عارف باللہ حضرت مولوی قدس اللہ سرہ المعنوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں: ؎
(۱) سوئے مکہ شیخ امت بایزید از برائے حج وعمرہ می روید
(۲) دید پیرے باقدے ہمچوں ہلال بود در وے فرد گفتاری رجال ۔
(۳) بایزید او راچو ازاقطاب یافت مسکنت بنمود ودرخدمت شتافت
(۴) گفت عزم تو کجا اے بایزید رخت غربت راکجا خواہی کشید
(۵) گفت قصہ کعبہ دارم ازولہ گفت بین باخود چہ داری زادرہ
(۶) گفت دارم از درم نقرہ ویست نک بہ بستد سخت برگوشہ رویست
(۷) گفت طوفے کن بہ گردم ہفت بار دین نکوترا ز طواف حج شمار
(۸) حق آں حقے کہ جانت دیدہ است کہ مرا بربیت خود بگزیدہ است
(۹) کعبہ ہرچندے کہ خانہ براوست خلقت من نیز خانہ سراوست
(۱۰) تابکرد آں خانہ رادروے نہ رفت واندریں خانہ بجزآں حی نرفت
(۱۱) چوں مراد دیدی خدا رادیدہ گرد کعبہ صدق برگردیدہ
(۱۲) خدمت من طاعت حمد خدا ست تانہ پنداری کہ حق از من جدا ست
(۱۳) چشم نیکوں بازکن درمن نگر تابہ بینی نور حق اندر بشر
(۱۴) کعبہ را یکبار بیتے گفت یار گفت یاعبدی مراہفتادبار
(۱۵) بایزید اکعبہ را دریافتی صدبہاء وعزیز وصدفریافتی
(۱۶) بایزید آں نکتہاراہوش داشت ہمچو زریں حلقہ اش درگوش داشت
(۱۷) آمدا زوے بایزید اندر مزید منتہی درمنتہٰی آخر رسید ۲؎
(ترجمہ اشعار:
(۱) لوگوں کے پیشوا حضرت بایزید بسطامی رحمہ اللہ تعالٰی مکہ معظمہ کی جانب حج اور عمرہ کے ارادے سے تیز چلے۔
(۲) (راہ میں) نئے چاند کی طرح ایک کُبڑا بزرگ دیکھا اس میں شان وشوکت (دبدبہ) اور مردوں جیسی گفتگو پائی۔
(۳) جب حضرت بایزید نے اسے اقطاب زمانہ میں سے پایا تو عجز وانکساری کا اظہار کرکے اس کی خدمت کے لئے دوڑ دھوپ کرنے لگے۔
(۴) اس نے فرمایا: اے بایزید! کہاں جانے کا ارادہ ہے تو نے کہاں جانے کے لئے سامان سفراختیار کیا ہے۔
(۵) حضرت بایزید نے انھیں جواب دیا کہ آج بڑے شوق سے کعبہ شریف کی طرف جانے کا ارادہ کیا ہے۔ پھر فرمایا وہاں تو اپنے ساتھ کیا زادراہ رکھتاہے۔
(۶) عرض کی: میں چاندی کے دو سودرھم اپنے پاس رکھتا ہوں، میں نے اپنی چادرکے ایک کونے میں انھیں مضبوط باندھ رکھا ہے۔
(۷) انھوں نے فرمایا: تو سات مرتبہ میرے گردا گرد طواف کر (یعنی چکر لگا) اور پھر طواف حج سے اسے زیادہ بہتر شمار کر۔
(۸) درحقیقت وہ حق ہے جو تیری جان نے دیکھا ہے کہ اس نے مجھے اپنے گھر پرفضیلت اور فوقیت بخشی ہے۔
(۹) اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں کہ کعبہ شریف اس کی بھلائیوں کا گھر (مرکز) ہے لیکن میری تخلیق تو اس کے اندرون خانہ سے ہوئی ہے۔
(۱۰) جب وہ گھر بنایا تو اس کا چکرنہ لگایا، اور اس گھر میں بغیر اس زندہ جاوید کے کوئی دوسرا نہیں آیا۔
(۱۱) جب تو نے مجھے دیکھا تو اللہ تعالٰی کو دیکھا، گویا تو نے سچائی کے کعبہ کے آس پاس پھیرے لگائے۔
(۱۲) میری خدمت کرنا دراصل اللہ تعالٰی کی اطاعت اور تعریف ہے۔ لہذا یہ نہ سمجھنا کہ حق مجھ سے جدا ہے۔
(۱۳) اچھی طرح آنکھ کھول کر مجھے دیکھ تا کہ تو انسانی لباس میں نورحق دیکھے۔
(۱۴) کعبہ شریف کو ایک دفعہ یار نے اپنا گھر فرمایا لیکن اس نے ستر مرتبہ مجھے ''اے میرے بندے'' کہہ کر بلایا۔
(۱۵) اے بایزید! اگر تو نے کعبہ شریف کو پالیا تو یوں سمجھ لیجئے کہ تو نے سیکڑوں عزت و شوکت اور مرتبے کو پالیا۔
(۱۶) جب وہ باریک باتیں حضرت بایزید کے عقل وہوش میں بیٹھ گئیں تو گویاانھوں نے سنہری بالی اپنے کان میں ڈال لی۔
(۱۷) ان کی زیارت سے حضرت بایزید میں معرفت کااضافہ ہوگیا اورسلوک میں انتہائی طالب اپنے مدعا کی انتہا کوپہنچ گیا)
(۲؎مثنوی معنوی دفتر دوم باب رفتن بایزید بسطامی بہ کعبہ الخ نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۵۴۔۵۵)
جناب شاہ ولی اللہ صاحب انتباہ میں فی سلاسل اولیاء اللہ میں فرماتے ہیں اپنا خلف ناخلف اسمعیل دہلوی کی جان پر قہر کی بجلیاں توڑنے کو فرماتے ہیں:
چوں بمقبرہ در آید دوگانہ بروح آں بزرگوار ادا کند بعدہ قبلہ راپشت دادہ بنشیند بعد قل گوید پس فاتحہ بخواندبعدہ ہفت کرت طواف کند وآغاز از راست بکند بعدہ طرف پایان رخسارہ نہد وبیاید نزدیک روئے میت بہ نشیند وبگوید یارب بست ویک بار بعد طرف آسماں بگوید یاروح و دردل ضرب کندیا روح الروح مادام کہ انشراح یابدایں ذکر بکند ان شاء اﷲ تعالٰی کشف قبور وکشف ارواح حاصل آید ۱؎۔
پھر جب مقبرہ کے پاس آئے تودو رکعت نوافل اس بزرگ کی روح اقدس کے ایصال ثواب کے لئے ادا کرے۔ اور کعبہ شریف کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھ جائے، پھر سورۃ اخلاص پڑھے پھر فاتحہ پڑھے پھر سات چکر (طواف) بزرگ کے مزار کے گرداگرد لگائے، دائیں طرف سے شروع کرے، پھر بائیں طرف اپنارخسار رکھے اور میت کے منہ کے نزدیک ہو کر پھر منہ کے نزدیک ہو کر بیٹھے پھر اکیس مرتبہ یارب کا ورد کر ے پھر آسمان کی طرف منہ کرکے ''یاروح'' پڑھے اور اپنے دل پر ''یاروح الروح'' کی ضرب لگائے جب تک انشراح نہ ہو یہ ذکر کرتا رہے ان شاء اللہ تعالٰی کشف قبور اور کشف ارواح یہ دونوں حاصل ہوجائیں گے۔ (ت)
تحفۃ الموحدین شاہ صاحب کی کتاب نہیں بہت قریب زمانہ میں کسی وہابی صاحب نے شاہ صاحب کی تصانیف مشہورہ کے رد کو کچھ الٹی سیدھی تکیں جوڑکر وہابیوں کے ادعائی نام موحد کی طرف اسے نسبت کرکے تحفۃ الموحدین نام رکھا اور بکمال بے ایمانی شاہ صاحب کی طرف منسوب کردیا، بے حیا گمراہ لوگ ایسی اکثر کر چکے ہیں جس کا بیان شاہ عبدالعزیز صاحب وغیرہ کی تحفہ اثناعشرہ وغیرہ میں ہے۔ کہ ابھی قریب زمانہ میں بمبئی میں ایک عربی کتاب بنام عقائد امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ چھپی ہے۔ اس میں بھی یہی کارروائی ہے کم کوئی شیطانی عقیدہ چھوڑ ا ہوگا جسے اس امام الاسلام سیف السنہ کی طرف نسبت نہ کیا ہو
وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون ۱؎
(بہت جلد ظالموں کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۶/ ۲۲۷)
بالجملہ اگر طواف مقصود بالذات نہیں جب تو جواز ظاہر ہے اور اگر مقصود بالذات ہے تو صرف فرق نیات ہے اگر بہ نیت تعظیم قبر ہے تو بلا شبہہ حرام ہے اور تبرک و استفاضہ وغیرہما نیات محمودہ سے ہے تو فی نفسہ اس میں حرج نہیں اور یہ ٹھہرا لینا کہ اس میں مسلمان کی نیت طواف سے تعظیم قبر ہے قلب پر حکم ہے اور یہ غیب کا ادعا اور محض حرام ہے۔
قال اﷲ تعالٰی ولاتقف مالیس لک بہ علم ان السمع والبصر والفؤاد کل اولئک کان عنہ مسئولا ۲؎o
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افلا شققت عن قلبہ حتی تعلم ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور اس کے پیچھے نہ پڑو جس کا تمھیں علم نہیں یقینا کان، آنکھ اور دل ان سب سے پوچھا جائے گا۔ اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: کیا تو نے اس کے دل کو چیر کر دیکھا کہ تجھے معلوم ہوجاتا۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۱۷/ ۳۶)
(۳؎ سنن ابی داؤد کتا ب الجہاد باب علی مایقاتل المشرکون آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۳۵۵)
یہ بدگمانی ہے اور مسلمان پر بدگمانی حرام ۔
قال اﷲ تعالٰی یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اثم ۴؎o
وقال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث۔۵؎
(اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:) اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ کچھ گمان گناہ ہیں۔ اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) بدگمانی سے بچو کیونکہ گمان کرنا سب سے جھوٹی بات ہے۔ (ت)
(۴؎ القرآن الکریم ۴۹/ ۱۲)
(۵؎ صحیح البخاری کتاب الوصایا باب قول عزوجل من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۳۸۴)
ائمہ دین فرماتے ہیں :
الظن الخبیث انما ینشؤ عن قلب الخبیث ۱؎۔
خبیث گمان خبیث دل ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ (ت)
(۱؎ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر تحت حدیث ۲۹۰۱ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۱۲۲)
مگر حضرات وہابیہ سے کیا شکایت کہ وہ حضرت مولوی اور حضرت سید العارفین بایزید بسطامی او ر ان غوث گرامی سب کو جیسا دل میں جانتے ہیں معلوم وہ تو ان تابعین پر بھی حکم شرک ہی لگائیں گے جنھوں نے روضہ انور کا طواف کیا، مگر شاہ ولی اللہ صاحب کا معاملہ ذرا ٹیڑھی کھیر ہے۔ ع
پتھر کے تلے دبا ہے دامن
شاہ صاحب یہاں محض سکوت نہیں کررہے ہیں بلکہ مریدین ومستفیدین کو تعلیم فرمارہے ہیں اور اگر اسے بھی اوڑھ لیجئے کہ اس وقت شاہ صاحب کو تعلیم حرام ہی کا کچھ ذوق تھا تو ذرا تقویۃ الایمان کی گولی بچاتے ہوئے کہ نرا حرام ہی نہیں بلکہ شرک سکھارہے ہیں اور اس پر بڑی بشاشت سے فرمارہے ہیں کہ یوں کرو تو ان شاء اللہ تعالٰی یہ حاصل ہوجائے گا، عاقل تو جانتا ہے کہ کسی مکروہ وناگوار بات پر بھی ایسا نہیں کہا جاتا نہ کہ شرک وکفر، دھر م سے کہنا اگر دھرم رکھاتے ہو کہ کیا شاہ صاحب یہ لکھ سکتے تھے کہ اے مریدو عزیزو! روز صبح کو مندر میں جاکر سات دفعہ مہا دیوجی ڈنڈوت کرو توان شاء اللہ تعالٰی تین تلوک کھل جائیں گے۔ تقویۃ الایمان کے حکم پر شاہ صاحب کے اس کلام اور اس قول کے حکم میں کیا فرق ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ امر ضرور قابل لحاظ ہے کہ یہاں نیت جائز ونیت حرام ایسی متقارب ہیں جیسے آنکھ کی سیاہی سے سپیدی تو عوام کے لئے اس میں ہر گزخیر نہیں اور خواص میں سے جو ایسا کرنا چاہے ہر گز عوام کے سامنے نہ کرے۔ ہر سخن وقتے وہر نکتہ مقامے وارد (ہر بات کا وقت ہے اور ہر نکتے کا محل ہے۔ ت) یہ بحمداللہ تعالٰی تحقیق حکم ہے اور احتراز واحتیاط ہر طرح اسلم ہے۔
وباﷲ التوفیق، واﷲ تعالٰی اعلم۔
(اور اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے حصول توفیق ہے۔ اور اللہ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے۔ ت)