Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۲(کتاب الحظر والاباحۃ)
72 - 146
منسک متوسط ومسلک متقسط میں ہے:
 (ثم توجہ) ای بقلب والقالب مع رعایۃ غایۃ الادب فقام تجاہ الوجہ الشریف خاضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والہیبۃ والافتقار واضعار یمینہ علی شمالہ ای تأدبادفی حال اجلالہ ۲؎۔
یعنی پھر نہایت ادب کی رعایت کے ساتھ روضہ اقدس کی طرف دل اور بدن دونوں سے منہ کرکے چہرہ انور کے مقابل خضوع وخشوع و ذلت وانکسارا ور حضوری کی ہیبت اور حضور کی طرف محتاجی کے ساتھ سیدھا ہاتھ بائیں پر حضور کے ادب وتعظیم کےلئے باندھے ہوئے کھڑا ہو۔
 (۲؎ المسلک المتقسط فی المنسلک المتوسط مع ارشاد الساری     دارالکتب العربی بیروت    ص۳۳۷)
صحیح حدیث میں ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم حضور کے سامنے ایسے بیٹھتے
کان علی رؤسہم الطیر ۳؎
گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں یعنی بے حس وحرکت کہ پرندے لکڑی سمجھ کر سر پر آبیٹھیں
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب الجہاد باب فضل النفقۃ فی سبیل اللہ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۳۹۸)
شفاء شریف میں ہے:
کان مالک اذا ذکر النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتغیر لونہ وینحنی حتی یصعب ذٰلک علی جلسائہ ۱؎۔
سیدنا امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے جب حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر پاک آتا ان کا رنگ بدل جاتا اور جھک جاتے  یہاں تک کہ حاضران مجلس کو ان کی وہ حالت دشوار گزرتی۔
 (۱؎ الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی    فصل فی عادۃ الصحابہ المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ    ۲/ ۳۶)
حدیقہ ندیہ میں ہے:
الانحناء البالغ حدالرکوع لایفعل لاحد کالمسجود ولاباس بما نقص من حدالرکوع لمن یکرم من اھل الاسلام ۲؎۔
یعنی رکوع کی حد تک جھکنا کسی غیر خدا کے لئے نہ کیا جائے جیسے سجدہ اور دینی عزت والوں کے لئے رکوع سے کم جھکنے میں حرج نہیں۔
 (۲؎ الحدیقہ الندیہ         الفصل الثانی     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۱/ ۵۴۷)
جب یہ امور سب معلوم ہولئے تو منجملہ اوضاع تعظیمیہ کہ رب عزوجل نے اپنی عبادت کے لئے مقرر فرمائے دونوں قسم کا طواف بھی ہے مستقیم جیسے صفا ومروہ میں خواہ مستدیر جیسے گر د کعبہ دونوں عبادت ہیں اور دونوں کو قرآن عظیم میں طواف فرمایا۔ تو ان میں فرق بے معنی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طواف ان انواع ثلثہ سے کس نوع میں ہے۔ ہر عاقل کے نزدیک بدیہیات سے ہے کہ وہ مثل سجود نوع اول سے نہیں ورنہ سجدہ غیر کی طرح مطلقا حرام ہوتا حالانکہ اس کی تین قسم اول کا جواز و وقوع ہم قرآن عظیم وحدیث کریم وخود فعل حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت کرآئے نہ ہر گز وہ مثل قیام نوع سوم سے ہے ورنہ ہر شخص و مکان معظم کا طواف تعظیمی جائز ہوتا بلکہ وہ مثل رکوع نوع متوسط سے ہے کہ اگر نفس طواف سے تعظیم مقصود ہو تو غیر خدا کے لئے ناجائز بلکہ غیر کعبہ وصفا ومروہ کا طواف اگرچہ خالصا اللہ عزوجل ہی کی تعظیم کو کیا جائے، ممنوع وبدعت ہے کہ نفس طواف سے تعظیم امر تعبدی اور امر تعبدی  میں قیاس تک جائز نہیں۔ نہ کہ احداث کہ تشریع جدید ہے۔
منسک متوسط میں ہے:
ولایمس عند الزیارۃ الجدار ولایلتصق بہ ولایطوف ولایقبل الارض فانہ بدعۃ ۱؎۔
زیارت روضہ اقدس کے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائے اورنہ ان سے چمٹے اورنہ ان کے آس پاس طواف کرے (یعنی چکر لگائے) اور نہ جھکےاور نہ زمین چومے، کیونکہ یہ کام بدعت ہے۔ (ت)
 (۱؎المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط  مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین   دارالکتب العربی بیروت  ص۳۴۲)
مسلک متقسط میں ہے:
لایطوف ای لاید ورحول البقعۃ الشریفۃ لان الطواف من مختصات الکعبۃ المنیفۃ فیحرم حول قبور الانبیاء و الاولیاء۔۲؎
اور متبرک مقام کا طواف نہ کرے یعنی اس کے گر داگرد نہ گھومے، اس لئے کہ طواف کرنا کعبہ معظمہ کی خصوصیات سے ہے۔ لہذا انبیاء کرام اور اولیائے عظام کی قبروں کے آس پاس گھومنا (طواف کرنا) حرام ہے۔ (ت)
 (۲؎ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط  مع ارشاد الساری باب زیارۃ سید المرسلین  دارالکتب العربی بیروت  ص۳۴۲)
اوراگر غرض وغایت تعظیم نہ ہو اگر چہ طواف مقصد لذاتہ ہو جیسے قسم دوم میں۔ یا طواف مقصود لذاتہ نہ ہو اگرچہ غرض تعظیم ہو جیسے قسم سوم میں، تو بلاشبہ جائز ہے۔ اور اگر دونوں سے خالی طواف ہو جیسے قسم اول میں تو یہ بدرجہ اولٰی ۔ یہ بحمداللہ تحقیق ناصح ہے۔ جس سے حق متجاوز نہیں۔ وللہ الحمد طواف قبر بھی اس کلیہ سے باہر نہیں ہوسکتا اگر دونوں باتیں جمع ہیں یعنی طواف خود مقصودبالذات ہے اور اس سے تعظیم ہی مرادہے تو بلاشبہہ حرام ہے۔ اوراگرطواف کسی اور فعل کا وسیلہ ہے مگر مکان مزار کے گرد قلعی کرنا یا فانوس کہ اس کے اطراف میں نصب ہیں ان کی روشنی کے لئے دورہ کرنا یا مساکین کہ گرد مزار بیٹھے ہیں ان پر کچھ تقسیم کے لئے پھیرا کرنا، یہ بلاشبہہ جائزہے۔ یونہی اگر طواف مقصود بالذات ہو مگر اس سے غرض وغایت تعظیم مزار نہ ہو بلکہ مثلا محض تبرک و استفادہ ہو تو اس کے منع پر بھی شرع سے کوئی دلیل نہیں۔ مزار انور حضور سید اطہر صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر تو ثابت ہے کہ روزانہ صبح کو ستر ہزارفرشتے نازل ہوتے ہیں اور مزار اطہر کے گر د حلقہ باندھے صلوٰۃ وسلام عرض کرتے شام کو وہ بدل دئے جاتے ہیں اور سترہزار اور آتے ہیں کہ صبح تک ماہ رسالت پر ہالہ ہو کر عرض صلوٰۃ وسلام کرتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ
ہر گلے را رنگ وبوئے دیگر است
 (ہر پھول کا ایک نیا رنگ اور جدا گانہ خوشبو ہے۔ ت) محبوبان خداکے مقام متفاوت ہوتے ہیں اور افاضہ برکات میں ان کے احوال مختلف اور مفیض مستفیض میں کچھ نسبت خفیہ ہوتی ہے جو اسے معلوم نہیں کہ ان میں کس کے ساتھ حاصل ہے لہذا یہ دریوزہ گر محتاج روضہ اطہر کے گرد دورہ کرتا ہے اس امید پر کہ ان بندگان معصومین پر فردا فردا گزرے اور ان میں سے جس کسی کی نظر اس پر پڑ جائے اس کا کام بنادے، علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت سیدی شیخ الشیوخ شہاب الملۃ والحق والدین سہروردی قدسنا اللہ الکریم ایام منٰی  میں مسجد خیف شریف میں صفوں پر دروہ فرماتے ہیں۔ کسی نے وجہ پوچھی، فرمایا:
ان ﷲ عبادا اذا نظروا الی احد ا کسبوہ سعادۃ الابد ۱؎،
اللہ کے کچھ بندے ہیں کہ جب ان کی نگاہ کسی پر پڑجاتی ہے اسے ہمیشہ کی سعادت عطا فرماتی ہے میں اس نگاہ کی تلاش میں دورہ کرتاہوں۔
 (۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر)
تویہ تعرض نفحات رحمۃ اللہ ہوا جس کا خود حدیث میں حکم ہے۔ اولیائے کرام وارثان سرکار رسالت ہیں ممکن کہ ملائکہ انکے مزارات کے گرد بھی ہوں اور ایسے امور میں علم درکارنہیں۔ تعرض نفحات کی شان ہی یہ ہے کہ شاید و لعل پر ہو۔ معہذا مزارات اولیائے کرام ہر جانب سے ممر اقدام صلحائے عظام ہوتے ہیں، سیدنا عیسٰی علی نبینا  الکریم وعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم سے عرض کی گئی کہ حضور ایک جگہ قیام کیوں نہیں فرماتے، شہروں شہروں جنگلوں جنگلوں دورے کیوں فرماتے ہیں؟ فرمایا: ''اس امید پر کہ کسی بندہ خدا کے نشان قدم پر قدم پڑ جائے تو میری نجات ہوجائے'' جب نبی اللہ ورسول اللہ کہ خمسہ اولوالعزم میں ہیں کہ صلوات اللہ وسلام علیہم، ان کا یہ ارشاد تو اضع ہے تو ہم سخت محتاج ہیں علاوہ بریں یہاں تک نکتہ دقیقہ اور ہے۔
ومایلقھا الاذوحظ عظیم ۲؎
 (اس کو بڑی قسمت اور مقتدر والے ہی پاسکتے ہیں۔ ت)
(۲؎ القرآن الکریم            ۴۱/ ۳۵)
شریعت مطہرہ نے انسان کے سر سے پاؤں تک جمیع جہات میں جدا جدا احکام رکھے ہیں، چہرہ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔ دہنے ہاتھ پر جو احکام ہیں پاؤں پر نہیں۔ وعلی ہذا القیاس اور احکام مختلفہ کے ثواب بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ یونہی سر سے پاوں تک جملہ جوارح میں معاصی جدا جدا ہیں۔ او رہر معصیت ایک جدا گانہ رنگ کا مرض ہے۔ اور ہر مرض کا علاج اس کی ضد سے ہے۔ تویہ مریض معاصی اس سرا پا مجموعہ برکات کے گرد دورہ کرتاہے کہ اس کے ہر عضو وہر جہت کی رنگ برنگ برکات سے فیض اور اپنے ہر عضو وہر جہت کا مرض دور کرے، امام مبرد کامل میں پھر امام علامہ عارف باللہ کمال الدین دمیری پھر سیدی علامہ محمد بن عبداللہ زرقانی شرح مواہب لدنیہ میں فرماتے ہیں:
مماکفربہ الفقھاء الحجاج انہ رأی الناس یطفون حول حجرتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال انما یطوفون باعواد ورمۃ ۱؎۔
یعنی حجاج نے مسلمانوں کو دیکھ کر روضہ انور حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا طواف کررہے ہیں اس طواف سے اس نے ایک نہایت ملعون لفظ کہا جس پر فقہاء کرام نے اس کی تکفیر کی۔
 (۱؎ الشرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ )
وہ زمانہ بکثرت صحابہ کرام کی رونق افروز کا تھا خصوصا مدینہ طیبہ میں تویہ طواف کرنے والے حضرات اگر صحابہ کرام نہ تھے لااقل تابعین تھے۔
Flag Counter