ہو تو ہر بار مصافحہ چاہئے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۵) احکام الٰہی بجالانا اور گناہ سے خود بچنا ہر شخص پر فرض ہے اور دوسرے کو اتباع شرع کا حکم دینا اور گناہ سے بقدر قدرت منع کرنا ہر اہل پر فرض ہے آپ گناہ کرنے کے سبب دوسرے کو نہ منع کرنا دوسرا گناہ ہے ہاں اگر منع کرنے کے سبب فتنہ وفساد وحشت ونفرت کاظن غالب ہو تو سکوت کی اجازت ہے اور اس کے ساتھ دل میں غمگین ہونا اور مسلمان بھائی کے لئے دعا کرنا یہ ایمان کی علامت ہے اس پر ثواب پائے گا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

(۶) بلاضرورت ومجبوری شرعی حرام ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۴ تا ۱۶۸: از اٹاوہ ادریا     مسئولہ حیات اللہ بروز پنجشنبہ     بتاریخ ۹ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں :

(۱) آیا عورت مومنہ کو مومنہ سے السلام علیکم کہنا اور اس کا جواب وعلیکم السلام کہنا جائز ہے؟

(۲) عورت مومنہ کا اپنے باپ بھائی دادا سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا جائز ہے؟

(۳) لڑکے اور بھائی کو اپنی ماں اور بہن سے السلام علیکم کہنا جائز ہے اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے؟

(۴) عورت کو خاوند سے اور خاوند کو عورت سے السلام علیکم کہنا اور جواب میں وعلیکم السلام کہنا کیساہے؟

(۵) عورتوں کو اگر السلام علیکم کہنادرست نہیں تو اور کون الفاظ بروئے شرع آپس میں ملتے وقت کہنا چاہئے؟ 

فقط۔
الجواب

ان سب صورتوں میں السلام علیکم اور جواب وعلیکم السلام کہنا بلا شبہہ جائز ہے زمانہ اقدس میں بھی رواج تھا۔ بیبیوں سے بھی السلام علیکم فرمایا ہے مگریہاں ایک دقیقہ واجب اللحاظ ہے جو سنت مؤکدہ نہ ہو یا اس کا ایک طریقہ متعین نہ ہو اور بعض طرق عوام میں ایسے اوپری ہوگئے ہوں کہ اس کے بجالانے سے سنت پر ہنسیں گے تو وہاں اس غیر مؤکدہ اورمؤکدہ کے اس طریقہ خاصہ کا ترک ہی مصلحت ہوتاہے کہ ایک استحباب کے لئے لوگوں کا دین کیوں فاسد ہو سنت پر ہنسنا معاذاللہ کفر تک لے جاتاہے اور مسلمانوں کو کفر سے بچانا فرض ہے مسئلہ خفاض نساء میں علماء نے اس دقیقہ کی تصریح کی ہے نیز شملہ عمامہ میں فرمایا کہ جہاں جہاں اس پر ہنستے ہیں اور دم سے تشبیہ دیتے ہوں وہاں شملہ نہ چھوڑا جائے، باہم عورتوں کا یا عورتوں سے السلام علیکم کی حالت قریب قریب ایسی ہی ہے اور اسے اچنبا جانیں گے اور اس پر ہنسنے کا احتمال ہے اور لفظ سلام اس کا قائم مقام ، قالواسلاما قال سلام تو اس پر اکتفا مناسب ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹:از مقام کیلا کھیڑا تحصیل باز پور ضلع نینی تال مسئولہ عبدالمجید خاں مدرسہ زنانہ بروز شنبہ بتاریخ ۱۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

احوال اینست کہ بابت مصافحہ کے کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے نہیں کرنا چاہئے اور کوئی کہتا ہے کہ بعد نماز کے کرنا چاہئے لہذا آپ سے معروض ہوں کہ کون سا قول صحیح تر ہے۔ اور طریقہ بھی صاف الفاظوں میں تحریر فرمائیں تاکہ مخالف زیر ہو۔
الجواب

نمازوں کے بعد مصافحہ صحیح یہ ہے کہ جائز ہے۔ 

نسیم الریاض میں ہے:
الاصح انھا بدعہ مباحۃ ۱؎۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
صحیح یہ ہے کہ یہ بدعت مباحہ ہے۔ (ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ نسیم الریاض فی شرح الشفاء للقاضی عیاض         الباب الثانی فصل فی نظافۃ جسمہ     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۱۳)
Flag Counter