روی ابن عساکر بسند جید عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان بلالارای فی منامہ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھو یقول لہ ماھذہ الجفوۃ یا بلال اما ان لک ان تزورنی فانتبہ حزینا خائفا فرکب راحلتہ وقصد المدینۃ فاتی قبر رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فجعل یبکی عندہ ویمرغ وجھہ علیہ ۲؎۔
یعنی ابن عساکر نے بسند صحیح ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا کہ بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ شام کو چلے گئے تھے ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ان سے فرماتے ہیں یہ کیا جفا ہے کیا وہ وقت نہ آیا کہ تو ہماری زیارت کو حاضر ہو، بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ غمگین اور ڈرتےہوئے جاگے اور بقصد زیارت اقدس سوار ہوئے، مزار پر انوار پر حاضر ہو کر رونا شروع کیا اوراپنا منہ قبر شریف پر ملتے تھے۔
(۲؎وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۶)
امام حافظ عبدالغنی وغیرہ اکابر فرماتے ہیں:
لیس الاعتماد فی السفر للزیارۃ علی مجرد منامہ بل علی فعلہ ذٰلک والصحابۃ متوفرون ولم تخف علیہم القصۃ ۳؎۔
یعنی زیارت اقدس کے لئے شدالرحال کرنے میں ہم فقط خواب پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ اس پر کہ بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ کیا اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم بکثرت موجود تھے اور انھیں معلوم ہوا کسی نے اس پر انکار نہ فرمایا۔
(۳؎وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۷)
عالم مدینہ فرماتے ہیں:
ذکر الخطیب بن حملۃ ان بلا لارضی اﷲ تعالٰی عنہ وضع خدیہ علی القبر الشریف وان ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کان یضع یدہ الیمین علیہ ثم قال ولا شک ان الاستغراق فی المحبۃ یحمل علی الاذن فی ذٰلک والقصد بہ التعظیم والناس تختلف مراتبھم کمافی الحیوۃ فمنھم من لایملک نفسہ بل یبادر الیہ ومنھم من فیہ اناۃ فیتاخر ۱؎ اھ ملخصا۔ ونقل عن ابن الصیف والمحب الطبری جواز تقبیل قبور الصالحین وعن اسمعیل التیمی قال کان ابن المنکدر یصیبہ الصمات فکان یقوم فیضع خدہ علی قبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فعوتب فی ذٰلک فقال استشفیت بقبر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎۔
یعنی خطیب بن حملہ نے ذکر کیا کہ بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ نے قبر انور پر اپنے دونوں رخسارے رکھے اور ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اپنا داہنا ہاتھ اس پر رکھتے پھر کہا شک نہیں کہ محبت میں استغراق اس میں اذن پر باعث ہوتاہے اور اس سے مقصود تعظیم ہے اور لوگوں کے مرتبے مختلف ہیں جیسے زندگی میں تو کوئی بے اختیارانہ اس کی طرف سبقت کرتا ہے اور کسی میں تحمل ہے وہ پیچھے رہتاہے۔ اور ابن الصیف اور امام محب الطبری سے نقل کیا کہ مزارات اولیاء کوبوسہ دینا جائز ہے۔ اور اسمعیل تیمی سے نقل کیا کہ ابن المنکدر تابعی کو ایک مرض لاحق ہوتا کہ کلام دشوار ہوجاتا تو وہ کھڑے ہوتے اور اپنا رخسارہ قبر انور سید اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر رکھتے، کسی نے اس پر اعتراض کیا، فرمایا: میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مزار اقدس سے شفا حاصل کرتاہوں،
(۱؎ وفاء الوفاء الفصل الرابع باب مایلزم الزائر من الادب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۵)
(۲؎وفاء الوفاء الفصل الرابع باب ما یلزم الزائر من الادب داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۶)
علامہ شیخ عبدالقادر فاکہی مکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کتاب مستطاب حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل میں فرماتے ہیں:
تمریغ الوجہ والخد واللحیۃ بتراب الحضرۃ الشریفۃ واعتابھا فی زمن الخلوۃ المأمومن فیھا توھم عامی محـذوراشرعیا بسببہ امر محبوب حسن لطلابھا وامرلابأس بہ فیما یظھر لکن لمن کان لہ فی ذٰلک قصد صالح وحملہ علیہ فرط الشوق والحب الطافح ۱؎ ۔
یعنی خلوت میں جہاں اس کا اندیشہ نہ ہو کہ کسی جاہل کا وہم اس کے سبب کسی ناجائز شرعی کی طرف جائیگا ایسے وقت بارگاہ اقدس کی مٹی اور آستانے پر اپنا منہ اور رخسارہ اور داڑھی رگڑنا مستحب ومستحسن ہے جس میں کوئی حرج معلوم نہیں مگر اس کے لئے جس کی نیت اچھی ہو اور افراط شوق اور غلبہ محبت اسے اس پر باعث ہو۔
(۱؎ حسن التوسل فی زیارۃ افضل الرسل)
پھر فرماتے ہیں:
الاانی اتحفک بامر یلوح لک منہ المعنی بان الشیخ الامام السبکی وضع خد وجہہ علی بساط دارالحدیث التی مسھا القدم النووی یسأل برکۃ قدمہ وینوہ بمزید عظمۃ کما اشار الی ذٰلک بقولہ و فی دارالحدیث لطیف معنی ÷ الی بسط لہ اصبو واٰوی÷ لعلی ان انال بحر وجھی ÷ مکان مسہ قدم النواوی ÷وبان شیخنا تاج العارفین امام السنۃ خاتم المجتہدین کان یمرغ وجہہ ولحیتہ علی عتبۃ البیت الحرام بحجر اسمعیل ۲؎۔
یعنی علاوہ بریں میں تجھے یہاں ا یک ایسا تحفہ دیتا ہوں جس سے معنی تجھ پرظاہر ہوجائیں وہ یہ کہ امام اجل تقی الملۃ والدین سبکی دارالحدیث کے اس بچھونے پر جس پر امام نووی قدس سرہ العزیز قدم رکھتے تھے ان کے قدم کی برکت لینے اور ان کی زیادت تعظیم کے شہرہ دینے کو اپنا چہرہ اس پر ملا کرتے تھے جیسا کہ خود فرماتے ہیں کہ دارالحدیث میں ایک لطیف معنی ہے جس کے ظاہر کرنے کا مجھے عشق ہے کہ شاید میرا چہرہ پہنچ جائے اس جگہ پر جس کو قدم نووی نے چھوا تھا اور ہمارے شیخ تاج العارفین امام سنت خاتمہ المجتہدین آستانہ بیت الحرام میں حطیم شریف پر جہاں سیدنا اسمعیل علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مزار کریم ہے اپنا چہرہ اور داڑھی ملا کرتے تھے۔
بالجملہ یہ کوئی امر ایسا نہیں جس پر انکار واجب ہو جبکہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اور اجلہ ائمہ رحمہم اللہ تعالٰی سے ثابت ہے تو اس پر شورش کی کوئی وجہ نہیں اگر چہ ہمارے نزدیک عوام کو اس سے بچنے ہی میں احتیاط ہے امام علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی حدیقہ ندیہ میں شرح طریقہ محمدیہ میں فرماتے ہیں:
المسألۃ متی امکن تخریجھا علی قول من الاقوال فی مذھبنا اومذہب غیرنا فلیست بمنکر یجب انکارہ والنھی عنہ وانما المنکر ماوقع الاجماع علی حرمتہ والنھی عنہ۔ ۱؎ واﷲ تعالٰی اعلم۔
جب کسی مسئلے کی ہمارے مذہب کے اقوال میں سے کسی قول پر یا کسی دوسرے مذہب پر تخریج ممکن ہو تو ایسا مسئلہ قابل انکا رنہیں ہوتا کہ جس کا انکار واجب ہو اور اس سے منع کیاجائے قابل انکار وہ مسئلہ ہوتاہے کہ جس کی حرمت پر اہل عالم کا اتفاق ہو او ر اس سے منع کیا گیا ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ الحدیقہ الندیہ النوع الثالث والثلاثون المکتبہ النوریۃ الرضویۃ فیصل آباد ۲/ ۳۰۹)
مسئلہ ۱۵۷: مرسلہ جناب محمد زاہد بحش صاحب از ملک بنگالہ ڈاکخانہ ڈام اکانڈہ موضع فرید پور ضلع میمن سنگھ ۴ جمادی الاولٰی ۱۳۳۲ھ
ایک پیر مرید کرتا ہے اس طریقہ پر کہ اول نَے ، ڈھول اور طنبورہ اور مردنگ اور سارنگی اور ستار اور بیلا اور تالی بجانا اور گیت گانا اور ناچنا شروع کرتاہے تو پھر بے ہوش ہوتا ہے۔ اور گانا اور بجانا ایسی زورسے کرتاہے کہ ایک میل سے سنا جاتاہے۔ اور اس پیرکے نزدیک جب سب مرید آتے ہیں اول سجدہ کرتے ہیں یا کہ قدم چومتے ہیں تو اس شرط میں اس ملک کے عالم منع کرتے ہیں اور وہ پیر یہ جواب دیتے ہیں کہ سجدہ کرنا قرآن میں جائز ہے پیرکو۔ سورہ یوسف کی اس آیت میں
ورفع ابویہ علی العرش وخروا لہ سجدا ۔۲
اور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والدین کو اوپر کرکے تخت پربٹھایا اور وہ سب اس کے لئے سجدہ میں گرگئے۔ ت) اورع وہ پیر یا کہ وہ مرید امامت کریں تو ان کے پیچھے اقتداء کرنے سے نماز درست ہوگی یا نہیں؟
(۲؎ القرآن الکریم ۱۲/ ۱۰۰)
الجواب
مزامیر ناجائز ہیں اور سجدہ غیر خدا کو حرام قطعی ہے۔ اور قرآن عظیم کی طرف اس کے جواز کی نسبت کرنا افتراء ہے۔ قرآن عظیم نے اگلی شریعت والوں کا واقعہ ذکر فرمایا ہے ان کی شریعت میں سجدہ تحیت حلال تھا ہماری شریعت نے حرام فرمادیا تو اب اس سے سند لانا ایسا ہے جیسے کوئی شراب کو حلال بتائے کہ اگلی شریعتوں میں جہاں تک نشہ نہ دے حلال تھی بلکہ شریعت سیدناآدم علیہ الصلوٰۃ والسلام میں سگی بہن سے نکاح جائز تھا اب اس کی سند لاکر جو حلال بتائے کافر ہوجائے گا، ایسے پیر اور ایسے مریدوں کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے کہ پڑھنا گناہ ہے اور پڑھی ہو تو پھیرنا واجب ہے۔ اور انھیں امام بنانا ناجائز ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔