فاضل بدایونی علیہ الرحمۃ بوارق محمدیہ ہی میں فرماتے ہیں:
وکراہت ایں اشیاء مختلف فیہ بین الفقہاء وہمچو امور باعث نکیرو نفریں برمرتکبین ہم نمی تواند شد چہ جائے تکفیر چراکہ بسیارے از اکابر تصریح بجواز آں کردہ اند گو نزد جماعتے رجحان بجانب عدم استحسان است وفقیر ہم بہمیں مسلک سالک است ۱؎ اھ۔
ان چیزوں کی کراہت عندالفقہاء ''مختلف فیہ'' ہے۔ یعنی ایک اختلافی چیز ہے۔اور اس قسم کے امور موجب انکار، اور ارتکاب کرنے والوں پر طعن و تشنیع بھی نہیں ہوسکتے، چہ جائیکہ ان کی تکفیر کی جائے، کیوں؟ اس لئے کہ بہت سے اکابر نے اس کے جائزہونے کی تصریح کی ہے۔ گو ایک گروہ کا عدم استحسان کی طرف رجحان اورمیلان ہے۔ اور یہ فقیر بھی اسی مسلک کے مطابق گامزن ہے۔ اھ (ت)
(۱؎ البوارق المحمدیہ باب اول درعقابہ نجدیہ مطبع سویل ملٹری اپر فنج ص۴۶)
مگر مماثلث تعریف قول باستحسان کی صحت کی مقتضی ہے کما لایخفی (جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ ت) اور علاوہ اس کے یہ ہے کہ محبت اور عظمت کی بھری ہوئی آنکھیں وہ دیکھا کرتی ہیں جو ان سے خالی آنکھیں نہیں دیکھتیں اور ان آنکھوں والوں کے واسطے وہ جائز ہوتا ہے۔ جو ان آنکھوں والوں کے واسطے نہیں ہوتا کیا اس کونہیں دیکھا جاتا کہ علی مافی الشفاء حضرت امام مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس حضور کا اسم شریف لیا جاتا تو ان کے چہرہ کا رنگ متغیر ہوجاتا اور آپ جھک جاتے۔ آپ کے جلساء کو یہ بات ناگوار گزرتی، ایک روز عرض کیا کہ یہ آپ کیا کرتے ہیں۔ فرمایا:
لو رأیتم لما انکرتم علی ماترون ۲؎۔
اگر تم لوگ وہ کچھ دیکھتے جو میں دیکھتاہوں تو پھر تم اس کا رروائی پر انکار نہ کرتے جو مجھ سے دیکھتے ہو (ت)
(۲؎ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل واعلم ان حرمۃ النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃ الشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۳۶)
اور حضرت ابومحذورہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی پیشانی پر کچھ بال تھے اتنے بڑے بڑے کہ جب وہ ان کو بیٹھ کر کھول دیتے تھے تو زمین تک پہنچ جاتے تھے، ان سے کہا گیا : ان کو منڈا کیوں نہیں دیتے؟فرمایا:
لم اکن بالذی احلقہا وقد مسھا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ ۱؎۔
میں وہ نہیں ہوں جوان بالوں کو مونڈ ڈالوں کہ جن کو حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مبارک ہاتھ لگے ہیں۔ (ت)
(۱؎ کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفٰی فصل ومن اعظامہ وتوقیرہ وبرہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم المطبعۃالشرکۃ الصحافیۃ ۲/ ۴۸)
حالانکہ انحناء اورقزع کا حکم اہل علم پر ظاہر ہے اور حضرت کا بس بن ربیعہ کی صورت سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی صورت کے مشابہ تھی پس حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خبر ہوئی آپ نے ان کو بلایا پس جب وہ ان کے گھر میں داخل ہوئے توحضرت امیر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے تخت سے اتر کر ان سے ملاقات کی اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ایک گاؤں مرغاب نام ان کو دیا یہ سب حضور کی صورت مبارک کے مشابہ ہونے کی وجہ سے کیا ؎
باادب باعظمت انسان دیگر اند بے ادب ہم خشک مغزاں دیگر اند
(باادب عظمت وشرف والے انسان اور ہیں۔ اور بے ادب خشک مغز رکھنے والے (انسان )اور ہیں۔ ت)
پس زید کا یہ جواب صحیح ہے یانہیں؟ بینوا توجروا (بیان فرماؤ اجر پاؤ۔ ت)
الجواب:
اقول: وباﷲ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق
(میں کہتاہوں اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اسی سے تحقیق کی بلند یوں تک پہنچنا ۔ ت) طواف لغۃً وعرفاً وشرعاً پھیرے کرنے کو کہتے ہیں عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایک پھیرے کے مبدا ومنتہی متغائر ہوں گے یا ایک ہی چیز کے گرد جس میں دائرہ کی طرح مبداء ومنتہٰی ایک ہوگا، دونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف مانا، صورت اولٰی صفا ومروہ کے درمیان سعی۔
قال اﷲ تعالٰی فلاجناح علیہ ان یطوف بھما ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: اس شخص پرکوئی گناہ نہیں جو صفا ومروہ کے درمیان چکر لگائے۔ (ت)
(۲؎ القرآن الکریم ۲/ ۱۵۸)
اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھرنا۔
قال اﷲ تعالٰی ولیطوفوا بالبیت العتیق ۱؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: لوگوں کو چاہئے کہ اس کے قدیم (آزاد) گھر کا طواف کریں۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۲۲/ ۲۹)
حقیقت طواف اس قدرہے۔ نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغییر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شے نہیں۔ آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نماز قرار دیا نہ کہ رکن نماز، اور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے۔ غرض پھیرے کرناجہاں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔ پھر فعل اختیاری کوتصور بروجہ مّا وتصدیق بفائدۃمّا سے چارہ نہیں مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تک آپ مؤدی ہوتا ہے کبھی دوسرے فعل مؤدی الی الغایۃ کا وسیلہ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں جیسے نماز اور دوم کو وسیلہ ومقصودلغیرہ جیسے وضو، طواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم وروائح طیبہ وچستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھرنا خواہ وہ خطوط مستقیم پر ہو یا مثلا کسی حوض کے گردمستدیریہاں طواف مقصود لذاتہٖ ہے یا مثلا کسی شیئ کی تقسیم کو حلقہ یاصفوں پہ دورہ کرنا یہاں مقصود لغیرہٖ ہے۔ پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اس کے غیر کے لئے بھی ہوتا ہے جیسے امثلہ مذکورہ بلکہ توہین بلکہ تعذیب کے لئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمدوشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہٖ ہے اور نا ر سے حمیم، حمیم سے نار کی طرف کفار کے پھیرے کہ یہ طواف مقصود لغیرہ ہے اور دونوں تعذیب کے لئے ہیں۔
قال اﷲ تعالٰی یطوفون بینھا وبین حمیم اٰن ۲؎۔
اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: وہ دوزخی اس کے یعنی آگ اور گرم اور ابلتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگائیں گے۔ (ت)
(۲؎القرآن الکریم ۵۵ /۴۴)
لاجرم طواف چار قسم ہے:
قسم اول : نہ طواف مقصود لذاتہٖ ہو نہ اس سے غرض وغایت نفس تعظیم بلکہ طواف کسی اورفعل کا وسیلہ ہوا ور اس فعل سے کوئی اور حاجت مقصود جیسے سائلوں کا دروازوں پر گشت، صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم ہمیشہ کاشانہ نبوت کا ایسا طواف فرمایا کرتے، ابوداؤد وابن ماجہ ودارمی ایاس بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد طاف باٰل محمد نساء کثیر یشکون ازواجھن لیس اولئک بخیارکم ۱؎۔
آج کی رات بہت سی عورتوں نے ہماری بارگاہ اقدس کا طواف کیا کہ اپنے شوہروں کی شکایت کرتی تھیں وہ تم میں کے بہترلوگ نہیں جو عورتوں کو ایذا دیتے ہیں۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء آفتاب عالم پریس لاہور ۱/ ۲۹۲)
(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب القسمۃ بین النساء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۴۴)
اور صحیح حدیث میں بلی کے نسبت فرمایا:
انھا من الطوافین علیکم والطوافات ۲؎۔
بیشک وہ ان نرومادہ میں ہے جو بکثرت تم پر طواف کرنے والے ہیں۔
(۲؎ جامع الترمذی کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی سؤر الہرۃ امین کمپنی دہلی ۱/ ۱۴)
قسم دوم: طواف مقصود لذاتہٖ ہو اور غایت غیر تعظیم، صحیح بخاری شریف میں جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے میرے والد عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بہت قرض اور تھوڑے خرمے چھوڑ کر شہید ہوئے میں نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی حضور کو معلوم ہے کہ میرے باپ احد میں شہید ہوئے اور بہت قرض چھوڑ گئے ہیں میں چاہتاہوں کہ حضور قدم رنجہ فرمائیں کہ قرضخواہ حضور کودیکھیں یعنی شاید حضور کے خیال سے اپنے مطالبہ میں کمی کردیں ، ارشاد فرمایا: جاؤ ہر قسم کے چھوہاروں کے الگ الگ ڈھیر لگاؤ، پھر تشریف فرماہوئے۔ قرض خواہوں نے حضور کو دیکھا مجھ سے نہایت سخت تقاضے کرنے لگے کہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہ کیا تھا یعنی ان کے خیال کے برعکس ہوا، حضور کے تشریف لے جانے سے قرض خواہ اپنا پلہ بھاری سمجھے کہ حضور ضرور ہمارا پوراحق دلادینگے۔ جب حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ حال ملاحظہ فرمایا
فطاف حول اعظمھا بید را ثلث مرات ثم جلس علیہ
حضور نے ان میں سب میں بڑے ڈھیر کے گرد تین بار طواف فرمایا اور اس پر تشریف رکھی پھر ناپ کر انھیں دینا شروع فرمایا
حتی ادی اﷲ عن والدی امانتہ وسلم اﷲ البیادر کلھا ۳؎
یہاں تک کہ اللہ تعالٰی نے میرے باپ کا سب قرض ادا کردیا اور سب ڈھیر سلامت بچ رہے۔
(۳؎ صحیح البخاری کتا ب المغازی باب قولہ تعالٰی اذ ھمت طائفتان منکم الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۵۸۰)