اسی قسم میں ہے عسس کاگرد شہر گشت کرنا ولہذا عسس کو عرب میں طائف کہتے ہیں ۔مفردات راغب میں ہے:
منہ الطائف لمن یدروحول البیوت حافظا ۱؎۔
اس سے (یعنی لفظ طواف سے) لفظ ''طائف'' ماخوذ ہے۔ اور ''طائف وہ ہے جو لوگوں کے گھروں کے آس پاس برائے حفاظت چکر لگاتاہے۔ (ت)
(۱؎ المفردات فی غرائب القران باب الطاء مع الواو کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۱۴)
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ اپنے زمانہ خلافت میں مدینہ کا طواف فرمایا کرتے، ابن عساکر تاریخ میں اسلم مولٰی امیر المومنین عمررضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں:
ان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ طاف لیلۃ فاذا ھو بامرأۃ فی جوف دارلھا وحولھا صبیان یبکون۔ الحدیث۔
یعنی امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک رات مدینہ طیبہ کا طواف کررہے تھے دیکھاکہ ایک بی بی اپنے گھر میں بیٹھی ہیں اور ان کے بچے ان کے گرد رو رہے ہیں اور چولھے پر ایک دیگچی چڑھی ہے۔ امیر المومنین قریب گئے اور فرمایا اے اللہ کی لونڈی ! یہ بچے کیوں رو رہے ہیں؟ انھوں نے عرض کی: یہ بھوکے روتے ہیں۔ فرمایا: تو اس دیگچی میں کیا ہے؟ میں نے ان کے بہلانے کو پانی بھر کر چڑھادی ہے کہ وہ سمجھیں اس میں کچھ پک رہا ہے۔ اور انتظار میں سوجائیں۔ امیر المومنین فورا واپس آئے اور ایک بڑی بوری میں آٹا اور گھی اور چربی اور چھوہارے اور کپڑے اور روپے منہ تک بھرے پھر اپنے غلام اسلم سے فرمایا: یہ میری پیٹھ پر لاد دو۔ اسلم کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا امیر المومنین! میں اٹھاکر لے چلوں گا۔ فرمایا: اے اسلم! بلکہ میں اٹھا ؤں گا کہ اس کا سوال تو آخرت میں مجھ سے ہونا ہے پھر اپنی پشت مبارک پر اٹھا کر ان بی بی کے گھر تک لے گئے پھر دیگچی میں آٹا اور چربی اور چھوہارے چڑھا کر اپنے دست مبارک سے پکاتے رہے پھر پکا کر انھیں کھلایا کہ سب کا پیٹ بھر گیا۔ پھر باہر صحن میں نکل کر ان بچوں کے سامنے ایسے بیٹھے جیسے جانور بیٹھتا ہے اور میں ہیبت کے سبب بات نہ کرسکا امیر المومنین یوں ہی بیٹھے رہے یہاں تک کہ بچے اس نئی نشست کو دیکھ کر امیر المومنین کے ساتھ کھیلنے اور ہنسنے لگے۔ اب امیرالمومنین واپس تشریف لائے اور فرمایا: اسلم ! تم نے جانا کہ میں ان کے ساتھ یوں کیوں بیٹھا ، میں نے عرض کی: نہ۔ فرمایا: میں نے انھیں روتے دیکھا تھا تو مجھے پسند نہ آیا کہ میں انھیں چھوڑ کر چلا جاؤں جب تک انھیں ہنسا نہ لوں جب وہ ہنس لئے تو میرا دل شاد ہوا۔
واخرجہ ۲؎ ایضا الدینوری فی المجالسۃ واحمد بن ابراہیم بن شاذان البزار فی مشیختہ
(نیز دینوری نے المجالسۃ میں اور احمد بن ابراہیم بن ساذان البزار نے مشیخۃ میں اس کی تخریج فرمائی۔ ت)
(۲؎ کنز العمال برمز ''کر'' ابن عساکر وبحوالہ الدینور وابن شاذان حدیث ۳۵۹۷۸ موسستہ الرسالہ بیروت ۲/ ۴۹۔ ۶۴۸)
(الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ذکر شفقتہ علی رعیتہ رضی اللہ تعالٰی چشتی کتب خانہ فیصل آباد ۲/ ۳۸۵)
امام محب الدین طبری ریاض النضرہ پھر شاہ ولی اللہ ازالۃ الخفا میں مناقب امیر المومنین عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ میں لکھتے ہیں:
ا نہ کان یطوف لیلۃ فی المدینۃ فمسع امراۃ تقول ۱؎
یعنی امیر المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ ایک رات مدینہ طیبہ میں طواف کررہے تھے کہ ایک بی بی کو یوں کہتے سنا
فذکر الحدیث
(پھر پوری حدیث ذکر فرمائی۔ ت)
(۱الریاض النضرۃ فی مناقب العشرۃ ذکر شفقتہ علی رعیتہ چشتی کتب خانہ فیصل آباد ص۳۹۲)
(زالۃ الخفاء حکایات گشت حضرت عمر فاروق رٰضی اللہ تعالٰی عنہ سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۷۷)
قسم سوم: طواف وسیلہ مقصو ہو اور غرض وغایت تعظیم جیسے نوکر چاکر غلاموں کا اپنے مخدوم وآقا پر طواف اس کے کام خدمت کو اس کے گھرد پھرنا۔
قال اﷲ تعالٰی طوافون علیکم بعضکم علی بعض ۲؎۔
(اللہ تعالٰی نے فرمایا) تمھارے نوکر غلام تمھارے گرد بکثرت طواف کرنیوالے ہیں تین وقت ترک حجاب کے سوا ہر وقت اذن لینے میں انھیںحرج ہوگا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۵۸)
اور اہل جنت کے حق میں فرماتاہے:
یطوف علیھم ولدان مخلدون ۳؎،
ہمیشہ رہنے والے لڑکے ان کے گرد طواف کریں گے۔
(۳؎ القرآن الکریم ۵۶/ ۱۷)
اور فرماتاہے:
یطاف علیھم بکاس من معین ۴؎۔
ان پر طواف کیا جائے گا پیالوں میں وہ پانی لے کر جو آنکھوں کے سامنے بہتاہے۔
(۴؎القرآن الکریم ۳۷/ ۴۵)
اور فرماتاہے:
یطاف علیہم بانیۃ من فضۃ واکواب ۵؎۔
چاندی کے برتن اور کوزے لے کر ان پر طواف کیا جائے گا۔
(۵؎القرآن الکریم ۷۶/ ۱۵)
اس میں وہ صورت بھی آتی ہے کہ طواف غیر کعبہ کا ہوا اور غرض وغایت عبادت الٰہی ، صحیحین میں ابوہریرہ رضی
اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
سلیمان علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا قسم ہے آج کی رات میں نوے اور ایک روایت میں سو عورتوں پر طواف کروں گا کہ ہر ایک سے ایک سوار پیدا ہوگا جو اللہ تعالٰی کی راہ میں جہاد کرے۔ پھر انھوں نے ان کا طواف کیا۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الجہاد ۱/ ۳۹۵ کتا ب النکاح ۲/ ۷۸۸ و کتا ب الایمان والنذور ۲/ ۹۸۲)
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب الاستثناء فی الیمین وغٖیرہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۴۹)
صحیح مسلم شریف میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے:
کان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یطوف علی النساء بغسل واحد ۲؎۔
نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی غسل سے اپنی ازواج مطہرات پر طواف کرتے ۔
(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحیض باب جواز نوم الجنب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۴۴)
اشباہ والنظائر ودرمختار میں ہے:
لیس لنا عبادۃ شرعت من عھد اٰدم الی الاٰن ثم تستمر فی الجنۃ الا النکاح والایمان ۳؎۔
ہمارے لئے کوئی عبادت ایسی نہیں کہ آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے اب تک مشروع ہے پھر ہمیشہ ہمیشہ جنت میں مشروع رہے گی مگر ایمان یعنی یاد خدااور نکاح یعنی جماع زوجہ۔
(۳؎ درمختار کتاب النکاح مطبع مجتبائی دہلی ۱/ ۱۸۵)
قسم چہارم: طواف بھی مقصود لذاتہ ہو اور غرض وغایت بھی تعظیم یعنی نہ طواف کسی اور فعل کے لئے وسیلہ ہو نہ اس سے سوائے تعظیم کچھ مقصود بلکہ نفس طواف سے محض تعظیم مقصود ہو۔ اسی کا نام طواف تعظیمی ہے جیسے طواف کعبہ یا طواف صفا ومروہ۔ پھر اوضاع بدن کہ عبادت میں مقرر کئے گئے ہیں تین نوع ہیں۔
ایک وہ کہ تعظیم میں منحصر ہے۔
اور دوسرے وہ کہ وسیلۃً ومقصودا دونوں طرح پائے جاتے ہیں اور ان کی غایت تعظیم میں منحصر نہیں مگر بحال قصد تعظیم نوع اول سے قریب ہیں جیسے رکوع تک انحنا کہ بلا تعظیم بھی ہوتا ہے۔ بلکہ بقصد توہین بھی جیسے کسی کے مارنے کےلئے اینٹ وغیرہ اٹھانے کو جھکنا، اور تعظیم کے لئے بھی ہوتا ہے۔
مگر نہ خود مقصود بلکہ وسیلہ جیسے علماء وصلحاء کی قدمبوسی وغیرہ خدمات کو جھکنا اور بذاتہٖ مقصود بھی ہوتاہے جیسے سلام کرنے میں رکوع تک جھکنا۔
تیسرے وہ کہ نوع اول سے بعید ہیں جیسے قیام یا قعود یا رکوع سے کم جھکنا، ظاہر ہے کہ ان میں بھی نوع دوم کی طرح قصد وتوسل وغایت مختلفہ کی سب صورتیں پائی جاتی ہیں۔
انواع ثلثہ میں حکم عام تو یہ ہے کہ اگر بہ نیت عبادت غیر ہے تو کچھ بھی ہو مطلقاًشرک وکفر ہے۔ اور بے نیت عبادت ہر گز شرک وکفر نہیں اگر چہ سجدہ ہی ہو جب تک کہ وہ فعل بخصوصہ شعار کفر نہ ہوگیا ہو، جیسے بت یاآفتاب کو سجدہ۔
والعیاذ باللہ تعالٰی
(اللہ تعالٰی کی پناہ۔ ت) اور جب عبادت غیر کی نیت سے نہ ہو تو ان میں فرق احکام یہ ہے کہ نوع اول غیر خدا کے لئے مطلقا ناجائز، اور نوع دوم اس وقت ممنوع ہے جبکہ مقصوداً اسی کو بہ نیت تعظیم بجالایا جائے، اور نوع سوم مطلقا جائزہے اگرچہ اس سے تعظیم مقصو دہو۔
اختیار شرح مختار وفتاوٰی عالمگیریہ وغیرہا میں حاضر ی روضہ اقدس کی نسبت فرماتے ہیں:
یقف کما یقف فی الصلوٰۃ ۱؎
حضور کے روضہ انور میں نماز کی طرح کھڑا ہو،
(۱؎فتاوٰی ہندیہ کتاب الحج خاتمہ فی زیارۃ قبر النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نورانی کتب خانہ پشاور ۱/ ۲۶۵)