مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴: مسئولہ سید محمد میاں ۱۷ شوال المکرم۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا صاحب معظم مکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از تسلیم مع التعظیم والتکریم معروض کل جو فتوٰی جناب سے لایا تھا اس کے متعلق بعض امور دریافت طلب رہے:
(۱) جناب فرماتے ہیں کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی ہے۔ امر تعبدی سے یہاں کیا مرا دہے اور پھر اس تعظیم سے امر تعبدی ہونے کا کیا ثبوت ہے۔؟
(۲) تعظیم سے مراد مطلق تعظیم ہے تو تعظیم قبر کے تعبدی ہونے کا ثبوت درکار ہے اور تعظیم الٰہی مراد ہے تو اس کے تعبدی ہونے سے تعظیم قبر کے لئے طواف کیسے ممنوع وبدعت ٹھہرے گا۔ امید کہ جواب باصواب سے ممتاز فرمائیں۔ والتسلیم مع التکریم زیادہ ادب۔
الجواب
حضرت والا! آداب۔ میرے اس بیان میں دو دعوے ہیں: ایک یہ کہ طواف تعظیمی غیر خدا کے لئے حرام ہے۔ دوسرے یہ کہ حضرت عزت کے لئے بھی اگر کعبہ معظمہ وصفا ومروہ کے سواکوئی اور طواف مقرر کیا تو ناجائز ہے۔ اول کا ثبوت عبارات منسک ومسلک میں اور دوم کا یہ بیان کہ تعظیم الٰہی کا بطواف امکنہ امر تعبدی غیر معقول المعنی ہے جس کی تصریح ائمہ نے فرمائی ہے کہ افعال حج تعبدی ہیں۔ امید کرتاہوں کہ اس گزراش سے دونوں سوالوں کا حل ہوگیا۔ فقط۔
مسئلہ ۱۵۵: مسئولہ محمد میاں قادری از مارہرہ ۲۰ شوال ۱۳۳۶ھ
حضرت مولانا المعظم المکرم دامت برکاتہم العالیہ پس از سلام مسنونہ معروض دربارہ مسئلہ طواف تعظیمی قبر میں بعض اہل لاہور کہتے ہیں کہ جب تعظیم قبر ایک امر جائز کم از کم ہے تو وہ ہیئت اور صورت کے لحاظ سے اپنے اطلاق پر رہنا چاہئے جب تک کہ شرع سے کسی خاص میں کوئی تقیید نہ آئے اور صورت طواف میں بھی مسلک ومنسک کے مصنفین کے منع کرنے کو وہ کافی نہیں سمجھتے اس کی کفایت یا اور کافی سند مذہب کی زیادت کی ضرورت ہے جناب ارشاد فرمائیں۔ فقیر محمد میاں قادری
الجواب
حضرت والاتسلیم، یا کتاب نامعتمد ہو یا اسے معتمد ترکتب میں اس کا خلاف مصرح ہو ورنہ کتب امام محمد یا مسندات کے سوا تمام متون وشروح وفتاوٰی ردی ہوجائیں گے۔ منسک ومسلک ضرور کتب معتمدہ ہیں اور ان کے مصنفین اپنا اجتہاد نہیں لکھتے، بلکہ مذہب کتب مذہب میں اس کا خلاف کس کس نے کیا، اور نہیں تو وجہ رد کیا ہے۔ فقط۔
مسئلہ ۱۵۶: مسئولہ مولوی عبدالحمید صاحب از بنارس محلہ پترا کنڈہ تالاب ۱۹ ربیع الاول ۱۳۳۲ھ
ہمارے سنی حنفی علماء
کثرہم اﷲ تعالٰی وابقاھم الی یوم الجزاء
(اللہ تعالٰی انھیں زیادہ کرے اورقیامت کے دن تک انھیں باقی رکھے۔ ت) اس میں کیا فرماتے ہیں کہ خالد نے زید سے سوال کیا کہ کسی ولی کی قبر شیریف کو بوسہ دینا جائز ہے یانہیں؟ زید نے جواب دیا اس میں علماء کااختلاف ہے۔ بعضے ناجائز فرماتے ہیں بعضے جائز کہتے ہیں لیکن جواز ان کا قولا وفعلا بہت سے اکابر سے منقول ہے ___مطالب المومنین میں ہے کہ بسند جید واردہے۔ کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ جب شام سے مزار اقدس کی زیارت کے لئے حاضر ہوئے تو روتے تھے اور اپنے چہرہ مبارک کو لٹاتے اعنی مزار قدس سے ملتے تھے۔ اور مسند امام احمدبن حنبل علیہ الرحمۃ میں ہے کہ ایک روز مروان نے ایک شخص کو مزار اقدس پر منہ رکھے ہوئے دیکھا تو کہا کہ اے شخص، تو جانتا ہے کہ کیا کرتاہے۔ تو پھر نزدیک آکر دیکھا تو ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے۔
خلاصۃ الوفا میں ہے کہ حضرت امام بن حنبل رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے صاحبزادے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص تبرکا منبر شریف کو بوسہ دے اور ہاتھ لگائے مزار اقدس کے ساتھ بھی ثواب کی امید پر ایسا ہی کرے تو فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
لابأس بتقبیل قبر والدیہ ۱؎۔
اپنے والدین کے قبر کو بوسہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراھیۃ الباب السادس نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۱)
اور عینی شرح بخاری میں ہے:
ان تقبیل الاماکن الشریفۃ علی قصد التبرک وکذلک تقبیل ایدی الصالحین وارجلھم فھو حسن محمود باعتبار القصد و النیۃ ۲؎۔
شریف مقامات کو چومنا بشرطیکہ تبرک کے ارادے سے ہو اور اسی طرح نیک لوگوں کے ہاتھ پاؤں چومنا اچھا اور قابل تعریف کام ہے بشرطیکہ اچھے ارادے اور نیت سے ہو۔ (ت)
(۲؎ عمدہ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الحج باب ماذکر فی الحجر الاسود ادارہ الطباعۃ المنیریۃ بیروت ۹/ ۲۴۱)
اور شاہ عبدالعزیز صاحب کا اپنے باپ دادا کی قبروں کو بوسہ دینا بوارق محمدیہ میں منقول ہے۔
باقی رہا عدم جوا ز سو بعضے اس کی علت اس کا عادت نصارٰی سے ہونا بتاتے ہیں اور بعضے اس کا مسنون ہونا فرماتے ہیں، سو پہلی بات میں تویہ ہے کہ یہ مسئلہ شرعی ہے جب ہمارے اور غیر کے درمیان کسی امر میں کچھ فرق ہوگیا تو حکم تشبہ باطل ہوتا ہے۔ تنہا عاشورے کے روز نیز روزشنبہ کے روزے کا مکروہ ہونا اور نویں یا گیارھویں اور جمعہ یا یکشنبہ کا ملادینے سے بلاکراہت جائز ہونا اسی طرح اہل مصیبت کے لوگوں کی تعزیت کے لئے آنے کی غرض سے گھرکے دروازے پر بیٹھنے کا مکروہ ہونااور گھر کے اندر بیٹھنے کا بلاکراہت جائز ہوناکتب فقہ میں مصرح ہے پس کسی ولی کے مزار شریف کو صرف بوسہ دے کے چلاآنا بعجلت مذکورہ مکروہ ہوگا اور جب سلام بھی عرض کیا اور بوسہ بھی دیا اورآنکھوں سے بھی لگایا اور فاتحہ بھی پڑھی تو بلاکراہت جائز ہوگا، اور دوسری بات میں یہ کہ کسی امر کے غیر مسنون ہونے کو اس کا حرام یا مکروہ ہونا لازم نہیں۔ دیکھئے مثلا نماز کی نیت کے ساتھ تلفظ باجود یکہ
علی ماقال الشرنبلالی فی حاشیۃ علی الدررالغرر
ورنہ حضور سے نہ صحابہ کرام سے نہ تابعین سے نہ ائمہ اربعہ سے کسی سے منقول نہیں مگر فقہاء اس کو مستحب فرماتے ہیں پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا
الجواب
فی الواقع بوسہ قبر میں علماء کا اختلاف ہے۔ اور تحقیق یہ ہے کہ وہ ایک امر ہے دو چیزوں داعی و مانع کے درمیان دائر، داعی محبت ہے اور مانع ادب، تو جسے غلبہ محبت ہو اس سے مواخذہ نہیں کہ اکابر صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے ثابت ہے اور عوام کے لئے منع ہی احوط ہے۔ ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ مزار کابر سے کم از کم چار ہاتھ کے فاصلے سے کھڑا ہو پھرتقبیل کی کیا سبیل۔ عالم مدینہ علامہ سید نور الدین سمہودی قدس اللہ سرہ خلاصۃ الوفا شریف میں جدار مزار انور کے لمس وتقبیل وطواف سے ممانعت کے اقوال نقل کرکے فرماتے ہیں:
وکتاب العلل والسؤالات لعبداﷲ بن احمد بن حنبل سألت ابی عن الرجل یمس منبر رسول اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم ویتبرک بمسہ ویقبلہ ویفعل بالقبر مثل ذٰلک رجاء ثواب اﷲ تعالٰی فقال لابأس بہ ۱؎۔
یعنی احمد بن حنبل کے صاحبزادے فرماتے ہیں میں نے باپ سے پوچھا کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے منبر کو چھوئے اور بوسہ دے اور ثواب الٰہی کی امید پر ایسا ہی قبر شریف کے ساتھ کرے۔ فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔ (ت)
(۱؎ وفاء الوفاء الفصل الرابع باب مایلزم الزائر من الادب الخ داراحیا التراث العربی بیروت ۴/ ۱۴۰۴)
امام اجل تقی الملۃ والدین علی ابن عبدالکافی سبکی قد س سرہ الملکی شفاء السقام پھر سید نور الدین خلاصۃ الوفاء میں بروایۃ یحیٰی بن الحسن عن عمر بن خالد عن ابی نباتۃ عن کثیر بن یزید عن المطلب بن عبداللہ بن حنطب ذکر فرماتے ہیں کہ مروان نے ایک صاحب کو دیکھا مزار اعطر سید اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے لپٹے ہؤے ہیں قبر شریف پر اپنا منہ رکھے ہیں مروان نے ان کی گردن پکڑ کر کہا جانتے ہویہ تم کیا کررہے ہیں انھوں نے اس کی طرف منہ کیا اور فرمایا:
نعم اٰتی لم اٰت الحجر انما جئت رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم
ہاں میں پتھر کے پاس نہ آیا میں تو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور حاضر ہوا ہوں میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ
لاتبکوا علی الدین اذا ولید اھلہ ولکن ابکوا علی الدین اذا ولیہ غیر اھلہ۱؎۔
دین پر نہ روجب اس کا والی اس کا اہل ہو ہاں دین پر رو جب نااہل اس کا والی ہو۔ سید قدس سرہ فرماتے ہیں:
رواہ احمد بسند حسن
امام احمد نے یہ حدیث بسند حسن روایت فرمائی۔
(۱؎ شفاء السقام ابواب السابع الفصل الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ص۱۵۲)
(وفاء الوفاء الباب الثامن الفصل الثانی داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۳۵۹)